امن کا نوبل انعام: نادیہ مراد اور کانگو کے ڈاکٹر ڈینس کے نام

سنہ 2018کا نوبل انعام برائے امن مشترکہ طور پر دو شخصیات کو دیا گیا ہے۔ ان میں ایک عراق کی ایزدی کمیونٹی کے حقوق کی کارکن نادیہ مراد باسی اور دوسرے کانگو کے ڈاکٹر ڈینس موکویجے ہیں۔

ناروے کی نوبل امن انعام دینے والے کمیٹی کے مطابق رواں برس کے انعام کا حقدار عراق کی ایزدی کمیونٹی کے حقوق کی سرگرم کارکن نادیہ مراد باسی اور افریقی ملک کانگو میں جنسی استحصال کی شکار خواتین کا علاج کرنے والے معالج ڈاکٹر ڈینس مُوکویجے کو مشترکہ طور پر دیا ہے۔ دونوں شخصیات امن پرائز کے لیے پہلے سے فیورٹ قرار دی گئی تھیں۔

نادیہ مراد باسی

عراق سے تعلق رکھنے والی نادیہ مراد باسی طہٰ سن 1993 میں سنجار کی پہاڑوں میں واقع ایک گاؤں کوجو میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کو انیس برس کی عمر میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے اپنی پیش قدمی کے دوران دیگر ہزاروں ایزدی افراد کے ساتھ مغوی بنا لیا تھا۔

نادیہ موصل شہر میں زیر حراست رکھی گئی تھیں اور ایک دن وہ اپنے اغواکار کے قبضے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ اس دوران انہیں جنسی استحصال اور ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ نے سن 2016 میں انہیں انسانی اسمگلنگ سے بچ جانے والے افراد اور ان کے وقار کے لیے خیرسگالی کا مشیر بھی مقرر کیا تھا۔ وہ سن 2016 میں یورپی کونسل کے واسلاو پرائز کی حقدار بھی ٹھہرائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ نادیہ کو یورپی پارلیمنٹ کی جانب سے آزادی اظہار کے سخاروف پرائز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

ڈاکٹر ڈینس موکوویجے

سن 2018 کے نوبل انعام برائے امن کا شریک حقدار کانگو میں جنسی استحصال کی شکار خواتین کا علاج کرنے والے معالج ڈاکٹر ڈینس مُوکویجے کو ٹھہرایا گیا ہے۔ انہوں نے کانگو کی دوسری جنگ کے دوران جنسی زیادتی کی شکار ہزاروں خواتین کو علاج کی سہولیات فراہم کی ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ہسپتال میں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے تک علیل اور زخمی خواتین کے علاج معالجے کی نگرانی کرتے رہے۔

ڈاکٹر موکویجے گزشتہ برس نوبل انعام برائے امن کے فیورٹ امیدوار قرار دیے گئے تھے۔ وہ اب تک اپنے کارخیر کے سلسلے میں دو درجن سے زائد بین الاقوامی انعامات سے نوازے جا چکے ہیں۔ ان میں انسانی حقوق کا اقوام متحدہ پرائز خاص طور پر نمایاں ہے۔

ناروے کی نوبل کمیٹی کے مطابق رواں برس کے امن پرائز کے لیے کُل 331 نامزدگیاں حاصل ہوئی تھیں، جن میں شخصیات کے علاوہ ادارے بھی شامل تھے۔ کمیٹی کے مطابق رواں برس حاصل ہونے والی ان نامزدگیوں میں 216 شخصیات اور 115 مختلف تنظمیں شامل تھیں۔ 

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *