مفتی منیب الرحمٰن ،فواد چوہدری،عاطف میاں اور کربلا

اصغر علی بھٹی مغربی افریقہ

     سوشل میڈیا میں مولانا منظور احمد جوکہ مشہور اہل حدیث عالم دین ہیں کی تقاریر کو شئیر کیا جاتا ہے ۔آپ کی تقریر شعر اور نثر  کا مرقع ہوتی ہے آپ کی تقاریر کا زیادہ سنا جانا دراصل ان کا موجودہ دور کے دوہرے معیار،دوہرے اخلاق  اوردوہرے کردار کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے ۔آپ کسی سیاست دان کا دوہرا چہرہ پینٹ کررہے ہوتے ہیں تو کبھی کسی حاجی صاحب پر پھبتیاں اُڑا رہے ہوتے ہیں۔

حال ہی میں آپ نے  مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے علماء کو موضوع سخن بنایا اور بتایا کہ ایک مولوی صاحب جب پیپلز پارٹی کی طرف سے الیکشن میں کھڑے ہوئے تو کس طرح تیر کی شان قرآن و حدیث سے بیان کر رہے تھے ۔اگلی باری سائیکل کا زور ہوگیا تو آپ  نےسائیکل کو قرآن وحدیث کے ذریعہ مسلمان کر دیا ۔اس سےاگلی دفعہ آپ قرآن وحدیث سے شیر کے قصیدے پڑھ رہے تھے۔دور جانے کی ضرورت نہیں جناب زاہد الراشدی صاحب کو ہی لے لیجئے۔ قد آور دیوبندی دانشور ہیں۔ آپ  امریکی سفارتکاروں سے اپنے تعلقات کو فخریہ بیان کرتے ہیں مگرمجال ہے کہ اپنے مخالفین کو امریکہ نواز ثابت کرنے سےذرا  بھی چوکیں۔

امریکی سفیر رچرڈ مکی کے دور کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے آپ نے ثابت کیا کہ احمدیہ جماعت امریکہ نواز ہے ان کو پاکستان میں ذرا تکلیف ہوتی ہےتو امریکہ میں اطلاعیں ہوجاتی ہیں چنانچہ آپ نے اپنے کالم میں اپنا آنکھوں دیکھا واقعہ لکھا کہ میں ایک دن امریکی سفیر رچرڈ مکی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کچھ فائلیں تیار کر رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کیا بنا رہے ہو؟ اس نے بتا یا کہ وہ گجرات کے پاس کوئی چک سکندر کا نام کا ایک گاوں ہے وہاں احمدیوں اور مسلمانوں کا جھگڑا ہوا ہے  اسی کی رپورٹ تیار کر رہا ہوں واشنگٹن بھجوانی ہے‘‘۔

  اس پر کسی دل جلے نے تبصرہ کر دیا کہ مولوی صاحب آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے جسے بقول آپ کے امریکی سفیر کی اس حد تک پرسنل بیٹھک تک رسائی تھی جہاں پر آپ کی اُس کی خصوصی فائلوں تک نظر تھی ۔آپ وہاں کس بھرتے پر تھے؟

اور یہ رویہ زاہد الراشدی صاحب کاذاتی رویہ نہیں  ان کی جماعت ،جمیعۃ  علمائے اسلام کا بھی یہی دوہرا معیارہے ۔ سینٹ ،قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی،چئیرمین وزارت خارجہ سٹینڈنگ کمیٹی،چئیرمین کشمیر کمیٹی وغیرہ وغیرہ  سب جائزلیکن  پاکستان کو گناہ قرار دیتے ہوئے اس کے  یوم آزادی منانے سے منکر نظر آتے ہیں  تو دوسری طرف  انڈیا میں  15 اگست کو دارلعلوم دیوبند میں علماء اور طلباء کی موجودگی میں پاکستان کا جھنڈا جلایا گیا اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگائے گئے۔

ابھی حال ہی میں ایک  انڈین دیوبندی عالم دین  کی ڈاکٹر ذاکر نائک  صاحب کے ٹی وی چینل کے حوالے سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ پاکستان اور پاکستان کی کشمیر پالیسی کا مذاق اُڑا رہے تھے اور قائد اعظم کو شرابی ،بے دین شیعہ کے القابات سے نواز رہے تھے مگر پھر بھی  ان کی نظر میں اگر کوئی غدار اور وطن دشمن ہے تو سر ظفر اللہ خان یا ان کی جماعت ۔

دانشوروں کے ساتھ ہی مفتیان کرام کی تقدیس ہمارے ذہن میں آتی ہے ۔تو اول نمبر پر رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین جناب مفتی منیب الرحمٰن صاحب کا خیال آتا ہے۔ ظاہری کلام میں دھیمے اور حلیم طبع مگر آپ کی سوچ سخت متشددانہ ہے۔آپ کے ایک فرقہ وارانہ  بیان کی وجہ سے ایک ہی دن میں  ڈاکٹر صدیقی صاحب سمیت جماعت احمدیہ کے کئی سرکردہ لوگ موت کے گھاٹ اُتار دئیے گئے اور آپ کو اس پر شرمندگی تو درکنار احساس تک نہیں ۔

آپ کےحالیہ دنوں  کے  ایک بیان نے  مجھے ہلا کر رکھ دیا کہ آپ جو اکثرالفاظ چبا چبا کر اعلان فرمایا کرتے تھے کہ دیکھیں کثرت نے فیصلہ کر دیا ہے کہ احمدیہ کمیونٹی کے لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہیں اب یہ اس قانون کو نہ مان کر ملکی قانون کے بھی دشمن ہیں اور اکثریت کے فیصلے کے بھی ۔  انہیں ہر صورت میں اکثریت کے فیصلے کو مان کر نہ صرف اپنے آپ کو غیر مسلم  مان لینا چاہئے بلکہ غیر مسلموں کی طرح نماز روزہ حج کو چھوڑ دینا چاہئے اور کافروں جیسے کام کرنا چاہئے۔

مگر بد قسمتی سے ہمارے نئے پاکستان کے وزیر اطلاعات جناب فواد چوہدری نے بھی  انہیں کا فارمولہ اُچک لیاور جب آپ پر عاطف میاں کے فیصلے کو واپس لینے کا کہا گیا توآپ نے بھی جواب  میں اعلان کردیا  کہ دیکھیں ہم  دو کروڑ ووٹ لے کر آئے ہیں اور ہم اکثریتی پارٹی ہیں کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ ہمیں بلیک میل کرے  ۔ اب مفتی صاحب اپنے ہی فارمولے کے خلاف میدان میں آگئے اور اگلا بیان داغ دیا ہے کہ نہیں اکثریتی ووٹ کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہےکہ آپ، کون حق پر ہے اور کون جھوٹا کا فیصلہ کرنے لگ  جائیں ورنہ عددی اکثریت تو کربلا میں یزید کو تھی ۔

آپ 17ستمبر روزنامہ دنیا میں  زیر عنوان  ’’ دینی مدارس و جامعات کا مسئلہ ‘‘ وزیر اطلاعات جناب فواد چوہدری صاحب کی گوشمالی کرتے ہوتے ہوئے فرمارہے تھے ’’ جناب عمران خان کو  فواد چوہدری صاحب ایسے ترجمانوں کو حدود میں رہنے کی ہدایت کرنی چاہئے۔ وزیر کے لفظی معنی ہیں بوجھ اٹھانے والا۔۔عاطف میاں کے مسئلہ پر فواد چوہدری صاحب نے ترنگ میں آکر کہا ہم دوکروڑ ووٹ لے کر آئے ہیں ہم کسی کے دباو میں نہیں آئیں گے۔

جناب والا ! سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے آپ کو حکمرانی کا استحقاق تو مل جاتا ہے لیکن اس کی بنیاد پر حق و باطل کا فیصلہ کرنے کا حق آپ کو نہیں دیا جا سکتا ورنہ کربلا میں عددی برتری تو امام حسین رضی اللہ عنہ کے مخالف لشکر کو حاصل تھی‘‘  حضور والا یہ کیا ماجرا ہو گیا ۔ یہ کہیں دوہرا معیار تو نہیں ہو گیا ؟احمدی لوگ بھی تو اسی اصول کو لے کر پچھلے 40 سال سے دہائیاں دے رہے ہیں کہ صاحب آپ  اکثریت  میں ضرور ہیں مگر اس اکثریت کی دھونس پر آپ کسی کے کافر یا مسلم کا فیصلہ نہ کیجئے۔ ہاں اپنے بارے میں ضرور بتائیے آپ کیا ہو مگر دوسرے کے بارے میں کہ وہ کیا ہےیہ آپ کا حق نہیں ہے اور  اسی کا نام تو ظلم ہے  ظلم کی تعریف یہی  توہے کہ وضع الشیء غیر محلہ   ۔

اسی سے ملتی جلتی صورتحال جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کوبھی پیش آئی تھی۔ اسمبلی میں اکثریت کے ووٹ کے ساتھ احمدی اقلیت کو غیر مسلم  اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا مگر  ابھی چند قدم کا فاصلہ بھی طے نہ کر پائے تھے کہ پاکستان کی عدالت  علیانے آپ کے اسلام  اور مسلمان ہونے پر سوالیہ نشان لگا دیا ۔آپ بھی مفتی منیب الرحمٰن صاحب کی طرح  عدالت میں بیان دیتے ہوئے رو پڑے تھے کہ کسی  اکثریت، کو کسی عدالت، کو بلکہ کسی کو بھی کیا حق ہے کہ وہ دوسرے کے ایمان کا فیصلہ کرے ۔ آپ  21 مئی 1978 کو عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمارہے تھے۔

۔۔  ’’ ایک اسلامی ملک میں  ایک کلمہ گو کے عجز کے لئے یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہوگا کہ وہ یہ ثابت کرے کہ وہ مسلمان ہے ۔ میرے خیال میں یہ اسلامی تمدن کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک مسلم صدر اور ایک مسلم راہنما ایک وزیر اعظم جسے مسلمان قوم نے منتخب کیا  ہو ایک دن و ہ اپنے آپ کو  اس حیثیت میں پائے کہ وہ یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے۔یہ ایک ہراساں کردینے والا مسئلہ ہی نہیں بلکہ ایک کربناک معاملہ بھی ہے۔یورلارڈ شپس  یہ مسئلہ کیسے کھڑا ہوا ؟ آخر کس طرح ؟؟۔۔۔۔خواہ کوئی کتنے ہی اعلیٰ عہدے پر کیوں نہ ہو لیکن دراصل اس معاملے میں دخل دینے کا کوئی استحقاق نہیں ہے ۔۔۔۔کسی فرد ،کسی ادارے  اور کسی عدالتی بنچ کا یہ حق نہیں بنتا کہ و ہ ایک ایسے معاملے پر اپنی رائے دے جس پر رائے دینے کا اس کا کوئی حق حاصل نہیں۔ چونکہ انسان  اور خدا کے درمیان کوئی بیچ کا  واسطہ نہیں ۔ اللہ اور انسان کا معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ وہ خود خدا روز حشر کرے گا۔

مائی لارڈجیسا کہ میں اس سے پہلے کہہ چکا ہوں کہ ایک مسلمان کے لئے کافی ہے کہ وہ کلمے میں ایمان رکھتا ہو ۔ اس حد تک بات کی جا سکتی ہے کہ جب ابو سفیان مسلمان ہوا اور انہوں نے کلمہ پڑھا تو رسول اکرم صلعم کے بعض صحابہ نے سوچا کہ اس کی اسلام دشمنی اتنی شدید تھی کہ شائد ابو سفیان نے اسلام کو محض اوپری اور زبان کی سطح پر قبول کیا ہو لیکن رسول اکرم صلعم نے اس سے اختلاف کیا اور فرمایا کہ جونہی اس نے ایک بار کلمہ پڑھ لیا تو وہ مسلمان ہو گئے‘‘۔

اور اس کے بعد بھٹو  صاحب کی آواز سسکیوں میں ڈوب گئی ۔پھر آپ نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا  شہریت دستورمیں ایک مسلمان کو یا اقلیتوں کو فراہم کی گئی ہے ۔ یہ شہریت اس جانور کو نہیں دی جا سکتی جو نام کا مسلمان ہو ۔ میں نہیں جا نتا  اور کتنے لوگوں کو اس درجہ بندی میں شامل کرکے انہیں بے ملک بنا دیا جائے گا ۔ اگر ہم بے ملک بنا دئیے گئے تو ہم کہاں جائیں گے‘‘۔؟؟

اس سوال کا جواب تو ڈھونڈنا چاہئے مگر اسی دن  ہی کیوں جس دن یہ وقوعہ میرے ساتھ ہو؟ آخر ہم ان دوہرے معیاروں سے کب باہر آئیں گے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *