اُن ؔ سے ملنااِنؔ کا،نوبل پرائزکن کا؟

طارق احمدمرزا

سنہ 2018ء کے نوبل انعام برائے امن کا اعلان ایک دو روزمیں متوقع ہے۔

جب شمالی کوریا کے رہنماکم جونگ اُن ساؤتھ کوریا کے صدر مون جائی اِن سے ملاقات کے لئے راضی ہوئے تھے تو ڈونلد ٹرمپ کے چاہنے والوں نے امریکہ میں ایک بڑی ریلی نکالی اور ان کے سٹیج پہ تشریف لانے پر بڑی دیر تک یک زبان ہوکر’’نوبیل !نوبیل !‘‘ کے نعرے لگاتے رہے۔جواباًڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ نعرہ بہت پسندآیا ہے۔

لیکن بہت سے عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نسبت شمالی کوریا کے لیڈرمسٹراُن نوبیل انعام برائے امن پانے کے زیادہ مستحق ہیں۔ کیونکہ اس سے قبل ایشیا،خصوصاً شمالی کوریاکے کسی بھی رہنما نے عالمی امن کولاحق ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے سلسلے ایسی مستحسن کارکردگی نہیں دکھائی جس طرح کم جونگ اُن نے دکھائی ہے۔

کم جونگ اُن نہ صرف شمالی کوریا کے صدر سے دوبار ملے بلکہ سنگاپور میں امریکی صدرڈونلد ٹرمپ سے بھی ملنے کے لئے آئے۔چینی صدر نے ان تمام ملاقاتوں اورمذاکرات کے لئے نوجوان اُن ؔ کوتیارکروایااور دوطرفہ یاسہہ طرفہ مذاکرات اور معاہدات طے کرنے کے سلسلہ میں معاونت ،مشاورت اور رہنمائی فراہم کی ۔

مبصرین کا ایک تیسراگروہ ایسا بھی ہے جو دونوں کورین رہنماؤں اورامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ،تینوں کو مشترکہ طورپر امن کانوبیل انعام کاحقدار قراردیئے جانے کی پیشگوئی کررہاہے۔

قارئین کرام ،ان تمام پیشگوئیوں اور قیاس آرائیوں کے غلط یا درست ہونے کے بارہ میں پیداہونے والا سسپنس چند روزمیں ختم ہوجائے گا اور پتہ چل جائے گا کہ نوبل انعام کن کوملا۔لیکن سوال پیداہوتا ہے کہ کیا امن کانوبیل انعام مل جانادنیا میں بالعموم یا اس کے کسی حساس خطہ میں بالخصوص حقیقی امن کے دیرپا قیام کی ضمانت بھی کبھی بنا ہے؟ ۔

تاریخ تو بتاتی ہے کہ ایسا عموماًکم ہی ہواہے۔دنیامیں امن قائم کرنے کی جو بین الاقوامی کوششیں کی جاتی ہیں،ان میں سے کچھ تومخلصانہ ہوتی ہیں اور کچھ کم مخلصانہ ، لیکن بعد میں پتہ چلتا ہے کہ یہ اگرمنافقانہ نہیں تو غیرمخلصانہ اور غیرسنجیدہ ضرور تھیں۔دانت نکال کرہاتھ ملاتے ہوئے فوٹوسیشن کے اہتمام کروانے والے یہ عالمی لیڈر بغلوں میں چھری نہیں بلکہ چھرے چھپائے ہوتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ بعض نوبیل پرائزبرائے امن حاصل کرنے والے بعد میں ایک نئے عالمی یابین الاقوامی فتنہ ووفسادکی جڑبھی ثابت ہوتے ہیں۔چودہویں صدی کے نام نہاد مولویوں کی طرح انہی میں سے فتنے اٹھتے بھی ہیں اور انہی پہ جاکرختم بھی ہوتے ہیں۔ 

راقم کی ذاتی رائے تویہ ہے کہ نوبیل انعامات میں سے امن کی مد میں دیاجانے والاانعام اگرختم ہی کردیا جائے توبہترہوگا۔

آخرکیا وجہ ہے کہ نوبل کمیٹی کی چئرپرسن کو گزشتہ برس امن نوبل انعام کااعلان کرتے ہوئے یہ وضاحت کرنا پڑگئی کہ امن کا نوبل انعام ہرگزمتنازعہ نہیں۔(یورونیوز۔۵؍اکتوبر۲۰۱۷)۔

ایک مثال دیتاہوں،سنہ1993 ء میں کیا ہوا تھا۔وائٹ ہاؤس کے سبزہ زارمیں فلسطینی رہنمایاسرعرفات اور اسرائیلی رہنماؤں اضحاک رابن اور شمعون پیریزنے مذاکرات کئے،امریکی صدر کی موجودگی میں ایک دوسرے ، اورتیسرے سے ہاتھ ملائے گئے اور سنہ 94ء کا امن نوبیل پرائزلے لیا۔اس کے بعد جو کچھ ہوا اور آج تک ہوتا چلا آرہا ہے اس کی تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

کوئی کہہ سکتا ہے کہ بعد میں یا کسی اور طبقہ کی طرف سے پیداکئے جانے والے حالات کا ذمہ دارامن کے قیام کی کوشش کرنے والی شخصیات کو نہیں قراردیا جاسکتا۔لیکن یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اگر یہ شخصیات اتنی ہی غیرمؤثر تھیں توکیا وہ بجائے خوداتنے بڑے عالمی اعزازکے قابل تھیں؟۔

سنہ2001ء میں اقوام متحدہ اور اس کے اس وقت کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کومشترکہ طورپر امن کانوبیل انعام دیا گیاتھا۔آج کے عراق،لیبیا،شام،فلسطین،کشمیر،افغانستان کے حالات ،اور دنیا بھر میں موجود لکھوکہا بے وطن مہاجرین اسی ادارہ کے سامنے ہاتھ باندھے کہہ رہے ہیں کہ ’’ہم پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احساں ہوتا!‘‘۔

شمالی ویت نام کے لیڈرمسٹرایل ڈی تھو کونوبیل امن انعام اور ’’اصلی‘‘ امن انعام، یعنی حقیقی امن کے قیام، میں فرق کا بخوبی علم تھا۔ وہ ایک ’’کھرے‘‘ شخص تھے ۔اسی لئے جب انہیں سابق امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ ہنری کسنجر کے ساتھ ایک ملاقات اور باغ میں ان کے ساتھ چہل قدمی کرنے کی بنا کرہنری کسنجر سمیت امن کے مشترکہ نوبیل انعام کا حقدارقراردیا گیا توانہوں نے اپنے حصہ کا انعام لینے سے صاف انکارکردیا۔جبکہ ہنری کسنجر نے اپنے حصہ کانوبیل انعام برائے امن بڑے فخر سے قبول کرلیا۔ویت نامی لیڈر کااصرار تھاکہ محض سبزگھاس پہ کسی کے ساتھ چہل قدمی کرکے دوسروں کوسبزباغ دکھانے سے نوبیل پرائز نہیں جیتے جاتے۔

مستر تھو دنیا کے واحد شخصیت ہیں جنہوں نے امن کا نوبیل انعام رد کیاہے۔اس انعام کے اعلان کے دوسال بعد ہی شمالی ویت نام نے جنوبی ویت نام پہ چڑھائی بھی کردی جوسنہ75میں سقوط سایگون پر منتج ہوئی۔ادھرہنری کسنجر کے بارہ میں یہ اعتراض پیداہوا کہ وہ سنہ1969 اور 1975 ء میں کمبوڈیاپرکی جانے والی خفیہ امریکی بمباری کی وجہ سے جنگی مجرم قرارپاتے ہیں۔وہ امن کے نوبیل انعام کے کیسے حقدار بن گئے؟۔

اسی طرح سابق امریکی صدربارک اوباما کو توصدربنے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے تھے کہ انہیں نوبل امن انعام مل گیا۔اس کی وجہ امن کے لئے ان کا کوئی عملی اقدام یاکارکردگی ہرگز نہیں تھی،صرف سیاسی بیانات تھے اور منہ زبانی دعوے۔جبکہ فوجی اورسیاسی مبصرین کے مطابق صدراوباما کے سیاہ کارناموں میں پاک افغان سرحدپہ بچوں اور عورتوں سمیت سینکڑوں بے گناہ سویلین افرادکو ڈرون حملوں میں شہید کرنا،افغان جنگ کو طول دینا،شام میں حکومت مخالف چھاپہ ماروں کی علی الا علان حمایت اورفوجی کمک بہم پہنچاناوغیرہ شامل ہے۔

قارئین کرام ان تمام کے برعکس ایسا بھی ہوا ہے کہ دنیا کا کوئی لیڈرامن کے نوبیل انعام کاحقیقی حقداربنالیکن اسے یہ انعام دیا ہی نہیں گیا۔ اس کی بڑی (اور غالباًواحد) مثال مہاتما گاندھی ہیں جنہوں نے تمام عمرنوآبادیاتی استعمار کے خلاف ایک پرامن جدوجہد چلائی اوربرصغیر کی آزادی کے سلسلے میں کلیدی کرداراداکیا۔سنہ47 کا نہیں تو سنہ 48 کا نوبیل انعام تو انہیں مل ہی سکتا تھا لیکن اس برس یہ انعام کسی کو دیاہی نہیں گیا۔مبینہ طورپر وجہ یہ بتائی گئی کہ نوبیل انعام برائے امن کسی فوت شدہ شخصیت کو نہیں دیا جاسکتا۔اس سال جوزف سٹالن کانام امن انعام کے لئے تجویزکیا گیا تھا لیکن منظور نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ مسولینی اورایڈولف ہٹلرکے نام بھی نوبیل پرائز کے لئے پیش ہو چکے ہیں۔

بہرحال اگر اس برس جنوبی کوریا کے صدربھی نوبیل انعام کے مشترکہ حقدارقرارپاتے ہیں تو وہ اپنے ملک کے دوسرے صدر ہونگے جنہیں نوبیل انعام ملے گا۔ اس سے قبل سنہ2000میں جنوبی کوریا کے سابق صدر کم ڈائے جنگ امن کا نوبیل پرائز حاصل کرچکے ہیں،جنہیں جنوبی کوریا کانیلسن منڈیلابھی کہا جاتا ہے۔جمہوریت کے قیام کے جرم میں کئی بارپابند سلاسل رہے،باغی قراردے کرآپ کوموت کی سزابھی سنائی گئی تھی ،بعد میں جلاوطن کردیئے گئے تھے۔

وطن واپس آکرصدرمنتخب ہوئے توکمیونسٹ شمالی کوریا کے ساتھ دوستانہ مراسم شروع کرنے کی غرض سے تاریخی ’’سن شائن پالیسی ‘‘بنائی۔سنہ2000میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ال سے بالمشافہ ملاقات کی جو جنگ عظیم کے بعد سے دونوں کوریاؤ ں کے درمیان پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ تھا۔تب سے ہی دونوں کوریاؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات جاری رہے ہیں۔

اگر ڈونلڈ ٹرمپ،کم جونگ اُن اور مون جائی اِن تینوں مل کرمشترکہ نوبل انعام حاصل کرلیتے ہیں تو اس کاکریڈٹ بھی جنوبی کوریا کے اس نیلسن منڈیلاکو ہی جائے گا!۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *