کون سا پاکستان؟ 

آصف جیلانی 

نیا پاکستان کا نعرہ سن سن کر کان پک گئے ہیں اور پڑھ پڑھ کر آنکھیں پتھراگئیں ہیں۔ عوام کو سیاسی سحر میں مبتلاکرنے کے لئے نت نے نعروں کاسلسلہ در اصل مغرب سے شروع ہوا ہے۔ 1995میں برطانیہ میں ٹونی بلیر نے جب لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالی تھی تو ایک عرصہ دراز تک اقتدار سے محروم رہنے والی جماعت کو بائیں بازو کے کٹر نظریات کے لبادے سے چھٹکارہ دلانے اور اسے قابل منتخب جماعت بنانے کے لئےنئی لیبر پارٹی۔ نئی زندگی‘ کا نعرہ لگایا تھا ۔ اسی طرح ٹوری پارٹی نے 2010میں مستقبل کی تبدیلی کے لئے ووٹ کا نعرہ بلند کیا تھا۔ وقتی طور پر تو ان نعروں نے اپنا جادو دکھایا لیکن طویل عرصہ کے بعد ناکامی کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے ان جماعتوں کو گھیر لیا۔ 

پاکستان میں تحریک انصاف نے ان ہی نعروں کی دیکھا دیکھی نئے پاکستان کا نعرہ لگایاہے ۔کوئی پوچھے کہ اقتدار کا حصول ہی نئے پاکستان کا مطمع نظر ہے یا نئے پاکستان کی کوئی نظٖریاتی بنیاد بھی ہے۔ کیا نیا پاکستان اور اس کا نظریہ اُس پرانے پاکستان سے مختلف ہے جس کے لئے بانی پاکستان محمد علی جناح نے جدوجہد کی تھی اور کامیابی حاصل کی تھی۔ نئے پاکستان کی نظریاتی اساس کی نشان دہی کئے بغیر ، نیا پاکستانکا نعرہ محض ایک سیاسی مصلحت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔عوام یہ سوال ضرور پوچھیں گے کہ کون سا پاکستان؟ 

پھر یہ کیسا نیا پاکستان ہے کہ عمران خان کی حکومت پر نئے پاکستان کے جذبہ سے سرشار جوشیلے اور ملک میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے خواہاں جوانوں کے بجائے پرانے فوجی طالع آزما جنر ل مشرف کے دور کے وزارء مسلط ہیں۔ وہی مشرف کے دور کے ریلوے وزیرشیخ رشید رریلوے کے وزیر ہیں، مشرف کی جماعت کے ترجمان فواد چوہدری وزیر اطلاعات و نشریات ہیں ۔ شفقت محمود، خسرو بختیار، علیم خان ، چوہدری پرویز الہی ، عمر ایوب ، اور عامر کیانی ، مشرف کے دور میں وزیر تھے اور فوجی آمر مشرف کے وزیرجہانگیر ترین اب عمران خان کے مشیر خاص ہیں ۔ کیا کوئی ان سے نئے پاکستان کی تعمیر کی توقع کر سکتا ہے ؟اور انہوں نے نئے پاکستان تعمیر کرنے کی کوشش کی تو کس نوعیت کا پاکستان ہوگا؟ 

نئے پاکستان میں کفایت شعاری اور سادگی کے نام پر اعلان کیا گیا ہے کہ وسیع و عریض ایوان وزیر اعظم میں اعلی تعلیم کا ادارہ قایم کیا جائے گا اور مختلف صوبوں میں گورنر ہاوس اور سرکاری عمارتوں کو عجایب گھروں میں تبدیل کر دیا جائے گا۔ اس اعلان پر اس قدر شور مچایا جارہا ہے اور عوام کو یہ باور کرایا جارہا ہے کہ جیسے یہی ان کا سب سے اہم مسلہ ہے اور یہ مسلہ حل ہوتے ہی ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات اورکیا ہوگی اگر یہ کہا جائے کہ ایوان وزیر اعظم میں اشرافیہ کے لئے اعلی تعلیمی ادارہ قایم کرنے سے ملک کے پانچ سے سولہ سال کی عمر کے ان دو کڑوڑ باون لاکھ بچوں کی تعلیم کا مسلہ حل ہو جائے گا جو اس وقت اسکول جانے سے محروم ہیں۔ اس وقت اسکولوں میں زیر تعلیم 87فی صد بچے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل نہیں کرتے ہیں۔ یہ بے چارے کیسے ، ایوان وزیر اعظم میں مجوزہ اعلی تعلیمی ادارہ میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اس کی دہلیز تک بھی ان کا سایہ نہ پہنچ سکے گا۔

کس قدر ناکامی اور ندامت کا احساس ہوتا ہے یہ جان کر کہ پاکستان میں تعلیم پر قومی پیداوار کا صرف ۲ ۔اعشاریہ ۲ فی صد خرچ کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں خواندگی کی شرح 58فی صد سے بھی کم ہے۔ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کو تو چھوڑیے ، تاجکستان ، ازبکستان، کرغیزیہ ،اور ترکمانستان میں خواندگی کی شرح ایک سو فی صد دیکھ کر سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ہم نے قیام پاکستان کے بعد ستر برسوں میں اپنی قوم کی نئی نسل کی تعلیم سے غفلت برت کر کس قدر بڑا جرم کیا ہے۔ 

اب یہ کہہ کرعوام کا دل بھلایا جارہا ہے کہ اس علی شان ایون وزیر اعظم میں اشرفیہ کے طلباء کے لئے اعلی تعلیمی ادارہ قایم کر کے نئے پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو گا۔ کوئی پوچھے کہ یہ حساب لگایا گیا ہے کہ ایوان وزیر اعظم کو ترک کر کے وزیر اعظم کی نئی رہایش گاہ کی تعمیر پر کتنا خرچ آئے گا؟ اور گورنروں کی رہایش گاہوں کے انتظام پر کتنے اخراجات آئیں گے۔ 
عمران خان کو برالگے گا اگر یہ کہا جائے کہ ان کی حکومت عوام کو ایسے مسلہ میں الجھا رہی ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ اسے ہی عوام کو ان کے حقیقی مسایل کی طرف سے توجہ ہٹانے کی کوشش سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ 

سادگی کے سلسلہ میں لندن میںڈاوننگ اسٹریٹ کی ایک چھوٹی سی گلی میںایک چھوٹے مکان میں برطانوی وزیر اعظم کے دفتر اور قیام گاہ دس ڈاوننگ اسٹریٹ کی مثال پیش کی جاتی ہے ۔ ان لوگوں کو جنہوں نے دس ڈاوننگ اسٹریٹ اندر سے نہیں دیکھا انہیں احساس نہیں کہ یہ اندر سے کتنا وسیع ہے ۔ان کے لئے واقعی باہر سے یہ چھوٹا مکان نظر آتا ہے لیکن داخلی حقیقت اس کے بر عکس ہے۔

سنہ1971میں مجھے اس زمانہ کے وزیر اعظم ایڈورڈ ہیتھ کا مہمان بننے کا شرف حاصل ہوا تھا ۔ اس دوران مجھے دس ڈاوننگ اسٹریٹ اندر سے دیکھنے کا موقع ملا تھا۔میںوہ عالی شان ہال دیکھ کر دنگ رہ گیا جس میں کابینہ کے اجلاس ہوتے ہیں پھر اس سے ملحق وزیر اعظم کے عملہ کے بیس سے زیادہ دفاتر ہیں۔ باہر سے دیکھنے میں چھوٹے سے مکان میں ایک سو سے زیادہ کمرے ہیں ۔ تین سو سال قدیم دس ڈاوننگ اسٹریٹ در اصل تین مکانات پر مشتمل تھا جس میں سے ایک مکان ۱۱ڈاوننگ اسٹریٹ ہے جس میں وزیر خزانہ کی رہایش ہے ۔ دس ڈاوننگ اسٹریٹ کی تین منزلہ عمارت ہے ۔ دوسری منزل پر وزیر اعظم کے مطالعہ کا کمرہ ہے اور اسی سے ملحق ایک چھوٹا س باورچی خانہ ہے۔جس میں وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ خود کھانا تیار کرتے ہیں۔

جب میں ایڈورڈ ہیتھ سے ان کے مطالعہ کے کمرے میںان سے گفتگو کر رہا تھا تو انہوں نے اچانک پوچھا کیا چائے پئیں گے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ کسی ملازم کو بلائیں گے۔اس کے بجائے وہ مجھے اپنے ساتھ باورچی خانہ لے گئے اور بڑی محبت سے انہوں نے خود میرے لئے چائے بنائی ، آس پاس کسی ملازم کا کوئی سایہ تک نہ تھا۔ یہ تھی برطانوی وزیر اعظم کی سادگی اور مہمان نوازی جس کی یاد ابھی تک تازہ ہے۔ 

دس ڈاوننگ اسٹریٹ کی تیسری منزل پر وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے لئے رہایش گاہیں ہیں۔ نیچے دور تک وسیع سبزہ زار ہے جس پر بعض اوقات پریس کانفرنسیں اور دعوتیں ہوتی ہیں۔ دس ڈاوننگ اسڑیٹ میں وزیر اعظم کے دفتر کے علاوہ ،پارلیمنٹ میں بھی وزیر اعظم کا وسیع دفتر ہے۔ ہاں برطانوی وزیر اعظم کی تام جھام سے آزاد سادگی قابل تقلید ہے۔ وزیر اعظم ٹریسا مے جہاں بھی جاتی ہیں ان کی سرکاری کار کے آگے موٹر سائیکل پر سوار پولس کا صرف ایک سپاہی چلتا ہے ۔ چالیس کاروں کا کوئی قافلہ پروٹوکول کے نام پر وزیر اعظم کی شان و شوکت کا ڈھنڈھورہ نہیں پیٹتا۔ یہ سادگی واقعی قابل تقلید ہے اور بلاشبہ پارلیمنٹ کے سامنے وزیر اعظم کی جواب دہی پارلیمانی جمہوریت کے داعیوں کے لئے روشن مثال ہے، خاص طور پر ہر بدھ کو بارہ بجے ایک گھنٹے تک وزیر اعظم ایوان میں اراکین پارلیمنٹ کے سوالات کا جواب دیتی ہیں۔ 

دیکھتے ہیں کہ نئے پاکستان کا مژدہ سنانے والے کہاں تک اپنے آپ کو پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہی کے لئے پیش کرتے ہیں اور عوام کے منتخب نمایندوں کے ایوان کااحترام کرتے ہیں۔ 

One Comment

  1. Hassan sangrami says:

    I know you are very nice. Lekhari all ways I enjoy from your writing. Mostly I agree with your views some time I disagree. But this article have a views. .Hassan Sangrami

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *