جمہوریت فقط انتخابات کا نام نہیں

بیرسٹر حمید باشانی

پاکستان میں جمہوریت جڑیں پکڑ چکی ہے۔ سماج میں اپنے لیے جگہ بناچکی ۔ حال ہی میں اقتدار تیسری بار شائستگی سے ایک تیسری پارٹی کو منتقل ہو گیا ہے۔ اب جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں۔ ہم لوگ آج کل یہ چار فقرے اکثر سنتے اور پڑھتے ہیں۔ ان چار فقروں میں بڑی حدتک صداقت ہے۔ مگر یہ آدھا سچ ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ابھی جمہوریت پختہ نہیں ہوئی ۔ اسکو درپیش خطرات ابھی ٹلے نہیں۔ یہ تلخ حقیقت ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ ایسا کرناخودجمہوریت کی بقا اور تسلسل کے لیے ضروری ہے۔ 

یہ درست ہے کہ پاکستان میں یکے بعد دیگرے تین انتخابات ہو چکے ہیں۔ مگر جیسا کہ ان سطور میں بار ہا عرض کیا، اور جب تک ضروری ہے عرض کیا جاتا رہے گا ، کہ جمہوریت فقط انتخابات کانام نہیں۔ یہ ایک طرز زندگی ہے۔ ایک طرز فکر ہے۔ ایک ثقافت ہے۔ جس نظام میں رواداری بڑھنے کے بجائے گھٹ رہی ہو۔ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا احترام کم ہو رہا ہو۔ معاشی اور سماجی عدم مساوات میں اضافہ ہو رہا ہو۔ وہ نظام محض اس لیے جمہوری نہیں ہوتا کہ اس میں با قاعدگی سے چند انتخابات ہو چکے۔

کچھ عرصہ پہلے میں نے ہاروڈ یونیورسٹی کے نفسیات کے پرو فیسر اورمشہور لکھاری سٹیون پنکر کا اس موضوع پرایک مضمون پڑھاتھا ۔ اس مضمون میں اس نے دنیا میں جمہوریت کے اتار چڑھاو اور اس کی کامیابیوں اور نا کامیوں کا حساب کتاب پیش کیا تھا۔ پروفیسرلکھتا ہے کہ تقریباپانچ ہزار برس سے انسان کسی نہ کسی اختیار یا اقتدار کے تحت رہ رہاہے۔ اسے ہر دور میں انتشار اور طوائف الملوکی سے تحفظ کی ضرورت رہی ہے ۔ انسان تب سے کسی ھرج و مرج اور تشدد سے بچنے کے لیے اہل اقتدار کی طرف رجوع کرتا ہے، ا ور کبھی حکومت کے ظلم استبدادسے تنگ آ کر بغاوت پر اترتا ہے۔ کبھی انقلاب کا پرچم اٹھاتاہے۔ 

اقتدار اور طاقت سے پہلے قدیم قبائل ہمہ وقت جنگ اور خون خرابے میں مصروف رہتے تھے۔ ان کے اس چلن کی وجہ سے جدید دور کے پر تشدد زمانوں سے بھی زیادہ قتل و غارت گری ہوتی رہی۔ ابتدائی ادوار کی حکومتیں جن لوگوں پر حکومت کرتی تھی، ان کی حفاظت کا زمہ بھی لیتی تھی، جس سے تشدد اور اشوب میں کچھ کمی ضرورہوئی ، مگر دوسری طرف حکومتوں نے خوداپنے ظلم کے بازار گرم کیے ۔ عام لوگوں کے خلاف جو ظالمانہ حربے اختیار کیے جاتے ان میں غلامی، حرم، انسانی کی قربانی چڑھانا، سزائے موت اور اختلاف کرنے والوں پر وحشیانہ تشدد وغیرہ عام تھے۔ یہ استبداد تھا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں استبداد اور مطلق العنانی رہی ہے۔ اس لیے نہیں کہ مطلق العنانیت کوئی اچھا کام تھا، بلکہ اس کا متبادل بہت زیادہ پر اشوب اور برا تھا۔ 

انتشار اور افراتفری استبداد سے بھی زیادہ مہلک چیزہے۔ اگر تاریخ میں اعداد و شمار جمع کیے جائیں تو لگتا ہے کہ دنیا میں جتنا خون خرابہ طاقت یا اقتدار کے ٹوٹنے اور افراتفری سے ہوا ، اتناطاقت یا اختیار کے استعمال سے نہیں ہوا۔ دنیا میں چند مٹھی بھرآمروں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو مروایا ہے۔ مگر یہ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں جو سترویں صدی کے روس یاسال1926 سے سال1949 تک چینی خانہ جنگی کے دوران ہوا۔ یا پھر سال1910 سے سال1920کے درمیان میکسیکو میں جو لاکھوں اموات ہوئیں، ان کی وجہ اقتدار اور اختیارکا بریک ڈاون تھا۔ 

جمہوریت ایک ایسا نظام حکومت ہے ، جس میں حکومت لوگوں کو ایک دوسرے کا شکار کرنے سے روکتی ہے۔ ایک اچھی حکومت کا سب سے پہلا کام لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ استبداد ، جبر اورظلم سے بچا کر آزادی سے زندگی گزارنے کے موقع فراہم کرناہے۔ صرف اس ایک وجہ سے ہی جمہوریت انسانی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے۔ جمہوریت میں ترقی کی شرح زیادہ ہے۔ اس میں جنگیں اور قتل و غارت گری کم ہوتی ہے۔ اس میں نسبتا زیادہ صحت مند اور زیادہ بہتر تعلیم یافتہ شہری ہوتے ہیں۔ اس میں قحط سالی نہیں ہوتی۔ سچی جمہوریت میں کوئی شخص بھوکا نہیں مر سکتا۔ مٹھی بھر لوگ سارے وسائل پر قابض نہیں ہو سکتے۔ اگر یہ سب ہو رہا ہے تو سمجھ لیں جمہوریت میں کوئی سقم ہے۔ اور یہ سچی جمہوریت نہیں ہے۔ 

سمیول ہانٹنگٹن جمہوریت کی تاریخ کو تین لہروں میں تقسیم کرتا ہے۔ پہلی لہر انیسویں صدی کے ابتدامیں آئی ۔ یہ وہ ووقت تھاجب روشن خیالی پر عظیم تجربات ہوئے۔ اس وقت مغربی ممالک میں جمہوریت ہر قسم کے چیک و بیلنس کے ساتھ کام کر تی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ تھوڑے بہت مقامی فرق کے ساتھ اس تجربے کو کئی مغربی ممالک میں دہرایا گیا۔ ان ممالک کی تعداد سال 1922 تک تقریبا 30 تک پہنچ گئی۔ مگر جمہوریت کی اس پہلی لہر کو فاشزم کے ابھار نے پیچھے دھکیل دیا۔ اور1942تک جمہوری ممالک کی تعداد صرف بارہ رہ گئی ۔

دوسری جنگ عظیم میں فاشزم کی شکست کے بعد نوآبادیاتی ملکوں نے خود مختاری حاصل کرنی شروع کی۔ اس دور میں جمہوریتوں کی تعدادسال1962تک36 تک پہنچ چکی تھیں۔ مگر اس کے باوجود یوروپین جمہوریتیں مشکل کا شکار رہیں ۔ مشرق میں سوویت نواز آمریتوں کے زیر نگین رہیں۔ اور شمال مغرب میں فاشسٹ آمریتوں کے درمیان سینڈوچ بن گئیں۔ 

جمہوریت کی دوسری لہر کو جلدی ہی یونان اور لاطینی امریکہ میں فوجی جنتا، ایشیا میں مطلق العنان حکمرانوں ، افریکہ، مشرق وسطی اور جنوب مشرقی ایشیا میں کمیونسٹ انقلابوں نے پیچھے دھکیل دیا۔ ستر کے وسط تک جمہوریت کا مستقبل روکھا اور بے رنگ لگتا تھا۔ جرمن چانسلر ولی برانٹ اور امریکی سنیٹر اور سماجی سائنسدان دانیال پیٹرک جیسے لوگ مستقبل قریب میں جمہوریت کے مکمل خاتمے کی پیشن گوئی کر چکے تھے۔

مگر ان پیشن گوئیوں کی سیاہی خوش ہونے سے پہلے جمہوریت کی تیسری لہر سونامی کی طرح اٹھی۔ فوجی اور فاشسٹ آمریتوں کے گرنے کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ سلسلہ یونان، سپین، پرتگال، ارجنٹینا ، برازیل ، چلی، تائیوان، فلیپائن اور جنوبی کوریا تک پھیل گیا۔ سال1989 میں دیوان برلن گر گئی، اور مشرقی یورپ کی اقوام نے اپنے اپنے ملکوں میں جمہوریتیں قائم کرنی شروع کر دیں۔ سال1991 میں سویت یونین کے ٹوٹنے سے روس اور دوسرے ممالک کے لیے راستہ صاف ہو گیا۔ افریقا میں کچھ ریاستوں نے طویل مدتی آمروں سے چھٹکارا پایا ۔ 

سال1989 میں فرانسس فوکویاماہا کا مشہور مضمون سامنے آیا، جس میں اس نے لکھاکہ لبرل جمہوریت تاریخ کے خاتمے کا نشان ہے، اس لیے نہیں کہ آئندہ تاریخ میں کچھ نہیں ہوگا ، یا تاریخ یہاں ہی ختم ہو جائے گی، بلکہ اس لیے کہ دنیا میں حکومت کرنے کے بہترین طریقے پر دنیا میں اتفاق ہو رہاہے ، اور وہ طریقہ جمہوریت ہے۔ اور اب دنیاکو نظام پر لڑنے کی ضرورت نہ ہو گی۔ 

مگر اس کے فورا بعد متبادل نظام سامنے آنا شروع ہو گئے۔ جیسے کچھ اسلامی ممالک میں تھیوکریسی اور کچھ دوسرے ممالک میں آمرانہ سرمایہ داری نظام۔ جمہوریت نے استبدادی یا آمرانہ نظاموں کو خودجگہ دینی شروع کر دی۔ پولینڈ، ہنگری، ترکی اور روس میں قدیم زار اور سلطان نما حکمران واپس آنا شروع ہوگئے۔ قنوطیت پسندوں نے جمہوریت کی تیسری لہر کی پسپائی کا عندیہ دینا شروع کیا۔ انہوں نے جمہوریت کو مغربی دنیا کا زعم اور خود فریبی قرار دیا ، جسے وہ باقی دنیا پر مسلط کرنا چاہتے تھے۔ 

حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ کئی ممالک میں جمہوریت ایک طوفانی لہر کی طرح اٹھی، اور کچھ عرصے بعد پیچھے دھکیل دی گئی۔ اس کی جگہ مطلق ا لعنان قوتوں نے لے لی۔ روس اور ایران کی طرح کئی ممالک میں انتخابات کا تسلسل تو برقرار رکھا گیا، مگر وہاں پر انسانی حقوق اور شہری آزادیوں پر پابندی لگا دی گئی۔ آزادی اظہار اور آزادی فکر پر پہرے بٹھائے گئے۔ چنانچہ کسی ملک میں جمہوریت کی سطح اور میعار معلوم کرنے کی کسوٹی انتخابات نہیں، انسانیحقوق اورشہری آزادیاں ہیں۔ اور سب سے مقدم آزادی اظہار رائے ہے، جس کے بغیر جمہوریت بے معنی ہے۔ مگر اس بے معنی جمہوریت کا متبادل بھی جمہوریت ہی ہے، ایک حقیقی اور سچی جمہوریت۔

♦ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *