اسلامی ادارے ’اِسناؔ کینیڈا‘ کی قانون شکنی۔ لمحہ فکریہ

منیر سامی

گزشتہ دنوں کینیڈا کے اہم اسلامی ادارے ’اسنا ؔ کینیڈا، ISNA Canada کے بارے مین ایک خبر نے کینیڈا کے بعض شہریوں اور کچھ با فکر مسلمانوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔ خبر یہ تھی کہ حکومتِ کینیڈا نے اس ادارے پر تقریاًپانچ لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ۔ اس کے ساتھ اس کو حاصل خیراتی ٹیکس رسیدیں جاری کرنے کی مراعات بھی ایک سال کے لیئے معطل کردیں۔

کسی بھی سماجی مذہبی ادارے کےلیے جو عوام کی مالی اعانت اور چندوں سے چلتا ہو، یہ ایک سخت جرمانہ اور سزا تھی۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس ادارے سے منسلک ہزاروں مسلمانوں نے اس معاملہ پر اس کی کوئی سر زنش نہیں کی اور نہ ہی اس کی انتظامیہ کے خلاف کوئی احتجاج ہوا۔ حد تو یہ ہے کہ کینیڈا کے بڑے میڈیا میں بہ استثنائے چند یہ خبر نہ تو شائع ہوئی نہ اس پر کوئی تبصرہ ہوا۔ کینیڈا کے اخباروں میں اب سیاسی درستی Political Correctness کی وجہ سے اور میڈیا پر اسلامی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثر کی وجہ سے ایسی خبروں اور تبصروں سے گریز کیا جانے لگا ہے جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہونے کا اندیشہ ہو۔

کینیڈا میں اسنا ؔ کی قانون شکنی کو سمجھنےکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ، خیراتی ٹیکس رسیدیں جاری کرنے کی مراعات کیا ہیں؟ کینیڈا کی حکومت یہاں سماجی اور رضاکارانہ کام کرنے والوں کو عوام کی طرف سے مالی اعانت کرنے اور ان کاموں کو بڑھانے کے لیئے ٹیکس میں چھوٹ دیتی ہے۔ یہ چھوٹ دینے کے لیے ایسے اداروں کا بہت محتاط طور پر انتخاب کیا جاتا ہے۔ پہلے اس ادارے کو غیر منافع بخش طور پر کام کرنے والے ادارے کے طور پر رجسٹر کیا جاتا ہے۔ پھر چند سال کے انتظار اور مالی چھان بین کے بعد اسے اجازت دی جاتی ہے کہ وہ ادارے کی مدد کے لیے چندہ دینے والوں کو ایک ایسی رسید جاری کر سکیں جس کی بنا پر وہ سرکار سے ذاتی یا کاروباری چھوٹ حاصل کر سکیں۔

یہ رسید چندہ کی رقم کے ایک مخصوص فی صد تک ٹیکس کی چھوٹ دلا سکتی ہے۔ کبھی کبھی یہ چھوٹ سو فی صد تک بھی ہو سکتی ہے۔ مثئلاً اگر آپ نے کسی ادارے کو سو ڈالر کا چندہ دیا ہے تو آپ کو ساٹھ ڈالر یا سو ڈالر تک کی رسید دی جاتی ہے۔ آپ اپنے سالانہ ٹیکس کی ادائیگی کے وقت یہ رسید حکومت کو دے کر اپنے ٹیکس میں ایک معین چھوٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ یوں آپ کی جیب پر چندہ دینے کا بار کم ہو جاتا ہے۔ایک طرح سے اس چھوٹ کا بار کینیڈا کے ٹیکس کے نظام پر پڑتا ہے۔ اس قسم کے چندہ کو معین مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ ایسے حاصل کردہ چندے کو ملک سے باہر بھیجے جانے پر سخت پابندیاں ہوتی ہیں تاکہ یہ کسی غیر قانونی مقصد کے لیے خرچ نہیں کیا جا سکے۔

اس طرح سے مخیر یا سماجی اداروں کی مالی معاونت میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن اس مراعت کے استحصال اور اس کے ذریعہ سے چندہ دہندگان کی طرف سے مالی بدعنوانی کا احتمال بھی ہوتا ہے۔ اس لیئے سرکار اس کے استعمال پر سخت نظر رکھتی ہے اور اس کی منظم چھان بین یا آڈٹ بھی کرتی ہے۔ ایسی ہی ایک چھان بین کے بعد گزشتہ سال کینڈا کے بڑے اور اہم اسلامی ادارے اسنا کینیڈا کے بارے میں ثابت ہوا کہ اس نے چندے کے لیے حاصل شدہ رقم کو بیرونِ ملک ایسے دیگر اسلامی اداروں کو بھیجا جو شدت پسند اسلامی مقاصد اور پر تشدد کاروایئوں میں ملوث تھے۔ تحقیقات کے بعد اس ادارے پر پانچ لاکھ ڈالر کا جرمانہ بھی عائد ہوا اور خیراتی رسید جاری کرنے کی مراعت بھی معطل کی گئی۔ اس جرمانے کی تفصیلات اس سرکاری ویب سائٹ پر موجود ہیں: https://tinyurl.com/y9esoamg ۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسی ادارے کا خیراتی لائسنس منسوخ بھی کیا گیا تھا۔

بعض خبروں کے مطابق حالیہ معطلی کی وجہہ حکومتی ادارے کا یہ الزام ہے کہ’’ اس ادارے نے مناسب اور منظم چھان بین کے بجائے تقریباً ڈیڑھ لاکھ ڈالر کشمیر میں حزب المجاہدین کی بالواسطہ مدد کے لیے ارسال کیئے ، جہاں یہ تنظیم پر تشدد کاروایئوں میں ملوث ہے۔ اس طرح کی بالواسطہ مدد کرتے ہوئے اس ادارے نے دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اپنی مراعات کا غیر قانونی استعما ل کیا۔ اس بالواسطہ مدد کے لیئے جماعتِ اسلامی یا اس کے ذیلی یا تعاون یافتہ ادارہ حزب المجاہدین کی مدد کی گئی جو مبینہ طور پر پر تشدد سرگرمیوں میں ملوث ہے۔‘‘

خیراتی لائسنس کی معطلی کی بعد اسنا کینیڈا پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک اپنی کاروایئاں ختم کرے۔ اسنا کینیڈا نے اس معطلی پر افسوس کا اظہارکیا۔ اس نے اس الزام کی تردید کی کہ ان کا کسی بھی دہشت گردی سے کوئی تعلق ہے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس نے اپنی انتظامیہ میں مناسب تبدیلیا ں کی ہیں تاکہ یہ ادارہ مناسب طور پر چلایا جا سکے۔ ادارہ نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک غیر سیاسی ادارہ ہے اور اس کا کسی بھی شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور یہ ادارہ کینیڈا کے شہریوں کی خدمت جاری رکھے گا۔ “

ادارے کی اس طرح کی تردید کے باوجود بعض خبر حلقوں میں یہ خیال عام ہے کہ کینیڈا کے بڑے اسلامی ادارے جس میں اسناؔ کینیڈا ، اور اسی طرح کا ایک اور ادارہ ICNA Canada بیرونِ ملک جماعتِ اسلامی یا مصر کی اخوان المسلمون سے متائثر ہیں اور یہ کہ ان کی انتظامیہ میں شامل افراد ان تنظیموں کی فکر کے حامی ہیں۔ سالہا سال کی کوششوں کے بعد یہ ادارے کینیڈا کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ یہ ادارے اور ان میں شامل افراد اسلام کی سخت گیر تفاہیم کا پر چار کرتے ہیں۔ Canada ISNA کو سالہا سال سعودی عرب سے متعلق خیراتی اداروں کا مالی تعاون حاصل رہ چکا ہے۔ اور اب سے چند سال قبل اس کی انتظامیہ پر مالی خرد برد کا الزام لگا تھا اور اس کے اہم منتظم معطل کیے گئے تھے۔

خیراتی مراعا ت کے غیر قانونی استعمال کا معاملہ کینیڈا میں صرف ISNA تک محدود نہیں ہے۔ حال ہی میں کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں ایک اور اسلامی ادارے ’ اوٹاوہ اسلامک سنٹر ؔ ، اور اس سے منسلک مسجد السلام ؔ کا بھی خیراتی لائسنس منسوخ کیا گیا تھا۔ اس پر الزام تھا کہ یہ ایسے مقررین کو مدعو کرتا ہے جو معاشرہ میں تعصب اور نفرت کاپرچار کرتے ہیں۔ ان مقرریں میں Ashton Larmond بھی شامل رہ چکا ہے جسے ’ریاستِ اسلامی ISISسے منسلک ہونے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔ سرکاری اداروں کے مطابق یہ ادارہ بارہا تنبیہ کے باجود ایسے مقرروں کا مدعو کرتا رہا جو تعصب اور نفرت کا پرچار کرتے رہے ہیں۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ کیینڈا کے سینکڑوں مسلم نوجوان بیرونِ کینیڈا جہاد اور ISIS کی مدد میں ملوث رہے ہیں۔

اسی طرح اب سے چند سال پہلے کینیڈا میں مسلم نوجوانوں کی تنظیم WAMY یا World Assembly of Muslim Youth پر بھی پابندی لگائی تھی ۔ اس تنظیم کا تعلق سعودی عرب سے ہے اور اس کے اسلامی جمیعت طلبا جیسی انجمنوں سے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اسلامی ادارے عرفان کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا اور اس کو حاصل خیراتی مراعات منسوخ کی گئیں۔ ان دونوں اداروں کا معروف مصری تنظیم اخوان المسلون سے بھی بتایا جاتا ہے۔ 

بدقسمتی یہ ہے کہ کینیڈا کے معروف سیاست دان ووٹ حاصل کرنے کے لیئے ان بڑے اسلامی اداروں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو بسا اوقات اپنی مراعات کا استحصال کرتے رہے ہیں۔ تازہ ترین ستم ظریفی پر مبنی ایک خبر یہ بھی ہے کہ اسنا ؔ کینیڈا کی قانون شکنی اور اس پر جرمانے کے بعد بھی کینیڈا کی وفاقی حکومت نے اس ادارےکو دیگر مزید مراعات فراہم کردیں۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ کینیڈا کی حکمراں لبرل جماعت کے کم از کم ایک رکنِ پارلیمان کا اسنا ؔ کے ساتھ مبینہ طور پر خاندانی تعلق تھا۔

کینیڈا کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ کینیڈامیں حاصل مذہبی آزادیوں سے فائد ہ اٹھاتے وقت ایسے اداروں اور ایسی کاروایئوں پر کڑی نظر رکھیں جو یہاں قانون شکنی کا باعث ہوں۔ کینیڈا کے مسلمانوں پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اسلامی اداروں کو چندہ دیتے وقت ان سے اس کے استعمال کی تفصیلات کا مطالبہ کریں اور یہ جانیں کہ ان کی مالی معاونت کس مد میں استعمال ہو رہی ہے۔ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو انہیں یہاں کے شہریوں کی طرف سے سخت ردِّ عمل کے لیئے تیار رہنا چاہیئے۔

حوالہ جات:

https://tinyurl.com/yaqybgrw

https://tinyurl.com/y9esoamg

https://tinyurl.com/yd5f2trw

https://tinyurl.com/y9esoamg

2 Comments

  1. Good read. IRFAN most likely lost their charity status because of the reason that they were aiding children in Palestine. The government was under intense pressure from Zionist organizations to cancel their charitable organization status.

  2. Naya zamana or apki porani soch.

    Government ne jo action lena tha leliya. Aap log apni dukaan na cham kaain. Ye desi hypocrisy ki nishani hai.

    Abhi ye mohsoof or inka idara famous nahi hay to ye aisi news print ker me main interested Han jab business mile ga to inka bhi yahi rawaiya hu ga.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *