جواہر لعل یونیورسٹی کیا بلا ہے؟

انڈیا میں جب سے قوم پرست ہندو تنظیم بی جے پی بر سراقتدار آئی ہے اس وقت سے دارالحکومت دہلی میں قائم تعلیمی ادارہ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی بی جے پی سمیت سخت گیر ہندو تنظیموں کے نشانے پر ہے۔

معروف صحافی اپوروا نند کا تو خیال ہے کہ قوم پرست ہندو تنظیم آر ایس ایس یا خود بی جے پی کا دھیان جس قدر پاکستان پر ہوتا ہے اس سے کم جے این یو پر نہیں رہتا ہے۔

جے این یو میں گذشتہ روز سٹوڈنٹ یونین کے انتخابات ہوئے جہاں بی جے پی کی طلبہ شاخ اے بی وی پی کو بائیں بازو کے اتحاد نے چاروں خانے چت کر دیا۔

سوشل میڈیا پر اس کی بازگشت نظر آئی۔ بعض صارفین نے طنز کرتے ہوئے لکھا کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال ہوتا تو جیت اے بی وی پی کی ہوتی۔

جبکہ ایک دوسرے صارف نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کی مہم کلین انڈیاکا آغاز جے این یو سے ہو گیا ہے۔ان کا بظاہر اشارہ انڈیا کو بی جے پی اور ان کی اتحادی پارٹیوں سے پاک کرنے کی جانب تھا۔

جے این یو کے بارے میں گذشتہ تین سال سے تنازعہ سرخیوں میں ہے۔ اس دوران جے این یو کے خلاف اس قدر باتیں کہی گئی ہیں کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اسے بند کر دینا چاہیے۔ جبکہ آر ایس ایس اور بی جے پی اسے اپنے قبضے لینے کا عرصے سے آرزو مند ہیں۔ اس ادارے پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

اسے شہری ماؤ نوازوں کی پناہ گاہکہا گیا اور مرکزی وزیروں نے تو یہاں تک دعوی کیا کہ ان کے پاس خفیہ اطلاعات ہیں کہ جے این یو کے کمیونسٹ طلبہ کا رشتہ سرحد پار سرگرم شدت پسند تنظیموں سے ہے۔

آخر جے این یو کیا ہے؟

جے این یو یعنی جواہر لعل یونیورسٹی کا خیال انڈیا کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل کی موت کے بعد ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے طور پر پیدا ہوا اور پھر اس کا قیام عمل میں آیا لیکن یہ کبھی بھی کانگریس پارٹی کی آنکھوں کا تارا نہ بن سکا۔

یہ ادارہ انڈیا میں ایمرجنسی کے دور (79-1977) میں سرخیوں میں آیا جب وہاں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور ان کی نافذ کردہ ایمرجنسی کی مخالفت زوروں پر ہوئی اور وہاں کے طلبہ نے اس میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اسے شروع سے ہی بائیں بازو کے گڑھ کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے جہاں پہلے مقابلہ بائیں بازو کے مختلف دھڑوں (ایس ایف آئی، اے آئی ایس ایف، اے آئی ایس اے، یو ڈی ایف وغیرہ) کے درمیان ہی ہوتا تھا لیکن دنیا میں کمیونزم کے کمزور ہونے اور ملک میں ہندو قوم پرست جماعتوں کے قدم جمانے کے ساتھ جے این یو کی فضا بھی بدلی اور کانگریس کی سٹوڈنٹ ونگ این ایس یو آئی اور بی جے پی کی سٹوڈنٹ ونگ اے بی وی پی نے یہاں پاؤں جمانے شروع کیے لیکن انھیں کبھی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی۔

جے این یو دوسری بار اس وقت دنیا میں سرخیوں میں آيا جب سوویت روس کا دور ختم ہوا اور روس سے ایک درجن سے زیادہ ممالک آزاد ہوئے۔ اس زمانے میں بھی جب جے این یو میں سٹوڈنٹ یونین کے انتخابات میں مسلسل بائیں بازو کی جیت ہوتی رہی تو امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک سیمینار میں اس بات پر بحث ہوئی کہ آخر جے این یو میں بائیں بازو کے نظریات کمزور کیوں نہیں ہو رہے ہیں۔

گذشتہ تین سال سے جے این یو مسلسل خبروں میں ہے اور یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب وہاں منعقدہ ایک پروگرام پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہاں پاکستان کے حق میں اور انڈیا کے ٹکڑے ٹکڑےہونے کے نعرے لگائے گئے۔

اس زمانے میں جے این یو سٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار اور ان کے ساتھ خالد عمر، انربان اور دیگر طلبہ پر ملک سے غداری کے الزمات لگے اور انھیں جیل بھی ہوئی لیکن پھر انھیں رہائی نصیب ہوئی جبکہ ابھی تک پولیس ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

جے این یو سائنس کے بجائے اپنے ہیومنٹیز کے شعبے کے لیے جانا جاتا ہے جہاں رومیلا تھاپر، بپن چندر، ہربنس مکھیا جیسے تاریخ داں نہ صرف وہاں کے طلبہ کی تعلیم اور ذہن سازی کا کام کرتے رہے ہیں بلکہ ان کی تحریر کردہ کتابیں ملک کے طول عرض میں بچوں میں تاریخی فہم پیدا کرنے کی ضامن رہی ہیں۔

دوسری جانب اردو اور ہندی زبان کے شعبے میں وہاں محمد حسن، نامور سنگھ، شارب رودولوی، مینجر پانڈے جیسے ناقدین رہے ہیں جنھوں نے ادب کی معروضی اور مارکسی تنقید کی ہے اور ان کے پڑھائے طلبہ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھا رہے ہیں۔

اپوروانند لکھتے ہیں: ‘ہندی میں ہر کسی کا خواب نامور سنگھ بننے کا رہتا ہے۔ کچھ نہیں تو ان سے تعلیم حاصل کیا ہوا ہونا بھی بڑی صلاحیت مانی جاتی ہے۔ یہ اس ہندی کا حال ہے جس کے بغیر ہندی، ہندو، ہندوستان بن ہی نہیں سکتا۔

جے این یو آر ایس ایس کے افکارو خیالات کی ترویج میں بڑی رکاوٹ ہے اور وہ ہر جگہ اسے نہ صرف چیلنج کرتا نظر آتا ہے بلکہ ہندو سخت گیر تنظیموں کے پاس ان کا جواب بھی نہیں ہے۔

گذشتہ برسوں میں جے این یو اور اس کے کمیپس کی سرگرمیوں پر مبنی فلم رانجھناآئی تھی۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ دارالحکومت دہلی میں موجود یہ تعلیمی گہوارہ انڈیا میں اظہار رائے کی آزادی کی مشعل تھامے ہوئے ہے اور یہی چیز سخت گیر تنظیموں کو سب سے زیادہ کھٹکتی ہے۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *