دیامر میں سکولوں کو تباہ کرنے کا ذمہ دار کون ؟

علی احمد جان

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں ایک ہی رات میں ۱۳ گرلز سکولوں کو تباہ یا جزوی طور پر نقصان پہنچایا گیا ۔ کچھ میں توڑ پھوڑ کرکے آگ لگادی گئی اور کچھ کو بارودی مواد سے اڑادیا گیا ۔ پولیس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ سارے سکول زیر تعمیر اور تکمیل تعمیر کے قریب تھے ۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تباہ کئے جانے والے سکولوں میں سے ۹ فعال تھے جن میں آج کل گرمیوں کی تعطیلات ہیں ، صرف چار سکول زیر تعمیر تھے ۔ پولیس کا تباہ کئے سکولوں کو زیر تعمیر کہنا اس کی لا علمی ہے ہے یا پھرمعاملے کی حساسیت اور سنگینی کو کم کرکے دکھانا ہے۔ ان علاقوں میں یہ پہلا واقعہ نہیں کیونکہ اس سے پہلے بھی ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں اور مجرم قانون کی گرفت میں کبھی نہیں آسکے۔ مگر ایک ہی رات میں 13 سکولوں کو نشانہ بنانا پورے ملک میں پہلا واقعہ ہے جو اس سے قبل کہیں نہیں ہوا۔

سکول کس نے تباہ کئے اس کا سیدھا سادھا جواب یہ ہے کہ سوات ، فاٹا اور مالاکنڈ میں جنھوں نے سکول تباہ کئے انھوں نے ہی یہاں بھی یہ کام کیا ہے۔ یہ لوگ یہاں تک کیسے پہنچے تو اس کا جواب بھی ان ہی کو معلوم ہے جو شاہراہ قراقرم کے ہر بیس کلومیٹر پر چیک پوسٹ لگاکر آنے جانے والوں کاریکارڈ رکھتے ہیں۔ مقامی لوگوں کو کیسے معلوم نہ ہوسکا کہ ان کے سکول تباہ کرنے والے ان کے بیچ موجود ہیں تو اس کا جواب یہ کہ خوف اور دہشت کی فضا میں سچ بول کر کوئی مرنا نہیں چاہتا اس لئے زبانوں پر چپ کی مہر لگی ہوئی ہے۔ جبر کی فضا ختم ہو اور ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہو جائے تو سچ بھی سامنے آجائے گا۔

تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ گزشتہ تین ہزار سالوں سے یہ خطہ علم کا گہوارا رہا ہے۔تین ہزار سال قبل جب ہندو پروہتوں نے جب اپنے مذہبی صحیفوں کو دستاویزی شکل دی تو اس دور میں کاغذ کی عدم دستیابی کی وجہ سے برچ کی چھال کو ستعمال کیا گیا۔ چونکہ ہمالیہ میں ہی برچ کے درخت دستیاب تھے اس لئے ان پہاڑی علاقوں میں خطاط اور کاتب منتقل کئے گئے تاکہ وہ ان درختوں کی تہہ در تہہ چھال کو بطور کاغذ استعمال کرکے مذہبی صحیفوں کو دستاویزی شکل دے سکیں۔

مذہبی صحیفوں کی ایک ایسی ہی جگہ ضلع دیامر کی تحصیل داریل بھی تھی جو شینا اور دیگر درد خاندان سے تعلق رکھنے والی زبانیں بولنے والے لاکھوں لوگوں کی ابتدائی آبادی سمجھی جاتی ہے جہاں سے یہ لوگ بکھر کر افغانستان سے ہندوستان تک پھیل گئے ۔ ہندوستان کے بادشاہ اشوک اعظم کے بدھ مت اختیار کرنے کے بعد جب اس خطے میں ہندو پروہتوں پر مظالم ڈھائے گئے اور ان کا قتل عام ہوا توہندوؤں نے یہاں سے جاکر سری نگر میں واقع ایک جھیل کو سکھا کر وہاں پناہ لی جو اب کشمیری پنڈت کہلاتے ہیں۔ کشمیر پر تحقیق کرنے والے محقق سدھارتھ گارو کے مطابق جواہر لال نہرو، علامہ اقبال، اندرا گاندھی، شیخ عبداللہ اور دیگر کشمیری النسل ہندو پاک کےمشاہیر کے آباواجداد کا تعلق بھی داریل یا دردستان سے ہی بنتا ہے۔

ہندو پنڈت جنھوں نے بدھ مت کو بطور مذہب اختیار کیا انھوں نےیہاں رہ کر نئے مذہب کےصحیفوں کی خطاطی اور کتابت برچ کی چھالوں پرجاری رکھی۔ داریل کے گاؤں فوگچ میں دو ہزار سال قبل کی ایک ایسی درسگاہ کے اثار بھی پائے جاتے ہیں جہاں دور دراز سے بدھ مت کے پیرو کار یہاں علم سیکھنے کے لئے آجاتے تھے۔ بڑی تعداد میں آثار قدیمہ جو یہاں پائے گئے وہ منظر عام پر نہ آسکےجس کی وجہ سے دریافت شدہ اشیا ء کے بارے میں معلومات بھی دستیاب نہیں ۔

مگر ایک دریافت جس نے دنیا کو چونکا دیا وہ داریل کے بالکل دوسری طرف ہندو کش کے پہاڑی سلسلے میں گلگت شہر کے پاس گاوں نو پورہ میں1930 ءمیں ملنے والے 3000 صفحات تھے ۔ یہ صفحات دراصل بدھ مت کی مقدس کتاب کا یہاں برچ کی چھال پر لکھا نسخہ تھا جس کو آج کی دنیا گلگت مینوسکرپٹس (مخطوطات گلگت ) کے نام سے جانتی ہے۔ یہ بدھ مت کی مقدس کتاب کا نیپالی اور چینی نسخے کے بعد پالی زبان میں میں لکھا تیسرا نسخہ ہے ۔ اس کا ترجمہ ہوکر چھپ چکا ہے اور اب انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہے ۔ 1930 ء سے آج تک ہزاروں کی تعداد میں ایسے مخظوطات یہاں سے چلے گئے سوائے نیشنل میوزم کراچی میں پڑے چار صفحات کے جو ایک سیاح کو راولپنڈی میں کسی ردی بیچنے والے ملے تھے۔

ہندو مت اور بدھ مت کے ادوار میں علم کو محفوظ کرنے کے مرکز دیامر میں ایک رات میں 13 سکولوں کو تباہ کردینا کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ یہ علم دشمنی اور آگہی سے نفرت کا اعلان ہے۔ یہ واقعہ پہلی بار نہیں ہوا اور آخری بار ہونے کی صرف خواہش ہی کی جاسکتی ہے۔ داریل اور تانگر میں سکولوں کی ایک فہرست ہے جہاں بچیوں کو تعلیم دی جارہی تھی مگر وہ تباہ کردئے گئے ۔ چلاس اور اس کے ملحقہ علاقے بھی شرح خواندگی اور بالخصوص بچیوں کی تعلیم میں ملک کے پسماندہ ترین اضلاع میں شامل ہیں۔ داریل اور تانگر میں مجھے خود ایسے علم دوست لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا جنھوں نے خفیہ طور پر اپنے گھروں میں بچیوں کو تعلیم دینے کا بندوبست کر رکھا تھا جو یہاں بچیوں کو تعلیم دینے کی شدید خواہش کا ایک مظہر ہے۔

تعلیم خصوصاً بچیوں کی تعلیم کے بارے میں ہمارے اہل مذہب میں موجود ابہام کی وجہ سے ایسے گھناونے اقدامات کو معاشرتی جواز مل جاتا ہے۔ پولیو کے ویکسین کے بعد بچیوں کی تعلیم کے بارے میں ہمارے پسماندہ علاقوں میں اہل مذہب نےشدید مخالفت جاری رکھی ہوئی ہے جس کا موثر جواب ریاست کی طرف سے نہیں دیا گیا ہے۔ ملالہ پر حملہ اور اس کے بعد اٹھنے والی بحث میں بھی بچیوں کو تعلیم سے دور رکھنے کا جواز ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی تو ریاست کی طرف سے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا گیا۔ جب تک بچیوں کی تعلیم کے بارے میں اہل دانش ، اہل مذہب اور ریاست میں یکسوئی پیدا نہیں ہوگی بچیوں کے سکول جلتے رہیں گے۔

گلگت بلتستان میں ایسے عناصر کی موجود گی کے بارے میں بار بار ریاستی اداروں کی توجہ دلانے کی کوشش کی گئی مگر یہاں تمام ریاستی قوانین انسانی و شہری حقوق کے کارکنان اور سیاسی و سماجی راہنماؤں کے خلاف استعمال کرکے حق اظہار رائے کو سلب کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا گیا۔ اب بھی کچھ لوگوں کو گرفتار کیا جائے گا اور عدم ثبوت پر چھوڑ دیا جائیگا۔ جب تک خواتین کے کے بنیادی حقوق بشمول تعلیم حاصل کرنے کے حق کی خلاف ورزی کو سنگین جرم قرار نہیں دیا جائیگا ایسے جرائم ہوتے رہیں گے۔

دیامر کے سکولوں کو تباہ کرنے کا ذمہ دار کوئی فرد یا ادارہ نہیں بلکہ ہمارے درمیان موجود وہ ذہنیت ہے جس نے پورے معاشرے کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ جب تک اس تنگ نظری کو روشن خیالی، وسیع النظری اور ترقی پسندی سے نہیں بدل دیا جائیگا سکول جلتے رہیں گے ، جہالت پھیلتی رہے گی اور معاشرہ پستی کی طرف گامزن رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *