لندن میں فیض امن میلہ

 ارشد بٹ

جنرل ضیاالحق کی نام نہاد اسلامائزیشن کے بعد ریاست نے اظہار خیال پر قدغنیں لگا دیں، مذہبی تعصب اور فرقہ پرستی کی آبیاری کی، جہاد کے نام پر مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دیا۔ مذہبی اقلیتوں کے خلاف جرائم کی حوصلہ افزائی کی۔ ریاستی پالیسیوں نے ملک کو نفرت، خوف، جبر اور عدم برداشت کا گہوارہ بنا دیا۔ نام نہاد اسلامائزیشن نے ملک کو منافرتوں کا گھر بنا دیا۔

جنرل ضیا کی اسلامائزیشن نے جناح کے روشن خیال پاکستان کو جہالت میں دھکیل دیا۔ آج تک کسی حکومت کو جنرل ضیا کی عوام دشمن پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی توفیق حاصل نہ ہو سکی۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی ریاست مذہبی انتہا پسندوں، فرقہ پرستوں اور انسانی اقدار کے مخالف عناصر کے نرغے سے باہر نکلنے کو تیار نہیں۔

جناح عالمی امن، ترقی، عوامی خوشحالی اور انسان اقدار کے علمبردار تھے۔ وہ مذہب کو ہر شخص کا ذاتی معاملہ سمجھتے تھے اور ریاست کو مذہبی معاملات سے الگ رکھنے کے پر زور حامی تھے۔ جناح پاکستان کو ایک ایسی جمہوری ریاست دیکھنا چاہتے تھے جس میں ہر شہری کو برابر کے شہری اور انسانی حقوق حاصل ھوں۔ پاکستان میں ایسا جمہوری معاشرہ تشکیل پائے جس میں مذہب، عقیدہ، قومیت، جنس اور رنگ و نسل جیسے تعصبات کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا جائے۔

فیض امن میلہ لندن جناح کے بیانیے پر مکالمہ کو زندہ رکھے ھوئے ہے۔ جسے ریاستی پالیسیوں اور اشرافیہ نے دیس نکالا دے رکھا ہے۔فیض امن میلہ لندن فیض احمد فیض کی شاعری، ادبی خدمات اور زندگی کے تذکرے تک محدود نہیں ہوتا۔ عالمی امن، ترقی، خوشحالی اور انسانی اقدار کےلئے فیض احمد فیض کی جدوجہد اور انکے نظریات کی تجدید اور ترویج کا عہد کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔

فیض امن میلہ میں پاکستان کی خومختاری، جمہوری اداروں اور آئین و قانون کی بالادستی کی گونج سنائی دیتی ہے۔ مذہبی تعصب، قومیتی برتری، جنسی اور رنگ و نسل کی تفریق سے بالا شہری اور انسانی حقوق پر قائم معاشرہ کے لئے آواز بلند کرنا فیض امن میلہ کی سرگرمیوں کا محور ہوتا ہے۔

تیرہ13 اکتوبر 2018 کو فیض کلچرل فاونڈیشن برطانیہ نے پر وقار فیض امن میلہ منعقد کر کے سات یادگار اجتماعات کا سفر کامیابی سے طے کر لیا۔ 2011 سے پاکستان، برطانیہ، مختلف یورپی ممالک اور روس سے فیض احمد فیض کے نام پر لندن میں اکٹھے ہونے والے شاعروں، ادیبوں،ترقی پسند سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کےعلمبرداروں، رانشوروں، مصنفوں، طلبہ، گلوکاروں اور فنکاروں کا اپنی نوعیت کا واحد اجتماع ہے جو ہر سال بڑی کامیابی سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ جس پر فیض کلچرل فاونڈیشن کے سابقہ عہدیداران کی خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا۔

موجودہ عہدیدار جن میں اکرم قائم خانی، عاصم علی شاہ، ثقلین امام، پلوشہ بنگش، امتیاز خان، ارشد اولیا، انجم رضا، احسن شیرازی اور کریم خان نمایاں ہیں۔ ان سب کی شبانہ روز محنت اور کمٹمنٹ نے اس سال ساتواں شاندار اور پر وقار فیض امن میلہ منعقد کر کے اس سلسلہ کو کامیابی سے آگے بڑھایا ہے۔ امید ہے امن، ترقی، خوشحالی، انسان دوستی اور محبتیں باٹنے والے قافلے کا یہ سفر جاری رہے گا۔

One Comment

  1. آفتاب انجم says:

    جناح کے ساتھ آپکے اپنے نظریات کی پیوند کبھی بھی کامیاب نہیں سکتی، کیونکہ جناح غیرجمہہوری اور فرقہ وارنہ ذہن کے مالک تھے۔ جناح کی بیساکھی کا سہارا کب تک لیں گے۔ آج پاکستان implosion دھانے کھڑا ہے اور پھٹ رہا ہے۔ اسکے پس پردہ جو عوامل ہیں وہ جناح کے نظریات کے نظریات کے عین مطابق ہیں۔ آپ اپنے فیض احمد فیض کو ہی سنبھال لیں ، یہی ہت بڑی بات ہو گی۔ آپ اپنے نظریات کا پرچار کریں ، اُن مین جان ہوئی تو لوگ آپکی طرف آئیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *