ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنا ہوں گی

علی احمدجان

سیاست دانوں کے چور ہونے، سیاست چوری ، بے ایمانی ، اور کرپشن کا نام ہونے کی گردان سنتے سنتے گزشتہ بائیس سالوں میں ایک نسل جوان ہوگئی ہے جس نے اپنی ہتھیلی میں پکڑے سمارٹ فون کو نہ صرف دوسروں تک اپنے پیغام رسانی کے لئے استعمال کیا بلکہ وہ خود بھی اس نئے ابلاغی آلہ سے مستفید ہوتی رہی ہے۔ اس نوجوان نسل کو اس بات پر پر بھی گھمنڈ ہے کہ اس کی جدوجہد اور کاؤشوں سے نہ صرف چوراور ڈاکو اپنے انجام کو پہنچے ہیں بلکہ ایک حقدار اور اہل قیادت کو بر سر اقتدار لانے میں بھی اس کا ہاتھ ہے۔

سنہ2018 ء کے عام انتخابات کے بعد نوجوان نسل کے ذہنوں میں نئی حکومت سے امیدیں وابستہ ہیں کہ اب ملک تبدیل ہوگا اور یہاں دودھ اور شہد کی ندیاں بہنے لگیں گی۔وزیر اعظم عمران خان کی اعلان کردہ ایک کروڈ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں میں وہ اپنے لئے روزگار اور سر پر چھت ہی نہیں دیکھتے بلکہ جن کو چور کہا گیا ہے ان کے ہاتھ قلم ہوتا اور جس دولت کے ملک سے باہر لے جانے کا کہا گیا اس کو واپس آتا بھی بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

گزشتہ کئی دہائیوں میں ہماری نئی نسل کو قائل کیا گیا ہے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ دراصل وزیر اعظم ہاوس کے کیچن میں سری پائے پکانے اور درجنوں گاڑیوں میں پیٹرول ڈالنے میں خرچ ہوتا رہاہے۔ کابینہ میں بیٹھے وزیر وں اور مشیر وں کا کام ملک کی دولت کو لوٹ کرباہر لے جانا ہے۔ سرکاری بنکوں ، مالیاتی اداروں اور کارپوریشنوں کے سربراہان کے نااہل، چور اور ڈاکو ہونے کی سند تو ملک کی عدالتوں نے بھی جاری کردئے ہیں۔

ہماری نوجوان نسل کو یقین ہے کہ اگر ایک ہزار ارب روپیہ جو روز انہ ملک سے باہرچلا جاتا ہے صرف اسی کو روک لیا جائے توآئی ایم ایف جیسے سود خوروں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ ایف بی آر سے روزانہ چوری ہونے والا اربوں روپیہ جس کا شعیب سڈل نے سالوں پہلے انکشاف کیا تھا ، اگربچا لیا جائے تو کسی بین الاقوامی ادارے کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں۔ اگر موبائل فون پر دیا جانے والا ٹیکس ہی کسی زرداری یا نواز شریف کے جیب میں جانے سے روکا جائے تو ملک سے غربت ختم ہو جائے گی۔ اب ان تمام وعدوں کے ایفا ءہونے کا وقت آن پہنچا ہے۔

ہماری نوجوان نسل کو بتایا گیا ہے کہ زرداری اور شریف برادران کا نافذ کردہ پولیس اور پٹواری کے نظام کو اگر درست کیا جائے تو رشوت ختم ہوجائے گی اور یہاں چین ہی چین ہوگا ۔ ہماری نوجوان نسل کو یقین ہے ایک ایماندار حکمران کے اقتدار سنبھالتے ہی پاکستانی پاسپورٹ کو دیکھ کر کسی بھی ملک کے امیگریشن کے افسران سلیوٹ کریں گے اور جیسے ہی ہمارا وزیر اعظم سر زمین امریکہ جائیگا تو صدر امریکہ خود بینڈ باجے کے ساتھ نہ صرف ائیر پورٹ پر استقبال کے لئے آجائیگا بلکہ ایک بگھی میں ٹرمپ اور عمران خان دونوں نیویارک اور واشنگٹن کی سڑکوں کے دونوں جانب کھڑے لوگوں کے نعروں کا ہاتھ ہلا ہلا کر جواب بھی دے رہے ہونگے۔ اب نوجوان ایسا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

مگر دوسری طرف شواہد یہ بتاتے ہیں کہ ہمارے زمینی حقائق شائد ہماری نئی نسل کے خواہشات اور توقعات سے مختلف ہیں۔ پاکستان جس خطے میں بنا ہے اس کا زیادہ تر حصہ قبائلی یا جاگیردرانہ ہے جہاں طرز معاشرت ملک کے اس حصے سے مختلف ہے جہاں انگریزی قانون کا نفاذ رہا ہے۔ جاگیردارانہ اور قبائلی سماج میں ایک فرد اپنی ذاتی آزادی اپنے قبیلے اور برادری کے اجتماعی مفادات پر قربان کردیتا ہے۔

قبائل اور برادریوں کے اجتماعی مفادات کے تحفظ کے نام پر یہاں چند لوگ بار بار منتخب ہوتے ہیں اور ہر حکومت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ موجودہ حکومت بھی ان ہی لوگوں کی حمایت کی مرہون منت ہے۔ کیا ایسے افراد جو صدیوں سے قبائلی اور جاگیردارانہ طرز معاشرت کی فیوض و برکات سے مستفید ہوتے آرہے ہوں وہ اس نظام کو تبدیل کرنے کے لئے تیار ہونگے؟ ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔

ایف بی آر، پولیس اور پٹواری کو کسی عوامی اجتماع میں غلط کہنے اور ان کو گالیاں دینے پر لوگوں کی تالیاں تو بجتی ہیں لیکن یہاں رائج نظام کو تبدیل کرنے یا اس کا متبادل نظام دینا آسان نہیں۔ ماضی میں بھی پولیس کے ادارے کو تبدیل کرنے کی متعدد بار کوششیں ہوئیں جو بوجوہ بارآور ثابت نہ ہوسکیں۔ زیادہ سے زیادہ پولیس میں رپورٹنگ کو آسان بنادیا جاسکتا ہے ، پٹواری کا ریکارڈ کمپیوٹرایزڈ کیا جاسکتا ہے اور ایف بی آر میں ٹیکس کی وصولی کو آسان کردیا جا سکتا ہے مگر نہ پولیس کے اختیارات کم کئے جاسکتے ہیں، نہ پٹواری کا عمل دخل کوختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ایف بی آر میں وصولیاں زیادہ کی جاسکتی ہیں ۔

ہماری غربت صرف اس لئے نہیں کہ ہمارے وزرائے اعظم کھانا زیادہ کھاتے رہے ہیں یا وہ ہیلی کاپٹر پر سیر سپاٹے کرتے رہے ہیں۔ ہماری غربت کی وجوہات بہت ساری ہیں جس میں ہماری آبادی کا زیادہ ہونا ، آدھی آبادی (خواتین) کے لئے کام کرنے کے مواقع میسر نہ ہونا، آمدنی سے زیادہ اخراجات اور اخراجات کی سمت اور ترجیحات کا غلط ہونا سمیت کئی ایسی وجوہات ہیں جن کا معلوم ہونے کے باوجود تدارک نہ ہوسکا۔

کیا ہم اپنی صحت اور تعلیم پر مجموعی قومی پیداوار کا پانچ فیصد خرچ کرنے کے متحمل ہوسکتے ہیں؟ کیا ہم بیرونی قرضہ لئے بغیر ترقیاتی فنڈ اپنے خزانے سےمہیا کر سکتے ہیں؟ جب ہم ہر نئی سڑک، ڈیم، بجلی گھر اور سکول ،ہسپتال حتیٰ کہ قدرتی آفات کی صورت میں بھی بیرونی قرضوں پر انحصار کرتے ہیں تو پھر قرضے تو بڑھ جائیں گے۔ یہی ہوتا آیا ہے۔

گزشتہ پانچ سالوں کے دوران جذباتی تقاریر، الزام، دشنام اور تلخ نوائی سے نوجوانوں کو متحرک کیا گیا تھا جن کے ذہنوں میں نئی حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم عمران خان سے انتہائی اونچی امیدیں اور توقعا ت وابستہ ہیں۔ ان امیدوں کے بھر نہ آنے اور توقعات پوری نہ ہونے کی صورت میں نوجوان نسل کے ذہنوں میں شدید منفی ردعمل کا امکان ہے ۔ نوجوانوں کی سیاسی تربیت میں دلیل اور منطق کے بجائے جبات اور جنون کو جس انداز میں فروغ دیا گیا ہے اگر اس کا رخ اور سمت بدل گئی تو روکنے کے لئے بندباندھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا کیونکہ ہاتھوں سے لگائی گرہیں عموماً دانتوں سےہی کھولی جاتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *