امریکی نظامِ انصاف اور جمہوریت کو درپیش خطرہ

منیر سامی

آج کل دنیا کی اہم جمہوریت امریکہ میں ایک تاریخی تنازعہ چل رہا ہے جس کے نتائج تاریخی اور دور رس ہونے کا امکان ہے۔ یہ تنازعہ امریکہ کی سپریم کورٹ میں ایک نئے جسٹس کی نامزدگی اور تعیناتی کے بارے میں ہے۔ نو ججوں پر مشتمل امریکی سپریم کورٹ امریکہ میں آئین ، قانون ، اور انصاف کی بالا دستی برقرار رکھنے والا اہم ترین ادارہ ہے۔ امریکی آئین کے مطابق وہاں انتظامیہ ، مقننہ ، اور عدلیہ کے درمیان ایک توازن ضروری ہے۔ یہ تینوں ادارے ایک دوسرے کے ساتھ نہایت متوازن طور پر جڑے ہوئے ہیں۔ اور ایک دوسرے پر زیادتیوں کے خلاف نگراں بھی ہیں تاکہ عوامی اور انسانی حقوق منصفانہ طور پر قائم رہیں ، اور امریکی عوام کے حقِ رائے دہی اور اان کے جمہوری چنائو کی قدر اور حفاظت ہو سکے۔

ان تینوں اداروں میں سپریم کورٹ کو ایک خصوصی مقام اور حیثیت حاصل ہے، کیونکہ امریکی آئین کی تفہیم اور عدالتی معاملات میں اس کے فیصلے حرفِ آخر ہوتے ہیں۔ اس کا ہر فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ بن جاتا ہے جس کا اثر کئی سالوں یا دہایئوں تک رہتا ہے حتیٰ کہ کوئی نیا فیصلہ پہلے کے کسی فیصلے میں ترمیم کر دے۔

شاید آپ یہ جان کر حیران ہوں کہ اس عدالت میں جج کی نامزدگی اور تعیناتی میں عدالت کے دیگر ججوں کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ججوں کی تعیناتی تا حیات ہوتی ہے، اور صر ف ان کے ریٹائر ہونے یا انتقال ہونے کی صورت میں نیا جج متعین کیا جاتا ہے۔ جج کو امریکی صدر نامزد کرتا ہے۔ اس کے بعد امریکی مقننہ کے ایوانِ بالا کی عدلیاتی کمیٹی نامزد جج سے عوام کے سامنے سوال جواب کرتی ہے، اس موقع پر جج کی قابلیت اور بلا تعصب انصاف کرنے کے بارے میں گواہ بھی طلب کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے اکثر یتی فیصلے کی بنیاد پر نامزدگی کی تصدیق کی جاتی ہے یا اسے رد کیا جاتا ہے۔تصدیق کی صورت میں اسے سینیٹ کے مکمل اجلاس میں پیش کیا جاتا ہے جہاں اکثریتی فیصلے سے جج کی تعیناتی ہو سکتی ہے۔

ظاہری طور سپریم کورٹ کا ہر جج نظریاتی یا سیاسی طور ہر غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ لیکن امریکہ میں دو جماعتوں پر مبنی ایسا جمہوری نظام قائم ہے جہاں ان دونوں جماعتوں میں شدید نظریاتی اختلاف ہے۔ سو یہ نظریاتی اختلاف عدلیہ کی نظریاتی غیر جانبداری پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ روایتی طور پر اس اختلاف سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے، اور کئی بار اس عدالت کے جج دونوں جماعتوں کے اراکین کی بھاری حمایت سے کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ اس عدالت کے نو میں سے پانچ جج قدامت پرست نظریات رکھتے ہیں اور چار جج آزاد خیال سمجھے جاتے ہیں۔

گزشتہ کئی دہایئوں میں امریکی کی روایتی حکمراں جماعتوں میں اختلاف بہت بڑھ گیا ہے۔اب یہاں کی دونوں جماعتیں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعیناتی پر انتہائی نظریاتی تعصب اختیار کر گئی ہیں۔ امریکی نظام حکومت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں بارہا صدرایک جماعت کا اور مقننہ کا اایک یا دونوں ایوان دوسری جماعت کے ہو سکتے ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں دونوں جماعتوں کو افہام و تفہیم سے حکومت چلانا ہوتی ہے۔بڑھتے ہوئے نظریاتی اختلاف کی وجہ سے روایتی افہام و تفہیم کو شدید نقصان ہوا ہے۔

صدر اوبامہ کے دورِ حکومت کے اواخر میں سینیٹ کا کنٹرول ان کی مخالف جماعت کے ہاتھ میں تھا۔ جب صد ر اوبامہ نے سپریم کورٹ نے ایک جج کو نامزد کیا تو اس وقت کی سینیٹ نے جس پر قدامت پرست جماعت کا غلبہ تھا، اس جج کے چناو میں تاخیر کی اور اعلیٰ عدلیہ کم از کم ایک سال تک اپنی مکمل تعدا د سے محروم رہی۔

اس وقت امریکہ میں حکمرانی کی صورتِ حال یہ ہے کہ یہاں صدر، مقننہ کا ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں ، وہاں کی قدامت پرست جماعت ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے ہیں۔ آج کل یہ جماعت سخت گیر قدامت پرست خیالات کی حامل ہے۔ امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اقتدار حاصل کرتے ہی عدالت کی اس نشست پر جو صدر اوبامہ کے دور میں خالی رکھی گئی تھی، ایک قدامت پرست جج کو نامزد کر دیا۔ اس وقت تک ججوں کے انتخاب میں سینیٹ کے سو میں سے ساٹھ اراکین کی حمایت لازمی تھی۔ اس وقت کی سینیٹ میں اکیاون اراکین ریپبلیکن جماعت کے ہیں اور اننچاس ڈیموکریٹک جماعت کے۔

ایسی صورتِ حال میں سنیٹ کے ریپبلیکن رہنماوں نے ایک تاریخی متنازعہ فیصلے کے تحت جج کو صرف اکثریتی فیصلے سے منتخب کر دیا۔ اور یوں اب سپریم کورٹ واضح طور پر پانچ قدامت پرست ججوں پر مشتمل ہو گئی۔

اس دوران سپریم کورٹ کے ایک اور جج ریٹائر ہوگئے۔ یوں صدر ٹرمپ کو ایک اور جج کو نامزد کرنے اور قدامت پرست ججوں کی تعداد چھ تک بڑھانے کا موقع مل گیا ۔ انہوں نے جن جج کو نامززد کیا ، ان پر کم از کم تین خواتین نے جنسی زیادتیوں اور ہراساں کرنے کا الزام لگایا۔ اس معاملہ پر سینیٹ میں شدید بحث ہوئی۔ نامزدگی کی سماعت کے دوران نامزد جج Bret Kavanaugh نے سخت ترین نظریاتی تعصب کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مخالفین اور ڈیموکریٹک پر نہایت متعصبانہ تبصرہ کر دیا۔ یہ ایک جج کی غیر جانبداری کی روایت کے خلاف تھا۔ بہت ردو قدح کے بعد اور خود ریپبلیکن جماعت کے تین اراکین کے مطالبہ پر ان جج کا معاملہ امریکہ کے قانون نافذ کرنے والے ادارے ، FBI کو تحقیقا ت کے لیئے سونپا گیا ہے۔

ان جج کو امریکی صدر ٹرمپ اور ان کی جماعت کی مکمل حمایت حاصل ہونے کے باوجود خود ان کی جماعت کے چند اراکین اس نامزدگی کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں۔ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ جج Kavanaugh کا تعین امریکی سپریم کورٹ کے بظاہر نظریاتی توازن کو تہہ و بالا کر سکتا ہے، اور انسانی اور سماجی حقوق کے کئی سابق فیصلے نظر ثانی کے بعد تبدیل ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کے اپنے دورِ اقتدار میں صدر ٹرمپ ایک ساتواں قدامت پرست جج بھی نامزد کر سکیں۔ یوں وہاں کی سپریم کورٹ کا توازن کئی دہایئوں تک قدامت پرست رہے گا۔

قدامت پرست عدالت اور عوامیت پرست عدلیہ، مقننہ ، اور انتظامیہ ،پرمبنی نظام ِ حکومت ان جمہوری روایتوں سے دور ہوتا جائے گا ،جو امریکہ میں دو صدیوں سے قائم ہیں۔ اس کا اثر دنیا کے دیگر ممالک پر بھی پڑے گا اور دنیا میں ایسے خلفشار کا امکان بڑھے گا جس کا نتیجہ فسطایئت یا Fascism ہو سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *