عوامیتؔ اور جمہوریت

منیر سامی

اب سے چند سال پہلے امریکی تاریخ دان John Lukacs کے مضامین کا ایک مجموعہ Democracy and Populism کے عنوان سے شائع ہوا تھا، جس کا ذیلی عنوان Fear and Hatred ہے۔ Lukacs جمہوریت اور تاریخِ جمہوریت کا اہم دانشور گردانا جاتا ہے۔ وہ امریکہ میں سینیٹر میکارتھی کی زیادتیوں کے خلاف بھی تھا اورامریکہ کی عراق کے ساتھ جنگ کے مخالفین میں بھی شامل تھا۔

وہ امریکی جمہوریت پر لکھنے والے ایک اور دانشور Alexis Tocqueville کی اس فکر سے متفق ہے کہ سابقہ جاگیردارانہ اشرافیہ اب ایک ایسی منتخب اشرافیہ میں تبدیل ہو گئی ہے جو عوامی نعرہ بازی کے ذریعہ طاقت حاصل کرتی ہے۔ اس کی مذکورہ بالا کتاب کا خلاصہ اس طرح سے ہے کہ: ’امریکی جمہوریت اٹھارویں صدی سے اب تک ایک خطرناک اور ناقابلِ تنسیخ عوامیت میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔ اس تبدیلی میں دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ رائے عامہ پر جذباتی عوامیت کا غلبہ اہم ترین ہے۔ یہ اہم تبدیلی اشتہار بازی کے جدید طریقوںکو استعمال کرتی ہے جن کے ذریعہ پروپیگنڈے اور تفریح بازی نے علم و دانش کو پسِ پُشت ڈال دیا ہے۔ یہ ایک ایسی عوامیت ہے جو معاشرہ کو یکجا رکھنے کے لیئے قوم پرستی اور عسکریت کو استعمال کرتی ہے۔‘‘

یوں لگتا ہے کہ یہ کتاب نہ صرف امریکہ کی موجود صورتِ حال بلکہ خود مغربی جمہوریتو ں میں نمو پذیر ان تبدییلیوں کی پیش گوئی کررہی تھی جس کی ایک مثال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپؔ کی وہ عوامیت ہے جو معاشرہ میں خوف اور نفرت پھیلا کر اسے اپنی طاقت کو قائم کرنے کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس پیش گوئی اور جمہوریت کی عوامیت میں تبدیلی کو ہم بھارت میں مودیؔ کی پالیسیوں پر اور پاکستان میں عمرانؔخان کے عروج اور مقبولیت پر بھی منطبق کر سکتے ہیں۔ عمران خان کے ’نئے پاکستان ‘ میں تو ہم ایک خاص قسم کی قوم پرستی کا عسکریت کے ساتھ اشتراک واضح طور پر محسوس کر سکتے ہیں۔ جہاں عمران خان کی عوامیت اور عوامی مقبولیت کو پاکستان کی عسکر ی اشرافیت کی واضح حمایت حاصل ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ صدیوں میں امریکی طرزِ حکومت دنیا بھر کے طریق ہائے حکومت پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ کہیں پرملکوں اور قوموں نے اس اثر کو خود مختارانہ طور پر اپنایا ہے ہے اور اکثر ترقی پذیر ممالک میں امریکہ نے اپنی جمہوریت کے اصول جبراً نافذ کرنے کی کوشش کی ہے ، جس میں ترقی پذیر ممالک کی عسکری اشرافیہ کو استعما ل کرنا شامل ہے۔

آج کے دور میں امریکہ کے سخت قدامت پرست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’ عوامیت ‘ بھی مختلف ممالک میں یا ان ممالک کے بڑے حصوں اور صوبوں میں ایک خطرناک جرثومہ یا وائرس کی طرح پھیلنے لگی ہے۔ John Lukacs کی فکر کے مطابق عوامیتؔ جمہوریت کو کمزور کرتی ہے اور ایک طرح کی آمریت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

اس کی ایک مثال کینیڈا کے سب سے بڑے صوبے اونٹاریو میں قدامت پرست جماعت کے رہنما ڈَگ فورڈ ؔ کا بحیثیت وزیرِ اعلیٰ انتخاب ہے۔ وہ اب سے پہلے یہاں کے سب سے بڑے شہر ٹورونٹو کی بلدیہ کے رُکن تھے۔ اب وہ صوبہ میں گزشتہ سترہ سال کی آزاد خیال حکومت کے طویل عرصہ حکومت سے تھکے ہوئے شہریوں میں عوامیت کے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے تبدیلی کی نعرہ بازی کی بنیاد پر منتخب ہوئے۔ اپنے بلدیاتی عہدہ کے دوران ان کا کئی دیگر اراکین کے ساتھ عناد ہوا۔ وزیرِ اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے ٹورونٹو کی بلدیہ کے ارکین کی تعداد کو سینتالیسؔ سے گھٹا کر پچیس ؔ کرنے کا قانون نافذ کرنے کی کوشش کی۔یہ ایک طرح سے بلدیاتی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔ اس قانون کو کو ایک عدالت نے رد کردیا۔ عدالتی فیصلے کے ردِّ عمل میں اب وہ ایک ایسا قانون بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کو آئینی استثنا حاصل ہو۔

عوامیت ، یا عوامی مقبولیت کی نعرہ بازی کے ذریعہ طاقت اور حکومت حاصل کرنے والے سیاست دان ہمیشہ رکیک تعصبات کے ذریعہ ،جن میں نسل پرستانہ تعصبات اور مذہبی تعصبات بھی شامل ہوتے ہیں ، اقتدار حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ اپنے حمایتیوں کو مخالفین کے لیے بدزبانی اور رکیک الزام تراشی کے لیے شہہ بھی دیتے ہیں اور خود بھی یہی کرتے ہیں۔ آپ کو ڈونلڈ ٹرمپؔ، ڈگ فورڈؔ، اور عمران خان میں یہ مشترک قدر دکھائی دے گی۔ پاکستان میں ماہرِ معاشیات عاطف میاں کی احمدی ہونے کی بنیاد پر برطرفی مذہبی تعصب کی ایک واضح دلیل ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عوامیت ؔ ، جمہوریت کے کندھے پر چڑھ کر معاشرہ پر حکمرانی کرنے کے لیئے ایک معین عرصہ کے لیے غلبہ حاصل کرتی ہے۔ جمہوری نظاموں میں یہ غلبہ ایک سے زیادہ ادوار تک بھی قائم رہ سکتا ہے۔ اس عوامیت پر مبنی غلبہ کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔ اس اثنا میں ایسی پالیسیاں اورقانون بنائے جاتے ہیں جو فوری طور پر مقبول تو لگتے ہیں لیکن عام طور پر طویل عرصہ کے لیئے نقصان دہ ہوتے ہیں او ر انہیں آسانی سے پلٹا نہیں جا سکتا۔ وہ معاشرے جہاں جمہوری نظام مضبوط ہوں، عوامیت کے دھچکے سے گزرنے کے بعد تصحیح اور تبدیلی میں کامیاب تو سکتے ہیں لیکن اس میں ایک طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔ Lukacs کے خیال میں تو عوامیت کے نقصان دہ اثرات ناقابلِ تصحیح ہوتے ہیں۔

One Comment

  1. حبیب شیخ says:

    Thought provoking column. Most people think that democracy means elections even with some limited freedom of expressions. Masses are being manipulated in the name of religion , nationality, language etc. The Truth is out there but only if we seek it.

    In some cities in Australia and Europe (e.g. Madrid) there have been some attempts to rectify the situation described in this column. Some people are nominated randomly for a particular bill or period, educated for those bill(s), and they sit beside elected officials, and they have right to vote. These ordinary people are not looking for their re-election or returning favours to their supporters because they were randomly nominated for a limited period. Their vision is lot more than the term of the parliament or council. I think this approach makes sense.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *