کابل میں ہزارہ شیعہ کے تعلیمی مرکز پر خود کش حملہ

افغان دار الحکومت کابل میں خود کش حملہ آور نے طلباء و طالبات سے بھرے ایک تعلیمی مرکز کے اندر خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا لیا۔ اس دہشت گردانہ حملے میں کم از کم 48 افراد ہلاک جب کہ 67 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

الجزیرہ ٹی وی کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد ابتدائی طور پر 48 بتائی گئی تھی لیکن بعد میں تصحیح کی گئی اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 34 ہے۔

مقامی حکام کے مطابق یہ حملہ شہر کے مغربی حصے میں ہوا جہاں کے رہائشیوں کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ کابل میں دہشت گردی کے اس خونریز واقعے میں ایک تعلیمی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ افغان پولیس کے ترجمان حشمت استانکزئی نے اس دہشت گردانہ کارروائی کے ایک خود کش حملہ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا، ’’ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ حملہ آور پیدل چل کر تعلیمی مرکز کے اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا لیا‘‘۔

افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید مجروح نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے اس لیے ہلاکتوں میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

خودکش بمبار نے جس تعلیمی مرکز کو نشانہ بنایا وہاں ہائی اسکول پاس کرنے والے نوجوان طلبہ اور طالبات کو یونیورسٹی میں داخلہ لینے کے لیے ریاضی، کیمیا اور طبعیات کی تعلیم دی جاتی تھی۔ تاہم وحید مجروح نے یہ نہیں بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں طلبہ اور طالبات کی تعداد کتنی ہے۔

فی الحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، تاہم ماضی میں افغانستان میں شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ ملوث رہی ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق افغان طالبان کے جاری کردہ ایک بیان میں اس حملے سے لاتعلقی کا اعلان کیا گیا ہے۔

افغان شیعہ رہنما جاوید گھاروی کے مطابق یہ حملہ داعش کی طرف سے کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اسی طرح کے حملے داعش کی جانب سے ہی کیے گئے ہیں۔

افغان صحافی عبداللہ خنجانی نے الجزیرہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ طالبان کی جانب سے ہی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ طالبان جب نہتے افراد خاص کر نوجوان بچوں پر خودکش حملہ کرتے ہیں تو عوامی دباو سے بچنے کے لیے داعش کا نام بھی استعمال کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں افغانستان میں طالبان اور دیگر جنگجو گروہوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آج پندرہ اگست کے روز ہی ملک کے شمالی صوبے بغلان میں بھی طالبان عسکریت پسندوں نے پولیس چیک پوسٹوں پر حملے کر کے چالیس سے زائد افغان سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

دوسری جانب مشرقی افغان شہر غزنی میں بدھ پندرہ اگست کو افغان فوج کی موجودگی میں بعض بازاروں میں چند دوکانیں کھولی گئی ہیں۔ اس شہر پر طالبان نے گزشتہ جمعرات نو اگست کی نصف شب منظم انداز میں حملے کرتے ہوئے شہر کے کئی حصوں پر کنٹرول بھی حاصل کر لیا تھا۔ چار دنوں کی لڑائی کے بعد عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے لیے امریکی اور نیٹو کے جنگی طیاروں نے بھی افغان فوج کے زمینی حملوں میں مدد کی تھی۔

DW/Al-Jazeera

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *