ریاست مدینہ اور عمران خان

بیرسٹر حمید باشانی

تقریر اچھی تھی۔ الیکشن کے بعدعمران خان کی طرف کی جانے والی پہلی تقریر پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔ اس تقریر میں بائیں بازو کی دل پسند باتیں بھی ہوئی، اور دائیں بازوکے من پسند خیالات کا اظہار بھی۔ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں کو بھی یہ تقریر بھلی ہی لگنی چاہیے، کہ ان کی مطلب کی اس میں بہت باتیں تھیں۔ مجھے تقریر اچھی لگی، اس میں نہ اچھی لگنے والی کوئی ایک بات بھی نہ تھی، مگر تقریر میں کوئی ایک بھی نئی بات نہیں تھی۔ اس تقریر میں کئی اہم اور دلچسب نقاط ہیں، جن کا باری باری تجزیہ ہونا چاہیے۔

عمران خان کی اس تقریر کا پہلا بڑا نقطہ یہ تھا کہ وہ پیغمبر اسلام کے دور کی مدینہ کی ریاست سے متاثر ہیں، اور وہ اس طرز کا نظام چاہتے ہیں، جس میں حکمران عوام کے سامنے جواب د ہ ہوں، اور ریاست کا فلاحی تصور اس عروج پر ہو کہ اگر ایک کتا بھی بھوکا ہو تو حکمران ذمہ دار ٹھہرے۔ 

قیام پاکستان کے سے لیکر آج تک جو بات سب سے زیادہ دہرائی گئی وہ نظام اسلام ہی ہے۔ فرق مگر یہ ہے کہ اس تقریر کا زیادہ زور مدینہ کی طرز کی ریاست پر ہے۔ ایک ایسا ملک جس میں عوام کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے، وہاں عام طور اس بات سے اختلاف کی گنجائش کیا ہے؟ مگر عملی دنیا کے تقاضوں کے پیش نظر یہ بات وضاحت طلب ہے کہ موجودہ دور کی جدید اور پیچیدہ مارکیٹ اکانومی میں مدینہ کی طرز پر استوار اس ریاست کی معاشی تشکیل کیا ہو گی۔ نظام زر کیا ہو گا۔ عالمی تجارت، بینکنگ ، قرضوں اور سود سے جڑے مسائل کو کس معاشی تھیوری اور گائیڈلائن کی روشنی میں دیکھا جائے گا۔ یہ وہ نئے اور جدید دور کے سوالات ہیں، جو مدینہ کی ریاست کو درپیش نہیں تھے۔ ۔

اس ضمن میں لا تعدادسوالات ہیں، جو وقتا فواقتا اٹھتے رہیں گے، جن کا جواب ناگزیر ہو گا، حکومت کی پالیسی ان سوالات اور ان کے جوابات کی روشنی میں ہی ترتیب پا سکے گی ۔ 

یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ عمران خان مدینہ کی طرز پر ایک فلاحی ریاست کی بات کرتے ہیں، اور عوام کو نفاذ اسلام کی کوئی لوری نہیں دیتے، جو اکثر حکمرانوں یا مذہبی جماعتوں کا ہتھیار رہا ہے۔
اسلام کے نام پر پاکستان میں بہت سیاست بھی ہوئی، اور خون خرابہ بھی ہوا ہے۔ قیام پاکستان کے فورا بعد کچھ لوگوں نے اسلام کے نام پر سیاسی مقاصد کے حصول کا کام شروع کر دیا تھا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جو لوگ قیام پاکستان کے خیال سے متفق نہیں تھے، قیام پاکستان کے فورا بعد نفاذ اسلام کا نعرہ لیکر میدان میں اتر گئے۔ انہوں نے گلیوں ، محلوں اور مساجد میں نفاذ اسلام کے نفاذ کا پر چار شروع کر دیا۔

دوسری طرف سرکاری سطح پر حکومت اور ہیت مقتدرہ کا ایک حصہ بھی اسی نعرے کی آڑ میں ان ہی لوگوں کی شراکت سے اپنے کام نکالتا رہا۔ ذرائع ابلاغ پر خصوصا ریڈیو پاکستان پر ایسے لوگوں کو گھنٹوں خطاب کی دعوت اور مواقع دئیے جاتے رہے، جو قیام پاکستان کے حق میں تو نہیں تھے، لیکن قیام کے بعد اسلام کے نام پر حکومت پر قبضے کے خواہشمند تھے، تاکہ لوگوں کو ڈنڈے کے زور پر جنت میں لے جائیں۔

چنانچہ یہاں نظام مصطفی، نفاذ اسلام اور فلاحی ریاست کے نام پر بہت کچھ ہو چکا، اور عوام اسے گہرائی سے جانتے ہیں۔ چنانچہ وہ آج تک کسی بھی شفاف انتخاب میں مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کی باتوں میں نہیں آئے۔ یاد رہے کہ حالیہ انتخابات میں اسلامی جماعتوں کے اتحاد نے یہ اعلان کر رکھا تھا کہ وہ پہلے ہی دن مکمل اسلامی نظام نافذ کر دیں گے۔ ووٹ کے بدلے جنت اور نجات کی باتیں بھی سنائی دیں۔ مگر عوام نے آ خری فیصلے میں ان کے خلاف اپنا ووٹ دیا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ عوام بار بارایسے لوگوں کو مسترد کرتے رہے، جو مذہب کا مقدس نام لیکر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے، یا مذہب کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

خالص علمی اور نظری اعتبار سے پاکستان پہلے ہی ایک اسلامی ریاست ہے۔ آئین کا آرٹیکل دو اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب قرار دیتا ہے۔ تمام قوانین کا قران و سنت کے مطابق ہونا آئین میں لازمی ٹھہرا ہے۔ ملک میں کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا، جو قران و سنت کے منافی ہو۔ ریاست اس بات کا بھی عہد کرتی ہے کہ وہ وہ پاکستان کے مسلمانوں کو اس قابل بنائے گی کہ وہ اسلام کے بنیادی اصولوں اور تصورات کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔

ریاست پاکستان کے مسلمانوں کو وہ سہولیات مہیا کرنے کا عہد کرتی ہے، جس کے ذریعے وہ قران و سنت کے مطابق زندگی کا مقصد سمجھ سکیں۔ اس آئین کی موجودگی میں پاکستان ایک تھیو کریسی ہے۔ یہ فلاحی ریاست نہیں ہے۔ ایک فلاحی ریاست لوگوں کے ذاتی عقائد و نظریات سے زیادہ ان کی بنیادی ضروریات کے بارے میں فکر مند ہوتی ہے۔ یہ بنیادی ضروریات کی شکل ہر دور میں تھوڑی بہت بدلتی رہی ہے۔ مدینہ کی ریاست میں ان بنیادی ضروریات کی نوعیت مختلف تھی۔

قدیم یونان اور روم کی ریاستیں ہوں، یا جدید سویڈن اور ناروے کی فلاحی ریاستیں، انسانی ضرورویات کی بدلتی ہوئی شکلیں ان ریاستوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ خود پاکستان میں ستر برس میں انسانی ضروریات کی شکلوں میں فرق آتا رہا ہے۔ لیکن کچھ بنیادی مسائل ایسے ہوتے ہیں، جو ہر دور کے انسان کو درپیش ہوتے ہیں، اور جن کا حل ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ مسائل سیاسی نعروں اور منشور کی شکل میں عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں۔

ستر کی دھائی میں روٹی ، کپڑے اور مکان کا نعرہ بہت مقبول ہوا۔ تب اس نعرے کے پیچھے سائنس تھی، عقل تھی۔ آج بھی عوام کی ایک بڑی تعداد کی ضروریات یہی ہیں۔ مگر آج کا مقبول نعرہ تعلیم ، روزگار اور صحت ہے۔ اور جدید فلاحی ریاستیں اپنے سب لوگوں کو مساوی تعلیم، صحت اور روزگار کی سہولیات مہیا کرنا اپنی ذمہ داری قرار دیتی ہیں۔ یہ چیزیں ہر شہری کا بنیادی حق مان کر چلتی ہیں۔

اس سارے قصے میں لفظ، مساوی، اصل لفظ ہے، جو ایک فلاحی ریاست کو عام آزاد خیال امیر اور سرمایہ دار ریاستوں سے ممتاز کرتی ہے۔ ایک امیر اور آزاد خیال سرمایہ دارانہ ریاست میں تعلیم صحت اور روزگار کی سہولیات ہوتی ہیں۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں دنیا کے بہترین لا سکول، میڈیکل سکول اور سوشل سائنس کی یونیورسٹیز موجود ہیں۔ مگر ان میں ہر کوئی نہیں پڑھ سکتا۔ اس کے لیے پیسہ چاہیے۔ یہاں روزگار اور صحت کی سہولیات بھی موجود ہیں، مگر مساوی نہیں۔

اس کے بر عکس سویڈن ناروے، اور آئس لینڈ وغیرہ میں یہ ضروریات اگر پورے طور پر مساوی نہیں تو کافی حد تک مساویانہ ضرور ہیں۔ یہاں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے، اور ہر ایک سماج میں ہوتی ہے۔ ان کی سمت درست ہے، سفر جاری رہے گا، تو جو رہی سہی نا ہمواریاں ہیں، وہ بھی ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائیں گی۔ ایک وقت ایسا آئے گا جب انسان اس حد تک ہمدرد، فراغ دل اور باشعور ہو جائے گا کہ وہ دوسرے انسان کے ساتھ بانٹ برت کر کھانے کی برکت کو سمجھے گا۔ یہ شعور کا اگلا مراحلہ ہو گا، جہاں بنی نوع انسان کے لیے تمام مسائل اور وسائل مشترکہ ہوں گے۔

حا صل کلام یہ ہے کہ ٖفلاحی ریاست کے لیے ماڈل کوئی بھی چنا جا سکتا ہے۔ ہرماڈل میں ایک فلاحی ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کو روٹی، کپڑا ، مکان ، تعلیم، صحت اور روزگار مہیا کرنا ہے۔ عمران خان سے کمال پرستی کی توقع نہیں ہونی چاہیے۔ مثالیت پسندی سے بھی بچنا چاہیے۔ مگر جو پروگرام وہ پیش کر رہا ہے، وہ پاکستان کے اپنے تناظر میں دائیں بازوں کی قدامت پسندی، خود غرضی اور لالچ پر مبنی منشور کے مقابلے میں برا نہیں ہے۔

مگر جیسا کہ ان ہی سطور میں بار ہاعرض کیا کہ پروگرام کوئی بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ پروگرام پیش کرنے پر کچھ خرچ نہیں ہوتا۔ اصل مسئلہ عمل ہے۔ اور عمل کی دنیا میں ان مشکلات اور مسائل پر قابو پانا ضروری ہوتاہے، جو کسی پروگرام کے عملی اطلاق میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *