مغربی ممالک اور مسلمانوں کا رویہ

خالد تھتھال۔ناروے

جرمنی کی جنوب مشرقی ریاست باویریا میں اینگلا میریکل نے اکثریت کھو دی۔ گرین پارٹی دوسری بڑی جماعت اور مسلمان و مہاجرت مخالف پارٹی اے ایف ڈی چوتھی بڑی جماعت بن گئی ہے۔ چند دن پہلے مہاجرین کے حق میں ہونے والا کثیر تعداد شرکت کے باوجود وہ مقاصد حاصل نہ کر سکا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ چند سال پہلے نیدرلینڈز اور فرانس میں مسلمان مخالف پارٹیوں کی شکست سے جو احساس پیدا ہوا تھا کہ دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں وقتی ابال ہے جو جلد ہی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا ، وہ خام خیالی ثابت ہوا۔

اینگلا میریکل کے جرمنی جس نے شام و عراق کے مہاجرین کے لیے اپنا دل اور دروازے کھولے تھے اور ایک ملین کے لگ بھگ مہاجرین قبول کیے تھے۔ وہی قبولیت اینگلا میریکل کے زوال کا باعث بنتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ 

آخر کیا وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمان ہی مقامی آبادی کی نفرت کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں۔ اس کا آسان جواب جو مذہبی لوگوں کی طرف دیا جاتا ہے وہ ان کے بقول ان کافروں کی اسلام دشمنی ہے کہ جو ایک طرف تو رواداری وجمہوریت کا راگ الاپتے ہیں اور دوسری طرف اسلام کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے۔ 

مذہبی حلقوں کے علاوہ وہ لوگ جو خود کو لبرل یا بائیں بازو سے تعلق رکھنے والا کہتے ہیں، ان کے نزدیک بھی مسلمانوں کا اس سارے عمل میں کوئی قصور نہیں ہے۔ اوسلو سے تعلق رکھنے والے ایک دوست کے بقول اگر مقامی معاشرہ مسلمانوں کو زبردستی اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کرے گا تو مسلمانوں کی جانب سے انتہا پسندانہ رویئے اور دہشت گردی تو اس کا فطری نتیجے کی صورت میں سامنے آئے گا ۔ یعنی پڑھے لکھے لوگوں کے بقول بھی مسلمان بے قصور ہیں اور ہر سانحے کا ذمہ دار مقامی معاشرہ ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے سلسلے میں ایسا کیوں نہیں ہے۔ مغربی ممالک میں مسلمانوں کے علاوہ بدھ مت، ہندو مت، زرتشت، بہائی ازم کے علاوہ سکھ مت سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ہیں۔ انہیں کیوں ایسا گلہ نہیں ہے کہ انہیں زبردستی اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور اگر انہیں بھی مقامی معاشرے میں زبردستی جذب کیا جا رہا ہے تو ان کی جانب سے کسی قسم کے ردعمل کا اظہار کیوں نہیں ہو رہا۔

جہاں تک مقامی معاشرے میں زبردستی ا پنے اندر جذب کرنے کی کوشش کا تعلق ہے تو وہ کون سی ایسی بات ہے جسے زبردستی جذب یا مدغم کرنے کا نام دیا جا سکے۔ مسلمانوں کی یورپ کے ہر شہر میں درجنوں مساجد ہیں۔ مذہب کی تبلیغ کی آزادی ہے۔ عید میلاد النبی جیسے مذہبی تہواروں کےجلوس سڑکوں پر نکالے جاتے ہیں جس سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود جلوس میں پولیس کی خاصی نفری حفاظت کے لیے موجود ہوتی ہے تاکہ کسی قسم کی بدمزگی پیدا نہ ہو۔ 

مسلمانوں کے اپنے ریسٹورنٹ ہیں جہاں ان کے آبائی ملکوں کے کھانے ملتے ہیں۔ دوکانوں پر حلال گوشت ملتا ہے، اپنے روایتی لباس پہنتے ہیں، عرب اپنے چغوں میں نظر آتے ہیں، پاکستانی شلوار قمیض پہنے اکثر دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی پسند کا لباس پہننے کے حوالے سے تو امریکہ کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے کمپنی کا یونیفارم اس بنیاد پر پہننے سے انکار کر دیا کہ وہ اسلامی لباس پہنناچاہتا ہے، اور مذہبی آزادی کے قانون کے حوالے سے اسے اپنا مذہبی لباس پہننے سے روکا نہیں جا سکتا۔

اب شلوار قمیض کس حد تک اسلامی لباس ہے، اس کے متعلق تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے قمیض جس کے کالر و کف وغیرہ ہوتے ہیں وہ اسلامی نہیں بلکہ مغربی قمیض ہے۔ جس کی لمبائی مغربی قمیض سے زیادہ ہوتی ہے۔ تاکہ شلوار کے باہر رکھا جا سکے۔ اور جہاں تک شلوار کا تعلق ہے یہ تو ترکوں کا روایتی لباس ہے۔ شہروں میں بے شک لوگ پتلون پہنتے ہیں لیکن دیہات میں شلوار ہی پہنی جاتی ہے، اور شائد یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ شلوار ترکی زبان کا لفظ ہے اور ترکی زبان سے ہی ہمارے ہاں آیا۔

بہر حال اس پاکستانی نے مقدمہ کیا اور مقدمہ جیت کر شلوار قمیض پہن کر ٹیکسی چلاتا ہے۔ اور یہ بھی امریکہ کی ہی کہانی ہے کہ ایک کھانے پینے کی دوکان میں کیش رجسٹر پر کام کرنے والے ایک پاکستانی مسلمان نے ان گاہکوں کو اٹینڈ کرنے سے انکار کر دیا جو شراب یا سؤر کا گوشت خریدتے ہیں۔ اور اسے یہ رعایت دے دی گئی کہ وہ صرف ان گاہکوں کا اٹینڈ کرے جو یہ دونوں چیزیں نہیں خریدتے۔

ایک زمانہ تھا کہ آپ سامنے آنے والی خاتون کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے تھے کہ اس کی قومیت کیا ہو سکتی ہے۔ ایرانی ہے، عرب ہے یا پاکستانی۔ اب حجاب نے یہ تفریق بھی ختم کر دی ہے۔ مغربی ممالک میں حجاب مسلمانوں کے دینی پہناوے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سوئمنگ کے لیے برقینی ایجاد ہوئی۔ 

حجاب نامی پہناوے کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کی خالقہ مصر کی زینب الغزالی ہیں۔ جس کا اخوان المسلمین سے قریبی تعلق تھا۔ شروع میں اسے اخوان سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں ہی استعمال کرتی تھیں جس سے وہ پہچانی جاتی تھیں۔ اب یہ تمام مسلمانوں کے اسلامی یونیفارم کا حصہ بن گیا ہے۔ اور کسی بھی مغربی ملک میں ان کے استعمال پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ 

مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کے متعلق ایک عام خیال ہے کہ یہ جب بھی کسی مغربی ملک میں منتقل ہونا چاہتے ہیں تو اس کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ جب انہیں اپنے اس مقصد میں کامیابی مل جاتی ہے ، ملازمت و رہائش کا انتظام ہو گیا، بیوی بچے بھی آن پہنچے تو پھر انہیں اسلامی شریعت کا بخار چڑھتا ہے۔ اور شریعت کے نفاذ کا زور و شور سے مطالبہ کرتے ہیں۔ شہر کے مخصوص حصوں کو اسلامی قوانین کے تحت چلانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اور ایسے مطالبہ کرنے والے ہر مغربی ملک میں موجود ہیں۔

اسی قسم کی کوشش ناروے کے شہر اوسلو میں بھی کی گئی جس کے پیچھے ( پرافٹ امہ ) نامی تنظیم تھی۔ جن کا مطالبہ تھا کہ اس علاقے سے کوئی ہم جنس پرست نہ گزرے، اگر مقامی لڑکیاں یہاں سے گزریں تو ان کا لباس مناسب ہونا چاہیئے۔ اور چونکہ اس علاقے میں دیسی دوکانوں کی اکثریت ہے۔ لہذا ایسی مسلمان لڑکیوں کو بھی ہراساں کیا گیا جو حجاب اوڑھے ہوئے نہیں تھیں۔ ان خدائی فوجداروں کا مقامی اخبارات نے ’’مورل پولیس‘‘ کا نام دیا ۔ بات اخبارات کے ذریعے پھیلی تو مقامی پولیس حرکت میں آئی اور اس علاقے میں پولیس کی گشت بڑھا دی گئی۔ یوں غیر حجابی مسلمان لڑکیوں نے سکون کا سانس لیا۔

مغربی ممالک میں مقیم مسلمان وہ واحد گروپ ہے جن کےمطالبات ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ سیاسی جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں مسلمانوں کے ووٹ بھی چاہیئے جن کے حصول کی خاطر وہ ان کی مطالبات کو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ ابھی چند دن پہلے کی خبر ہے کہ سرکاری بجٹ میں مساجد کو دیئے جانے والے فنڈز کی رقم بڑھا دی گئی ہے۔ یہ تو سیاسی جماعتوں کی مجبوری ہے۔ لیکن مقامی معاشرے سے تعلق رکھنے والے عام آدمی کو اس مجبوری سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ لہذا مسلمانوں کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔ اور دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں اور گروہ مضبوط ہو رہے ہیں۔ اور کوئی بعید نہیں کہ کسی وقت دائیں بازو کی کوئی جماعت بر سر اقتدار آ کر مسلمانوں کا ناطقہ بند کر دے۔ 

آگ کا دریاکےآخری حصے میں قرۃ العین حیدر مسلمانوں کی نفسیات کا ایک ہی فقرے میں مکمل تجزیہ پیش کر دیتی ہے۔ اس کے بقول ہندوستانی مسلمانوں نے کبھی دھرتی سے پیار نہیں کیا۔ یہ ہر لمحے میرے مولا مدینے بلا لو مجھےکا ورد کرتے نظر آتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی دھرتی ماتا کی بجائے کسی دوسرے دھرتی کی محبت میں گرفتار ہیں، ان سے یہ امید کرنا گو عبث ہے کہ وہ اپنے اختیار کردہ ملک سے محبت کریں گے۔ لیکن اس کے بغیر کوئی چارہ نظر نہیں آ رہا۔ 

موجودہ صورت حال میں میں وہ لوگ جو اپنے آپ کو پڑھا لکھا یا رائے ساز سمجھتے ہیں، انہیں چاہیئے کہ مسلمانوں کے ہر فعل کا دفاع کرنے کی بجائے انہیں سمجھائیں کہ وہ معاشرے سے ہر وقت طلب کرنے کی بجائے کچھ دینا بھی شروع کریں۔ مقامی لوگوں سے تعلقات بڑھائیں۔ نہ کہ اپنے آپ کو گیٹوز تک محدود رکھیں۔ ان ممالک کو اپنا وطن سمجھیں اور اپنے اندر کی کالی بھیڑوں کے خلاف ڈٹ جائیں۔ کیونکہ ہمارے یہ اختیار کردہ ممالک ہماری اگلی نسلوں کا وطن ہے۔ وگرنہ مستقبل میں ایک خانہ جنگی ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ جس کے نقصان کا ہم ابھی اندازہ تک نہیں کر سکتے۔

6 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    اچھی نصائح ہیں۔
    لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جب یورپی اقوام نے ہندوستان پر نوآبادیاتی سامراجی نظام کے ذریعے قبضہ جمایا تو اپنا لباس ہی پہننے پہ اڑے رہے بلکہ مقامی باشندوں کو بھی پتلون شرٹ پہنا دی۔مقامی باشندوں کے لئے اپنی مادری زبان انگریزی،پرتگالی وغیرہ سیکھنا بولناپڑھنا لازمی قرار دے دیا۔۔ہندوستان کواپنے مذہب پہ لا کر ایک عیسائی ملک بنانے اورتثلیث کے زیر اثر لے آنے کے دعوے اور کوششیں کیں۔اٹھارویں اور اوائل انیسویں صدی میں پادری لیفرائےنے تمام ہندوستانیوں خواہ وہ مسلمان ہوں یا ہندو وغیرہ انہیں یسوع مسیح کی غلامی میں لے آنے کا عزم ظاہر کیا۔
    انگریزوں نے ہندوستان آکر ڈبل روٹی،چپس اور سور ہی کھایا۔پب قائم کئے اورہر کارکردگی کی رپورٹ ،ٹیکس کی رقوم اور تاریخی نوادرات وغیرہ اپنے اصل وطن برطابیہ کو بھجوائی۔پرتگالیوں کا بھی یہی حال تھا۔
    اپنے وطن کا نام لیتے نہ تھکتے تھے۔وطن کی یاد میں آنسو بہاتے نظمیں لکھا کرتے۔تھیٹرقائم کرکے برطانوی کلچر،شیسکپئر والے ڈرامے دیکھ دیکھ کراپنے اور اپنےبچوں کے دلوں کو تسکین پہنچاتے۔

    کیا یہ سارے حقوق براؤن یاسیاہ فام اقوام کے لئے نہیں؟؟؟َ

    احساس کمتری اور کمپلیکس کا شکار کیوں ہونےپہ مجبورکیا جا رہا ہے؟؟َ۔

    تمام انسان برابر ہیں۔

    یہ زمانہ گلوبل ویلج کا اور ملٹی کلچرل،ملٹی لنگوئل زمانہ ہے۔ نوآبادیاتی سامراجی دور کی باقیات،ذہنیت اور روایت جاری رکھنے کا درس دینا انسانی مساوات اور حقوق کی نفی ہے۔

    ہاں دہشت گردی ملٹی کلچرل ازم اور گلوبل ویلج کی مخالف ہے اس کی مذمت سب پرفرض ہے۔

  2. khalid thathaal says:

    تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ مغربی اقوام اسی طرح یہاں حاکم بن کر آئیں جیسے ہمارے شمال مغربی پہاڑوں سے مقدس حملہ آور آئے۔ اور انہوں نے یہاں فارسی کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کیا۔ لیکن ہمیں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کیونکہ وہ ہمارے مسلمان بھائی تھے۔ ہمیں اس بات پر بھی کوئی اعتراض نہیں کہ جب مکہ سے بدؤ نکلے اور انہوں نے اپنے مفتوحہ علاقوں کی تہذیب کو کچل ڈالا۔ اور وہاں اپنے بدووانہ رسوم رائج کیں۔ وہاں کی زبانوں کر ختم کر دیا۔ ایران وہ واحد ملک ہے جو اپنی زبان بچا سکا اور اسی وجہ سے آج وہ ایک علیحدہ شناخت کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔
    آپ کو پادری کے عیسائیت پھیلانے پر تو اعتراض ہے لیکن وہ زبردستی کی مذہبی تبدیلی نہ تھی اور نہ ہی اس نے کوئی ایسا نعرہ مستانہ بلند کیا تھا کہ عیسائیت قبول کرو، جزیہ دو یا تمہارا واسطہ ایک ایسی قوم سے پڑا ہے جو موت سے اسی قدر محبت کرتی ہے جیسی محبت تم زندگی سے کرتے ہو۔ ہندوستان میں کیا ہوا، اسی کی بہت موہوم سی جھلکی تاریخ فرشتہ میں ملتی ہے۔ قطب الدین ایبک جیسے “شریف النفس” حکمران نے بھی ایک قلعہ فتح کیا تو اس کے ہاتھ ساٹھ ہزار قیدی لگے جنہیں اس نے مشرف بہ اسلام کیا۔
    لیکن صدیوں پرانی تاریخ کو ایک طرف رکھتے ہیں۔ مضمون تاریخ سے نہیں بلکہ موجودہ صورت حال سے متعلق ہے۔ مسلمان وہاں حاکم بن کر نہیں بلکہ سوالی بن کر گئے تھے۔ اور آج تک وہاں جانے کیلئے ایسے ایسے خطرے مول لے رہے ہیں۔ یونان میں ایسی لاوارث لاشوں کا قبرستان بہت بڑا ہو چکا ہے جو یورپ جانے کی چاہ میں سمندر برد ہو گئے۔ لیکن جب یہ لوگ وہاں پہنچ جاتے ہیں تو جب ان کو اپنے حقوق کا علم ہوتا ہے تو ان کا وہاں پر رویہ کیا ہوتا ہے۔ یہ جس تھالی میں کھاتے ہیں اسی میں چھید کرتے ہیں۔ جس ہاتھ نے انہیں نوالہ کھلایا ہوتا ہے یہ اسی ہاتھ کو کاٹنے چڑھ دوڑتے ہیں۔
    مغرب میں مسلمانوں کو وہی حقوق حاصل ہیں جو مقامی باشندوں کو حاصل ہیں۔ روزگار و رہائش و مفت تعلیم و علاج معالجہ کو چھوڑیں۔ میں سیاسی حقوق کی بات کر رہا ہوں۔ ہم یہاں کے انتخابات میں بطور ووٹر اور امیدوار حصہ لے سکتے ہیں۔ برطانیہ کے متعلق تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ کتنے پاکستانی نژاد وہاں مختلف شعبوں کے وزیر رہ چکے ہیں اور اب بھی ہیں۔ لارڈ نذیر اور بیرونس سعیدہ وارثی کا نام بھی آپ نے سنا ہو گا۔ بیرونس وہی خطاب ہے جسے ماضی کی برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر حاصل کر چکی ہیں۔ گوجر خان سے تعلق رکھنے والے ایک مزدور کی بیٹی سعیدہ وارثی نہ صرف بیرونس بنی بلکہ کنزرویٹو پارٹی کی وائس چیئرمین بھی تھی۔
    ناروے کا حال سنیں۔ وہاں بھی پاکستانی وزیر رہ چکے ہیں۔ اس وقت ناروے کی پارلیمان کا ڈپٹی سپیکر عابد راجہ ہے۔ اس سے کچھ عرصہ پہلے اختر چوہدری نامی پاکستانی تارک وطن پارلیمان کا ڈپٹی سپیکر رہ چکا ہے۔ ہادیہ تاجک کو گوگل کریں، پاکستانی نژاد یہ لڑکی وہاں کی سب سے بڑے جماعت لیبر پارٹی کی طرف سے وزیر ثقافت رہ چکنے کے علاوہ پارٹی کی وائس چیئرمین بھی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ ایک وقت میں ہادیہ اس ملک کی وزیر اعظم بنے گی۔
    اب ذرا پاکستان آئے ہوئےافغانی مہاجرین میں کسی ایسے بندے کا نام بتائیں تو پاکستانی سیاست میں نام پیدا کر چکا ہو۔ سابقہ مشرقی پاکستان سے آئے ہوئے مسلمان بھائیوں کے متعلق بتائیں جس کے متعلق عمران خان نے شناختی کارڈ جاری کرنے کا اعلان کیا اور پھر پر اسرار خاموشی اختیار کر لی۔ اپنے ہاں کی اقلیتوں کا سنائیں جہاں سندھ سے کنواری ہندو لڑکیاں اغوا ہو جاتی ہیں اور پھر اسلام قبولوا کر ان کی شادی ان کے اغوا کنندگان سے کر دی جاتی ہے۔ رنکل کماری کا نام تو سنا ہی ہو گا۔
    اپنے مسلمان برادر ممالک کا سنائیں۔ وہاں کفیل کی اجازت کے بغیر بنک اکاؤنٹ کھول کر دکھائیں، اپنے نام پر کاروبار کر کے دکھائیں۔ وہاں کی مسلمان لڑکی جو ہم مذہب ہے اسے شادی کر کے دکھائیں۔ وہاں نسل در نسل رہ کر شہریت حاصل کر کے دکھائیں۔ اور یہ سب کچھ ہمیں مغربی ممالک میں حاصل ہے۔
    اور پھر آپ نے برطانیہ کا ایک استعماری قوت کا ذکر کیا۔ ذرا ناروے، سویڈن، ڈنمارک، فن لینڈ، آآئس لینڈ وغیرہ کی کسی کالونی کا بتائیں کہ انہوں نے کس ملک پر قبضہ کر کے ان کا استحصال کیا۔ ان پر اپنا مذہب یا ثقافت تھوپی۔ سویڈن نے چند سال پہلئ مسلمانوں کیلئے دروازے کھولے، اور آج سویڈن کے دوسرے بڑے شہر مالمو کے کچھ حصے نو گو زون بن چکے ہیں، وہاں پر ہمارے مسلمان صومالی بھائی قابض ہیں اور پولیس بھی وہاں جانے کی جرآت نہیں کرتی۔
    اصل میں آپ اس مضمون کے مخاطب نہیں تھے۔ یہ ہم تارکین وطن کا نوحہ ہے کہ ہمیں ہمارے اپنے بھائی بندوں کے کرتوتوں کی وجہ سے آج مسائل کا سامنا ہو رہا ہے۔ جو ہر لمحہ بڑھ رہے اور جنہیں ہم نے ہی حل کرنا ہے۔ اور اس میں آپ اور اوریا مقبول جان کی “اخلاقی مدد” کسی کام نہیں آئے گی

  3. نجم الثاقب کاشغری says:

    1۔ اوریامقبول جان کے ساتھ راقم کا نام بریکٹ کرکے آپ نے بدظنی سے کام لیاہے۔غالباً میں اپنا مؤقف واضح طورپربیان نہیں کرسکا۔
    2۔ہر قسم کااستعماری نظام جو مقامی لوگوں پر اپنی تہذیب،زبان وغیرہ نافذکرے،میں اس کی مذمت کرتاہوں۔
    3۔کسی قوم کو یہ اختیار نہیں کہ دوسروں کو اپنا غلام بنالے۔ناروے سویڈن وغیرہ بہت ہی اچھے ممالک ہیں انہوں نے کسی کو اپناغلام نہیں بنایا۔
    4۔تمام انسان برابرہیں۔یہی میرا بنیادی نقطہ تھا/ہے۔

  4. موضوع اور نفس مضمون سے قطع نظر تاریخی اعتبار سے ہر کوئی نہ کوئی قوم دوسروں کواپناغلام بنانے میں کسی نہ کسی حد تک ضرور ملوث رہی ہے۔
    جدید زمانے کے ناروے سویڈن بہت مہذب اور انسان دوست ممالک ہیں۔ لیکن انہی کے آباؤ اجداد نے جنہیں “وائکنگز” کہا جاتا تھا۔ایک طرف کنینڈا اور دوسری طرف انگلینڈ سکاٹ لینڈ تک خونریزچڑھائیاں کی تھیں۔

    The Vikings who invaded western and eastern Europe were mainly pagans from the same area as “present-day Denmark, Norway, and Sweden. They also settled in the Faroe Islands, Ireland, Iceland, peripheral Scotland (Caithness, the Hebrides and the Northern Isles), Greenland, and Canada.
    Their North Germanic language, Old Norse, became the mother-tongue of present-day Scandinavian languages. By 801, a strong central authority appears to have been established in Jutland, and the Danes were beginning to look beyond their own territory for land, trade, and plunder.
    In England, the beginning of the Viking Age is dated to 8 June 793,[7][8] when Vikings destroyed the abbey on Lindisfarne, a centre of learning on an island off the northeast coast of England in Northumberland. Monks were killed in the abbey, thrown into the sea to drown, or carried away as slaves along with the church treasures, giving rise to the traditional (but unattested) prayer—A furore Normannorum libera nos, Domine, “Free us from the fury of the Northmen, Lord.
    Three Viking ships had beached in Weymouth Bay four years earlier (although due to a scribal error the Anglo-Saxon Chronicle dates this event to 787 rather than 789), but that incursion may have been a trading expedition that went wrong rather than a piratical raid. Lindisfarne was different. The Viking devastation of Northumbria’s Holy Island was reported by the Northumbrian scholar Alcuin of York, who wrote: “Never before in Britain has such a terror appeared”.[10]
    Vikings were portrayed as wholly violent and bloodthirsty by their enemies. In medieval English chronicles, they are described as “wolves among sheep”.

  5. Mr Khalid

    Please don’t mind but Your writings are self contradictory;Better change the title of your column to “SOME Muslims” and not just “Muslims”.You CAN NOT generalize ;no body generalizes things these modern and enlightened days,including the Western writers and politicians.

    You don’t realise what you are saying:On one hand you say Muslims do this and do that in The West,and on the other hand you admit that Muslims are MPs,Ministers etc in the Western Countries.
    If Muslims are contributing to the Western societies as MPs,Ministers (& doctors,teachers,scientists etc) without problem (regardless of what some ignorant Muslim Migrants do in those countries)then what is your problem that you are talking about that you are facing.
    Can’t you be a bit more specific rather than vague please?.

    Also you seem to be ignorant of the past history of Sweden,Norway etc.Spend some time studying their history as well,It will bring more maturity in your writings & answers.

    Thank you.

  6. Khalid Thathaal says:

    بات ایک دو صدی پہلے مغربی ممالک کے مقبوضات کی ہو رہی تھی اور آپ وائکنگز تک جا پہنچے۔ اگر تاریخ کو اتنا پیچھے لے کر جائیں گے تو پھر تو ہماری مقدس ہستیاں بھی اس سے بچ نہیں پائیں گی۔ طائف میں کس طرح منات کا بت توڑا گیا۔ ارتداد کی جنگیں کیا ہے۔ اسلام مدینہ سے باہر کیسے پھیلا۔ محمد بن قاسم سندھ کیا لینے آیا تھا۔ یاد رکھیں کہ یہ عربوں کا ہم پر چودھواں حملہ تھا۔ اس سے پہلے تیرہ حملوں میں وہ ناکام ہوئے تھے۔ تیرہواں حملہ میں داہر کے بیٹے جے سنہا نے عربوں کو ایسی بری شکست دی کہ ان کا سپہ سالار بذیل بن تحفہ تک مارگیا۔
    مسلمانوں کو اتنے بڑے عہدوں پر پہنچنے کو اس تناظر میں دیکھیں کہ مغربی ممالک نے انہیں کس قدر سر آنکھوں پر بٹھایا۔ ناروے میں تین سال بعد آپ کا ویزہ مستقل ہو جاتا ہے اور آپ تب سے ہی مقامی انتظامیہ میں نہ صرف ووٹ ڈال سکتے ہیں بلکہ آپ انتخاب میں حصہ بھی لے سکتے ہیں۔ جونہی اس بات کا فیصلہ ہوا تو مختلف پارٹیوں نے اپنے دروازے کھول دیئے اور ہر کسی پاکستانی کی خواہش تھی کہ وہ کسی پارٹی میں جگہ پا لے خواہ اس پارٹی کے منشور کے اسے علم تک نہ ہو۔ ایک صاحب نے بہت زیادہ لوگ اکٹھے کیے اور سوشلسٹ لیفٹ پارٹی کے سرکردہ لوگوں کو بلایا کہ میرے پاس اتنے زیادہ ووٹ ہیں، مجھے پارٹی کے انتخابی ناموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
    پاکستانیوں کا سیاسی جماعتوں میں جانے کا مقصد ان معاشروں کی خدمت نہیں بلکہ پیچھے پاکستان میں اپنی بلے بلے کروانا اور مقامی پاکستانیوں میں اکڑ کر چلنا ہوتا ہے۔ ایک بار ایک صاحب ملک کی لیبر پارٹی کے انتخاب میں پیچھے تھے۔ لیکن جو ان سے اوپر تھے وہ چلی کے سفیر بن کر چل دیئے تو ان صاحب کو اوپر پروموٹ کر دیا گیا۔ موصوف نے ایک دم سے وزیٹنگ کارڈ بنوایا جس پر رکن قومی اسمبلی ناروے لکھا ہوا تھا۔ اسے لیے پاکستان گئے اور صدر مشرف سے ملاقات اور تصویریں بنا لائے۔
    ان جماعتوں میں جانے والے پاکستانی اپنی جماعتوں کے منشور کی بجائے اپنے عقیدے کو زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی پارٹی لیبر پارٹی کی حکومت تھی۔ اس جماعت کی مقامی حکومت میں ایک پاکستانی نمائندے تھے۔ موصوف نے جوش میں آ کر بیان دیا کہ اگر سلمان رشدی مجھے مل جائے تو میں اسے اپنے ہاتھوں سے خود قتل کروں گا۔ اور پھر ان کی جماعت کے ہر رہنما کے ماتھے پر کافی پسینہ رہا۔
    ایک صاحب کو ایک ایسے دفتر کا بڑا عہدہ دیا گیا۔ جو مختلف جماعتوں کو فنڈز دیتا ہے۔ موصوف نے اسلامک کونسل آف ناروے کو 11 لاکھ کرونر دیئے اور ایکس مسلمز آف ناروے کو ایک پیسہ نہ دیا۔ یہ علیحدہ بات کہ بعد میں ایکس مسلمز کو دو لاکھ دینے پر مجبور ہو گئے۔
    لارڈ نذیر لے لیں، سعیدہ وارثی لے لیں۔ ان میں سے زیادہ تر کی ہمدردیاں اپنے عقائد اور سابقہ وطن کی پالیسیوں سے ہے۔ یاد رہے کہ سعیدہ وارثی فلسطین کے مسئلے پر اپنی جماعت سے اختلاف کرتے ہوئے پارٹی چھوڑ چکی ہیں۔ ویسے میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ مغربی ممالک نے باہرسے آنے والوں خصوصی طور پر مسلمانوں کو اتنی بڑی پوزیشن پر لا بٹھایا ہے، یہ بہت جلد بازی تھی۔انہیں چند اور نسلوں کا انتظار کرنا چاہیئے تھا تاکہ موجودہ تارکین وطن میں ایسےبچے پیدا ہو چکے ہوتے ہیں جن کی ہمدردیاں اپنے عقیدے یا اپنے لوگوں کی بجائے اپنے نئے وطن کے ساتھ ہوتیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *