جب ن م راشد نے مجھے انڈین ایجنٹ کہا

فہمیدہ ریاض

یاد کرتی ہوں کہ سب سے پہلے مجھے ایجنٹ کس نے کہا تھا۔

میں لندن میں تھی اور بی بی سی میں کام کرتی تھی۔ ایک رات پہلے مشرقی بنگال میں آرمی ایکشن ہوا تھا۔ اور دل پر چھری چل گئی تھی۔ بی بی سی کی بنگالی سروس کے تمام ارکان ایمرجنسی میٹنگ کرنے کامن ویلتھ انسٹیٹیوٹ جارہے تھے۔ لپک جھپک میں نے ان کے ساتھ ہونا چاہا۔ ’’نہیں ہمارے نام پر یہ سب نہیں ہوگا۔‘‘ میں نے کہا۔ انہوں نے سختی سے مجھے منع کر دیا۔ ’’یہ بنگالیوں کی میٹنگ ہے۔ ہم پاکستانی ایجنٹوں کی اپنے درمیان اجازت نہیں دے سکتے‘‘ ۔

کچھ دن بعد ن م راشد لندن آئے۔ وہ اپنی نظم “سرینوں کو ڈھانپو ” سنا رہے تھے جو انہوں نے بنگال میں پنجابیوں کے قتل پر لکھی تھی۔ وہاں اتنا بڑا آرمی ایکشن ہو چکا تھا۔ میں نے دبی زبان میں کہا۔ کیا آپ نے بنگالیوں کے لیے بھی کچھ لکھا ؟ اس پر وہ بہت جز بز ہوئے اور حیرت سے پوچھا ’’تم انڈین ایجنٹ تو نہیں ہو؟‘‘۔

پاکستان واپس آنے کے بعد بلوچستان کے حالات معلوم کرنے میں بلوچستان جا پہنچی۔ صرف ان نیک دل لوگوں نے مجھے گلے لگایا اور روئے اور بزرگوں اور بچوں نے مجھے اپنی تاریخ سنائی۔ بہر حال اب تو یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ پاکستانی بک بک کرتی ہے۔

میں انڈیا جانے پر کنفرمڈ انڈین ایجنٹ بنی

پیپلز پارٹی نے مجھ کو کبھی ایجنٹ نہیں کہا کیونکہ وہ بیچارے تو سارے خود ہی ’انڈین ایجنٹ‘ تھے۔ ایک میرا ان کا ایجنٹی کا بھی ساتھ ہے۔

انڈیا سے واپسی پر ایم کیو ایم نے مجھ کو انڈین ایجنٹ کہا۔ لیکن اس سے بھی بد تر سندھیوں کا ایجنٹ۔ جو سب ویسے ہی ہندو اور داہر کی اولاد تھے۔ ایک صاحبہ سے میں نے پوچھا کہ کیا ایجنٹی کرسکتی ہوں میں؟ میری تو کہیں رسائی نہیں۔ انہوں نے کہا آپ بازاروں میں جا کر افواہیں اڑاتی ہوں گی جس سے انتشار پھیلے۔

پھر جب سندھیوں نے تمام مہاجروں کو دہشت گرد کہنا شروع کیا اور میں نے اپنی کتاب میں لکھا تو سندھیوں نے کہنا شروع کیا کہ مہاجروں کی ایجنٹ ہے۔

پرویز مشرف مجھ کو بہت پسند آئے۔ اس پر فوجی ایجنٹ کہا گیا۔

انڈیا میں سمجھا گیا کہ مجھ کو آئی ایس آئی بھیجتی ہے سکھا پڑھا کر کہ یوں کہو اور یوں کہو۔ میں ان کو کچھ تجزیہ دیتی تو ان کو اور بھی یقین ہوجاتا کہ آئی ایس آئی کی سکھائی بولی بول رہی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں نے کانگریس کی ایجنٹ بتایا اور متعصب ہندوؤں نے آئی ایس آئی کی۔ اس پر مجھ کو سب سے زیادہ ہنسی آتی تھی۔ میں کہتی خدا گواہ ہے۔

لیکن آئی ایس آئی کے سوا اور کون کم بخت جانتا تھا کہ مجھ کو آئی ایس آئی نہیں بھیجتی تھی۔ اب میں ان سے کیسے گواہی لاتی جو منہ بنائے بیٹھے تھے، وہ کہتے ہماری نہیں تمہاری ایجنٹ ہے سالو! ہمیں الو مت بناؤ۔۔۔

اچھے دوستو کیا سچ مچ آزادانہ رائے رکھنا اتنا ہی کمیاب ہے ہمارے یہاں۔ جو کچھ میں نے لکھا یا کہا شاید ہمیشہ درست نہ ہو لیکن آپ ایک لکھاری کو اس کے دل کو اس کے دل میں سچائی کی للک کو کبھی سمجھ نہیں پائے۔

باتیں ہماری یاد رہیں پھر باتیں نہ ایسی سنئے گا۔

رفاقت حیات کی پوسٹ سے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *