ہم کلربلائینڈ ہو چکے ہیں

طارق احمدمرزا

اس سال کایوم آزادی کئی لحاظ سے منفرد تھا۔ملک کی اکہترسالہ بوڑھی کھوکھ کی وقفے وقفے سے شدت پکڑتی دردوں نے ایک نئے پاکستان کوجنم دے ڈالا تھا۔صرف زچگی کے تیسرے مرحلے اور نومولود نئے پاکستان کی سانس جاری ہونے میں کچھ تاخیرضرور ہوئی لیکن جہانگیر ترین کی ائرایمبولینس جس طرح بھاگم بھاگ ایک کے بعددوسرامطلوبہ آکسیجن سلنڈرلالاکربروقت لیبرروم میں پہنچاتی رہی اس کی بدولت نومولود بھرپورآواز میں اپنی زندگی کاپہلا رونا رونے کے قابل ہوااور سب کی جان میں جان آئی۔درگاہ پاکپتن شریف کی دہلیز پہ ثبت عقیدت بھرے بوسے بالآخر رنگ لے آئے تھے۔

چودہ14؍اگست کا ایک اور اہم واقعہ ایک نئے پاکستانی چینل جی این این کی پیدائش بھی تھا،جس کے روح رواں اورمیرکارواں معروف سینئرصحافی جناب حامدمیر ہیں۔میرصاحب نے جی این این کے یوم پیدائش اور پاکستان کے یوم پیدائش کی تاریخ ایک ہی ہونے کو نہایت خو ش آئند اور نیک شگون قرار دیا۔وہ اپنے چہرے کے تاثرات سے اس وقت واقعی ایک میرِکاررواں دکھائی دے رہے تھے۔
خاص کر ایک نیا ٹی وی چینل شروع کرنے کی جووجہ انہوں نے بتائی اس سے مجھے بیحد خوشی محسوس ہوئی کیونکہ جی این این کے قیام سے پاکستان میں صحافت کے ایک نئے باب کا آغازہوچلا تھا۔ایسی صحافت جو آزاد اور بے لاگ ہوگی، نہ جھکنے والی اور نہ بکنے والی۔ میری زبان سے بے اختیار یہ جملہ نکلا کہ حامد میر اب بنے ہو اپنے عظیم والدمحترم وارث میرکے حقیقی وارث۔ورنہ اس سے قبل توہم یہی کہا کرتے تھے کہ حامدؔ پیا،کچھ نہ کیا۔

لیکن میرے دل میں عین 14 اگست کو پیداہونے والی یہ نومولودخوشی اسی وقت دم توڑگئی جب میرصاحب نے اپنے ساتھی ٹی وی اینکر زکوبتایا کہ ’’آج دوسری چیز جو مجھے بہت یونیک لگ رہی ہے،منفرد ، وہ یہ ہے کہ جس طرح پاکستان کے پرچم کا رنگ گرین ہے،جیسا کہ آپ(خاتون اینکر ) نے بھی گرین لباس پہنا ہوا ہے اور آپ(مرد اینکر ) نے بھی گرین رومال رکھا ہوا ہے تو آج ہم نے جو جی این این کا آغاز کیا توصبح نو بجے کاجوبلیٹن تھا،اس کے بعد ہم نے ایک سبزپوداجو ہے جی این این کے احاطے میں میں نے بھی لگایا ،عامرصاحب نے بھی لگایا،زبیرصاحب نے بھی لگایا۔ اس کے بعد پھردوپہرکو جو کیک ہم نے کاٹا ،اس کا رنگ بھی گرین تھا۔پھر ہم نے پرچم کشائی کی،چھت پہ،وہ بھی گرین تھی ۔تویہ جوخوشی ہے وہ دوبالاہوگئی ہے‘‘۔
۔https://www.youtube.com/watch?v=f1xNrybHdsQ

اس پروگرام میں حامدمیر صاحب نے جوٹائی باندھ رکھی تھی و ہ توخالص گرین نہیں بلکہ دورنگی یعنی گر ین اینڈ وائٹ تھی اوراسی طرح ان کے کوٹ کے کالر پہ جس پرچم کاننھا سا بیج لگا ہوا تھااس میں بھی دو رنگ تھے، سبزکے ساتھ سفیدرنگ بھی تھا۔کم ازکم مجھے تودو ہی رنگ نظرآئے، اس لئے مجھے گمان گزرا کہ یاتوحامدمیرصاحب کوساون کے اندھے کی طرح آج صرف ہراہی سوجھ رہا ہے اور یاپھروہ کلربلائنڈہوچکے ہیں۔

یہ خیال بھی آیاکہ ممکن ہے حامدمیرصاحب کی انگریزی ہی اتنی ہو کہ اس زبان میں انہیں ’’ گرین‘‘ کے علاوہ کسی اور رنگ کانام ہی نہ آتاہو۔ اگریہی بات تھی تو اردومیں سفید توکہہ ہی سکتے تھے لیکن وہ بھی نہیں کہا،آخر اس گفتگومیں انہوں نے اردو میں ’’سبز ‘‘بھی تو کہاتھا۔لیکن پھر یہ بھی سوچاکہ میرصاحب نے اردو میں’’سبز ‘‘ صرف ایک مرتبہ بولا تھا اور وہ بھی پودے کیلئے ، اورپودے توسبز ہی ہوتے ہیں اس میں میرصاحب کا کیا قصور۔

چینل بدلاتوکھانے پکانے کے ایک پروگرام میں گنٹھل اورپتوں سمیت پھو ل گوبھی کاکوئی چائنیز ٹائپ سوپ بنانے کا طریقہ بتایاجا رہا تھا،فوراً خیال آیا کہ دیکھو اس پودے میں سبزرنگ بھی ہے اورسفید بھی۔ساتھ ہی یہ خیال آیاکہ نئے چینل کے احاطے میں حامد میر نے کیا پھول گوبھی کا پودالگانا تھا؟۔

قصہ مختصر یہ کہ حامد میرصاحب کی باتیں سننے کے بعدسے گلے میں اٹکا اورمسلسل چبھتایہ سوال پھاندبن کر پورے سینے میں،بلکہ بائیں بازو تک ، درد کی ٹیسیں پھیلا رہاتھا کہ بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے جو دو رنگ کا پرچم بنوایا اور لہرایا تھا اسے ہم دانستاً یاغیردانستاً ’’سبزوسفید‘‘پرچم کی بجائے ہمیشہ ’’سبزہلالی پرچم‘‘ہی کیوں کہتے ہیں؟۔

بات دراصل یہ ہے کہ حامدمیرصاحب نے نئے چینل کے افتتاحی پروگرام میں شعوری یا لاشعوری طورپر گرین گرین کی جورٹ لگا رکھی تھی وہ ہماری موجودہ پوری پاکستانی قوم کی ذہنیت کی غماز اور عکاس ہے۔ کیونکہ ایک صحافی اپنے عہد کی زبان بھی ہوتا ہے ،آنکھ بھی اور دماغ بھی۔حامدمیر ہی نہیں پوری پاکستانی قوم کلربلائنڈہوچکی ہے۔

ہم اپنا قومی پرچم اپنے گھروں،دفتروں،سکولوں،دکانوں،گلی کوچوں،گاڑیوں،سائیکلوں،ریڑھیوں،رکشوں،ٹرینوں،ہوائی جہازوں،بچوں کے گالوں حتیٰ کہ اپنے جانوروں کی گردنوں پر بھی سجاتے ہیں جو ہوتا دو رنگوں پر مشتمل ہے لیکن کہلاتا سبزپرچم ہی ہے۔پرچم کاسفید رنگ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتاہے لیکن ہمیں نظرہی نہیں آتا۔

اس کے بالمقابل ہمسایہ ملک بھارت کو دیکھ لیں۔تین رنگ کا پرچم ہے ان کا اوروہاں کا بچہ بچہ اسے’’ترنگا‘‘ (تین رنگوں والا) ہی بولتاہے۔ان کے شاعر،صحافی،لیڈر،لکھاری سب ہی ترنگا لکھتے اور بولتے ہیں۔اور تواورہمارے اپنے لکھاری بھی یہی محاورہ استعمال کرتے ہوئے آئے روز یہی لکھتے رہتے ہیں کہ کشمیر پر ترنگالہرانے کاخواب کبھی پورا ہونے نہیں دیں گے وغیرہ۔کیا ہم پاکستانی اپنے پرچم کو ’’دُرنگا‘‘ نہیں کہہ سکتے؟۔شاید اس ڈر سے کہ دُرنگا کہنے سے ہماری دورنگی نہ بے نقاب ہوجائے،یایہ کہ کہیں کسی پاکستانی کا ضمیر نہ بیدار ہوجائے۔

سبزوسفید پرچم بنوانے والے قائدکی پہلی وفاقی کابینہ میں کتنے ہی اقلیتی غیرمسلم وزراء شامل تھے۔ان کی کابینہ ان کے عہد کے پاکستان کی طرح سبزوسفید پاکستانی پرچم کی حقیقی نمائندہ تھی۔آج کے نئے پاکستان کے نئے قائد(جو خود کو قائد اعظم محمد علی جناح کا حقیقی بیٹاکہلوانا فخرسمجھتے ہیں) کی وفاقی کابینہ میں ایک بھی غیر مسلم اقلیتی وزیرموجود نہیں۔ساری کابینہ موجودہ پاکستان کے’’ سبز ہلالی‘‘ پرچم کی طرح گرین ہی گرین ہے۔خیبر پختونخوا،بلوچستان،پنجاب کے وزرا ء کی فہرستیں دیکھ لیں،سب ہری ہی دکھائی دیں گی۔

موجودہ دور میں یہ سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی صاحب ہی تھے جنہوں نے اپنی کابینہ میں ایک ہندووزیردرشن لال صاحب کو شامل کیا تھا۔یہ واحداقلیتی وفاقی وزیرپاکستان کی کسی حکومت نے پانچ،دس یاپندرہ نہیں ،لگ بھگ بیس برس کے طویل وقفہ کے بعد مقررکیا تھا۔ شاہدخاقان عباسی جیسے بھی ہیں،کلربلائنڈ بہرحال نہیں ہیں۔

کافی عرصہ ہوا سیکنڈ ہینڈ کتابوں کی ایک دکان سے میڈیکل کی ایک کتاب ہاتھ لگی تھی جس میں طبی معائنہ اور تشخیص امراض کے اصول سمجھائے گئے تھے ۔مصنف نے میڈیکل کے طلبا ء کے لئے پہلے صفحہ پہ یہبنیادی اصول درج کیا ہوا تھا کہ جس چیز کی موجودگی کاعلم تمہارے دماغ کو نہ ہو گا،تمہاری آنکھ اسے نہیں دیکھ پائے گی۔

نئے پاکستان کے نئے نکور دماغ میں یہ بات ڈالنا ضروری ہو چکی ہے کہ ہمارے پرچم میں ایک نہیں دورنگ شامل ہیں ۔یہ گرین نہیں ،گرین اینڈ وائٹ پرچم ہے۔

One Comment

  1. بچوں کوسمجھانےکے لئےیہ بتانا بھول گیاکہ قومی پرچم میں سفیدرنگ غیرمسلم اقلیتی پاکستانیوں کی نمائندگی کرتا ہے جنہیں ہم نے اپنی قومی معاشرتی زندگی کے ہرشعبہ میں نظراندازکیاہوا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ان پر مستقلاً ایک خوف کی فضا طاری کر رکھی ہے۔ اسی جارحانہ تعصب کے نتیجے میں قومی پرچم میں غیرمسلم پاکستانیوں کی نمائندگی کرنے والےسفیدرنگ کوبھی ہم نظراندازکردیتے ہیں۔ اس طرف ہماری نظرجاتی تو روزمرہ گفتگو محاورہ وغیرہ میں ضروراس کا ذکرکرتے۔ یہ حقیقت ایک مخصوص نفسیاتی،سماجی اور معاشرتی رویئے کی نشاندہی کرتی ہے جس کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *