حلیے اور پیشے کا باہمی تعلق 

فرحت قاضی

اچھا اور برا کا تصور
استحصال کو چھپانے کی سعی بھی توہوسکتی ہے

اس نے سر پر ٹوپی کو قدرے ٹیڑھا کیا اور بازار کی اور روانہ ہوگیا وہ علاقہ کا سب سے بڑا بدمعاش تھا۔

ہم نے اپنے ارد گرد کے انسانوں کو اچھے اور برے میں تقسیم کیا ہوا ہے۔

ایک انسان کی بڑی اور گھنی مونچھیں ہیں جنہیں وہ گاہے بگاہے تاؤ بھی دیتا رہتا ہے اس کے کندھے پر پستول لٹکی ہوئی ہے سر پر ترچھی ٹوپی ہے اس کا لہجہ کرخت اور درشت ہے اور ہر بات پر منہ سے ماں، بہن اور بیوی کی ایک موٹی گالی نکلتی ہے اسے برے انسانوں کے خانے میں رکھا گیا ہے۔

اسی علاقے میں ایک اور انسان ہے جس نے صاف ستھرا لباس زیب تن کیا ہوتا ہے جسے دھول اور کیچڑ سے بچاتا ہے برے لوگوں کی صحبت سے گریز کرتا ہے سلام ڈالنے میں پہل کرتا ہے نماز پنجگانہ کا پابند ہے رمضان کے تمام روزے رکھتا ہے کبھی کبھار اس کے ہاتھ میں تسبیح بھی دیکھی جاتی ہے امیر اور غریب، چھوٹے اوربڑے سے اخلاق سے پیش آتا ہے شادی کی تقریب ہو یا فوتگی کا موقع ہو وقت پر پہنچ جاتا ہے یہ اپنے پوشا ک سے ہی نہیں لب و لہجہ سے بھی خود کو بدمعاش سے الگ تھلگ رکھتا ہے اس لئے یہ اچھا انسان ہے۔

ان دو انسانوں سے ہمارے سامنے یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ پیشے اور حلیے کی آپس میں ایک نسبت ہوتی ہے یا یہ کہ ہر پیشے کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں جو شخص جس پیشے سے وابستہ ہوتا ہے اس کے تقاضے پورے کرنا اس کی مجبوری ہوتی ہے پیشے اور حلیہ کا باہمی رشتہ اس لمحہ مزید واضع ہوجاتا ہے جب اس کا اطلاق دیگر پیشوں اور ان سے منسلک افراد پر کیا جاتا ہے دکاندارکا بدلتے علاقوں اور حالات میں بدلا ہوا رویہ بھی اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے اس کے حلیے اور رویے کا بنیادی مقصد اور منتہا زیادہ سے زیادہ گاہکوں کو اپنی جانب راغب کرنا ہوتا ہے وہ جانتا ہے کہ جتنے زیادہ گاہک ہوں گے تو اتنا ہی زیادہ منافع بھی ہوگا۔

چونکہ ہمارا نظام قبائلی‘ جاگیردارانہ اور نیم جاگیردارانہ ہے لہٰذا اس میں لوگوں کے طریقے بھی مخصوص ہیں اگر آپ ذرا تحقیق سے کام لیں اور ایک آدمی کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے اور اسے اچھا یا برا کے خانے میں ڈالنے سے پہلے اس کے پیشہ کا جائزہ لینے کا تکلف کریں تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اس کے حلیہ بنانے اور بگاڑنے میں اس کے ذریعہ معاش کا بنیادی کردار ہوتا ہے مثلاً آپ ایک دکاندار کو دیکھتے ہیں جو بات بات پر استغفار اللہ کرتا ہے تو آپ کے ذہن میں پہلے سے بنے ہوئے خانوں میں وہ ’’اچھا‘‘ کے خانے میں فٹ نظر آتا ہے لیکن یہ نہیں سوچتے ہو کہ اس کا ذریعہ معاش کیا اور کس قسم کا ہے اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔

ایک دکاندار نے دکان کیوں کھولی ہوتی ہے اس لئے کہ اہلیان علاقہ اس سے سودا سلف خریدیں جب لوگ اس سے اشیاء خریدیں گے تو اس سے اسے منافع ہوگا اور اس کے جتنے زیادہ گاہک ہوں گے تو اس کی آمدنی بھی اسی حساب سے زیادہ ہوگی چنانچہ اس کی پہلی اور بڑی ضرورت اس کے گاہک یا خریدار ہیں۔

ان خریداروں کو اپنی طرف کھینچنے کیلئے وہ کیا کرے گا؟
اگر وہ مذہباً ہندو ہے اور مسلمانوں کے علاقہ میں بنیا بنا ہوا ہے تو اس کی کوشش ہوگی کہ وہ منافع تو کم لے لیکن بدلے میں اچھی اور معیاری چیز فراہم کرے چنانچہ وہ معیار اور کم قیمت کی طرف زیادہ توجہ دے گا۔
اگر دکاندار مسلمان ہے اور مسلمانوں کی کالونی میں اشیاء کی خریدوفروخت کرتا ہے تو اسے بھی اس چیز کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے پاس زیادہ سے زیادہ گاہک خریداری کے لئے آئیں ایسی صورت میں کہ علاقے میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہو لیکن وہ علاقے کے ہندو دکاندار سے سودا خریدنے کو ترجیح دیتے ہوں تو پھر وہ مذہب کا معاشی استعمال بھی کرے گا تاکہ اگر معیار اور قیمت میں مار نہیں دے سکتا تو پھر اس طریقے سے اسے نیچے گرادے۔

اس کے علاوہ ہر دکاندارکے لئے حسب ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔

اس کی دکان میں کتا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس کی موجودگی میں گاہک قریب آنے سے خوف محسوس کریں گے جس سے کاروبارمتاثر ہوگا یہی سبب ہے کہ آپ کو تاجر کی دکان میں کتا نظر نہیں آتا ہے۔
اگر علاقے میں رہائش پذیر لوگ پڑھے لکھے ہیں وہ حفظان صحت کے اصولوں سے واقف ہیں اور بیماریوں کو اپنے گناہوں کا کفارہ یا قسمت نہیں سمجھتے ہیں تو پھر دکاندار کے لئے اپنی دکان اور اس میں پڑی اشیاء کو صاف ستھرا رکھنا لازمی ہوتا ہے۔

دکاندار کا اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا یا اپنے آپ کو نیک ظاہر کرنا بھی اس کے پیشہ کے لئے نہایت ضروری ہے کیونکہ اگر وہ بدزبان ہے اور اس کے ساتھ ہاتھ بھی چلاتا ہے تو ایسی صورت میں گاہک بھلا کیوں آئے گا۔

اسے اپنی باتوں سے یہ ظاہر کرنا بھی ضروری ہے کہ وہ ملاوٹ کو گناہ عظیم تصور کرتا ہے اور کم تولنے کا تو اس کے نزدیک تصور بھی محال ہے القصہ ایک دکاندار جو کچھ اپنے لباس اور حلیہ سے ظاہر کرتا ہے اس کا اس کے پیشے سے بھی تعلق ہوتا ہے اور پیشہ کا تقاضا ہی اس کو بعض اقدامات کے لئے مجبور کرتا ہے۔

جس دکاندار کو ان باتوں کا شعور ہوتا ہے وہ خود کو اس قسم کے سانچے میں ڈھالتا ہے اس کی تمام کدوکاوش کی غرض وغایت یہی ہوتی ہے کہ اس کے پاس زیادہ اور زیادہ سے زیادہ گاہک آکر اس سے سودا خریدیں۔

چونکہ ہم اخلاقیات اور معاشی فوائد کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ دیکھنے کے عادی ہیں لہٰذا ان کے باہمی نسبت و رشتے سے بھی ناواقف ہیں اور اپنے طور پر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ فلاں دکاندار بہت اچھا ہے یا پھرکہتے ہیں کہ فلاں اچھا نہیں ہے۔

بسا اوقات ایک دکاندار میں ایسا وصف نہیں ہوتا ہے جس کا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے یہ کہ نہ تو اس کی اشیاء معیاری ہوتی ہیں اور نہ ہی اس کا سلوک مہذب ہوتا ہے اس کی زبان کرخت اور رویہ کھردرا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود لوگ اسی سے سودا سلف خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں کیا اس چیز سے یہ فارمولا غلط ہوجاتا ہے کہ دکاندار کے لئے نیک اور اچھا ہونا ضروری ہے لیکن نہیں،یہ فارمولا غلط ثابت نہیں ہوتا ہے اس بزنس مین کی اچھائی یہ ہے کہ وہ اپنی اشیاء کم قیمت پر فروخت کرتا ہے اگر وہ زبان کا تند و تیز ہے تو اس کا مال معیاری ہوتا ہے۔

جب آپ اس تاجر کا موازنہ علاقے کے ایک بدمعاش سے کرتے ہو تو آپ کو اپنا پرانا فارمولا درست نظر آتا ہے یہ کہ بعض نیک اور بعض لوگ فطرتاً برے ہوتے ہیں ایسا سوچتے ہوئے آپ دو انسانوں کا بحیثیت انسان موازنہ کرتے ہواس لئے آپ کو ایک نیک تو دوسرا برا دکھائی دیتا ہے اگر آپ علاقے کے بدمعاش کا تجزیہ کرو تو معلوم ہوگا کہ اس کا پیشہ دکاندار کے پیشے سے الگ اور مختلف ہے اس لئے اس کے حلیہ اور لباس اور ساتھ ہی اس کی زبان کو اس پیشے کا ساتھ دینا چاہئے چنانچہ اس کے ٹیڑھے پن میں بھی اسی معاش کا دخل ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اگر اس کے کندھے پر پستول ہے سر پر ٹیڑھی ٹوپی رکھی ہوئی ہے لمبی اور گھنی مونچھیں ہیں گاہے گاہے وہ ان کو تاؤ بھی دیتا ہے اور آنکھوں کو لال لال رکھا ہے تو اس تمام حلیے کو بنانے یا بگاڑ کر رکھنے کی آڑ میں وہ خود کوا یک ایسا انسان ظاہر کرنا چاہتا ہے جس کو دیکھتے ہی لوگوں میں خوف اور دہشت کا احساس پیدا ہو۔

جس طرح دکاندار کا نیک ہونا اس کے کام کا جزو لاینفک ہے اسی طرح غنڈے کا ہیبت ناک نظر آنا بھی اس کے پیشہ کا تقاضا ہے چنانچہ بدمعاش کا حلیہ ‘ اس کا لباس‘ اٹھنا بیٹھنا اور چال ڈھال دکاندار سے قطعی طور پر مختلف ہوگابالفرض وہ ایسا نہیں کرتا ہے تو اہلیان علاقہ اس سے ڈر اور خوف محسوس نہیں کریں گے اور جب وہ دہشت زدہ نہیں ہوں گے تو بھلا اس کو بھتہ یا جگا ٹیکس کیوں دیں گے۔
کبھی کبھار ایک بدمعاش فیاضی اور سخاوت بھی دکھاتا ہے چنانچہ اگر ایک طرف وہ قتل کے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہوتا ہے تو دوسری جانب جگا ٹیکس میں سے کچھ رقم علاقے کی غریب لڑکیوں کی شادی کے بندوبست میں بھی لگاتا ہے یا کسی یتیم بچے اور بے سہارا بیوہ کی کفالت اپنے ذمے لی ہوتی ہے۔

اس کا کبھی کبھار سبب اس کا تلخ ماضی ہوتا ہے اگر وہ ٹھوکریں کھا کر بڑا ہوا ہے اور اس قسم کی سخاوت دکھاتا ہے تو اس میں اخلاص ہوتا ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو اسے اس قسم کے اخلاقی کاموں کی ضرورت اس لئے پیش آتی ہے کہ وہ اپنے آس پاس اپنے حامی چاہتا ہے کیونکہ اگر ایک بدمعاش غریب اور امیر سب لوگوں کو اپنا مخالف بنالے تو خود اس کا اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ہمیں ایسے بدقماش بھی دکھائی دیتے ہیں جن کی پشت پر کوئی جاگیردار ہوتا ہے وہ غریب دیہاتیوں کو سدا دہشت میں مبتلا رکھتا ہے تو اسے رکھنے اور پالنے کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے تاکہ علاقے کے کسی باشندے میں بغاوت اور سرکشی کے خیالات پیدا نہ ہوں جاگیرداروں نے اپنی حفاظت کے لئے جو باڈی گارڈ رکھے ہوتے ہیں ان کا حلیہ بھی ان بدمعاشوں کی طرح ہوتا ہے علاقے کے باسی انہیں دیکھ کر خوف سے تھر تھر کانپنے لگیں تو کوئی وڈیرے کے حکم سے سرتابی کا خیال بھی اپنے دل میں نہیں لاتا ہے۔

جس طرح ہم نے ایک انسان کے نیک اور برا ہونے کیلئے فارمولے وضع اور ذہنوں میں بٹھائے ہوئے ہیں یا ہمارے دلوں میں یہ تصورات ڈالے گئے ہیں اسی طرح کے تصورات ہم نے مختلف پیشوں سے وابستہ لوگوں کے بارے میں بھی قائم کئے ہوتے ہیں اور اس کا بڑا اور بنیادی سبب اور وجہ یہی مسلسل پرچار ہوتاہے۔

پولیس اہلکار کے بارے میں ہمیں پڑھایا اور سکھایا جاتا ہے کہ اس کا کام عوام کے جان ،مال اور عزت کی حفاظت ہوتاہے مگر یہاں وہ شہری بھی یہی سمجھتا ہے جس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہوتی ہے وہ یہی خیال کرتا ہے کہ محکمہ پولیس، اس کے افسران اعلیٰ اور پولیس اہلکار اس کی حفاظت پر مامور کئے گئے ہیں پولیس اہلکار ہمارے ’’خادم‘‘ ہیں اگر ایسا شخص ’’لوگ اور جان ومال‘‘ کے رشتے اور پھر پولیس اور حفاظت کے لفظوں کی حقیقت جان لے تو اسے معلوم ہوگا کہ وہ ’’لوگ‘‘ کے زمرے میں نہیں آتا ہے اور جب وہ اس زمرے یا خانے سے ہی باہر ہے تو پھر وہ اسے اپنا نہیں بلکہ ان لوگوں کا خادم سمجھے جن کے پاس مال ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے ان کو اپنی ہلاکت کا دھڑکا بھی لگارہتا ہے اور یہ محکمہ، اس میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افسر اور کندھوں پر لٹکائے اہلکار اسی خوف و دہشت کو رفع کرنے کے لئے رکھے گئے ہیں۔

یہاں حلیے اور لباس سے مراد ہمارے سماج میں گوناگوں پیشوں سے وابستہ ایک دوسرے سے الگ لباس اور ان کا سلوک ہے اس میں زبان بھی شامل ہے کیونکہ حکمران طبقات نے خود کو عوام سے الگ تھلگ رکھنے کے لئے بیرونی زبانوں کو رواج دیا ہوتا ہے پاکستان چار بڑی اور کئی چھوٹی قوموں اور قومیتوں پر مشتمل ملک ہے ان کی اپنی زبان، لباس و پوشاک ، رہن سہن،ثقا فت اور پہچان ہے اردو کو قومی زبان کہ کر اس میں تمام عوام کو نصاب بھی پڑھایا جاتا ہے اور ارباب اختیار کی جانب سے اس پر زور بھی دیا جاتا ہے مگر اس حقیقت کے باوجود اپنے کو عوام سے مختلف اور اعلیٰ ظاہر کرنے کے لئے ہمارے سول اور فوجی بیوروکریسی کے روزمرہ کی بول چال اور زبان انگریزی ہے۔

حلیے کا پیشے سے جوڑ اس وجہ سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں ایک ہی کنبے کے افراد الگ الگ پیشوں سے وابستہ ہونے کے سبب ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں کیا ہم اپنے آس پاس ایسے انسانوں کو نہیں دیکھتے ہیں کہ باپ نیک آدمی ہے اور بیٹے کی شرارتوں سے سارے محلہ کا ناک میں دم ہے اسی طرح ہمیں ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو کہ ہر وقت اخلاقیات کا پرچار کرتے ہیں اور عوام کو نیک بنانے کا پکا ارادہ کئے ہوئے ہوتے ہیں لیکن جہاں ان کو موقع ملا تو اسے گنواتے نہیں ہیں لہٰذا ہم کسی کے رویے کو اس کے پیشے اور ذریعہ آمدن سے الگ نہیں کرسکتے۔

بعض مکتبہ فکراس پر بڑا زور دیتے ہیں کہ بعض انسان اچھے اور بعض برے ہوتے ہیں اوریہ د عویٰ کرتے وقت وہ اس کے پیشے یا حالات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں کسی زمانے میں اس نظریے کو بڑی قبولیت حاصل تھی اور ہر انسان یہی دعویٰ کرتا نظر آتا تھا چنانچہ کسی کے بارے میں رائے دیتے ہوئے کہتا کہ فلاں بہت برا ہے یا فلاں نہایت نیک انسان ہے یا امجد نیک آدمی ہے لیکن اس کا بیٹا ماجد شرپسند اور بدطینت انسان ہے۔
اس فکر کو معاشرے میں محض اس لئے فروغ دیا گیا کیونکہ یہ انسان پر زور دیتا ہے اور اردگرد کے سماجی، سیاسی اورمعاشی حالات کو نظرانداز کردیتا ہے جبکہ اس زمانے میں ایسے حالات تھے جن میں جاگیردار اورقبائلی سردار خوش اور خوشحال تھے وہ سیاہ و سفید کے مالک تھے اور وہ ان حالات کو جوں کا توں رکھنے کے خواہاں رہتے تھے لہٰذا وہ حالات پر زور دیکر اس کو بدلنے کے لئے دلائل پیش کرنے کی بجائے انسان کو اپنا اخلاق بہتر بنانے پر زیادہ زور دیا کرتے تھے ۔

آج سے کئی سال قبل پیشے خاندانی ہوتے تھے یہ کہ نائی کا بیٹا بھی نائی ہوتا تھا اور دولت مند باپ کا بیٹا بھی پیسے والا ہوتا تھا اسی پیشوں اور کاروبار نے ذات پات کی شکل اختیار کی ہوئی تھی یہ پیشہ ایک انسان کی پہچان اور شناخت ہوتا تھا چونکہ یہ پیشے ان کے اخلاق اور رویوں کا بھی تعین کرتے تھے لہٰذ ا اس سے انسانوں کی درجہ بندی کا تصور بھی ابھرا اورذاتیں اچھے اور بری میں تقسیم ہوگئیں شاید اسی سے یہ تصور بھی پیدا ہوا کہ شریف انسان کا بیٹا بھی شریف ہی ہوتا ہے اور رذیل کا بیٹا بھی اسی طرح کمینہ ہوتا ہے اس شخصی اخلاقیات اور انسان کو اپنا اخلاق بہتر بنانے کے پرچار نے بادشاہتوں کو تقویت پہنچائی تو اس تصور نے شخصی آمریتوں کو سہارا دیا ہماری شخصی تاریخ میں بادشاہوں اور آمروں کو اسی لئے نیک اور اللہ والا اور جابر وظالم کے زمرے میں رکھا گیا ہے آج کا مورخ یہی غلطی دہرا رہا ہے وہ محمد بن قاسم اور محمود غزنوی کو ان کے پس منظر میں دیکھنے اور دکھانے سے زیادہ ان کو ہیرو اور ڈاکو بنانے پر تلا ہوا نظر آتا ہے۔

چنانچہ کسی انسان کے بارے میں یہ نظریہ قائم کرنے سے پہلے کہ وہ ایک اچھا انسان ہے یا پھر وہ ایک برا انسان ہے یہ دیکھنا چاہئے کہ 

اس شخص کا پیشہ کیا ہے؟

اس کے آس پاس کا ماحول کیسا ہے؟

اس زمانے میں اس علاقے یا ملک میں معاش کے کون سے ذرائع اور معاشی نظام ہوا کرتا تھا ۔

چونکہ کسی ملک و ریاست میں آمریت کے لئے اس قسم کی سماجی اوراخلاقی بنیادیں موجود ہوتی ہیں لہٰذا ہرڈکٹیٹراسی طریقہ کار سے کام لیتا ہے وہ شخصی اخلاقیات کا پرچار کرتا اور کرواتا ہے تاکہ جمہوری اداروں کو تہہ وبالا کرنے میں اس کی راہ میں کوئی چیز مانع نہ ہو اور اس کے لئے خود کو نجات دہندہ بتانا سہل و آسان ہو بادشاہوں کے اچھے اور برے کا تصور پہلے سے عوام کے ذہنوں میں راسخ ہوتا ہے لہٰذا وہ وقتی پرچار سے اسے فوراً اپنا نجات دہندہ مان کر سر تسلیم خم کردیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آئین کو کاغذ کا پرزہ کہنے والے جنرل ضیاء الحق کو بھی نجات دہندہ تسلیم کرلیاگیا تھا اور جنرل مشرف کوبھی تسلیم کرلیا گیا تھا اور سب کچھ بھول بھال کر کے ان کو ان کے شخصی اقدامات پر تولتے ہوئے اچھا اور برا کی عینک سے دیکھتے ہوئے شخصیت پرستی کوفروغ دے رہے ہیں۔ 

جس طرح ہم نے انسانوں کو اچھے اور برے کے خانوں میں رکھا ہوا ہے اسی طرح اداروں کے حوالے سے بھی ہمارے خیالات عموماً اسی نوعیت کے ہوتے ہیں حکومت کا دعویٰ اور نصابی کتب میں بھی پڑھایا جاتا ہے کہ پولیس اور فوج کے محکمہ عوام کے جان،مال اور عزت کی حفاظت کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔

اس تمام بحث کا محاصل یہ ہے کہ ہم نے انسانوں کو ان کے ظاہری لباس، لب و لہجے اور حلیے سے ’’اچھا یا برا‘‘ میں تقسیم کیا ہوا ہے اور یہ تصور ہمارے ذہنوں میں آئے روز کے پرچا ر سے پیدا کیا گیا ہے پرچار سے ہم مخصوص تصورات کے قیدی بن جاتے ہیں اور پھر یہی تصورات ہمارے لئے انسانوں، اداروں ، تصورات ، نظریات، قدروں اور چیزوں کو دیکھنے، پرکھنے اور ماپنے کے پیمانے بن جاتے ہیں ۔
ہمارے موجودہ سماج میں کچھ عرصہ سے اچھے اور برے کا مذہبی تصور کچھ زیادہ ہی در آیا ہے اس نقطہ نظر کے تحت اب اچھا انسان فقط وہی ہے جو کہ ارکان اسلام کا پابند ہو، شرعی داڑھی ہو، حج یا عمرہ کیا ہو، ہاتھ میں تسبیح اور زبان پر اللہ اللہ کا ورد اور ہر بات پر مذہبی کتب اورمذہب کا حوالہ دیتا ہو اس کا دل و ذہن دیگر مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں سے کراہیت اور نفرت سے بھراہو۔
اچھے اور برے کا یہ تصور جہاں قدیمی معاشروں اور مذاہب اور عقائد نے پیش کیا تو یہ وہ زمانہ تھا جب انسان کی معاش کا سب سے زیادہ اور بڑا ذریعہ زراعت اور کھیتی باڑی ہوا کرتا تھا انسان اپنے پیشوں کی بنیاد پر ذات پات میں بٹا ہوا تھا اس نے خود کو ان پیشوں تک محدود کیا ہوا تھا قبائلی اور جاگیردارانہ دور میں یہ نائی، دھوبی، درزی، چمار، کمہار اور خاکروب تھے یا پھر جاگیردار، مکھیا، ملک، پیر، میاں اور قاضی ہوا کرتے تھے ان پیشوں اور شعبہ جات نے ذات پات کا روپ دھارا ہوا تھا یہ انسانوں کو ماپنے اور ان کی سماج و معاشرے میں قد و قامت ماپنے کے معیار اور پیمانے بھی تھے ۔

مغرب و یورپ میں نت نئی ایجادات کے ساتھ صنعت اور فیکٹری کو فروغ ملا تو اس نے اپنے ساتھ کئی نئے پیشے بھی متعارف کرائے چنانچہ اب ایک فیکٹری و کارخانہ میں سینکڑوں افراد اور ملازمین ہوتے ہیں اور وہ اس کے مختلف شعبہ جات میں خدمات انجام دیتے ہیں اس نے ذات پات کے قدیمی بت پاش پاش کردئیے ہیں چنانچہ اب ایک ہی شعبہ میں اسی نائی، دھوبی اور قاضی اور میاں کا بیٹا اور پوتا یا نواسہ کام اور محنت میں جتھا ہوا ہے اور تعلیم و ہنر نے نچلی ذات کے ایک فرد کو تعلیم و ہنر سے بے بہرہ اعلیٰ ذات کے فرد کا افسر بنایا ہوا ہے ان سب کی زندگی کا انحصار مشینوں پر ہے جو چلتی ہیں تو زندگی بھی ساتھ رواں دواں رہتی ہے۔

ایک زمانے میں مغرب اور یورپی ممالک میں بھی اچھے اور برے کا حسب بالا تصور ہواکرتا تھا اور معاشرے پر حاوی بھی ا رہا مگر جب وہاں بڑی بڑی اور بھاری صنعتوں اور میگا منصوبوں نے زرعی زندگی کو ثانوی حیثیت دے دی تو صورت حال بدلتی گئی اور انسان کو اب مذہب اور عقیدے یا اچھے اور برے کی پرانی عینک سے نہیں دیکھا اورماپا جاتا ہے۔

اچھے اور برے کے پرانے تصور نے صدیوں طبقات اور طبقاتی تصور کوپس پشت ڈال رکھے رکھامحنت کش کو یہ احساس نہیں ہوپاتا تھا زمین و جائیداد کا مالک اور جاگیردار اس کی محنت ہتھیارہاہے اس کی زندگی کے ارد گرد تو بس اچھے اور برے کے دائرے ہی کھینچے گئے تھے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *