دَم مارو دَم !

منیر سامی

جب یہ تحریر آپ کی نظروں سے گزرے گی، کینیڈا کے لاکھوں شہری ایک عالمِ سر خوشی اور سرشاری میں جھوم رہے ہوں گے۔ اس وقت کینیڈا اپنی پارلیمان اور حکومت کے ایک تاریخ ساز فیصلے کے بعد دنیا کا وہ دوسرا ملک بن گیا ہو گا، جہاں چرس، گانجے، اور بھنگ کی خرید و فروخت، پیدا وار، ذاتی ، اور طبی استعمال کو ہر طرح سے قانونی بنا دیا گیا ہوگا۔ یہ فیصلہ سالہا سال کی مباحث، عدالتی فیصلوں، اور عوامی احتجاج کے بعد کینیڈا کی موجودہ لبرل حکومت نے کیا۔ جس کے جواں سال وزیرِ اعظم جسٹنؔ ٹروڈو اس کے اہم محرک ہیں۔ کینیڈا کے قدامت پرست اس قسم کی آزادی کے مخالف رہے ہیں۔

چرس اورگانجے کو قانونی قرار دیا جانے کا مسئلہ اب تک دنیا میں ایک متنازعہ بحث رہا ہے۔ اب سے پہلے صرف یوروگوائے میں اس کی قانونی اجازت تھی۔ اس کے علاوہ کئی ممالک میں چرس کے استعمال کے فوجداری قوانین کو بتدریج نرم کیا جاتا رہا ہے۔بالخصوص اس کے طبی استعمال کی ضمن میں۔ آپ شاید یہ سنتے رہے ہوں کہ ہالینڈ میں اس کا استعمال اور خرید فروخت قانونی ہے۔ لیکن یہ درست نہیں ہے۔ وہاں بھی اس کے استعمال پر قدغنیں اور سختیاں ہیں۔

امریکہ میں چرس کا استعمال، پیداوار، اور خرید و فروخت ایک وفاقی فوجداری جرم ہے۔ لیکن اب رفتہ رفتہ وہاں کی ریاستوں میں قوانین تبدیل کیے جارہے ہیں اور ان کو بتدریج منسوخ یا نرم کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے مطابق اس ضمن میں وفاقی فردِ جرم عائد کرتے وقت صوبائی ریاست کے قوانین کو مدِّ نظر رکھنا ہوگا۔

کینیڈا میں چرس کے استعمال کو قانونی قرارد یئے جانے کے پس منظر میں انسانی حقوق کے معاملات تھے۔ یہ امر مُسلّم ہونے کے باجود کہ چرس اور گانجے کے مضر اثرات ، شراب اور سگریٹ نوشی کے مقابلہ میں کہیں زیادہ کم ہیں، اس پر قانونی پابندیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث ہوتی تھیں۔یہ پابندیاں چرس کے ایک مُسکّن دوا کے طور پر استعمال پر بھی تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق کینیڈ ا کے کم از کم تینتالیس فی صد شہری اپنی زندگی میں مختلف بار چرس نوشی کرتے رہے ہیں۔ یہ تخمینہ بھی لگایا گیا ہے کہ اس وقت تقریباً چالیس لاکھ شہری یہ نشہ کرتے ہیں۔ اس کے غیر قانونی ہونے کی وجہہ سے گزشتہ کئی دہایئوں میں کم از کم چھ لاکھ شہریوں پر فوجداری ضابطے لاگو کیئے گئے اور سخت سزایئں دی گیئں۔

ان سزائوں کا سب سے زیادہ شکار سیا ہ فام، اور اولین شہریوں First Nations سے متعلق افراد اور نوجوان ہوتے رہے۔ ان سزاوں کے سبب ان کی زندگیاں برباد ہوئیں اور انہیں سخت ترین انسانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیئے کینیڈا میں انسانی حقوق کے اہم وکیل Alan Young کی رائے اہم ہے، جو کئی بار اس مسئلہ کو کینیڈ ا کی سپریم کورٹ میں اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ:

، ’’میں نے بہت سے اچھے لوگوں کو اس ظالمانہ جنگ کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔ میں نے اس بے ضرر نشہ کے جرم میں لوگوں کو جیلوں میں بربا د ہوتے دیکھا ہے؛ خاندان تقسیم ہوئے جس میں بچوں کو ان کے چرس نوش ماں باپ سے چھینا گیا؛ نوجوانوں پر گرفتاری کے وقت تشدد کیا گیا جب وہ عوامی جگہوں پر چرس نوشی کر رہے تھے؛ بہترین کارکنوں کو ان کی ملازمتوں سے برخواست کیا گیا؛ ان گھروں پر جہاں چرس کی کاشت ہورہی تھی ، پولیس کے چھاپوں کے دوران فائرنگ کی گئی، اور گھر مسمار کیے گئے۔ بالواسطہ طور پر سارے شہری اس جنگ کا نشانہ بنے، کیونکہ چرس کے خلاف جنگ میں اربوں ڈالر خرچ کیے گئے جو اس سے کہیں زیادہ رکیک اور ظالمانہ جرائم کے خلاف استعمال کیئے جاسکتے تھے۔ ‘‘

کینیڈا میں چرس کے ہر قسم کے استعمال کو قانونی بناتے وقت عوام ، ماہرین، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مشورہ کیے گئے۔ یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ کینیڈا میں شراب حکومت کی نگرانی میں سخت کنٹرول کے ساتھ فروخت ہوتی رہی ہے۔ لیکن اب بیئرؔ کی فروخت بڑے گروسری اسٹور وں میں حکومت کی اجازت سے ہونے لگی ہے۔

چرس کے استعمال اور خریدنے کی کم از کم عمر اٹھارہ اور انیس سال ہوگی۔کینیڈا میں چرس کی خریدو فروخت صوبائی حکومت کی لائسنس یافتہ دکانوں پر ہی ہو سکے گی۔ جس میں شراب کی محدود سرکاری دکانیں، اور اودیات فروشی کی دکانیں شامل ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صرف مخصوص دکانوں پر اس کی فروخت اب چور بازاری کا باعث ہوگی۔ اس ضمن میں ہر صوبہ اپنی اپنی بلدیات کے مشورے سے چرس کی فروخت کے مقامات کا تعین کرے گا۔ اس کی پیداوار بھی سرکاری نگرانی میں ہو گی۔ چرس کی پُڑیا اور اس طرح کے پیکٹوں پر سرکاری مہر لگی ہوگی۔ اس کی ذاتی خریدو فروخت جرم ہو گی۔

کینیڈا میں اس طرح کی حاصل کردہ چرس کو کسی طور بھی ملک کی سرحدوں سے باہر لے جانا جرم ہو گا۔ اسی طرح چرس کے نشہ میں گاڑی چلانا ویسا ہی جرم ہوگا جیسا کہ شراب نوشی کی حالت میں۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ کینیڈا کی ایک اہم جامعہ کی تحقیق کے مطابق وہ نوجوان جو چرس کے استعمال کے چار پانچ گھنٹے کے اندر گاڑی چلاتے ہیں، وہ عدم توجہہی کی وجہہ سے زیادہ حادثات کا شکار ہو سکتے ہیں۔

چرس کو قانونی قرار دینے کاایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ اب زیرِ زمین کاروبار سے نکل کر عام کاروبار بن جائے گا، اور یوں اس کو بلیک مارکیٹ اور نشہ آور مواد کی مجرمانہ گروہوں کے ہاتھوں فروخت اوع استحصال سے نجات ملے گی۔ ایک اندازے کے مطابق چند ہی سالوں میں اس کاروبار کا تخمینہ بیس سے تیس ارب ڈالر سالانہ کا ہے۔ جس میں اب بڑے بڑے کاروباری شریک ہو رہے ہیں۔ جس پر حکومت کو ٹیکس کی بڑی آمدنی ہو گی۔

کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ہر شہری کو اس نرمی سے آگاہ کرنے اور اس کے بارے میں شہریوں کی ذمہ داری متعین کرنے کے لیئے ایک مہم چلائی ہے۔ جس میں گھر گھر معلوماتی کارڈ بھیجے گئے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہاں کاروباری ادارے ، تعلیمی ادارے، اسپتال، قانون نافذ کرنے والے ادارے، اور سماجی ادارے اس ضمن میں اداراتی فیصلے اور ضابطے طے کر رہے ہیں۔کینیڈا کی رائے عامہ کی اکثریت چرس کو قانونی قرار دینے کے حق میں ہے۔ اس کے علاوہ ایک بڑی اکثریت اسے اشیائے خوردو نوش میں بھی استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔نیا قانون فی الوقت چرس کو کھانے پینے میں شامل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

یہ ایک تاریخ ساز وقت ہے۔ صاحبانِ رائے کا خیال ہے کہ کینیڈا کے شہری ان اجازتوں کو پوری ذمہ داری سے استعمال کریں گے۔ وہ یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ اس ضمن میں سابقہ سزائوں کو معاف کیا جائے۔

One Comment

  1. یہ دنیا میں برسوں پہلے نشئی چیزوں کی آذادی دی جاتی تھی تاکہ عوام حکومت کی غلط پالیسیوں کی طرف دھیان نہ دیں.اس پالیسی کی خلاف آواز نہ اٹھائیں. نشے کی حالت میں بے خبر رہیں. اس کی مثال چین ہے اور دیگر ممالک ہیں. ملک میں پیسہ کمانے کا آسان طریقہ ہوتا ہے. اب دیکھنا ہوگا کہ عوام کا رد عمل کیا ہوگا. کیا گاڑی چلانے والے بھی کسی پابندی سے مببرا ہونگے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *