مذہبی قوانین کی افادیت کا مسئلہ۔آخری قسط

ایمل خٹک

مذہب اور مذہبی مسائل کے حوالے سے بحث ہمیشہ بہت حساس معاملہ رہا ہے۔ لیکن جب مذہب کے نام پر شر اور فساد بڑھ جاتا ہے ، مذہب کا غلط استعمال اور گمراہی بڑھ جاتی ہے اور ذاتی یا گروہی یا سیاسی مفادات کیلئے مذہب کا استعمال بڑھ جاتا ہے تو پھر ان معاملات پر نہ بولنا کلمہ حق کہنے سے اجتناب اور بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر برائی یا غلط کام کا ساتھ دینا ہوتا ہے ۔  تاریخی اسناد اور شواہد کی موجودگی میں اب اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ جنرل ضیاء الحق کی اسلامائزیشن کا بنیادی مقصد اپنے اقتدار کو دوام دینا اور  ذاتی اور بیرونی قوتوں کے مفادت کو تقویت دینا تھا ۔ سرد جنگ میں کمیونزم کے خلاف بیرونی مغربی ایجنڈے کے تکمیل کیلئے انہوں نے مذہبی کارڈ کا بیدردی سے استعمال کیا۔ 

ہماری یہاں بحث مذہبی تعلیمات کے غلط یا درست ہونے پر نہیں بلکہ ایک فوجی آمر کی اپنی اقتدار کو دوام دینے اور علاقے میں مغربی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے مذہبی کارڈ کے استعمال اور مذہب کے نام پر بنائے گئے قوانین کے سقم اور اس کے غلط استعمال پر بات کرنا ہے اور اس کے سیاسی ، سماجی اور نفسیاتی پہلوؤں کو دیکھنا ہے ۔ مذہب کا سیاسی مقاصد کیلئے استعمال تو عرصے سے جاری ہے مگر ضیاء فوجی آمریت کے دوران یہ اپنی انتہا کو پہنچا جس کے مضر اثرات مزید کئی سالوں تک رئینگے ۔ 

موجودہ دور میں اسلامی دنیا میں تقریبا ہر روز کوئی نہ کوئی بیگنا ہ اور مظلوم مسلمان حق گوئی یا مذہبی تنگ نظری کی وجہ سے فرقہ پرست اور فتوی باز مولویوں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور جنونیت کا یہ عالم ہے کہ یا تو آئے روز کوئی نیا فرقہ وجود میں آتا ہے یا  امام مہدی بننے کا کوئی نہ کوئی دعویدار پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس طرح کوئی نہ کوئی بیگناہ اور معصوم بچہ یا بچی مذہبی راہنماوں کی ہوس کی بہینٹ چڑھ جاتی ہے۔اب تو مذہبی طبقے میں جنسی ویڈیو بنانے کا رواج بھی زوروں پرہے۔

سوشل میڈیا مذہب کے نام پر سادہ لوح انسانوں کو لوٹنے ، ان کے مذہبی جذبات سے کھیلنے اور گمراہی کے اتھاہ گرائیوں میں ان کو دھکیلنے کے واقعات کو عام کررہا ہے اور اس سلسلے میں معاشرے میں پھیلے ہوئے تمام گند کو سامنے لا رہا ہے ۔ 

خدائے بزرگ اور برتر نے کسی مصلحت کے تحت انسانوں کو ایک دوسرے سے مختلف پیدا کیا ہے ۔ اور اگر کوئی مصلحت کارفرما نہ ہوتی تو خالق کائینات تمام انسانوں کو ایک جیسے اور ایک ہی نظریات اور عقائد کے ساتھ پیدا کرتے ۔ رنگ و نسل ، قدوقامت ، زبان ، سوچ وفکر اور عقائد کی تنوع دراصل کائنات کی خوبصورتی ہے اور اس خوبصورتی کی قدر کرنا چائیے ۔ تنوع سے انکار دراصل فساد کی بنیادی وجہ ہے ۔ تمام انسانوں کو ایک جیسے بنانے کا عمل بگاڑ پیدا کرتا ہے ۔ ہاں انہیں ہم خیال بنایا جاسکتا ہے مگر بزور نہیں بلکہ دلیل اور مکالمے کے ذریعے سے۔

آسمانی پیغامات اکثر اس تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانوں کو خالق کائنات کی رضامندی حاصل  اور بندگی اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ خوشگوار باہمی تعلقات ، انصاف ، حق گوئی اور ایک دوسرے کے حقوق کے احترام اور پاسداری کا درس دیتے ہیں ۔ اس لیے حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی بات بھی کی گئی ہے۔

کوئی بھی معاشرہ چاہے لبرل ہو یا مذہبی افراد کو قانون کو ہاتھ میں لینے یا دوسروں کی جان لینے چاہے مقصد کتنا ہی اعلی یا ادنی کیوں نہ ہو کی اجازت نہیں دیتا ۔ ایک بیگناہ انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ بیگناہ وہ ہوتا ہے  جس نے کوئی خطا نہ کی ہو اور  اس کو کسی ناکردہ گناہ ، ایسے غلط کام یا جرم کی انہیں سزا دی جائے جو اس سے سرزد نہ ہوئی ہو ۔ یا کسی فرد کو کسی غلط فہمی ، جھوٹے الزام ، ذاتی دشمنی ، رقابت ، حسد یا انتقام کی وجہ سے قتل کیا جائے۔ انصاف پسند اور مہذب معاشروں میں لوگ عموما دوسروں کو اپنا ہمنوا بنانے اور اپنی بات مکالمے کے ذریعے سے منواتے ہیں نہ کہ بزور اور جبر سے ۔ 

انسان کو اشرف المخلوقات اسلئے نہیں کہا گیا ہے کہ وہ جذبات کی رو میں بہتا رہے یا عقل اور شعور سے عاری اپنی جبلت کے تحت عمل اورفیصلے کریں بلکہ ان کو اچھے اور برے میں تمیز کرنے کیلئے عقل اور شعور دیا گیا ہے ۔ جبلت ایک حیوانی وصف ہے جبکہ عقل اور شعور ایک انسانی ۔ انسان جبلت سے بالاتر ہوکر زندگی گزارتا ہے جبکہ حیوانات جبلت کے تحت ۔ اسلئے معاشرے میں کسی بھی فرد کو چاہے جس مقصد کیلئے ہو قانون کوہاتھ میں لینے کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ اگر ہر فرد کو خود ہی جج اور جلاد بننے کی اجازت دی جائے تو معاشرہ افراتفری اور انارکی کا شکار ہوجائیگا ۔ اور عقائد اور نظریات کے شدید اختلافات کی موجودگی میں گلی گلی حق اور انصاف کا خون ہوگا۔  

کسی بھی معاشرے میں انفرادی جسٹس کے برعکس جسٹس سسٹم میں کسی کو مجرم ٹھہرانے کا ایک باقاعدہ پراسس موجود ہوتا ہے اور کیس کے تمام پہلو کو مدنظر رکھا جاتا ہے شواہد کو دیکھا اور جانچا جاتا ہے ۔ یہ نہیں ہوتا کہ بابری مسجد کے واقعے میں تو ملوث ھندو ھوتے ہیں جبکہ اس کے ردعمل میں پاکستان میں عیسائیوں کی عبادت گاہوں کو جلایا جاتا ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی پر مشال خان کو بیدردی سے توہین رسالت کے الزام میں مارا جاتا ہے ۔ کمسن رمشا مسیح پر توہین کا الزام لگا کر ایک مقامی مولوی ان کو انتقام کا نشانہ بناتا ہے ۔

توہین کا کیس سننے والے جج کو مارا جاتا ہے اور کیس کی پیروی کرنے پر راشد رحمن ایڈوکیٹ  کو مارا جاتا ہے ۔ اور گوجرہ ، کوٹ رادھا کرشن جیسے گھیراؤ جلاؤ اور قتل عام کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔  توہین کے ملزمان کے علاوہ ان کی پیروی کرنے والے وکیلوں اور حتی کہ جج کو بھی نہیں بخشا گیا  ۔ اور تو اور قانون کے سقم اور غلطیاں دور کرنے کیلئے اس میں ترمیم یا ملزمان کے حق میں دو لفظ بولنے پر پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو بھی مارا گیا۔ 

وہ لوگ جو قانون کے سقم اور غلط استعمال اور مزید بیگناہ انسانوں کی قتل عام اور ان کے ساتھ ممکنہ بے انصافی روکنے کیلئے قانون میں اصلاح یا ترمیم کی مخالفت کر رئے ہیں وہ نہ صرف مذہب کے ایک اہم اصول یعنی اصول اصلاح بلکہ اصول انصاف کی بھی نفی کر رہے ہیں ۔ اس طرح وہ شعوری یا لاشعوری طور پر بیگناہ افراد کے قتل میں شراکت دار اور شریک جرم بن رہے ہیں ۔ حق اور انصاف کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہمارے مذہبی پیشوا خود اس ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے اور قانون کو بہتر بنانے کیلئے آگے بڑھتے الٹا وہ سقم اور غلطیوں کی حامل قانون کی دفاع کر رہے ہیں۔ اور قانون کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے اس کی بہتری اور اصلاح کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں ۔  قابل اصلاح قانون کی اصلاح سے انکار غیروں کو جگ ہنسائی کا موقع اور ان کو پروپیگنڈہ کیلئے مواد فرا ہم کرنے کے سوا کچھ نہیں  ہے ۔

ان قوانین کے حوالے سے موجود جائز شکایات اور اس میں موجود سقم کو محض اس بنیاد پر رد یا قالین کے نیچے نہیں دھکیلا جاسکتا کہ بعض لبرل یا بیرونی حلقے اس پر تنقید کر رہے ہیں اور ضروری ترامیم پر زور دے رہے ہیں ۔ قوانین کے حوالے سے موجود عوامی شکایات اور تحفظات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے ۔ اگر کہیں بے انصافی ہورہی ہے تو جذبات کی بجائے ٹھنڈے دماغ سے اس کا حل ڈھونڈنا اور ازالہ ضروری ہے ۔ بیگناہ انسانوں کے قتل ، ظلم اور بے انصافی کی چاہے جس نام پر بھی ہوکوئی مذہب اجازت نہیں دیتا ۔  میانہ روی ، رواداری ، عفو درگزر ، صبر اور برداشت بہترین انسانی رویئے ہیں ۔  جس کی مذہب تلقین کرتا ہے ۔ مذہب کے نام پر پھیلے ھرقسم کی انتشار ، شر اور فساد کی ایک وجہ ان بنیادی اوصاف سے عملا روگردانی ہے ۔ 

 

 پہلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

مذہبی قوانین کی افادیت کا مسئلہ ۔ قسط اوّل

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *