آزاد ی لب اور جمہوریت کو درپیش خطرات ؟

بیرسٹر حمید باشانی

کچھ لوگ سوشل میڈیا کوشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کچھ اسے خطرناک سمجھتے ہیں، کچھ ناقابل اعتبار۔ ان کے خیال میں سوشل میڈیا دو دھاری نہیں، کئی دھاری تلوار ہے۔ استعمال میں احتیاط لازم ہے۔ یہ بات بڑی حد تک درست ہے۔ بے شک احتیاط لازم ہے، اس حقیقت سے کسے انکار ہے۔ صرف سوشل میڈیا پر ہی موقوف نہیں، ہر قسم کے میڈیا کے لیے احتیاط لازم ہے۔ مگر احتیاط کے نام پر لبوں پر مہریں اور سوچوں پر پہرے تو نہیں بٹھائے جا سکتے۔

ہمارے عہد میں سوشل میڈیا آزادی اظہار رائے کی لڑائی میں، اگرآج کئی یہ لڑائی ہو رہی ہے تو، کمزور اور کم خوش نصیب لوگوں کے ہاتھ میں بالا دست قوتوں کے خلاف ایک طاقت ور ہتھیار ہے۔ سوشل میڈیا کے باب میں بہت سی قوتوں کو خدشات ہیں ، جس طرح ہر نئی چیز کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ان خدشات کا ازالہ ہو تو اس میدان میں کئی امکانات ہیں۔ فی الحال سوشل میڈیا کسی قدیم شہر کے مصروف چوراہے کی طرح ہے۔ اس چوراہے پر ایک ہنگامہ سا برپا ہے۔ لوگوں کا ہجوم ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ اس چوراہے پر اپنے کسی خیال، کسی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور آگے نکل جاتے ہیں۔ چنانچہ خیالات کا ایک آزادانہ دھارا ہے۔ اس میں اچھے برے خیالات سب ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی گہری دانائی کی کوئی بات بھی نظر آجاتی ہے۔ 

گزشتہ دنوں دی اکانومسٹ کی ایک وڈیو سوشل میڈیا پر دیکھی ہے۔ یہ وڈیو دنیا میں جمہوریت کو لا حق خطرات کے بارے میں ہے۔ یہ وڈیو لاکھوں کی تعداد میں لوگ دیکھ رہے ہیں اور شئیر کر رہے ہیں۔ کسی سنجیدہ نقطے پر مشتمل کسی وڈیو میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی دلچسبی ایک حوصلہ افزا بات ہے۔ سوشل میڈیا پر متحرک خواتین و حضرات کے بارے میں یہ تاثر عام ہے کہ یہ تن آسان لوگ ہیں۔ کوئی تکلیف اٹھائے بنا راحت کے خواہشمند رہتے ہیں۔ سنجیدہ موضوعات پر تحقیق اور گفتگو سے کنی کترا کر نکل جاتے ہیں۔

ہو سکتا ہے یہ بات درست ہو، مگر گاہے یہ لوگ بہت سنجیدہ چیزوں پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ یہ وڈیو اس کی ایک مثال ہے۔ وڈیو کے آغاز میں ایک تصویر ہے، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سپریم لیڈرکم جونگ ان کھڑے ہیں۔ ہماری دور کی سیاست کے ان دونوں عجیب کرداروں کے چہروں پر وہ پر اسرار مسکراہٹ ہے، جس کے بارے میں کسی کے لیے یہ حتمی رائے کام کرنا مشکل ہے کہ یہ طنز آمیز ہے، مضحکہ خیز ہے یا پھر زہریلی ہے؟ تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ جمہوریت پوری دنیا میں یلغار کا شکار ہے۔

وڈیو میں چلنے والی سلائیڈ پر لکھا گیا ہے کہ دنیا میں مطلق العنان حکومتیں اپنے اپنے ملکوں میں سماج پر اپنی گرفت سخت کر رہی ہیں۔ اکانومسٹ سے پہلے کئی عالمی سنجیدہ اور معیاری اخبارات اور جرائد اس سے ملتے جلتے خیالات پیش کرچکے ہیں۔ جمہوریت کے بارے میں کل وقتی تحقیق اور جستجو کرنے والے تھنک ٹینک اور غیر سرکاری تنظیمیں ان خیالات کا اظہار کر چکی ہیں کہ گزشتہ عشرے کے دوران دنیا میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے تصورات کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ دی اکانومسٹ نے اس باب میں ترکی اور روس وغیرہ کو بطور مثال پیش کیاہے۔

ہمارے دور میں جمہوریت کے زوال اور اس کی جگہ کسی شخصی آمریت قائم کرنے کے عمل کے چار مراحلے ہیں۔ پہلے مراحلے پر ایک کرشماتی رہنما عوام کو بچانے کا عزم لے کر ابھرتا ہے۔ وہ عوام کا نجات دہندہ بن کر سامنے آتا ہے۔ اس کی وجہ اس خاص سماج یا ملک کے حالات ہوتے ہیں۔ جہاں ماضی کے حکمرانوں نے اس ملک کو ایک بند گلی میں لاکر کھڑا کر دیا ہوتا ہے۔ ان کو لاینحل قسم کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ سماج میں غربت اور بے روزگاری ہوتی ہے۔ سماجی اور معاشی نا انصافیاں ہوتی ہیں۔ کرپشن عام ہوتی ہے۔ لوٹ کھسوٹ ہوتی ہے۔ ملک پر قابض قوتیں اور ان کے شراکت دار ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں سماج ایک گہری یاسیت اور قنوطیت کا شکار ہو جاتا ہے۔ عین اس وقت ایک شخص نجات دہندہ بن کر ابھرتا ہے۔

یہ شخصی حکمرانی کی طرف چلنے کا پہلا مراحلہ ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلے پر ایک دشمن تلاش کیا جاتا ہے۔ یہ دشمن حقیقی بھی ہو سکتا ہے اور فرضی بھی۔ یہ دشمن کوئی روایتی دشمن ملک ہو سکتا ہے۔ کوئی گروہ یا جماعت ہو سکتی ہے۔ ملک کے اس وقت کے یا ماضی کے حکمران ہو سکتے ہیں۔ آبادی کا کوئی خاص طبقہ ہو سکتا ہے۔ اس دشمن کو عوام کے سامنے ایک عفریت یا خون آشام درندہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جو عوام کے لہو پر پلتا ہے۔ اس دشمن کے نام پر لوگوں کو بھڑکایا جاتا ہے۔ ا ن کو غصہ دلایا جاتا ہے۔ غصے میں مبتلا رائے دہندگان کسی پر الزام دھرنا چاہتے ہیں۔ انہیں الزام دھرنے اور غصہ نکالنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ وہ ووٹ کو خنجر کی طرح استعمال کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ 

تیسرے مرحلے پر جمہوری اداروں کو کمزور کیا جاتا ہے۔ پارلیمان اور دوسرے جمہوری اداروں کے گرد گھیرا تنگ کیاجاتا ہے۔ یا پھر ان اداروں کو زبردستی اپنی پسند کے مطابق ڈھالنے اور دباو میں آکر کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس مرحلے پر آزاد پریس کو بھی کچھ متعین کردہ حدود و قیود کے اندر لایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے دھونس، دھاندلی، لالچ، خوف سمیت ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے یہاں تک کہ پریس خود ہی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ لکھاری خود ہی اشرافیہ کے مطلب کی بات لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ خود ہی سرخ لکیریں کھنچی جاتی ہیں۔ اس طرح پریس اہل حکم کی پسندیدہ بات بار بار دہرانے اور لوگوں تک پہچانے پر معمورہو جاتا ہے۔

اسی تیسرے مرحلے پر ملک کی عدلیہ کو بھی قابو کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چونکہ عدلیہ کو قابو کیے بغیر بڑے مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں۔ میڈیا کی آزادی کا سوال انسانی حقوق اور حق اظہار رائے بن کر مصیبت کھڑا کر سکتا ہے۔ پارلیمان کی بالادستی کا سوال ایک پریشان کن آئینی سوال بن کر ابھر سکتا ہے۔ چنانچہ ان مسائل سے نبٹنے کے لیے ایک ہم خیال اور ہم درد عدلیہ ضروری سمجھی جاتی ہے۔ یہ تین مرحلے طے کرنے کے بعد طاقت کے سارے بڑے مراکز تسخیر ہو جاتے ہیں۔

اب چوتھا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ چوتھے مرحلے پر ہر مخالف قوت کو کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال ترکی ہے، جہاں سیاسی بنیادوں پر دو لاکھ لوگوں کو صفایا کیاگیا۔ ایک مثال وینزویلا ہے جہاں پارلیمان کو بالکل بے اثر کر دیا گیا۔ آئین کو ختم کیا گیا۔ یہ وہ مراحلہ ہوتا ہے جہاں پر آکر نقاب گرنا شروع ہو جاتا ہے، اور مطلق العنانیت کھل کر سامنے آنے لگتی ہے۔ جیسا روس میں ہواہے، جہاں صدر پوٹین شخصی مطلق العنانیت کا ایک بڑا نمونہ بن کر سامنے آیا ہے۔ اس مرحلے پر جمہوریت مر جاتی ہے یا محض نام کی باقی رہتی ہے۔ 

حاصل کلام یہ ہے کہ جمہوریت کو بلاتشکر کوئی مفت کی عطا نہیں سمجھنا چاہیے۔ جس طرح کہیں بھی جہدوجہد کیے بغیر، قربانیاں دئیے بغیر، آمریتوں کے سائے نہیں چھٹتے، اور جمہوریت کی صبح طلوع نہیں ہوتی۔ اسی طرح جمہوریت کو زندہ رکھنے کے لیے ایک ایک جہد مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انسانی حقوق کو بچانے کے لیے انسانی حقوق کے لیے لڑنا پڑتا ہے۔ جمہوریت اور انسانی حقوق کی لڑائی ایک نا ختم ہونے والی مسلسل لڑائی ہے کہ آمریت پسندقوتیں ایک وائرس کی طرح ہوتی ہیں اور آئے روز نت نئے روپ دھار کر جمہوریت اور انسانی حقوق پر حملہ آور ہوتی رہتی ہیں۔

سوشل میڈیا جدید جمہوری طرز زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ اظہار رائے کے کئی متبادل اور نئے ذرائع میں سے ایک ہے۔ یہ انسان کو اس کے لب آزاد ہونے کا احساس دلاتا ہے۔ زمانے کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ایک جمہوری سماج میں سوشل میڈیا کے پاوں میں زنجیریں ڈالنے کے بجائے اسے ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا اور اسے جائز مقام دینا ہی بہتر راستہ ہے۔

♦ 


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *