’جاگ اٹھو‘، جرمنی میں بائیں بازو کی نئی سیاسی تحریک

جرمنی کو انتہائی دائیں بازو کے فعال ہونے کے چیلنج کا سامنا ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے بائیں بازو کی ایک خاتون سیاست دان نے ایک تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بائیں بازو کی جرمن سیاسی جماعت ڈی لنکے سے تعلق رکھنے والی خاتون سیاستدان سارا واگن کنیشٹ نے ایک نئی سیاسی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی سیاسی تحریک کو ’ آؤف شٹیہن‘ یا جاگ اٹھو کا نام دیا گیا ہے۔ یہ تحریک جرمنی میں انتہائی دائیں بازو کے بڑھتے چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے۔

اس وقت اس نئی تحریک کو ایک لاکھ افراد کی حمایت حاصل ہو چکی ہے۔ واگن کنیخٹ نے اپنی تحریک کے حوالے سے واضح کیا کہ اس کے پلیٹ فارم سے موجودہ سیاسی عمل پر عدم اطمینان کے علاوہ ایک فلاحی ریاست کی ازسرنو تشکیل کے ساتھ ساتھ پرامن خارجہ پالیسی کو فروغ دیا جائے گا۔

جرمن سیاستدان سارا واگن کنیشٹ نے نیوز میگزین ڈیئر اشپیگل سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی تحریک کے مقاصد کے حوالے سے کہا کہ یہ دوسری بائیں بازو کی تحریکوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی منصوبہ بندی کرے گی۔ انہوں اس حوالے سے امریکی سیاسی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی، برطانوی لیبر پارٹی کے علاوہ امریکی سیاسی رہنما بیرنی سینڈرز اور برطانوی سیاستدان جیریمی کاربن کی مثال بھی دی۔

جرمن سیاسی منظر کے مبصرین اس وقت دائیں بازو کی سیاسی جماعت آلٹرنیٹو فار ڈوئچ لینڈ کی بڑھتی سرگرمیوں کے مقابلے میں سینٹر لیفٹ سیاسی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی فعالیت کو ناکافی خیال کرتے ہیں۔ انہوں نے ایسے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے کہ بائیں بازو کی ایک نئی تحریک  سے جرمن بائیں بازو کے حلقے منقسم ہو جائیں گے۔

واگن کنیشٹ کا خیال ہے کہ انتہائی دائیں بازو کے چیلنج کے لیے ’آؤف شٹیہن‘ ایک بھرپور تحریک ثابت ہو گی اور انہیں ڈی لنکے سیاسی جماعت کے علاوہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی بعض شخصیات کی حمایت بھی حاصل ہے۔ یہ تحریک باضابطہ طور پر آج سے فعال کی جا رہی ہے۔

اس تحریک کے حوالے سے کیے جانے والے تازہ ترین رائے عامہ کے جائزے میں جرمن عوام کی بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ’آؤف شٹیہن‘ تحریک کی کامیابی کا امکان بہت ہی کم ہے۔ اس رائے عامہ کے جائرے میں باسٹھ فیصد جواب دینے والوں کی سوچ ہے کہ بائیں بازو کی تحریک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

رائے عامہ کے اس جائزے کا اہتمام ٹی آن لائن نیوز ویب سائٹ نے کیا تھا۔ اس تحریک کے مستقبل کے بارے میں پانچ ہزار جرمن شہریوں نے جواب دیا۔ اس میں تقریباً بیس فیصد افراد نے خیال ظاہر کیا ہے کہ بائیں بازو کی یہ تحریک کامیابی سے ہمکنار ہو سکتی ہے اور اس میں ایک بھرپور سیاسی قوت بننے کی اہلیت پائی جاتی ہے۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *