جنرل ہوشوشیدی سے تنزیلہ قمبرانی تک

طارق احمد مرزا

کہتے ہیں کہ زبان کا گھاؤتلوار کے گھاؤسے بھی زیادہ گہر اہوتاہے اور یہ بھی کہ وقت گزرنے پر تلوار کا گھاؤ تو مندمل ہو جاتا ہے لیکن زبان کاکبھی بھی نہیں۔اسی طرح یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ایک اناڑی کے ہاتھ میں آئی تلوارخود اس کو زخمی کر سکتی ہے اسی طرح زبان بھی بسااوقات سننے والے کوہی نہیں خودبولنے والے کو بھی گھائل کرڈالتی ہے خواہ وہ بتیس دانتوں کے حصار میں بھی کیوں نہ مقید ہو۔

سابق’ خادم اعلیٰ‘ پنجاب میاں شہبازشریف صاحب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ۔ حالیہ انتخابی مہم چلاتے چلاتے سندھ میں وارد ہوئے تو دو جملے ایسے بول گئے جنہوں نے سندھ میں آباد دو بڑے نسلی یا لسانی گروہوں کو ناراض کردیا۔ ایک تو یہ فرمان جھاڑا کہ ’’پان کھانے والوں‘‘ کوفلاں فلاں یقین دہانی کرنے آیا ہوں (یاکرآیاہوں)،اور دوسراجملہ جسے شایداپنے تئیں بڑا اعلیٰ قسم کا طنز سمجھتے تھے،یہ ارشاد فرمایاکہ سندھ میں جو لوگ حکومت کر رہے ہیں ان پر یہ بات فٹ بیٹھتی ہے کہ ’’مرسوں مرسوں،کم نہ کرسوں‘‘ یعنی مرجائیں گے لیکن کام نہیں کریں گے۔

اول الذکر فقرے نے سندھ ،خصوصاً کراچی میں آباد اردو سپیکنگ مہاجر کمیونٹی کو سیخ پا کردیا اور مؤخرالذکرفقرے کو کراچی سمیت سارے سندھ میں آبادسندھی پاکستانیوں نے اپنی تاریخ اورروایات کی ہتک جانا۔کیونکہ جس طرح بعض قومی رہنماؤں سے منسوب الفاظ یاجملے قومی ماٹو تصور کئے جاتے ہیں اسی طرح سندھ کے ایک جرأتمند ہیروسپہ سالار ہوش محمد (المعروف ہوشو شیدی) کا کہا ہوا ایک جملہ بھی سندھی قوم کے لئے ایک قومی سلوگن اور ماٹو کی حیثیت ر کھتا ہے جسے شہبازشریف نے بگاڑ کر کچھ کا کچھ بنا دیا۔واضح رہے کہ جنرل ہوشوشیدی نے سنہ 1843 میں سندھ پر حملہ آور برطانوی پلٹن کاآخر دم تک مقابلہ کرتے ہوئے یہ کہتے ہوئے اپنی جان دے دی تھی کہ ’’مر ویسوں ،مر ویسوں،پر سندھ نہ ڈیسوں‘‘(مر جائیں گے لیکن سند ھ کسی کے حوالے نہیں کریں گے) ۔

انگریز مؤرخین نے اعتراف کیا ہے کہ اوشو شیدی نے اپنے مرنے تک ان کی فتح کو تاخیرسے دوچارکئے رکھا۔

سندھ میں شہباز شریف صاحب کی اس انتخابی مہم کا جو نتیجہ نکلاوہ سب کے سامنے ہے۔ ان کی زبان دوسروں کے علاوہ خود ان کے انتخابی نشان شیر کو بھی زخمی کر گئی جو فی الحال اپنے زخم چاٹتادکھائی دے رہا ہے۔ توقع تھی کہ وہ خیبر پختونخواپہنچ کر غیور پشتونوں کو ’’نسوارکھانے والے‘‘کہہ کر ان سے مخاطب ہونگے، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ میڈیا نے ان تک مہاجر اور سندھی کمیونٹی کاغم وغصے سے بھرپور جذباتی ردعمل جلد ہی پہنچا دیا تھا اسی لئے خیبرپختونخوامیں خاصے محتاط نظرآئے۔

سندھیوں نے ’’مرویسوں مرویسوں پر سندھ نہ ڈیسوں ‘‘کی بھرپور لاج یوں رکھی کہ نہ صرف پنجاب کی نمائندہ بن کر رہ جانے والی مسلم لیگ (نون)کو سندھ کی حکومت دینے سے انکارکردیا بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایسی خاتون امیدوارکو سندھ اسمبلی کی رکن منتخب کیاجس کا تعلق اسی نسل سے ہے جس سے جنرل ہوشو شیدی کا تھا۔میری مراد محترمہ تنزیلہ ام حبیبہ قمبرانی سے ہے جو ’’تنزیلہ شیدی‘‘کے نام سے زیادہ معروف ہیں اور اخبارات کے مطابق خود بھی اس نام سے پکاراجاناپسند کرتی ہیں۔

ممبرسندھ اسمبلی منتخب ہوجانے کے بعدتنزیلہ شیدی نے اپنی کامیابی کا سہرا پیپلز پارٹی (پی) کے چئیرمین بلاول بھٹوزرداری کے سرباندھا۔جنہوں نے’’ کولمبس‘‘ بن کر انہیں ’’دریافت‘‘کیا اور ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے ذریعے سندھ اسمبلی کے اندر حلقہ کے دیگر عوام کے ساتھ سیاہ فام افریقی نژاد شیدی برادری کی نمائندگی کو بھی ممکن بناڈالا۔

بلاول بھٹوزرداری کاایک اور کارنامہ سندھ میں موجود ہندوبرادری کے دوممبران کو جنرل سیٹ پہ پارٹی ٹکٹ عطاکرنا تھا۔شنید ہے کہ یہ دونوں بھی خیر سے الیکشن جیت گئے ہیں جوکہ بہت اچھی بات ہے اور اس حوالے سے میں سمجھتا ہوں کہ نوجوان بلاولؔ کوبجاطورپرنئے پاکستان کا نمائندہ چہرہ قراردیاجاسکتا ہے لیکن نئے اور حقیقی پاکستان(جو دراصل قائداعظم کاپیش کردہ پاکستان تھا) کی اصل شروعات تب ہوں گی جب ایک قدم مزید آگے بڑھ کر پاکستان کے ہر شہری (جی ہاں ہر شہری )کو جنرل الیکشن میں بطور ووٹر یاامیدوار غیرمذہبی بنیادوں پر حصہ لینے کی آزادی پھر سے(جی ہاں پھرسے) حاصل ہو جائے گی۔

واضح رہے کہ قائد اعظم کے پاکستان کے برعکس موجودہ پاکستان میں سارے شہریوں کی ووٹرلسٹیں بشمول کیا مسلمان اورکیا ہندو،سکھ ، پارسی، بدھ،مسیحی،بہائی وغیرہ اکھٹی ہیں اور صرف احمدیہ کمیونٹی( قادیانی، لاہوری) کی الگ سے لسٹ بنی ہوئی ہے۔آج دنیا کی کسی بھی جمہوری ریاست میں مذہب ، عقیدہ یافکرونظر کی بنیادپر اس قسم کے استحصال پر مبنی یہ امتیازی اور جداگانہ سلوک اس کے کسی شہری کے ساتھ روارکھا دیکھنے کو نہیں ملے گا۔پھر بھی جناب شیخ رشید احمد صاحب سوشل میڈیا پہ موجود ایک وڈیو میں اس بات کا گلہ کر تے دکھائی دیئے کہ کینیڈا برطانیہ وغیرہ جہاں بھی وہ جاتے ہیں ان سے ’’احمدیز‘‘کے بارہ میں ضرور پوچھا جاتاہے۔انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ احمدیز کے ساتھ اچھوتوں والے اس سلوک کے حوالے سے عالمی برادری کی تسلی کے لئے کون سی دلیل پیش کرتے ہیں۔

معاف کیجئے گا بات کہیں سے کہیں نکل گئی ۔ بات ہو رہی تھی سندھ کی اور وہاں کی سیاہ فام شیدی کمیونٹی کی جس کی تعداد پاکستان بھر میں تقریباً پچاس ہزار بتائی جاتی ہے۔یہ افریقی النسل(حبشی) قوم ہیں۔بعض لوگ انہیں مکرانی کہتے ہیں۔ بھارت میں انہیں سِدی یاسدھی کہا جاتا ہے اور انہیں ایک سپیشل قومیت کا مقام دیا گیاہے ۔ ان کی کچھ تعدادسری لنکا اور مالدیپ وغیرہ میں بھی موجودہے۔بعض محققین کی رائے ہے کہ شیدی یا سدی دراص عربی کے لفظ ’’سیّدی‘‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنی صاحب یا سردارکے ہیں۔مشہور سیاح ابن بطوطہ سنہ 1344 میں مالدیپ پہنچا تو وہاں بہت سے حبشیوں کو بھی موجود پایا۔اس نے ایک مسلمان حبشی بزرگ کے مزارکا ذکربھی کیاہے۔ 

سندھ میں آباد شیدی خود کو’’ قمبرانی‘‘ کہلانا بھی پسندکرتے ہیں۔کہاجاتا ہے کہ قمبرخلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا آزادکردہ ایک حبشی غلام تھا۔سابق پاکستانی اولمپک باکسر عبدالرشیدقمبرانی بھی شیدی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔

مؤرخین کے مطابق ان میں سے بہت سے لوگ عرب حملہ آوروں اور تاجروں کے ساتھ اور پھر بعد میں یورپی اقوام خصوصاً پرتگالیوں کے ساتھ برصغیر میں بطور غلام لائے گئے تھے۔ اسی طرح بہت سے افریقی بہترمعاش اور روزگارکی خاطر گزشتہ ایک ہزار سال تا تین چار سو سال پہلے تک اپنی بیویوں اور بچوں سمیت ازخود ہجرت کرکے بھی یہاں آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔اسی لئے عالمی سطح پہ انہیں ایفروایشین یاایفروانڈین کہا جاتا ہے۔

جسمانی طورپرمضبوط ،پھرتیلے اور چاک وچوبند ہونے کی وجہ سے بیشترافریقی برصغیر کے راجوں مہاراجوں کی افواج میں بھرتی ہوئے۔ان میں سے بہت سے اعلیٰ عہدوں تک بھی پہنچے کیونکہ راجے مہاراجے مقامی سپاہیوں کی نسبت ان پرزیادہ اعتماد رکھتے تھے۔برصغیر کی مشہور خاتون حکمران رضیہ سلطانہ کا وفاداراور منظورنظرخادم اور نائب جمال الدین یاقوتؔ کے بارہ بھی کہا جاتاہے کہ وہ افریقی نژاد تھا۔

پندرھویں صدی میں جب بنگال کے حکمران جلال الدین فتح شاہ کے دور میں ہر طرف بدامنی پھیل گئی اور بادشاہ مارا گیاتو اس کے افریقی نژاد کمانڈر سدی بدرنے عنان حکومت اپنے ہاتھ میں لے کر’’حبشی سلطنت بنگالہ ‘‘ کی بنیاد رکھی ۔ اس نے اپنے لئے شمس الدین ابونصر مظفرشاہ کا شاہی لقب اختیارکیا۔بتایاجاتا ہے کہ اس کی فوج میں شامل پانچ ہزار فوجی افریقی نژادتھے۔ پے درپے سازشوں اور سدی بدر کے مطلق العنان اور جابرانہ رویئے کی وجہ سے برصغیر کی یہ حبشی سلطنت تین سال سے زیادہ نہ چل سکی۔

برصغیر میں برطانوی راج کے قیام کے بعد سے اب تک شیدی افراد اپنی شناخت کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ان کے ساتھ عموماً نسلی امتیازبرتاجاتا ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ بہت سے سماجی ،معاشی ، اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔
ان میں سے بہت سے لوگ اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کرواکر افریقہ میں اپنے اصل وطن کی تلاش میں بھی مصروف ہیں جہاں سے کبھی ان کے آباؤاجدادآئے تھے یا لائے گئے تھے۔

محترمہ تنزیلہ قمبرانی صاحبہ کے والد صاحب نے ایک تھکا دینے والی تحقیق اور جستجو کے بعد پتہ چلا لیا ہے کہ ان کا آبائی تعلق ایسٹ افریقہ سے ہے۔اس خوش کن انکشاف کے بعد تنزیلہ کی دو بہنیں افریقہ میں بیاہی بھی گئی ہیں۔

امید ہے کہ بطورممبر سندھ اسمبلی حلف اٹھانے کے بعد پاکستان کی پہلی سیاہ فام پارلیمنٹیرین تنزیلہ قمبرانی ایسٹ افریقہ کے دورے پہ کبھی جائیں تو عالمی میڈیا اس تاریخی دورے کی ایسے ہی کوریج کرے گا جیسے امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر بارک اوباما کی کینیا میں موجود آبائی گاؤں جانے اور اپنے افریقی رشتہ داروں سے ملنے کی کوریج کی تھی۔

انسانیت زندہ باد!۔آزادی اور مساوات زندہ باد!

نوٹ:اس موضوع پر مزید جانکاری کے لئے دیکھئے :۔
http://thesidiproject.com/
http://exhibitions.nypl.org/africansindianocean/index2.php
https://www.dawnnews.tv/news/1038597
https://www.bbc.com/urdu/pakistan-45095280
https://tribune.com.pk/story/772390/faded-glory-sindhs-resolute-fighters
http://www.theasian.asia/archives/86486

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *