ترکی معاشی بحران سے دوچار

ترک صدر طیب ایردوآن کے نئی مدت کے لیے حلف اٹھانے اور تمام کلیدی اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کے بعد ترکی کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ ترک صدر نے حلف اٹھاتے ہی ان غیر ملکی طاقتوں کے خلاف مخاصمانہ بیانات دینے شروع کر دیئے تھے جنہوں نے انتخابات کے انعقاد کی شفافیت پر اعتراضات اٹھائے تھے۔

ترکی میں قید ایک امریکی پادری اینڈریو برونسن کی رہائی کے امریکی مطالبے کو ترکی نے مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد امریکا نے ترکی کے خلاف پابندیوں کے اعلان کے ساتھ ساتھ ترکی کی فولاد اور ایلومینیم کی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس امریکی اعلان کی وجہ سے ترک کرنسی لیرا کو دھچکا پہنچا ہے۔

تاہم ترک کرنسی لیرا کی قدر میں نمایاں کمی سے نمٹنے کے لیے شرح سود میں اضافے کا خیال ایردوآن نے مسترد کر دیا ہے اور اس بحران سے نبٹنے کے لیے ایک معاشی منصوبہ پیش کیا جا رہا ہے۔

یردوآن نے اپنے خطاب میں ترک کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی کو بھی ترکی کے خلاف ’سیاسی سازش‘ قرار دیا ہے اور کہا کہ اس امریکی رویے کی وجہ سے اب ترکی نئی منڈیاں اور نئے اتحادی تلاش کرے گا۔

پیر کے روز ایشیائی منڈیوں میں لیرا کی قدر میں ابتدا میں کمی دیکھی گئی، تاہم ترک وزیر خزانہ برات البیراک کی جانب سے ایک اقتصادی منصوبے پر عمل درآمد کے اعلان کے بعد لیرا کسی حد تک سنبھلا۔

اتوار کی شب البیراک نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا، ’’پیر کی صبح سے ہمارے ادارے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے اور اس سلسلے میں اقدامات کی تفصیلات مارکیٹ سے بانٹی جائیں گی‘‘۔

وزیر خزانہ البیراک، جو ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے داماد بھی ہیں، نے ایردوآن ہی کے ایک بیان کے تناظر میں کہا کہ لیرا کی کم زوری اصل میں ترکی پر حملہ ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لے کر کہا کہ لیرا کی قدر میں کمی کی وجہ ٹرمپ ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس بحران سے نمٹنے کے لیے ترکی کا منصوبہ کیا ہے، اس بابت تفصیلات مبہم ہیں۔

البیراک نے اپنے انٹرویو میں کہا، ’’بجٹ تنظیم ہماری نئی حکمت عملی میں کلیدی نوعیت کی ہے۔ ہم بینکوں، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے تحفظ کے لیے احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں۔ ہم اپنے بینکوں اور مالیاتی نگران اداروں کے ساتھ مل کر نہایت تیزی سے اقدامات کریں گے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو نئے ٹیکس ضوابط بھی متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ترک حکومت کا ایسا کوئی منصوبہ نہیں کہ وہ غیر ملکی کرنسی کو منجمد کرنے کی کوشش کرے، تاکہ لیرا کو سہارا دیا جا سکے۔

پیر کے روز ایشیائی منڈیوں میں ترک لیرا نئی ریکارڈ گراوٹ کا شکار دیکھا گیا اور ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر سات اعشاریہ دو چار فیصد کم ہوئی، تاہم بعد میں لیرا دوبارہ قدرے سنبھل گیا۔ پیر کے روز قبل از دوپہر تک ایک امریکی ڈالر قریب سات لیرا کے برابر تھا۔

جنوری کے آغاز سے اب تک ترک کرنسی کی قدر میں قریب 45 فیصد کمی آئی ہے، جب کہ گزشتہ جمعے کو اس کی قدر میں صرف ایک روز میں اچانک پندرہ فیصد کمی آئی تھی۔

DW/News Desk

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *