بلوچستان میں صورتحال فلسطین سے بھی ابتر ہے

ممتاز صحافی و لکھاری محمد حنیف کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال فلسطین سے بھی بد تر صورتحال ہےاور پنجابیوں کو اندازہ ہی نہیں کہ بلوچستان میں کیا ہورہا ہے۔

ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات کرتےہوئے انھوں نے کہا کہ جیسے فلسطین میں اسرائیلی فوجی سرحد پر فلسطینیوں سے جس طرح کے سوالات کرتے ہیں یا تفتیش کرتے ہیں بعینہ اسی طرح پاکستان کی سیکیورٹی فورسز بلوچستان میں داخل ہونے والے صحافیوں سے کرتی ہے جیسے وہ کسی دشمن علاقے میں جارہے ہوں۔

محمد حنیف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے شہریوں میں بلوچستان کے متعلق ایک خاص قسم کی لاعلمی پائی جاتی ہے۔ پچھلے دنوں میرے ایک صحافی ساتھی نے لاہور کی یونیورسٹیوں میں ایم اے کے طلبا، جن کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ باخبر طالب علم ہوں گے، سے بلوچستان کے متعلق پوچھا تو 80 فیصد سے زائد طالب علموں کو پتا ہی نہیں کہ بلوچستان میں کیا ہورہا ہے جہاں ہر دوسرے روز کسی نہ کسی کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور پھر چند ماہ بھی اس کی مسخ شدہ لاش ملتی ہے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر ریاستی ادیبوں ، روشن خیال صحافیوں کی خاموشی معنی خیز ہے۔پاکستانی میڈیا نے بلوچ عوام پر ہونے والے ظلم و ستم پر مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ صورتحال تو یہ ہے کہ ماما قدیر بلوچ ، جس نے اپنے بیٹے کی مسخ شدہ لاش کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا تھا، کو پنجابی لکھاری بھارتی ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔

ماما قدیر بلوچ پچھلے کئی سالوں سے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جبری طور پر لاپتہ افراد کے لواحقین کا کہنا ہے کہ اگر اغوا شدہ جوان واقعی قصور وار ہیں تو انہیں عدالت میں کیوں نہیں پیش کیا جاتا؟ اگر ان پر الزامات ثابت ہوجائیں تو انہیں قانون کے مطابق سزادی جائے۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ

انصاف کی تحریک پر منتخب ہونے والو ۔۔۔!!!! یہ مریخ پر واقع ملک بلوچستانپر بسنے والی مخلوق نہیں ہیں ۔ یہ پاکستان کے صوبے بلوچستان کی بیٹیاں ہیں جو اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کرنے بلوچستان سے اسلام آباد پہنچی ہیں ۔کرنیل صیب جرنیل صیب کا ورد کرنے والو قوم کی یہ بہادر بیٹیاں تمہیں صرف ٹرنیل صیبسمجھتی ہیں ۔۔۔۔ مجبور لاچار بلوچ خواتین کا ہر ایک آنسو وہ نفرت کا بیج ہے جسے ایک دن گوادر سے چین تک بلوچستان کی سنگلاخ چٹانوں کو پھاڑ کر نکلنا ہے۔ ان بیچاریوں کو بتا کیوں نہیں دیتے کہ شک کی بنا پر ہمارے بہادروں نے اپنی ہی ملک کی نہتی عوام پر گولیاں برسا کر قتل کر ڈالا ہے اور لاشیں پہاڑوں پر جنگلی جانوروں کا کھاجا بن چکی ہیں ۔

One Comment

  1. الفاظ گم ہوجاتے ہیں …. دکھ ہو سوا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *