آزادیٗ اظہار کے مکہؔ میں اظہار کے مسائل

منیر سامی

امریکہ کو بلا شبہہ آزادی ٔ اظہار کا مکہ قرار دیاجا سکتا ہے۔ جب وہاں کے بانیانِ مملکت نے اپنا آیئن بنایا، جو ایک سرمایہ دار ملک کا منشور تھا، تو انہوں نے یہ طے کیا کہ جس سرمایہ دار جمہوریت کی بنیاد وہ ڈال رہے ہیں اس کے لیے لازم ہے کہ امریکہ کے عوام کو اظہار کی مکمل آزادی ہو اور صحافت پر کوئی قدغن نہ ہو۔

اس کے لیے آئین سازی کے فوراً بعد سنہ 1791 میں جو مشہور زمانہ پہلی ترمیم کی گئی اس پر نہ صرف امریکی جمہوریت کا بلکہ دنیا بھر کی جمہوریتوں کا بنیادی انحصار ہے۔ ترمیم کے الفاظ اس طرح ہیں ۔ ’’کانگریس کوئی ایسا قانون نہیں بنائے گی: جس سے کسی مذہب کا نفاذ ہوتا ہو، یاکسی مذہب کے پرچار کو روکا جا سکے۔ آزادی ء تقریر پر کوئی قدغن لگ سکے، صحافت کی آزادی پر پابندی لگ سکے۔ عوام کے اجتماع پر کوئی پابندی لگے، یا عوام کو سرکار سے اپنے حقوق طلبی یا اپنی شکایتیں کا حل طلب کرنے پر پابندی ہو۔‘‘یہ آزادی امریکی اور مغربی جمہوریت کا بنیادی اصول اور ستون بن گئی، اور دنیا بھر کی جمہوریتیں اس طرح کی ضمانتیں دینے لگیں۔

امریکی شہری اور اہلِ صحافت اس آزادی کو کسی صحیفہ میں درج عبارت کی طرح مقدس گردانتے ہیں۔ یہ آزادی انہیں اپنے اربابِ اقتدار سے بر سرِ عام سوال کرنے اور تفہیمات طلب کرنے کا حق دیتی ہے۔ اور اسے مسلسل استعمال کیا جاتا ہے۔

آزادی صحافت اور اظہار کا حق امریکی حکمرانوں کو من مانی کرنے اور شخصی آمریتیں قائم کرنے سے روکتا ہے۔ تاریخ میں کئی بار صحافیوں کی آزادی کی بنیاد پر امریکی قوانین اور حکمرانی کے طریقوں میں تبدیلی ہوئی ہے۔ ایک اہم قریب ترین مثال امریکی صدر نکسنؔ کے استعفے کی ہے جس کی بنیادی وجہ دو دلیر امریکی صحافیوں کی وہ رپورٹ تھی جس میں صدر نکسن کے اپنی مخالف جماعت ڈیموکرٹیک پارٹی کے خلاف غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کرنے کا الزام تھا۔

لیکن امریکہ جیسے ہی ملک میں ایک دور وہ بھی تھا جب وہاں کے ایک بدنام زمانہ سینیٹر مکارتھی نے صحافیوں، اداکاروں، دانشوروں، قلم کاروں، اور عام شہریوں پر کمیونسٹ ہونے یا کمیونسٹوں سے ہمدری رکھنے کے الزام لگائے اور ان کی زندگی عذاب کردی۔ اس زمانے میں صحافیوں کو صحافیوں کے خلاف اور شہریوں کو شہریوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ آپ اس طرح کے ہتھکنڈے پاکستان اور دوسرے ملکوں میں روز ہی دیکھتے ہوں گے۔ لیکن بالآخر امرکہ میں صحافیوں اور آزادی اظہار کے عمل پرستوں کو کامیابی ہوئی۔

امریکہ میں آزادی اظہار کی ترمیم کے بعد آیئن میں جو ددیگر ترامیم کی گئیں ان میں ایک اور اہم ترمیم پانچویں ترمیم ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’ کسی بھی شہری کے خلاف بغیر کسی قاعدے اور قانون کے کوئی کاروائی نہیں کی جا سکتی‘‘۔

ان دو اہم ترامیم کے حوالوں کا پس منظر یہ ہے کہ دنیا بھر میں آزادی اظہا ر و صحافت کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کی طرح خود امریکہ میں بھی آزادئ صحافت اور اظہار زوال پذیر ہے۔ ایسا بالخصوص موجودہ امریکی صدر ڈونلڈڑمپؔ کے زمانے میں ہوا ہے جو بارہا صحافیوں کے ایک گروہ کو جس میں امریکہ کا تقریباً ہر بڑا میڈیا شامل ہے ملک دشمن قرار دیتے رہے ہیں۔ بعض اوقات انہوں نے بعض صحافیوں کے بارے میں رکیک زبان بھی استعمال کی ہے۔

تازہ ترین اشتعال انگیزی یہ ہوئی کہ صدر ٹرمپ ؔمشہور میڈیا، سی این اینؔ کے وہائٹ ہاوس کے نمائندے ’جم اکوسٹاؔ‘ کے ایک کے بعد ایک سوال پر سخت برہم ہوگئے۔ اس دوران وہائٹ ہاوس کی ایک خاتون اہلکار نے جم اکوسٹا سے مائک چھیننے کی کوشش کی، جس کی اکوسٹاؔ نے مزاحمت کی۔ اس موقع پر صدر نے صحافی کو برا بھلا بھی کہا۔ اس واقعہ کے فوراً بعد وہائٹ ہاوس نے جم اکوسٹاؔ کا وہائٹ ہاوس میں داخلہ کا سیکیوریٹی پاس عارضی طور پر منسوخ کردیا۔ اس کے ساتھ ہی صحافی پر یہ الزام لگایا کے اس نے خاتون اہلکار کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اور اس ضمن میں ایک ترمیم شدہ ویڈیو بھی جاری کردی، جو واقعتا غلط تھی۔

اس واقعہ کے خلاف امریکہ کے اکثر صحافی متحد ہو گے جن میں وہ بھی شامل تھے جنہیں ‘سی این این‘ کا نظریاتی مخالف کہا جاتا ہے۔ سی این این نے اس کاروائی کے خلاف عدالت میں مقدمہ کردیا۔ جس میں یہ کہا گیا تھا کہ وہائٹ ہاوس نے آیئن کی پہلی اور پانچویں ترمیم کے خلاف کاروائی کی ہے۔ یہ مقدمہ جس وفاقی جج کے پاس گیا ، انہیں خود صدر بش نے تعینات کیا تھا۔

جج نے سی این این کے صحافی کے حق میں عارضی فیصلہ دیتے ہوئے حکم دیا کہ ان کا سیکورٹی کارڈ فوراً بحال کیا جائے۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ بالفور حکمِ امتناعی نافذ کرنے کا پس منظر یہ ہے کہ صحافی کی حق تلفی ہوئی ہے۔ صدارتی ٹیم کوئی ایسے قانون پیش کر نہیں سکی جن کی رُو سے کارڈ کی منسوخی حق بجانب تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بادی النظر میں صحافی کے پانچویں ترمیم کے تحت حقوق کو نقصان پہنچا ہے۔ جج نے ابھی پہلی ترمیم کی بنیاد پر فیصلہ نہیں کیا اور اس ضمن میں مزید تفصیلی سماعتیں ہوں گی۔

اس تحریر کا بنیادی مقصد ی اس حقیقت کا اعادہ کرنا ہے کہ امریکہ میں آزادی ء اظہار کو بہت مقدس جانا جاتا ہے اور وہاں صدر ٹرمپ ؔ کی شخصی آمرانہ کوششوں کے باوجود، اب بھی قانون کی بالا دستی ہے اور وہ جج بھی جنہیں خود انہوں نے تعینات کیا ہے، ان کی حمایت میں فوری فیصلے نہیں کرتے۔

اس تحریر کے لکھتے وقت ، وہائٹ ہاوس اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گیا ہے ، اور اس نے صحافی اکوسٹاؔ کا اجازت نامہ مکمل طور پر بحال کر دیا ہے۔ لیکن شاید اس پر سوالوں کو محدود کرنے کی پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ سی این اینؔ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اجازت نامہ کی بحالی کے اس اقدام پر اپنا مقدمہ واپس لے لے گا۔ اس کے باوجود صحافی عام طور پر محتاط ہیں ، ان کا خیال ہے کہ یہ کاروائی پھر عود کر سکتی ہے ، اور میڈیا اداروں کو عدالت میں جانے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔

One Comment

  1. Yes. US mainstream media could critsize President but will never criticize powerful lobbies. It is shameful how they ridiculed Occupy Wall Street movement but did not say anything significant against big banks robbery of US 1 trillion dollars.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *