مگر یہ داستاں ابھی تمام تو نہیں ہوئی

منیر سامی

پاکستان کے قیام کے تقریباً ستر سال کے بعد ایک بار پھر عوامی نمائندوں کے چنائو کا عمل پورا ہوا۔ کچی پکی جمہوریت کے سفر کا ایک اور سنگِ میل آ پہنچا۔ ان انتخابات سے پہلے جو خدشات تھے وہ پورے ہوئے۔ یورپی یونین کے نمائندوں، انتخابات کا مشاہدہ کرنے والی تنظیم ’فافن‘ FAFEN، پاکستان میں انسانی حقوق کے اداروں، اور بین الاقوامی مبصرین سمیت، سب کی رائے یہ ہے کہ یہ انتخابات شفاف اور دیانت دارانہ نہیں تھے۔ سوائے اس کے کہ انتخابات کے روز پہلے کے مقابلے میں نسبتاً امن رہا۔

نتائج سب کے سامنے ہیں۔ عمران خان کی جماعت تحریکِ انصاف کو قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں ملی ہیں، خیبر پختون خواہ میں اسے واضح اکثریت حاصل ہے، اور پنجاب میں اسے مسلم لیگ کے تقریباً برابر نشستیں ملی ہیں۔لیکن یہ کہیں بھی واضح اکثریتی جماعت نہیں بن سکی۔ حکومت سازی کے لیئے یہ مخلوط حکومت بنانے پر مجبور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سابقہ اہم جماعتوں کو سخت نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ تک، اور مسلم لیگ پنجاب تک محدود ہو گئی ہے۔ ایم کیو ایم کا تقریباً صفایا ہو گیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کا اسمبلیوں کی حد تک تقریباً خاتمہ ہو گیا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ تحریکِ انصاف کو نوجوانوں اور نئے ووٹروں کی حمایت حاصل تھی، یہ حمایت اس نے تقریباً بیس سال کی جدو جہد سے حاصل کی۔ اس حمایت میں ایک طرف عمراں خان کی ذاتی مقبولیت تو ضرور شامل تھی لیکن اس میں ہماری مقتدرہ کی دخل اندازی اور مرضی بھی شامل تھی۔ اس بار مقتدرہ نہیں چاہتی تھی کہ کسی بھی طورمسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کامیابی حاصل کر سکیں۔ سو انتخابات کا پلڑا تحریکِ انصاف کے حق میں جھکایا گیا۔ اور یوں وہ جماعت جو شفاف سیاست اور ایماندارانہ رویوں کا مطالبہ کرتی تھی ، اب خود غیر شفاف انتخابی عمل کے نتیجہ میں کامیا ب ہوئی۔

بہتر ہے کہ انتخابات کے غیر شفاف ہونے کے بارے میں آپ آزاد مبصرین کے تبصروںپر غور کر لیں، جن کے چند نکات درجِ ذیل ہیں:

۔۔پولنگ کے دوران سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کو پولنگ اسٹیشن کے اندر تعینات کرنا ، ناقابلِ فہم تھا۔ انتخابات کے قانون میں ایسی کوئی تجویز یا گنجائش نہیں ہے۔

۔۔پوسٹل بیلٹ یا ڈاک کے ذیعہ بھیجے جانے والے ووٹوں کے نظام پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اس غیر محفوظ نظام میں ووٹ کے تقدس کی پائمالی اور دھاندلی کا امکان ہے۔

۔۔سب سیاسی جماعتوں کو اپنی مہم چلانے کے یکساں مواقع نہیں دیئے گئے۔

۔۔ قومی ااور نجی ٹیلی ویژن نے بھی سیاسی رہنمائوں کو یکساں وقت نہیں دیا۔ انتخابی مہم کے دوران عمران خان کو سات گھنٹے، شہباز شریف کو چار گھنٹے، اور بلاول بھٹو زرداری کو صرف تین گھنٹے براہِ راست وقت دیا گیا۔

۔۔ قومی اسمبلی کے پینتیس حلقوں میں مسترد ہونے والے ووٹوں کی تعداد ، جیتنے والوں کے ووٹوں کے فرق سے زیادہ ہے۔ ایسے حلقوں میں پنجاب کے چوبیس حلقے شامل ہیں۔

۔۔پچیس فی صد پولنگ اسٹیشنوں میں نتائج دیوار پر چسپاں نہیں کیے گئے۔ دس فی صد پولنگ اسٹیشنوں پر کچھ پولنگ ایجنٹوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا۔

۔۔تبصروں میں یہ بھی کہا گیا ہے کے سیکیورٹی اہلکار خلافِ ضابطہ کاروایئوں میں متحرک رہے۔پندرہ سو سے زیادہ پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹروں کو مخصوص امیدواروں کی حمایت کی ترغیب دی گئی۔اور یہاں غیر مجاز افراد دندناتے رہے۔ تقریباً ایک سو ساٹھ پولنگ اسٹیشنوں پر یہ افراد ،پولنگ عملے پر نظر انداز ہوئے۔دو ہزار تین سو پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹ کے خفیہ رکھنے کی خلاف ورزی ہوئی۔ پنجاب میں ان واقعات کی تعداد ، سترہ سو سے زیادہ ہے۔

۔۔ تین سو چالیس کے قریب پولنگ اسٹیشنوں میں سیکیورٹی اہلکاروں نے ووٹروں کو روکا۔ اس قسم کے زیادہ واقعات پنجاب میں ہوئے۔

۔۔ میڈیا پر غیر ضروری پابندیاں لگائی گیئں۔ میڈیا کے ارکان کے پاس الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اجازت نامے ہونے کے باوجود، انہیں پولنگ اسٹیشن کے اندر کی کاروائی دکھانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

یہا ں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ مندرجہ بالا نکات محدود تبصروں پر مبنی ہیں۔ انتخابات کے دوران مبصرین سو فی صد پولنگ اسٹیشنوں کا مشاہدہ نہیں کر سکتے۔ لیکن جو نمونے حاصل کیے گئے وہ واضح طور انتخابات کے غیر شفاف ہونے کا اشارہ دیتے ہیں ، اور ان خدشات کی تصدیق کرتے ہیں جن کی نشاندہی انتخابات کے پہلے ہی سے کی جارہی تھی۔

اس تمام غیر شفافیت کے باجود جمہوریت کے حامی دانشوروں کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان میں لنگڑی لولی جمہوریت فوجی آمریتوں سے بہتر ہے۔ اور یہ کہ جمہوریت کی طرف ہر قدم ، عسکر ی آمریت کو دھچکہ پہنچاتا رہتا ہے۔اور وہ اپنے اقدامات اور اپنے مفادات کے لیئے شہری نمائندوں کی محتاج ہوتی ہیں۔

تیسری دنیا کا ہر ملک جہاں عسکر ی آمریت کا غلبہ رہا ہے، آمرانہ قوتوں کے خلاف نبرد آزما رہتا ہے۔ وہاں کے عوام جانتے ہیں کہ جمہوریت کی جدو جہد طویل اور پر خطر ہے۔ لیکن وہ اس جد و جہد پر مصر ہیں۔ یوں ہی جمہوری جدو جہد کی داستان جاری رہے گی، اور کبھی ختم نہیں ہوگی۔ پاکستان بھی ان ہی ممالک میں شامل ہے۔ وہاں کے عوام کو بھی دل برداشتہ ہونے کے بجائے ، اپنا سفر جاری رکھنا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *