پا کستان کومدینہ کی ریاست نہ بنائیں

محمدزکریا ورک

پاکستان کے وزیراعظم عمران خاں نے کہاکہ وہ پا کستان میں مدینہ کی فلاحی ریاست کی طرح سرکار بنانے کے خواہش مند ہیں جو بیواؤں اور معاشرے کے کمزور باشندوں کیلئے کام کرسکے۔ اس کیلئے مجھے انسپریشن نبی پاک سے ملی ہے جنہوں نے مدینہ میں فلاحی ریاست کی دا غ بیل رکھی تھی۔ 

دیکھنے میں آیا ہے کہ جب سیاست دان عوام کو روٹی کپڑا اور سکیورٹی نہیں دے سکتے تو وہ ا صل مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے اپنا رخ مذہب کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے کہ دھرم کا نشہ پلانے سے عوام اپنے مصائب بھول جائیں گے اور جسم و روح کو درپیش مسائل پس پشت میں چلے جائیں گے۔ یہ کوئی نئی چیز نہیں ایسا صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔ 

لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ نئے وزیر اعظم نے عہدہ سنبھالتے ہی مذہب کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ اپو زیشن پارٹی میں رہ کر حکومت پر تنقید کرنا تو آسان ہوتا ہے مگر خود جب حکومت کرنے اور وعدے پورے کرنے کی باری آتی تو ہوا نکل جاتی ہے۔ شاید اسلامی مملکت کے نئے وزیر اعظم کو احساس ہوگیا ہے کہ انہوں نے جس تبدیلی لانے کا نعرہ لگایا تھا وہ اس کے بر خلاف پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے، ملازمتوں اور کرپشن کو ختم کرنے کے وعدے پورے نہیں کر سکیں گے۔ 

عمران خان نے پا کستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست تبدیل کرنے کا جو نعرہ لگا یا ہے ملک کے اندر اور باہر لوگوں نے اس کا نوٹس لیا ہے۔ ملک کے اندر ماہر تجزیہ نگار جو خود کولبرل کہتے وہ بھی فلاحی ریاست کے حق میں بلند آوازیں اٹھا نے لگے ہیں۔ سوال پید ا ہوتا ہے کہ بجائے اس کے وزیر اعظم کسی ماڈرن ریاست جیسے ناروے،سویڈن یا کینیڈا کی مثال دیتے انہوں نے ساتویں صدی میں پائی جانیوالی ریاست کو اپنا ماڈل کیوں بنانے کا عزم کیا ہے؟ 

حضرت محمد صلعم نے عرب سے تمام بت پرستوں ، عیسائیوں، یہودیوں اور دیگر مذاہب عالم کی بیخ کنی کردی۔ اگر پا کستان کو مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنا نا مقصود ہے تو کیا پاکستان سے ہندوں، سکھوں، عیسائیوں، پارسیوں کی بیخ کنی کر دی جائیگی اور وہ ذمی (ٹیکس ادا کرنیوالے غیر شہری) بن کر رہیں گے؟ شاید اسی لئے وزیر اعظم پا کستان میں اقلیتوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی بحث نہیں کر رہے؟ 

حضرت محمد کی وفات کے بعد تمام خلفاء راشدین کامختلف طریق کار سے خلافت کیلئے انتخاب ہؤا تھا۔ جس طرح پا کستان میں الیکشن ہوتے ہیں مدینہ میں ایسا کوئی طریق کار نہیں تھا۔مدینہ کے ماڈل کو کیوں پھر اپنا نے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ کسی خلیفہ نے ۲۲ سال تک سیا سی جد وجہد نہیں کی تھی اور نہ ہی ان کے انتخاب میں ملٹری کاہاتھ یا پشت پناہی حاصل تھی۔ پھر تین خلفاء راشدین کو بے دردی سے شہید کیا گیا ، کیا یہ ماڈل اس قابل ہے کہ اس کو ہمارے دور میں نمونہ بنایا جائے۔ 

مدینہ کی ریاست میں وہاں کے یہود کے اموال اور جا ئیدادوں کے جنگوں میں ملنے کے بعد دولت کی آمد ہوئی تھی ورنہ مدینہ کے لوگ غریب اور مسکین تھے۔ جو زراعت مدینہ میں ہوتی تھی وہ یہودیوں کے علم اور محنت کی وجہ سے تھی ۔ اس میں مکہ کے قریش کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ پھر حضرت عمر فاروقؓ نے ایران کو فتح کر کے تمام دولت کو ریاست کا حصہ بنا لیا اس کے بعد مدینہ کی ریاست فلاحی ریاست بنی تھی؟ خان صا حب کس ملک پر حملہ کر کے فلاحی ریاست کا پرچم لہرائیں گے؟ 

اسلامی دنیا میں آج تک جنم لینے والی احیائے دین کی تحریکوں اور ماڈرن اسلام پسندوں نے اپنے سیاسی اور مذہبی مقاصد کیلئے مدینہ کی ریاست کے ماڈل کو استعمال کیا ہے۔ مولانا مودودی کے نزدیک یہ فلاحی ریاست کا آغاز اور فاتح اسلام کا آغاز تھا جب ریاست نے شریعت کا نفاذ شروع کیا۔ جبکہ حسین احمد مدنی کے مطابق میثا ق مدینہ اقلیتوں کے حقوق کی گارنٹی دیتا تھا ، خاص طور پر ہمارے عہد کے مسلمانان عالم کے لئے۔ اب عزت مآب عمران خان کیلئے یہی ڈیڑھ ہزار سال پرانی مدینہ کی ریاست ماڈرن فلاحی ریاست بن جاتی ہے جہاں غریب اور کمزوروں کے حقوق کا تحفظ کیا جائیگا۔ تو آئے ذرا اس چارٹر آف مدینہ پر سرسری بات کریں۔ 

میثاق مدینہ کی آٹھویں شق کے مطابق مسلمان دیت ( خوں بہا،بلڈ منی) کی رقم ادا کر کے اپنے قیدیوں کو رہا کروا سکیں گے۔ یہ امت کی ذمہ داری ہوگی نہ کہ قیدیوں کے خاندان کہ وہ خوں بہا (دیت) ادا کریں ۔ گویا ایک قاتل اور خونی دیہ کی رقم ادا کر کے اپنے آپ کو قتل کے گھناؤنے الزام سے بری الذمہ قرار دلوا سکتا ہے۔ معاشرے کے ایسے افراد جن کے پاس دےۃ کی رقم ہوگی وہ قانون کی گرفت سے بالا ہوں گے لیکن کو ئی غریب مسکین مفلوک الحال جس کے پاس کثیر رقم نہیں ہے اس کو قانون کے مطابق سزا بھگتنی ہوگی۔ جبکہ ماڈرن تصور کے مطابق قانون کی نظر میں ہر کوئی برابر ہے۔ یعنی Equal before the law. سعودی عرب میں ایسے کئی واقعات رونما ہو چکے ہیں جہاں ہندوستان بنگلہ دیش پا کستان فلپائن سے آئے مہاجرورکرز کو دیت کی رقم قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تا عدالت میں مقدمہ پیش ہی نہ ہو سکے۔ 

میثاق مدینہ کی شق نمبر46 کے مطابق عورت کو تحفظ اس کے خاندان (ولی) کی رضامندی سے دی جائیگی۔ یعنی اگر کوئی عورت انفرادی طور پرشکایت کر ے، تو ایسی شکایت اس وقت تک قابل قبول نہیں ہو گی جب تک کہ اس کا ولی رضامند نہ ہو۔ یہ کہاں کا انصاف ہے؟ گویاقانون کی نگاہ میں عورت شخص نہیں تھی محض جانوروں کی مانندمردوں اور کمیونٹیز کی مال منقولہ اور ملکیت تھی۔ علماء اور مسلم دانشور یہ بات کہتے تھکتے نہیں کہ عورت کو انقلابی حقوق چودہ سو سال قبل دئے گئے تھے۔ جدید دنیا میں پرانے قوانین کی تعبیر کر کے ہمیں gender equality کی بات کر نی چاہئے۔ جناب وزیر اعظم آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ ہیں انہیں تو پتہ ہونا چاہئے کہ مدینہ ماڈل کے مطابق تو پا کستان کی عورتوں کو قرون مظلمہ کے تاریک دور میں دھکیل دیا جائیگا۔ میں یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ محمد حسین ہیکل کی سیرت پر کتاب کے اردو ترجمہ میں اس شق کا کہیں ذکر ہی نہیں کیا گیا ہے۔ 

پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دستور مدینہ pluralism and co-existenceکی شاندار مثال تھی۔ دستور کاباریکی سے مطالعہ کئے جانے پر معلوم ہوتا کہ یہ دستورمسلمانوں کی بالادستی کا دعویدار تھا۔ جبکہ ہر فریق کو مساوی حق دئے جانے کے برعکس مسلمانوں کو برتری کی پوزیشن دی گئی ہے۔ ایک شق کے مطابق تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی غیر مسلمان افراد کی نسبت۔ ایک اور جگہ لکھا گیا ہے کہ کوئی مسلمان کسی غیر مسلم کی مدد نہ کرے گا۔ 

وزیراعظم نے عہدہ سنبھالتے وقت جو حلف اٹھا یا تھا اس کے مطابق پا کستان میں کسی اور مذہب کی گنجائش نہیں ہے۔ جنہوں نے ان کو حلف نامہ پڑھتے ہوئے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ عالی جناب کو لفظ خاتم النبین بولنے میں کس قدر دقت ہوئی تھی۔ 

One Comment

  1. محترم زکریا ورک صاحب
    مدینہ کی ریاست کے بارے میں آپ کے نقطۃ نظر سے تھوڑا سا اختلاف کرتے ہوئے یہ کہنا چاہوں گا کہ تاریخ میں مدینہ نام کی کسی ریاست کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ انبیاء شریعت قائم کرنے آتے ہیں، ریاست قائم کرنے نہیں آتے۔ یہ جو ریاست مدینہ کے بارے میں مسلمانوں کو کہانیاں گھڑ کر سنائی جاتی ہے یہ کسی یوٹوپیائی ریاست کی کہانیاں ہیں۔ جن لوگوں نے تاریخِ اسلام کا زرا سا بھی مطالعہ کیا ہے، ان کو معلوم ہے کہ مدینے کی ریاست ایک ڈھکوسلے اور خام خیالی کے سوا کچھ نہیں تھی۔ ہماری قوم کو جھوٹی تاریخ، مطالعہ پاکستان، اسلامیات کی کتابوں ، جمعہ کے جمعہ مولوی کے خطبوں نے اتنا ورغلا یا ہوا ہے کہ وہ ریاست مدینہ کی نرگسیت کے سحر میں سرشار ہیں۔ انہیں اب پاکستان میں مدینے کی طرز پر ایک فلاحی ریاست بنانے کا خواب دکھا کر ایک بار پھر احمق بنایا جارہا ہے۔

    تاریخ میں مدینے کی کسی حقیقی ریاست کا کوئی وجود نہیں پایا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺنے تو صرف ایک معاشرہ تخلیق کیا تھا۔ جو بالکل اپنی ابتدائی شکل میں تھا اور جس نے ابھی ارتقاء کے مراحل طے کرنے تھے۔ عام مسلمانوں کے ذہن میں ملّائوں نے مدینے کی جس ریاست کا تصوّر ڈالا ہے وہ ملّائوں کی نرگسیت اور چرب زبانی کا مظہر ہے۔ مدینہ کی ریاست ایک خیالی ریاست (یوٹوپیا) ہے، جس کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں تھا، نہ ہی رسولِ کریم ﷺنے کوئی ریاست تخلیق کی تھی، نہ ہی ان کے بعد آنے والے خلفاء راشدین نے کوئی فلاحی مملکت قائم کی تھی۔ نہ ہی مدینے کا کوئی اتنا بڑا رقبہ تھا، نہ آبادی تھی۔ نہ ہی مدینے میں کوئی باقاعدہ منظّم شہری نظام حکومت قائم تھا۔ نہ ہی مدینہ میں نہ کوئی معاشی نظام قائم تھا، نہ ہی مدینہ کی کوئی اقتصادیات تھی، نہ تو کوئی زرعی پیداوار اور زرعی اجناس کی منڈی تھی، نہ ہی کوئی گھریلو صنعت یا کارخانوں کی پیداوار تھی، نہ ہی کوئی مالِ تجارت کی منڈی تھی۔ جو کچھ بھی تھا وہ تلوار کے زور پر قائم تھا۔ مدینے کی ریاست کی “فلاح'” کا سارا دارومدار “مال ِغنیمت'”یعنی لوٹ مار کا مال تھا۔
    لوٹ مار کی دولت اور جنگی فتوحات کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مالِ غنیمت اور غلام ولونڈیوں کی آپس میں تقسیم کی جاتی تھی۔ ۔ دوسرا ذریعہ آمدنی غیرمسلموں سے بھتّا(جذیہ) اورمسلمانوں سےزکوۃ تھی، ان کی بھی کوئی ایسی منصفانہ تقسیم نہیں ہوتی تھی،جس سے عام شہری کو کچھ زیادہ فائدہ ہوتا ہو۔ لوٹ مار کا مال قبائل آپس میں تقسیم کرلیتے تھے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مدینے کی نام نہاد ریاست مسلسل غیرمستحکم اورخانہ جنگی کا شکار رہی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے وصال کے بعد تیس 30، سالوں میں چار میں سے تین خلیفہ قتل (شہید) ہوئے۔ پچاس 50، سال کے قلیل عرصے میں نواسہ رسول امام حسین رضی اللہّ تعالی’ عنہ کو آل و عیال سمیت ہجرت کرکے کوفہ جانا پڑا جہاں انہیں ان کے خاندان سمیت بے دردی سے قتل(شہید) کردیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی مدینہ کی فلاحی ریاست تھی اور جہاں حکمران خانہ ۔ جنگی کے نتیجے میں یکے بعد دیگرے قتل ہورہےہوں، وہاں عوام کو کونسی فلاح نصیب ہوسکتی تھی؟ میں تاریخ کا طالبعلم ہوں اور تاریخی حقائق کو ان کے معروضی تناظر میں دیکھتا ہوں۔ امید ہے کہ میری گزارشات ناگوارِ خاطر نہیں گزریں گی۔ آصف جاوید، ٹورونٹو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *