بنگلہ دیش میں ہنگاموں کا ساتواں دن

بنگلہ دیش میں پولیس نے اتوار کے روز طلبہ مظاہرین کے مطالبات کے تحت خطرناک ڈرائیونگ کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جب کہ ان مظاہروں کی شدت کے پیش نظر ملک میں انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔

خطرناک ڈرائیونگ کے تناظر میں دو طالب علموں کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش میں طلبہ کی جانب سے مظاہروں کا آغاز ہو گیا تھا۔ ایک ہفتے قبل ان طلبہ کی ہلاکت ایک تیز رفتار بس کے نیچے آ کر ہوئی تھی۔ طلبہ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ خطرناک ڈرائیونگ کے مسئلے پر قابو پایا جائے۔

گزشتہ اتوار سے اب تک بنگلہ دیش میں ہزارہا طلبہ سڑکوں پر ہیں۔ رواں برس ہونے والے عام انتخابات کے تناظر میں ان مظاہروں کو انتہائی حساس معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے طلبہ مظاہرین کے غصے کو کم کرنے کے لیے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا، ’’ہماری پولیس فورس نے ملک بھر کی سڑکوں پر گشت شروع کر دیا ہے، تاکہ سڑکوں پر نظم پیدا کیا جائے۔‘‘

طلبہ کے مظاہرے بنگلہ دیش میں شاذونادر ہی نظر آتے ہیں اور شیخ حسینہ واجد کا الزام ہے کہ ان کے سیاسی حریف اس معاملے کو حکومت مخالف جذبات ابھارنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنسلٹ پارٹی نے اس معاملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

ادھر امریکی سفارت خانے کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں امریکی مندوب مارسیا بیرنیکیٹ کی گاڑی کو مسلح حملہ آور نے نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے کو اس وقت پیش آیا، جب موٹرسائیکل پر سوار مسلح افراد نے امریکی مندوب کی گاڑی پر حملہ کیا۔

ہفتے کو مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں جس میں ۲۵افراد زخمی ہو گئے۔ابھی تک واضح نہیں ہے کہ احتجاج کرنے والے طالب علموں پر کس نے دھاوا بولا لیکن مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حکمران جماعت سے منسلک طالب علموں کا ایک گروپ اس میں ملوث ہے۔

حکومت کے ایک وزیر نے اس سے پہلے طالب علموں کے احتجاج کو منافقت قرار دیا تھا اور ان کے اس بیان نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور شدید تنقید کے بعد انھیں معافی مانگنی پڑی۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پولیس نے مظاہروں کو کنٹرول کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑکی گولیوں کا استعمال کیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو ڈاکٹر عبدل شبیر نے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت کافی خراب تھی اور گولی لگنے کے نتیجے میں آنے والے زخموں کے نشانات تھے۔

ایک ڈاکٹر اور عینی شاہدین نے اے ایف پی کو بتایا کہ زخمیوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہے۔

مقامی صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں بھی حکمران جماعت عوامی مسلم لیگ سے منسلک طالب علموں کی تنظیم کے کارکنوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کے رپورٹنگ میں استعمال ہونے والے کیمروں سمیت دیگر سامان کو نقصان پہنچایا۔

طالب علم احتجاجی مظاہروں کے دوران’ہمیں انصاف چاہیے‘ کے نعرے لگا رہے ہیں اور ٹریفک قوانین کے سختی سے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرے میں شامل طالب علم المیران نے اے ایف پی کو بتایا کہ’ ہم اس وقت تک سڑکوں سے نہیں جائیں گے جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے ہیں۔ ہم محفوظ سڑکیں اور محفوظ ڈرائیور چاہتے ہیں۔

مظاہروں میں شامل طالب علم ڈھاکہ کی سڑکوں پر احتجاج کے ساتھ ساتھ بسوں اور کاروں کے ڈرائیونگ لائسنس چیک کرتے نظر آتے ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی دیکتے ہیں کہ کاریں اور بسیں سڑکوں پر آنے کے معیار پر پورا اتری ہیں کہ نہیں۔

دوسری جانب ٹرانسپورٹ ملازمین بھی کئی دن سے ہڑتال پر ہیں۔

DW/BBC

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *