بنوں میں پشتون تحفظ تحریک کا ایک اور بڑا جلسہ

پشتون تحفظ موومنٹ نے اتوار کو خیبرپختونخوا کے جنوبی شہر بنوں میں احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا جس میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی تھی۔ پی ٹی ایم نے لگ بھگ اڑھائی ماہ کی خاموشی کے بعد بنوں جسے پشتون پیار سے ’بنی گل‘ پکارتے ہیں، کو احتجاجی جلسے کے لیے منتخب کیا۔ پشتونوں کے حقوق کے لئے شروع کی گئی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسے میں ملک بھر سے آئے پشتونوں کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

شرکاء میں ایک بڑی تعداد نے اپنے پیاروں کی تصاویر اُٹھائی ہوئی تھیں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے گھروں سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر گمشدہ ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ پانچ مطالبات لے کر نکلی ہے جس میں نقیب اللہ قتل میں ملوث ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کو سزا دلوانا، گمشدہ افراد کی واپسی و عدالتوں میں پیشی، ماورائے عدالت قتل افراد کے لئے عدلتی کمیشن کا قیام، قبائلی علاقوں سے بارودی سرنگوں کی صفائی اور آرمی چیک پوسٹوں پر پشتونوں کی تذلیل روکنا شامل ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے رہنما اور قومی اسمبلی کے ممبر محسن داوڑ نے کہا کہ ان انتہائی کم وسائل اور مشکلات کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ ہمارے مطالبات کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے اس جلسے کو ضلع بنوں کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو سمجھتے تھے کہ ہماری تحریک ختم ہوگئی تو یہ جلسہ ان کے لئے عملی جوابہے۔

اس موقع پر پشتون تحفظ موومنٹ کی کور کمیٹی کی ممبر ثناء اعجاز نے وائس اف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس ریاستی اداروں نے انہیں ہراساں کیا اور جہاں بھی ہم جاتے ان کے لوگ ہمیں تنگ کرتے اور کام کرنے نہیں دیتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پشتون روایات ہیں کہ عورت گھر کی چاردیواری میں رہتی ہے مگر ہم نےبنیادی انسانی حقوق کے حصول کی خاطر اپنی روایت بدل ڈالی۔

پشتونوں کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سیاستدان اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک جنھوں نے سکول اور کالج تک تعلیم بنوں میں حاصل کی ہیں، اس جلسے کو تاریخی جلسہ قرار دیتے ہیں۔افراسیاب خٹک کہتے ہیں ’اگرچہ اس تحریک کے سرچشمے وزیرستان سے ہیں، لیکن انھوں نے بنوں، جنوبی اضلاع، کوئٹہ، پشاور اور ملاکنڈ ڈویژن سمیت تمام پشتون علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔‘

پاکستان میں میڈیا سنسر شپ کے باعث قومی میڈیا میں پشتون تحفظ موومنٹ کو کوریج نہیں جاتی، جس کے حل کے لئے تحریک کے کارکنان سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں مگر جلسے کے اطراف میں انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا تھا جس کے باعث سوشل میڈیا پر کوریج میں مشکلات پیش آئی۔

مشکلات کے باوجود سوشل میڈیا میں اس کی کوریج بھرپور رہی۔ پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما علی وزیر نے ریاستی اداروں اور ان کے اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بقول آپ کے اب پی ٹی ایم ختم ہو چکی ہے۔وہ دیکھیں اور اگر کوئی غیرت ہے تو استعفیٰ دے دیں

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کے بانی منظور پشتین نے کہا کہ ہم عدم تشدد کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں اور پاکستان میں پشتونوں کے لئے پرامن طریقے سےحقوق لینے کے لئے جلسے کرتے رہینگے۔ تاہم انہوں نے یہ بات دہرائی کہ ریاست انہیں حقوق دینے کے بجائے مختلف طریقوں سے تنگ کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکنوں کو گرفتار کیا جاتا ہے۔ ان کے خلاف جھوٹے مقدمے بنائے جاتے ہیں۔

پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے وائس آف امریکہ کی ڈیوا سروس سے بات کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا پر پشتون تحفظ تحریک کے جلسوں اور مظاہروں کو اپنی نشریات میں جگہ نہ دینے پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ اس سے تحریک کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔

منظور پشتین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نہ صرف پاکستان کے بلکہ دنیا بھر کے پشتون انکے ساتھ ہیں اور جب تک انکے مطالبات مانے نہیں جاتے، انکے پرامن مظاہرے جاری رہیں گے ۔

جلسے میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ممبر علی وزیر اور محسن داوڑ بھی موجود تھے جنہیں پی ٹی ایم سے الیکشن میں حصہ لینے کی وجہ سے تحریک کی کور کمیٹی سے ہٹا دیا تھا۔

جلسے میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ملک مرزا عالم وزیر کی بیوہ نے بھی شرکت کی، جس کے گھر سے اُن کے شوہر اور دو بیٹوں سمیت 13 جنازے نکلے تھے۔ یہ تمام افراد ’نامعلوم مسلح افراد‘ کے ہاتھوں مختلف حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔ یہ بوڑھی خاتوں جنوبی وزیرستان سے رکن قومی اسمبلی علی وزیر کی والدہ ہیں۔

پی ٹی ایم کے بنوں جلسے میں صوابی سے تعلق رکھنے تنظیم کے ضعیف العمر کارکن ’فیض محمد کاکا‘ نے بھی شرکت کی۔

اٹھاسی88 سالہ فیض محمد کاکا پر صوابی میں پی ٹی ایم جلسے کے بعد ایف آئی آر درج کی گئی اور بعد میں اُنہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس 88 سالہ شخص کو ہتھکڑیاں لگے ہوئے تصاویر وائرل ہوئی تھیں۔

VOA/BBC/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *