دشمن کو نہایت برا ثابت کرنا

فرحت قاضی

جج
غور سے سن رہا تھا
ایک نے دلائل پیش کئے تو دوسرے نے بھی الزامات کی ایک طویل فہرست سامنے رکھ دی وہ گویا دو پہلوان اور یہ اکھاڑا تھا اور ایک دوسرے کو چت کرنے میں لگے ہوئے تھے ہر ایک اپنے حریف کو دنیا کا برا ترین انسان ثابت کرنے پر اپنا تمام زور صرف کررہا تھا۔
منشی یہ سب ریکارڈ کررہا تھا ٹائپ رائٹر کے ٹکا ٹک کی صدا اپنے وجود کا احساس دلارہا تھا۔
جج صاحبان، وکلاء، منشی اور عدالت سے وابستہ اہلکار بخوبی جانتے ہیں کہ مدعی اور مدعا علیہ دونوں اپنا موقف درست اور صحیح ثابت کرنے کے لئے قانونی دستاویزات اور گواہان سمیت ہر ذریعہ بروئے کار لانے کی سعی کرتے ہیں اس تگ و دو میں ہر ایک اپنے کو معصوم اور حریف کو برا ہی نہیں بلکہ نہایت ہی برا ثابت کرنا چاہتا ہے۔
وہ اپنے کو مظلوم ظاہر کرنے کی بھی جتن کرتا ہے چنانچہ اپنا زخمی ہاتھ اور سر دکھاتا اور چھوٹے بچے بھی ساتھ لاتا ہے۔
اپنے کو سچا اور حریف کو جھوٹا
اپنے کو نیک اور دوسرے کو شیطان
کا یہ جھگڑا انصاف کے کٹہرے تک ہی محدود نہیں ہے روزمرہ زندگی میں بھی یہی کچھ ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جب سے دنیا بنی ہیاور اس کے ساتھ ہی یہ میرا اور وہ تیرا یا یہ میرا وہ بھی میراکا سلسلہ چل نکلاہے تونیک اور برا اورسچا اور جھوٹا کے تصورات بھی پیدا ہونے لگے ہیں البتہ پہلے پہل وہ ایک چیز اور ملکیت پر اپنا حق جتلانے کیلئے درندوں اور جانوروں کی مانند زور بازو سے ایک چیز حاصل کرتا رہا پھر اس نے ساتھی پیدا کرلئے اس سے قبیلہ بن گیا قبیلے قوم میں بدل گئے ۔
اورزبان وجود میں آگئی توالفاظ سے کام لینے اور نکالنے لگا اور وقت گزرنے پر دماغ کا استعما ل بھی سیکھتا گیا۔
چنانچہ خاندان بنا
قبیلہ وجود میں آیاتو توہمات نے عقائد اور مذاہب کی چادر اوڑھ لی مفادات ایک اور مشترکہ ہوگئے تو انفرادی جد وجہد نے اجتماعی جنگ کا چولا بدلا جہاں مفادات میں ٹکراؤ آیا تو ہر قبیلہ اپنی پہچان اور شناخت اپنے رنگ،علاقے،نسل، قومیت اورمذھب سے کرانے لگا اور جب مذھب نے اسے نظر انداز کردیا تو عقیدے کے ذریعے اپنی الگ شناخت پیدا کرلی چنانچہ ایران قدیم میں اگر اہرمن ویزداں اور ہند میں رام اور راکشس کے تصورات تھے توعرب خدا اور شیطان کے نئے خیالات سے ایک نئی دنیا میں حملہ آور اورفاتح بن کر داخل ہوگئے۔
یہی تصور فلسفہ میں آکر اضداد کی پیکار بن گیا اور جب کارل مارکس نے اس کا اطلاق ریاستوں اور سماج اور اس مین پائے جانے والے طبقات پر کیا تو یہ طبقاتی کش مکش کے نام سے موسوم ہوا اور عام انسان اور شہری اسے ازمنہ قدیم سے نیکی اور بدی کے مابین جنگ اور جدوجہد سمجھتا آرہا تھا چنانچہ ذاتی جنگ ہو یا پھر قومی ہو ہر ایک خود کو اللہ اور رام تو رقیب کو اہرمن،راکشس اور شیطان ثابت کرنا ہے
دیکھا جائے توان مواقع پر عقیدہ اور مذہب ہمارا سب سے بڑا ہتھیار اور سہارا ہوتا ہے۔
عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہے اسے ہر صورت میں جیتنا مطمع نظرہے تو گواہوں کا ایک جتھہ ساتھ لائے گا قبائلی تنازعہ ہے تو قبیلے کی ہمدردیا ں تلاش کروں گا مسلم ہوں اور ہندو،سکھ، عیسائی یا پھر یہودی کو چت کرانا ہے تو مذھب کا سہارا لیتے ہوئے مسلمانوں کو اپنا ہم خیال بنانے کے جتن کروں گا اراضی کی ملکیت کا جھگڑا ہے تو کنبے اور رشتے داروں کے کندھوں پر بندوق رکھ کر وار کروں گا
اس دوران صدقت اور جھوٹ کے مابین پائے جانے والے فاصلے اور درجات کو بھلاکر دو انتہاؤں میں سے ایک کے پاس جاکر کھڑا ہوجاؤں گا۔
اب میں یزداں اور وہ اہرمن
میں رام اور وہ راکشس
میں خدا اور وہ شیطان ہے
القصہ عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہے یا میدان جنگ کے لئے سپاہی کو گرمانا اور جوش دلانا ہے تو اپنے کو حق بجانب اور دوسرے کو نہایت برا اور شیطان بناکر پیش کرنا کامیابی کا پہلا زینہ ہے یہ کرلیا تو گویا آدھا مقدمہ اور جنگ جیت لی ہے یہی وجہ ہے کہ جنگ میں مسلمان مرتا ہے تو اسے شہید اور ہندو گولی کا نشانہ بنتا ہے تو امر کہلاتا ہے۔
ان ہی خیالات کے زیر اثر ہر مذہب اور عقیدے کا پیروکار اس زعم میں مبتلا ہوگیاکہ ہم ہی حق بجانب اور راستی پر ہیں یا میں ہی اچھا اور سچا ہوں جب یہ تصور ہمارے دل و ذہن میں راسخ ہوجاتا ہے تو پھرہم اپنے حریف کو شیطان، ابلیس،اہرمن اور راکشس اور براترین ثابت کرنے پر لگ جاتے ہیں
انفرادی طور پر عدالتوں میں بھی یہی ہوتا ہے مدعی اور مدعا علیہ میں سے ہر ایک خود کو حق بجانب کہلوانے پر بضد ہوتا ہے۔
میرا ہمسایہ مجھے برا کہتا اور مشہور کرنا چاہتا ہے۔
وہ کاروبار میں میرا شراکت دار تھا اور اب بٹوارے میں زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کا متمنی ہے۔
اس کی میرے مکان اور جائیداد پر نظرہے
مجھ سے خطرہ محسوس کرتا ہے
قریب رہ کر بھی اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا رہا ہوں
وہ ایسے بندہ اس کالونی میں رہائش پذیر دیکھنا چاہتا ہے جس سے اسے کوئی فائدہ ملنے کی توقع ہو۔
دفتر میں ایک فرداپنا ایک گروہ بنانے کا خواہاں ہے
میری سیٹ پر بیٹھنا چاہتا ہے۔
ان تمام شکلوں میں وہ مجھے نااہل، ناکارہ اوربرا ثابت کرنے کی کوشش کرے گا ۔ 
انسان صدیوں پہلے اپنے کو منوانے، ملکیت پر اپنا تسلط جمانے اور دوسروں کی جائیداد ہتھیانے کیلئے اپنی جسمانی طاقت کا استعمال کرتارہا اس نے کنبہ بنایا اور قبیلے کی طاقت سے یہی کام لیتا رہا اور ساتھ ہی اپنی ملکیت کی حفاظت کے لئے الفاظ اورزبان سے کا م لیتا رہا بعد ازاں ان کے ساتھ عقیدہ،مذہب، رنگ،نسل اورقومیت کا استعمال بھی سیکھ گیا یہ موقع و محل کی جانچ لیتا ہے حریف جسمانی،معاشی اور خاندانی لحاظ سے تکڑا نہیں ہے تو طاقت ہی کافی ہے عددی مقابلہ ہے تو رنگ، نسل، قومیت یا عقیدہ کا اختلاف سامنے لاتا ہے ۔
پاکستان میں چھوٹے صوبے وسائل کی تقسیم پس ماندگی کی بنیاد پر چاہتے ہیں جبکہ پنجاب اپنی اکثریت کے بل بولتے ہڑپ کررہا ہے۔
مثال کے طور پر ہندو آبادی ہے ان کے مکانوں، دکانوں اور جائیداد کو ہتھیانے کا ارادہ ہے تو ان کو اللہ کے دشمن اور کافر کے نام کی تکرار سے ہم عقیدہ افرادکو اکھٹا کرے گا انگریز سے آزادی حاصل کرنا ہے تو زیادہ سے زیادہ افراد کو ملوث کرنے کی خاطر فرقہ، مسلک اورمذہب کو بھی پس پشت ڈالنا ہوگا اور ایک الگ ملک بنانا ہے تو رنگ،نسل،مذہب اور اگر وہ مشترک ہے تو پھر روزگار، معاش اور زبان کا اختلاف سامنے لانا ہوگا۔
یہ کھینچا تانی او رکش مکش ہمیں افراد خانہ میں نظر آتی ہے گلے شکوے پیدا ہوتے ہیں الزام تراشیاں ہوتی ہیں دفاتر میں بھی اجرت کے تفاوت اورترقی کے مواقع کے فقدان سے ملازموں میں تناؤ سا رہتا ہے بازار میں تاجروں میں بھی مقابلہ رہتا ہے ان تمام مقامات پرہر فریق اپنی ضرورت کی مناسبت سے منصوبہ بندی کرتا ہے دفتر میں ایک آفیسر ہے اور سٹاف میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو اس کی جگہ لے سکتے ہیں اسے یہ خدشہ رہتا ہے تو وہ ان افراد میں عیوب اور نقائص نکال نکال کر ان کا حلیہ بگاڑنے میں لگا رہے گا اس کی یہ سعی و کوشش بھی ہوگی کہ نئے بھرتی ہونے والے سے اس کے عہدے کو زک پہنچنے کا احتمال نہ ہو۔
گاؤں میں صاحب اختیار طبقہ علاقے کے باسیوں میں فقط ان روایات، رواجات، رسومات، توہمات اور عقیدوں کوپنپنے دیتا ہے جن سے اس کے جان، مال اور عزت کی حفاظت ہوتی ہو کھیت مزدور اس کے لئے مال بھی پیدا کرتا رہے اس میں اضافہ بھی ہوتا رہے اور وہی اس کے کھیت اور جان کے تحفظ کے فرائض بھی انجام دیتا رہے اسی لئے اس آبادی میں محنت اور مشقت اور صبر و شکر پر زور دیا جاتا ہے کاہل اورکام چور کوحرام خور مشہور کردیا جاتا ہے اور چور کو سخت جسمانی سزا کی تجویز پیش کرتا ہے۔
ایک شہر کی تاجر برادری مسلم اور ہندو پر مشتمل ہے مسلمان اکثریت میں ہیں ایک بازار میں ہر جانب مسلم دکاندار ہیں البتہ ایک ہندو بنیا بھی ہے وہ اپنی اس کمی کو ناپ تول،قیمت اور تازہ اشیاء کی فروخت میں دیانت داری سے پورا کرتا ہے تو ہندو ہی نہیں مسلمان بھی اس سے سودا سلف لیتے ہیں جبکہ مسلم ہاتھ پر ہاتھ دھرے اس کی جانب دیکھتے رہتے ہیں ر قابت پیدا ہوتی ہے تو ان کے پاس دو طریقے ہیں
وہ بھی اپنی اشیاء کا معیار بہتر اور نرخ کم رکھیں یا پھر اس ہندو بنئے کے خلاف ایکا اور مذہب کا کارڈ بروے کار لاتے ہوئے مسلم عوام کو یاد لانا شروع کردیں کہ غیر مسلم کے ساتھ لین دین کرنا اس سے سودا سلف لینا اللہ کی ناراضگی مول لینے کے مترادف ہے۔
حریف کو زچ اور چت کرنے کے لئے رنگ، علاقہ،مسلک ،ملک اور نسل کے کارڈ بھی معاون ہوتے ہیں سخت جان افغان مقامی مزدوروں کی نسبت کم اجرت میں زیادہ کام کرنے لگے چنانچہ چوری کے الزام میں ایک یا دو افغان گرفتا ر ہوتے تو یہ ان تمام کو بدنام کرنے کے لئے کافی ہوتاتھا اس کا اتنا زیادہ پرچار ہونے لگتا گویا اس سے پہلے چین کی بنسری بجتی تھی اوریہ چور، رہزن اور ڈاکو صرف اور صرف یہی افغان ہیں ۔
آج وطن عزیز میں دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے ملکی ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ تسلیم کیا گیاہے اس کے خلاف وزیرستان سمیت دیگرقبائلی ایجنسیوں میں کئی مرتبہ آپریشن ہوچکے ہیں چونکہ یہ قبائلی علاقوں میں ہورہے ہیں اس لئے تمام نگاہیں بھی اسی ایک ہی آبادی پر مرکوز ہیں جس نے اس کو ایک عجیب احساس جرم و ندامت میں مبتلا کردیا ہے۔
لغت میں بد خواہ،حریف،مدمقابل،نقاد،نکتہ چین اوررقیب بھی موجود ہیں پھر بھلا اسی ایک لفظ دشمن پر کیوں زیادہ اکتفاء کیا جاتا ہے کیونکہ ہر لفظ کا اپنا ایک تاثر ہوتا ہے ایک بچے کا باپ روزگار کے لئے بیرون ملک گیا ہوا ہے اور وہ اس کی کمی محسوس کرکے چپ چپ رہنے لگتا ہے تو ماں تسلی دیتی ہے کہ بابا پیسہ کمائے گا اپنے ساتھ یہ اور وہ کھلونا لائے گا اور ببلو کے پاس جیسی سائیکل ہے ویسی ہی تمہیں لاکر دے گا
ان فقرات پر غور کرو
بابا کراچی گیا ہے
بابا کراچی پیسہ کمانے گیا ہے
بابا کراچی میں پیسہ کمائے گا اوروہاں سے کھلونے لائے گا
یہ تین الگ الگ فقرے الگ الگ تاثر پیدا کررہے ہیں اسی طرح خاندان میں ایک بوڑھے، جوان،نوجوان،بچے یا زچگی کے دوران بچے کی فوتگی کے حوالے سے بھی ہمارے احساسات یکساں نوعیت کے نہیں ہوتے ہیں۔
دوران جنگ سپاہی گولی کا نشانہ بن کر ہلا ک ہوجاتا ہے کنبہ کا ایک فرد کم ہوتا ہے وہ کسی کا شوہر، کسی کا بیٹا، کسی کابھائی، کسی کا باپ ،کسی کا دوست اور کسی کا ہمسایہ ہوتا ہے وہ مرگیا ہے چنانچہ کوئی دھاڑیں مارمار کر رورہا ہے کوئی سر نوچ اور سینہ کوبی کررہا ہے در ودیوار سے سر ٹکرا رہا ہے کسی نے آنکھوں پر رومال رکھا ہوا ہے ہر ایک کے چہرے سے اداسی ٹپک رہی ہے مگر جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ اس نے ایک عظیم مقصد کے لئے اپنی جان دے دی ہے وہ شہید ہوگیا ہے تو یہ ایک لفظ تمام صورت حال کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دوران جنگ فوج کے کسی سپاہی یا آفیسرکومیڈیا میں شہید بولا یا لکھا جانے لگا تو القاعدہ اور طالبان نے بھی صحافیوں کو دھمکایا کہ ان کے لئے بھی شہید لکھا اور بولا جائے تاہم بعدازاں جاں بحق کا لفظ لکھا جانے لگا۔
گاؤں میں ایک کھیت مزدور کو اس کا جاگیردار مالک جان سے مار دیتا تو مقتول کے رشتہ داروں کو تسلی دی جاتی کہ مرحوم بے گناہ تھا حقیقتاً وہ شہید ہوگیا ہے جس سے ان کو ایک گونہ سکون مل جاتا اور وڈیرے کے خلاف نفرت کے جذبات میں بھی شدت برقرار نہیں رہتی چنانچہ اسی طرح ہر فریق اپنے حریف کے لئے ان الفاظ کا چناؤ کرتا ہے جو کہ اس کے قد کاٹھ کم کرنے میں زیادہ سے زیادہ ممد ومعاونت کرتے ہوں۔
جہاںآزادی اظہارکو شجرممنوعہ سمجھا جاتا ہے تنقید کو برا تصور کیا جاتا ہے وہاں دشمن اور شیطان کے الفاط کثرت سے بولے جاتے ہیں نقاد کو دشمن کے ہم معنی لیا جاتا ہے دشمن، شیطان اور ابلیس کے علاوہ بیرونی ایجنٹ،بیرونی ہاتھوں کے ملوث ہونے کا امکان کے ا لفاظ اور فقرا ت سے بھی شدت پیدا کرنے کی سعی وکاوش کی جاتی ہے ایک ملک میں ایک چھوٹی قوم کے افراد اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے ہیں یا حزب اختلاف کچھ منوانے کے لئے احتجاج اور ریلیوں کا راستہ اپناتی ہے تو حکومت کی طرف سے اس پر بیرونی اشاروں پر ناچنے کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں۔
حریف یامدمقابل کو برابتانا اپنے آپ کو بالواسطہ اچھا اور مفید ثابت کرنے کی کوشش ہوتی ہے پاکستان میں انتخابی مہم کے دوران یہ لطیفہ کافی مقبول ہوا تھا ایک امیدوار سٹیج پر خطاب کے دوران اپنے مدمقابل امیدواروں کا کچھا چھٹابیان کرتا گیا فہرست تمام ہوگئی تو ایک نوجوان نے پوچھا:۔
’’
جناب! جب یہ سب امیدوار اتنے زیادہ برے ہیں تو پھر ہم اپنا ووٹ کسے دیں گے؟‘‘
اس نے جواب دیا:’’ آپ مجھے ووٹ دیں‘‘ 
امریکہ نے افغانستان میں القاعدہ کا نام لے کر حملہ کیا اور بعدازاں عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کا پرچار کیا تو دنیا سمجھ گئی کہ اس کے ٹارگٹ میں یہ ملک بھی شامل تھا اور کسی بہانے کی تلاش تھی۔
دہشت گردی کا ایک واقعہ ہوتا ہے تو حکومت،وزراء اور سیاست دانوں کو اس کے پیچھے سی آئی اے،موساد، خاد یا را کا ہاتھ نظر آتا ہے بجلی کابحران ہی کیوں نہ ہو وہاں بھی یہی ہاتھ دکھائی دیتا ہے طاہر القادری اور عمران خان کی مشترکہ لانگ مارچ کے پس پردہ بھی ایک وزیر کو یہودی کا ہاتھ دکھا ئی دیا تھا حتیٰ کہ بعض مکتبہ فکر کو ملک کی ترقی نہ کرنے کے پس پردہ بھی ہاتھ دکھائی دیتا ہے جبکہ ایک غریب شخص روزگار کی خاطر بیرون ملک جاتا ہے اور اسے کام نہیں ملتا ہے ایک طالب علم امتحان میں فیل ہوجاتا ہے تو اسے اس کے پیچھے نصیب کا ہاتھ نظر آتا ہے۔
بلاشبہ ایک ملک کی حکومت اور اس کے جاسوس دیگر ممالک میں ہاتھ مارتے ہیں مگر پاکستان میں اس کی پیدائش سے ہی غیر یقینی صورت حال پائی جاتی ہے چنانچہ بیرون کیا اندرون ملک صنعت کار بھی سرمایہ کاری کا خطرہ مول نہیں لیتا ہے وطن عزیز میں گزشتہ بارہ برس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہورہی ہے ہر شہری خود کو غیر محفوظ پارہا ہے کئی تاجراپنا سرمایہ بنگلہ دیش،سری لنکا، ملائشیا اور دیگر ممالک کو منتقل کرچکے ہیں ڈاکٹر اور تاجر تاوان کے لئے اغواء کئے جاتے ہیں روزگار کے مواقع ناپید ہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو اپنا کوئی مستقبل نظر نہیں آتاہے ۔
کیا اس سب کے لئے بیرونی ہاتھ کو مورد والزام ٹھہرا یا جا سکتا ہے۔
عام انتخابات کے دوران ہر سیاسی اور مذہبی جماعت کا رہنما اور امیدوار ملک کے تما م مسائل چٹکی میں حل کرنے اور کایا پلٹنے کا دعویٰ کرتا ہے اقتدار و اختیار ہاتھ آتا ہے تو عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے ہمسایہ ملک سے تنازعات کا پنڈورا بکس کھول کر بیٹھ جاتاہے سابق حکومت پر الزامات لگاتا ہے یا قائد تحریک انصاف کی مانند ڈبل مارچ شروع کردیتا ہے۔
کیاایک طالب علم بھی یہی نہیں کرتا ہے وہ اپنی ناکامی کا سہرا استاد اورسکول کے سر باندھ دیتا ہے چنانچہ اس طرح دشمن گھڑے بھی جاتے ہیں اوران کو برا اور نہایت برا اور ذمہ دار ٹھہراکر پس پردہ اپنی خامیوں اور کمزوریوں کو چھپایا بھی جاتا ہے۔
دشمن کو بہت ہی برا ثابت کرنے یا سمجھنے کے پیچھے ہمارا مکمل انسان کا تصور بھی ہوتا ہے ہم نے انسان کے حوالے سے اپنے ذہنوں میں ایک مخصوص نقشہ بٹھا رکھا ہو تا ہے اور جب وہ اس معیار پر پورا پورا نہیں اترتا ہے تو اسے اس سانچے میں ڈھالنے کی تگ و دو کرنے لگتے ہیں اوریا پھر اس سے بھرپور نفرت کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔
یہ صورت حال زیادہ تر دیہات اوربند معاشروں میں پائی جاتی ہے صنعتی شہروں اور جمہوری ریاستوں میں چونکہ ہر فرد اپنے خیالات کا برملا اظہار کرسکتا ہے اس پر یہ یہ بولنا اور وہ وہ نہیں بولنا کی پابندی عائد نہیں ہوتی ہے اور وہ ہر شہری کا اظہار رائے کا حق تسلیم کرتا ہے لہٰذا وہاں انتہا پسندی اور دشمنی کے امکانات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
دشمن اور رقیب کو برا ہی نہیں بلکہ نہایت برا ثابت کرکے ہم احاطہ عدالت میں موجود افراد کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ان کی ہمدردیا ں مل جاتی ہیں ایک قوم کے لئے دوسری کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کرناآسان ہوجاتا ہے عوام ساتھ دینے پر آمادہ ہوجاتے ہیں کمزور پر تمام الزام عائد کرنے میں رکاؤٹ حائل نہیں ہوتی ہے طاقت ور کمزور ملک کو دبا سکتا ہے جاگیردار کھیت مزدور کو عقوبت خانے میں ڈال سکتا ہے مالک ملازم کو ذمہ دار ٹھہراسکتا ہے شوہر اہلیہ کو مارپیٹ کر غصہ نکال سکتا ہے مدعی مدعا علیہ کو چت کرسکتا ہے ایک قوم دوسری قوم کے باشندوں کو دہشت گردی کے خلاف کاروائی کی آڑ میں قربانی کا بکرا بناکر اپنی چمڑی بچا سکتی ہے۔
پشتو میں کہا جاتا ہے:
لومڑے مے پڑ کڑہ بیا مے مڑ کڑہ
پہلے قصور وار تو ثابت کرو پھر سزا دو
دشمن کو نہایت برا ثابت کرنے کے لئے پیش بندی بھی کی جاتی ہے ہمارے سماج میں شوہر بیوی کی درگت بناتا ہے افراد خانہ اور ہمسایہ نے چپ سادھی ہوتی ہے تو اس لئے کہ ایک تو مذہب کی جانب سے اس کی اجازت دی گئی ہے اور دوسرا اسے فتنہ اور فساد کی جڑ قرار دیا گیا ہے اسی طرح ہمسایہ ممالک کے خلاف پرچار کیا جاتا ہے تاکہ بہ وقت ضرورت برسراقتدار طبقہ کو غصہ اور نفرت سے بھرے سپاہی دستیاب ہوں۔
ازمنہ قدیم میں جنگ اور جارحیت کے لئے مذاہب کی بنیاد پر انتہاپسندانہ نفرت سے بھرپور استفادہ کیا گیا چنانچہ ہر مذہب کا پیشوا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو کافر اور اللہ کا دشمن ثابت کرنے کے لئے کتاب اور حوالہ جات کا سہارا لیتا تھا ان کو ماضی کی جنگیں اور ان میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد دلاتا رہتا تھا اور فتح کی نوید بھی دیتا رہتا تھا۔
جس طرح عدالت کے احاطہ میں ہر فریق خود کو مظلوم اور حریف کو نہایت برا ثابت کرنے کا اہتمام کرتا ہے یہاں بھی یہی صورت حال ہوتی تھی اور یہ بھلا دیا جاتا تھا کہ کس کی طرف سے جارحیت ہوئی تھی اور کون قصور وار تھا۔
دشمن کو برا ثابت کرنے کی کوشش کے دوران انسان ایک انتہا پر جاکھڑا ہوجاتا ہے اور انتہا پسندی ہمیں حق اور حقیقت سے دور لے جاتی ہے لہٰذا اس پاگل پن سے خود کو بچانے کے لئے ایک معاملے کا ہر زاویے اور پہلو سے جائزہ لینا ضروری ہوجاتا ہے علاوہ ازیں یہ بھی ذہن نشین ہونا چاہیے کہ کاملیت کا تصور خام خیالی ہے۔
ایک شخص نے میرے باپ کو قتل کیا اس کے خلاف میرا دل نفرت سے بھر جاتا ہے انتقام کی نیت سے بندوق اٹھاتا ہوں تو اس دوران یہ بالکل بھول جاتا ہوں کہ اسے بالآخر کیوں ہلاک کیا گیا ہلاکت کے درپردہ وجوہات اور عوامل کیا تھے۔
کیا اس نے قاتل کے باپ یا بھائی کو قتل کیا تھا
کیا اس کے ہاتھ میں پیسوں سے بھر ہواا بریف کیس تھا
کیا وہ جائیداد ہتھیانا چاہتا تھا
اسے بھتہ دینے پر مجبور کیا جاتا تھا
کاروباری رقابت تھی۔
ہمسایہ، دفتر کاساتھی،شراکت دار،بھائی، رشتے دار اوررقیب کو برا اور انتہائی برا ثابت کرنے کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ کہنے والے کو سچااور جارحیت کا عذر بھی پیدا کردیتا ہے مرد نے عورت کے بارے میں یہ مشہور کررکھا ہے کہ اس کی بے پردگی گناہ کی دعوت دیتی ہے لہٰذا اسے پردہ میں رکھنا چاہئے اسی لئے اسے جہاں ضرورت ہوتی ہے تو جارحیت کا ارتکاب بھی کرتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *