فورٹ ولیم کالج اور سیرام پور مشن سازش نہیں تھے



پاکستان میں بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے کچھ دانشور اور پنجابی قوم پرست ہر وقت یہ رونا روتے ہیں کہ فورٹ ولیم کالج دراصل مقامی زبانوں کو ختم کرنے کی سازش تھی ۔لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔

فورٹ ولیم کالج کلکتہ کا قیام جولائی1800 میں عمل میں آیا۔ اس کے قیام میں اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ویلزلے کی کوششوں کو عمل دخل تھا۔ یہ کالج بنیادی طور پر ان انگریز افسروں کو مقامی زبانیں سیکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا جن کی ہندوستان میں تعیناتی کی جاتی تھی تاکہ وہ یہاں کی مقامی زبانیں سکھانے کے علاوہ مقامی کلچر و رسوم رواج سے بھی واقف ہو سکیں۔

اس کالج میں عربی، ہندی(اردو) فارسی، سنسکرت اور بنگالی زبانوں کے شعبے قائم کیے گئے اور باقی مقامی زبانوں کے لیے ایک علیحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ان زبانوں کو پڑھانے کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو رکھا گیا تھا۔

شعبہ فارسی کے سربراہ نیل اینڈمنسٹون تھے جو حکومت ہند میں فارسی کے مترجم کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ شعبہ عربی کے سربراہ نامور عربی دان جان بیلی تھے۔ شعبہ ہندی کے سربراہ جان بورتھ گلکرائسٹ ایک عالم فاضل شخص تھے۔ نامور متشرق ایچ ٹی کول بروک شعبہ سنسکرت کے سربراہ تھے۔ ولیم کیری کو مقامی زبانوں کے شعبے کا سربراہ بنایا گیا۔

کالج میں پڑھانے کے لیے پورے ملک سے قابل اساتذہ کی تلاش شروع ہوئی۔ ابتداء میں بنگالی زبان پڑھانے کے لیے کوئی استاد دستیاب نہیں تھاکیونکہ برہمن سکالرز صرف سنسکرت، مذہبی تقدس کی وجہ سے پڑھتے تھے جبکہ بنگالی زبان کوئی نہیں پڑھتا تھا اور اس وقت تک بنگالی زبان کی کوئی درسی کتاب بھی دستیاب نہیں تھی ۔ ایشیاٹک سوسائٹی کے زیر اہتمام بنگالی اور سنسکرت کی گرائمر اور لغت تیار کی جارہی تھی۔

ان زبانوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ مختلف کتابوں کے تراجم بھی ان زبانوں میں شروع کیے گئے۔ اس مقصد کے لیے ایک سو کے قریب مقامی افراد کو ملازم رکھا گیا ۔تاریخ دانوں کے مطابق فورٹ ولیم کالج کی بدولت بنگال کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا جب کئی غیر ملکی کتابوں کا بنگالی زبان میں ترجمہ ہوا۔ بنگالی زبان کے ادب و شاعری کو اکٹھا کرکے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا اور اس کا انگریزی میں ترجمہ ہوا۔

یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز فورٹ ولیم کالج کے قیام کے خلاف تھا جس کی وجہ سے اسے فنڈز کی کمی کا سامنا رہتا ۔ بورڈ کا کہنا تھا کہ افسروں کی تعلیم کے لیے اس قسم کا کالج کلکتہ کی بجائے انگلینڈ میں ہی ہونا چاہیے ۔ چنانچہ1807 میں ہیل بیری انگلینڈ میں فورٹ ولیم کالج کی طرز پر ایک کالج قائم کیا گیا اور برطانوی افسر ہندوستان آنے سے قبل وہیں تربیت حاصل کرنی شروع کر دی۔

لیکن فورٹ ولیم کالج کی مقامی طور پر بہت پذیرائی ہوئی جس کی وجہ سے بنگالی لٹریچر کو ایک نئی جہت ملی۔1835 میں نئی تعلیمی پالیسی کا اعلان کیا گیا جس کے مطابق حکومتی زبان انگریزی قرار دی گئی۔ اور حکومت نے فورٹ ولیم کالج میں قائم دوسری زبانوں کے شعبے کم کرنے شروع کر دیئے اور آخر کار 1854 میں ڈلہوزی حکومت نے اس کالج کی تحلیل کا حکم نامہ جاری کیا ۔ جس کے بعد یہ کالج مقامی افراد کی تعلیمی ضروریات پوری کرتا رہا۔

ہندوستان کی سماجی تبدیلی میں فورٹ ولیم کالج کے ساتھ ساتھ سیرام پور مشن کا بھی بہت بڑا کردار ہے ۔ سیرام پور مغربی بنگال کا ایک قدیم شہر ہے جو کلکتہ سے چند میل کے فاصلے پر سمندر کے کنارے تھا ۔ آج یہ شہر کلکتہ میں ہی شامل ہو چکا ہے۔ انیسویں صدی کے آغاز پر مسیحی مشنریز ہندوستان میں آنا شروع ہوئے۔ سیرام پور میں چار مشنریز، جوشوا مارشمین، ہنا مارشمین، ولیم کیری اور ولیم وارڈ آئے۔ بنیادی طوریہ مسیحت کی تبلیغ کے لیے آئے لیکن انھوں نے اپنی زندگیاں علاقے کے غریب، نادار اور پسے ہوئے طبقات کی خدمت کے لیے وقف کردیں جس کی بدولت بلا شبہ سیرام پورکی نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا۔

ان مشنریز نے ایک سو سے زائد ’’مانیٹری‘‘ سکولوں کا اجراء کیا جہاں غریب ترین افراد کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ۔ ہنا مارشمین نے لڑکیوں کا پہلا سکول قائم کیا۔ اس سے قبل تعلیم صرف اشرافیہ کے بچوں تک محدود تھی لیکن ان مشنریز کی بدولت مقامی افراد کی ایک بڑی تعداد کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آئے۔ان میں سے کئی اعلیٰ عہدوں تک بھی پہنچے۔

سنہ1800 میں ولیم کیری نے سیرام پور مشن پرنٹنگ پریس لگایا اور جس کے تحت بنگالی زبان میں کتابوں کی اشاعت کا آغا ز ہوا۔ ولیم کیری کو بنگالی ادب کا باپ بھی کہا جاتا ہے ۔ ولیم کیری نے پہلی دفعہ رامائن، مہابھارت اور بائیبل کا بنگالی زبان میں ترجمہ کرایا۔ سیرام پور پریس کے زیر اہتمام بنگالی کا پہلا روزنامہ اخبار ’’سماچار درپن ‘‘کا آغاز ہوا۔ کچھ عرصے بعد انگریزی روزنامہ ’’فرینڈز آف انڈیا‘‘ کے نام سے شائع ہونا شروع ہوا۔ولیم کیری ان اخبارات کے ایڈیٹر تھے۔

سنہ1801 سے 1832 تک سیرام پور مشن پریس نے مختلف کتب کی 212,000 کاپیاں شائع ہوئیں ۔ یہ کتب چالیس مختلف زبانوں میں شائع کی گئیں جس میں درسی کتب کے علاوہ کلاسیکی ادب، شاعری ، سماجیات اور سائنس کی کتب شامل ہیں ۔ 

سنہ 1818میں ولیم کیری نے سیرام پور کالج کی بنیاد رکھی جسے چند سال بعد یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا اور اس مقصد کے لیے ایک عالیشان عمارت تعمیر کی گئی۔ان مشنریز کا ایک اور کارنامہ پیپر مل کا قیام تھا جو سٹیم انجن سے چلتی تھی۔ یہ ہندوستان کی پہلا کاغذکا کارخانہ تھا جو سیرام پور میں لگایا گیا۔ پیپر مل کے قیام کے بعد سیرام پور کو صنعتی شہر قرار دے دیا گیااور پیپر مل سے وابستہ بے شمار افراد مختلف روزگار سے وابستہ ہوئے ۔1854 میں یہاں ریلوے لائن بچھ گئی اور سیرام پور بندرگاہ سے سامان کی نقل و حمل شروع ہوئی۔

سنہ 1866 میں جیوٹ مل کا افتتاح ہوا ۔ یہ سیرام پور میں پہلی اور ہندوستان کی دوسری جیوٹ مل تھی ۔1866سے 1915 تک یہاں مزید چھ جیوٹ ملیں کام شروع کر چکی تھیں۔پورے ہندوستان سے لوگ یہاں ملازمت کے لیے آنا شروع ہوگئے۔ جس کی بنا پر سماجی و معاشرتی تبدیلی آنی شروع ہوئی جس کے نتیجے میں ایک نیشنلسٹ تحریک کا آغاز ہوا۔*

یہ مضمون انٹر نیٹ سے لیے گئے مختلف مضامین سے ترتیب دیا گیا ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *