تبدیلی حقیقت کیسے بن سکتی ہے؟

بیرسٹر حمید باشانی

دیوانگی کیا ہے ؟ البرٹ آئن سٹائن نے دیوانگی کی یہ تعریف کی تھی کہ آپ ایک ہی کام بار بار کر رہے ہیں، لیکن اس سے مختلف نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔ حکمت کی یہ بات آئن سٹائن جیسا بڑا سائنس دان اور دانشور ہی کر سکتاتھا۔ نیا پاکستان بنانے والوں کو اس نابغہ روزگار آدمی کی بات پر غور و فکر کرنا چاہیے۔

موجودحکومت تبدیلی کا نعرہ لے کر آئی ہے۔ گزرے ہوئے سو دنوں میں ممکن ہے اپنی دانست میں اس نے کچھ نئے کام بھی کیے ہوں۔ مگر ایک ایسی حکومت کے لیے جس کا وجود اور تشکیل ہی تبدیلی کے نعرے کی مرہون منت ہو، اس سے لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ کوئی ایسی تبدیلی لائے جو سامنے نظر آئے۔ یعنی اس کا کوئی ٹھوس مادی وجود ہو، جسے عام لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں، محسوس کر سکیں۔ گویا یہ محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ ہ نہ ہو۔ ماضی کی طرح صرف جمع تفریق نہ ہو۔

تبدیلی کے باب میں پوری دنیا کے تاریخی تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ ان تجربات میں مشترکہ سبق یہ ہے کہ کسی بھی سماج میں کوئی قابل ذکر تبدیلی لانے کے لیے چند ایک بنیادی کام کرنے ضروری ہوتے ہیں۔ یہ کام کیے بغیر سماج میں کاسمیٹک یعنی حسن افروزہیر پھیرتو ہو سکتاہے۔ کچھ زیبائشی اور آرئشی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ مگر کوئی ایسی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں ہے ، جس کا عوام کی زندگی پر کوئی گہرا اثر مرتب ہو ۔ ان لازمی کاموں میں پہلا کام پیشہ ورانہ قواعد اور اخلاقی ضوابط میں تبدیلی لانا، اور ان ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے میں نے یل یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر ٹیموتھی سنائڈر کی ایک کتاب پڑھی تھی۔ یہ کتاب جابرانہ نظام حکومت اور مطلق العنانیت پر ہے۔ پروفیسر نے بیسویں صدی کی پوری تاریخ کو نچوڑ کر اس سے بیس سبق نکالے ، اور اس کتاب میں پیش کر دئیے ۔ ان اسباق میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ پیشہ ورانہ اخلاقیات کو مت نظر انداز کریں۔

پیشہ ورانہ اخلاقیات کے باب میں پروفیسر لکھتا ہے کہ دوسری جنگ عظیم سے پہلے ہینز فرنیک نامی ایک آدمی ہٹلر کا ذاتی وکیل تھا۔ 1939 میں جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا، تو فرینک مقبوضہ پو لینڈ کا گورنر بن گیا۔ پولینڈ نازی جرمنی کی نو آبادی بن گیا۔ اس قبضے کے دوران فرینک کی سرپرستی میں لاکھوں یہودی اور دوسرے بے گناہ پولش شہری قتل کر دئیے گئے۔ اس نے بڑے فخر سے کہا کہ پولینڈ کے پاس اتنے درخت نہیں ہیں، جن سے اتنے کاغذ بنائیں جائیں کہ ہر پھانسی کا اشتہار چھاپا جا سکے۔ 

فرینک کی دلیل یہ تھی کے قانون برتر جرمن نسل کی خدمت کے لیے بنایا گیا ہے، اور جو جرمن نسل کے لیے اچھا ہے، وہی قانون ہے۔ اس طرح کی دلیل دہرا کر جرمن وکلاء اپنے اپ کو قائل کر تے تھے کہ تمام قانون اور قاعدے محض فاشسٹ جنگ اور تباہی کے منصوبے پورے کرنے کے لیے ہیں، ان سے روکنے کے لیے نہیں ہیں۔ پولینڈ کے بعدآسٹریا کو فتح کرنے کے لیے ہٹلر نے جس آدمی کا انتخاب کیا، وہ بھی وکیل تھا۔ آرتھر نامی اس شخص نے بعد میں نیدرلینڈ پر بھی خونی حملہ اور قبضہ کیا،جس میں ہزاروں قتل ہوئے۔ ہٹلر کی بدنام زمانہ سپیشل ٹاسک فورس میں بھی وکیلوں کی بڑی تعدادموجود تھی۔ اس ٹاسک فورس نے یہودیوں، خانہ بدوشوں، کمیونسٹوں اور سماج کے معذورافراد کو چن چن کر قتل کیا۔ 

ہٹلر کے اذیت خانوں میں بھیانک طبی تجربات ہوئے۔ ان تجربات میں باقاعدہ لائسنس یافتہ اور پیشہ ور ڈاکٹروں نے حصہ لیا۔ نازی سوچ کے حامل کاروباری طبقات نے نازی کیمپوں کے مزدوروں ، اور جنگی قیدیوں سے زبردستی بیگار لی۔ جرمنی کے سول سرونٹ نا صرف خاموشی سے یہ تماشا دیکھتے رہے، بلکہ اس عمل میں معاونت کی۔

مقدمہ چلائے بغیر کسی کو سزا نہ دینے کا اصول طویل عرصے سے پوری دنیا میں مسلمہ ہے۔ یہ اصول اس وقت بھی موجود تھا۔ اگر جرمن وکلاء اس اصول کی پاسداری کرتے، تو کیا آج ہم ایک صدی بعد ان نازی مظالم پر ماتم کر رہے ہوتے۔ دنیا بھر میں طب کی دنیا کا یہ مسلمہ دستورہے کہ کسی کی مرضی کے بغیر اس کی سرجری نہیں کی جا سکتی۔ یہ اصول جرمنی کی طبی دنیا میں موجود تھا۔

کیا جرمن ڈاکٹر اس اصول کے پابند نہیں تھے ؟ جان بچانے اور جان نہ لینے کا حلف اٹھا کر انہوں نے زندہ انسانوں پر ایسے بھیانک تجربات کیے، جن کی اذیت ناک یاد رہتی دنیا تک رہے گی۔ اسی طرح اگر جرمنی کے کاروباری لوگ اور سول سرونٹ، غلامی کی ممانعت اور بیگار کے خلاف تسلیم شدہ اصولوں پر قائم رہتے ، تو کیا نازی جرمنی میں وہ سب کچھ ہو سکتا تھا ؟

اگر پیشہ ور اصولوں کی پاسداری لازم ٹھہرے، تو پھر ہر حالت میں اہل اقتدار کا حکم ماننا لازم نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ پیشہ ورانہ اصول ایک پیشہ ور آدمی کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا حکم ماننے سے انکار کر دے جو پیشہ ورانہ اخلاقیات کے خلاف ہو۔ 

ہمارے ہاں کبھی کبھار کوئی اچھا پولیس آفیسراگراپنی پیشہ ورانہ اخلاقیات کی پاسداری کرے، اہل حکم کے کہنے پر نہتے عوام پر گولی چلانے سے انکار کر دے۔ تو وہ شخص محض اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہوتا ہے۔ مگر ہم اسے ہیرو بناتے ہیں۔ کیونکہ ایسا ہمارے ہاں عام طور پرہوتا نہیں کہ کوئی اپنی پیشہ ورانہ اخلاقیات پر چلے۔ اسی طرح سالوں میں کوئی خبر ہمارے میڈیا کی زینت بنتی ہے کہ ہمارے کسی میڈیکل ڈاکٹر ، کسی وکیل، کسی جج نے اپنی پیشہ وارانہ اخلاقیات کی پاسداری میں کوئی بڑا قدم اٹھایا۔

ترقی یافتہ اور کامیاب ممالک میں یہ معمول ہے۔ یہاں یہ کوئی خبر نہیں ہے کہ کسی نے اپنے پیشے کے اصولوں کا احترام کیا، اور کوئی غلط یا غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ یہاں خبر اس وقت بنتی ہے جب کوئی ان اصولوں کو توڑتا ہے۔ 

پیشہ وارانہ اخلاقیات کو مکمل طور پر اپنائے بغیر، اور اس پر سختی سے کاربند ہوئے بغیر ان مسائل سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکتا ، جو ستر سال کی غفلت، لا پرواہی، لالچ اورخوف سے سماج میں جڑیں پکڑ چکے ہیں۔

انصاف کی فراہمی حکومت کا بنیادی فریضہ ہے۔ یہ ایک پر امن اور خوشحال سماج کی تعمیر کی پہلی اینٹ ہے۔ اس کے بغیر کوئی شعبہ بھی درست نہیں کیا جا سکتا۔ نظام انصاف میں تبدیلی ناگزیرہے۔ وکلاء کی پیشہ ورانہ قواعد و ضوابط اور پیشہ ورانہ اخلاقیات میں بنیادی تبدیلی کے بغیر نظام انصاف میں تبدیلی نا ممکن ہے۔ 

اس وقت جس طریقے سے ہمارا نظام کام کر رہا ہے، اس میں وسائل اور اچھے منتظم کی کمی ایک بڑی وجہ ہے، مگر جو کچھ دستیاب ہے، اس کو اگر پیشہ ورانہ اخلاقیات کے سخت دائرے میں لایا جائے تو نظام میں موجود پچاس فیصد مسائل یک دم حل ہو سکتے ہیں۔ لاکھوں مقدمے التوا میں جانے سے بچ سکتے ہیں۔ انصاف کی تلاش میں مارے مارے پھرنے والے لا چار لوگ لوٹ مار سے بچ سکتے ہیں۔ اور نظام انصاف کے بجٹ میں ایک روپے کا اضافہ کیے بغیر ایسی تبدیلی لائی جا سکتی ہے، جو واضح طور پر نظر آئے۔

پیشہ ورانہ اخلاقیات میں فقدان والی بات ڈاکٹروں اور سول سرونٹ پر بھی صادق آتی ہے۔ مانا کہ ہمارے اکثر مسائل کی وجہ وسائل کی کمی ہے، مگر یہ بھی درست ہے کہ نظام کے بنیادی کرداروں کا رویہ اور کردار درست کیے بغیر اربوں روپے بھی لگائے جائیں تو خاک ہو جائیں گے۔ نتائج کچھ نہیں ہوں گے۔ 

حاصل کلام یہ ہے کہ اگر پیشہ ور لوگ اپنے اپنے فرائض منصبی اخلاص سے ادا کریں۔ اہل اقتدار کے غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی احکامات ماننے سے صاف انکار کر دیں، تو دنیا سے فاشزم اور آمرانہ نظام کا خطرہ ٹل سکتا ہے۔ فاشسٹ اور آمریت پسند آج بھی ہمارے ارد گرد مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔ یہ ہر عہدمیں نئے روپ دھار کر آتے رہتے ہیں۔ ان کو شکست دینے کا ایک طریقہ قانون کی حکمرانی اور پیشہ ورانہ اخلاقی ضابطوں کی سخت پابندی بھی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *