سپریم جوڈیشل کونسل کی ججوں کے خلاف کاروائیاں

لیاقت علی

سپریم جوڈیشل کونسل نےمتفقہ طورپراسلام آباد ہائی کورٹ کے سنئیرجج شوکت عزیز صدیقی کومعزول کردیا اورصدرمملکت نے کونسل کی سفارش پرانھیں ان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ جسٹس صدیقی پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں اعلیٰ عدلیہ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ دیا ہے۔

جسٹس شوکت صدیقی کی سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے برطرفی پرسوشل میڈیا پر کچھ لوگ ماتم کناں ہیں۔ شوکت صدیقی کی عظمت وبہادری کے گن گارہے ہیں۔ وہ جنرلز کے سامنے ڈٹ گئے تھے یہی ان کا قصورتھا جیسے بیانات جاری کئے جارہے ہیں۔شوکت صدیقی کی تقرری ہو یا پھر ہماری عدلیہ میں ججوں کی تقرری میرٹ پر نہیں تعلقات کی بنیاد پرہوتی ہے۔

لاہورہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس ہوں یا چند ماہ بعد آنے والے چیف جسٹس سپریم کورٹ ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں۔ججوں کے بیٹے، بھائی، بھتیجے اورداماد زیادہ تر جج مقرر ہوتے ہیں۔ شوکت صدیقی کی تقرری چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخارمحمد چوہدری کے لئے ان کی خدمات کی مرہوں منت تھی۔

جسٹس اطہرمن اللہ جج اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس چوہدری کے ترجمان ہوا کرتے تھے اورپھراسلام آباد ہائی کورٹ کےجج بنا دیئے گئے۔جسٹس شوکت صدیقی کی برطرفی کے پس پشت جس ادارے کی طرف ملفوف اشارے کئے جارہے ہیں تقرری کے وقت اس ادارے سے بھی کلیرنس لی جاتی ہے۔ اگران دوستوں کی بات مان لی جائے جو کہتے ہیں کہ ان کی برطرفی میں ہمارے مہربانوں کا ہاتھ ہے تو یہ کہنا درست ہوگا کہ جنھوں نے مقررکیا تھا انھوں نے ہی برطرف بھی کردیا ہے۔

سپریم جوڈیشل کونسل میں پہلا ریفرنس 1951میں جسٹس حسن علی آغا کے خلاف فیڈرل کورٹ آف پاکستان میں فائل کیا گیا تھا( اس وقت تک سپریم کورٹ آف پاکستان کی تشکیل نہیں ہوئی تھی۔ سپریم کورٹ کے تشکیل 1956کے آئین کے تحت ہوئی تھی)۔ دوسرا ریفرنس جسٹس اخلاق حسین( بائیں بازو کے معروف دانشور اور رہنما رضا کاظم اور صحافی اور اینکر نسیم زہرا کے والد) کے خلاف جنرل ایوب خان کے دورحکومت میں فائل کیا گیا تھا جب کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں تیسرا ریفرنس جسٹس شیخ شوکت علی کے خلاف فائل کیا گیا تھا۔ چوتھا ریفرنس جسٹس جی صفدر شاہ کے خلاف جنرل ضیا کے دور حکومت میں فائل کیا گیا تھا۔

جسٹس جی صفدر شاہ سپریم کورٹ کے اس بنچ کا حصہ تھے جس نے بھٹو کی لاہور ہائی کورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کیاتھا۔ سپریم کورٹ کے سات رکنی بنچ کے چار ججوں نے بھٹو کی سزائے موت کوبحال رکھا تھا جب کہ تین ججوں نے بھٹو کی سزا کے فیصلے کو مسترد کردیا تھا۔ جسٹس ان تین ججوں میں شامل تھے جنھوں نے بھٹو کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس حسن علی آغا کو الزامات سے بری کرتے ہوے ان کے خلاف ریفرنس کو مسترد کردیا تھا۔

جسٹس سید اخلاق حسین کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ دیتے ہوئے ان کو برطرف کردیا تھا۔جب کہ جسٹس شوکت علی سے کہا گیا تھا کہ وہ مستعفی ہوجائیں بصورت دیگران کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کاروائی کرے گی چنانچہ وہ مستعفی ہوگئے تھے۔ جسٹس جی صفدرشاہ سے فوجی حکومت بھٹوکوریلیف دینے کی بنا پر بہت ناراض تھی چنانچہ ان کوجعلی ڈگری کے الزام میں ملوث کرتے ہوئے ان کے خلاف ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجا گیا تھا۔

جسٹس شاہ براستہ افغانستان بھیس بدل کرانگلینڈ چلے گئے اور جنرل ضیا کا سارا دور انھوں نے جلاوطنی میں گزارا تھا۔ 2007میں جنرل پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کو ریفرنس بھیجا تھا لیکن سپریم کورٹ کے تمام جج اس ریفرنس کے خلاف متحد ہوگئے تھے اور سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ نے سپریم کورٹ میں زیرسماعت اس صدارتی ریفرنس کومسترد کردیا تھا۔اس کے بعد جو کچھ ہوا اس کو ہماری سیاسی تاریخ میں عدلیہ بحالی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزول جسٹس شوکت عزیز صدیقی اسی عدلیہ بحالی تحریک کی پیداوار ہیں۔ ان کا شمارجسٹس چوہدری کے خاص کارندوں میں ہوتا تھا اورانہی کی بدولت وہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج بنے تھے۔

One Comment

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    خس کم جہاں پاک

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *