کیا “#می ٹو” کہہ دینا کافی ہے!!! ۔

نوشی بٹ

ہمارے ہاں یہ چلن عام ہے کہ ہر چیز میں ہم نقل کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں،بجائے اس کے کہ اسے خود تخلیق کرنے کی کوشش کریں۔یا پھر کسی بھی کام میں پہل کرنے کی ہمت کر پائیں۔کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پہ ایک مہم زوروشور سے جاری ہے۔جو کہ ہالی ووڈ سے بالی ووڈ پہنچی۔اور وہاں سے ہوتے ہوئے ہمارے یہاں بھی مقبول ہو گئی۔

می ٹو,بظاہر تو یہ ایک عام بولنے والا لفظ ہے۔جو عام طور پہ ہم اکثر اوقات لو یو یا مس یو کے جواب میں زیادہ بولتے ہیں۔لیکن یہاں یہ معاملہ کچھ اور ہے۔می ٹو وہ خواتین بول رہی ہیں جو زندگی میں کبھی نہ کبھی اپنے کسی رشتے دار،کولیگ یا جاننے والوں کے ہاتھوں جنسی طور پہ ہراساں ہوئی ہیں۔ہمارے یہاں تو جنسی ہراسمنٹ کو قابل توجہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔عورت کو خاموش رہنے کی تلقین گھر سے ہی شروع کی جاتی ہے۔ظاہر سی بات ہے جب گھر والے آپ کو سپورٹ نہیں کریں گے۔تو آپ کئی جگہوں پہ ڈر یا مصلحتا بھی ہراسمنٹ کو برداشت کر لیں گے۔

ہراسمنٹ کی تعریف کیا ہے؟ بنیادی طور پہ تو ہمارے یہاں راہ چلتے عورت کو دیکھ کے سیٹی بجانا یا فقرے کسنا معمول کی بات ہے۔عورت کسی بس یا ویگن میں سفر کر رہی ہے۔تو پچھلی سیٹ پہ بیٹھے مرد سیٹ کے نیچے یا سائیڈ سے عورت کو چھونے کی کوشش اپنا حق سمجھ کے کرتے ہیں۔سڑک پہ گزرتے ہوئے آپ کو سینے یا پیٹھ پہ ہاتھ مار کے گزرنا بھی مردوں کے لئے باعث فخر ہوتا ہے۔اس سے ان کی مردانگی کی کونسی حس کو تسکین پہنچتی ہے۔میری تحقیق ابھی اس پہ جاری ہے۔اس کے علاوہ عورت روزانہ کی بنیاد پہ گھروں سے باہر کام کے لئے نکلتی ہے۔کہیں اس کے لباس پہ اعتراض اور کہیں اس کی ذات پہ سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

یہ تو ہو گیا ہمارا عمومی مزاج۔اب گھریلو سطح اور دفتر کا ماحول دیکھ لیں۔گھریلو سطح پہ زیادہ تر قریبی رشتے دار ہی جنسی طور پہ ہراساں کرنے میں ملوث ہوتے ہیں۔ان کا زیادہ تر شکار سیدھے سادے خاموش طبع بچے ہوتے ہیں۔وہ بچے جو شرمیلے ہوں، جن کے والدین نے گھر میں کمیونیکیشن گیپ پیدا کر رکھا ہو یا والدین ملازمت پیشہ ہوں۔ایسے لوگوں کے بچے آسانی سے وکٹم بن جاتے ہیں۔

زینب کیس سے اس بات کو سمجھا جا سکتا ہے کہ والدین بچی کو رشتےداروں پاس چھوڑ کے عمرے کی ادائیگی پہ چلے گئے۔ان کی غیر موجودگی نے زینب کو ملزم کے لئے آسان ٹارگٹ بنا دیا۔تو جب ایسے بچوں کو بچپن میں جب جنسی طور پہ ہراساں کیا جائے تو وہ ٹراما میں چلے جاتے ہیں۔کسی سے بات شئیر نہیں کرتے۔اور اندر ہی اندر خود کو قصوروار سمجھنے لگتے ہیں۔انہی میں سے کچھ شاید آج ہمت کر کے می ٹو مہم کے ذریعے ہی سہی اپنا کتھارسس کر سکتے ہیں۔

آفس میں کام کرنے والی خواتین کو باس یا اس کے دفتر کے ساتھی کی جانب سے مہنگے گفٹس یا پیسوں کا لالچ دے کر جسمانی تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جاتا ہے۔انکار کی صورت میں نوکری سے نکالنا عام بات ہے۔آفس میں کام کرتی خواتین کو گھورنا اور موقع ملنے پہ اس کو کسی بہانے سے چھونے کی کوشش کرنا بھی ہراسمنٹ ہی ہے۔کسی کی بھی مرضی کے بنا اسے چھونا چاہے مرد ہو یا عورت ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔

دور کیا جانا اوپر ذکر کی گئی تمام باتوں اور طریقوں سے مجھے بھی ہراس کیا گیا۔آج کل ایک نئی ایجاد ہوئی ہے۔سوشل میڈیا ہراسمنٹ۔جس کا شکار خاص طور پہ میں اور مجھ جیسی اپنے نام اور تصویر کے ساتھ لکھنے والی خواتین ہوتی ہیں۔میں آپ کو پسند ہوں,فائن تھینک یو۔مگر اس سے آگے کچھ نہیں۔میرے ہنس کے بات کرنے سے آپ کو یہ لائسنس کس نے دیا کہ آپ مجھے ہراساں کرو۔جدید ہراسمنٹ کی تعریف یہ ہے کہ ناپسندیدہ یا بات نہ ماننے والی عورت کی فیک نیوڈز یا اس کے بارے غلط بات پھیلا دو۔یقینا اس بات پہ میرے ساتھ بہت سی خواتین می ٹو کہنا چاہیں گی۔

ہمیں بنیادی طور پہ اپنے گھروں سے تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔خواتین جو کہ سب سے زیادہ ہراسمنٹ کا شکار ہوتی ہیں کو چاہئیے کہ اپنے بچوں کی خاص طور پہ بیٹوں کی تربیت اس نہج پہ کریں کہ وہ ہراسمنٹ کی بجائے عورت کی ریسپیکٹ کے آپشن پہ عمل کریں۔ بیٹے کو یہ سمجھائیں کہ کیسے اسے دوسری خواتین سے پیش آنا چاہئیے۔اس کے لئے بہترین مثال گھر میں بہن کا ساتھ ہونا ہے۔جب آپ اپنے بیٹوں کو بہنوں کے ساتھ تمیز سے پیش آنے کی تربیت دیں گے تو یقینا وہ گھر سے باہر بھی تہذیب کا مظاہرہ کریں گے۔

بطور ماں یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ہاں ایک اور اہم بات اپنے بچوں کو گڈ اور بیڈ ٹچ کی تربیت دیں۔ان کو اعتماد دیں کہ چاہے گھر میں یا گھر سے باہر کوئی بھی کچھ بھی کرے چاہے کتنا سگا رشتہ دار کیوں نہ ہو۔وہ آپ کو انفارم کریں۔بیٹیوں کو چپ رہنے کی بجائے بولنے کی تربیت دیں۔ورنہ کل وہ بھی کسی می ٹو مہم میں اپنے دکھ اور درد بیان کر رہی ہونگی۔کیونکہ ہم نقل نقل میں تو سچ برداشت کر لیتے ہیں مگر سچ بولنے کی جرات دینے سے ڈرتے ہیں۔اپنی بیٹیوں کو ہراساں کرنے والے کا منہ توڑنے کی تربیت دیں نہ کہ چپ کر کے گھر بیٹھ جانے کی تلقین کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *