مورمن کی کتاب کہاں سے آئی؟

زبیر حسین

جوزف سمتھ ١٤ سال کا تھا تو اس کے دل میں چرچ جانے کی خواہش پیدا ہوئی۔ لیکن چرچ تو بہت سارے تھے اور ہر ایک چرچ کا یہی دعوی تھا کہ وہی خدا کے سچے مذہب کا علمبردار ہے اور باقی سب جھوٹے۔ اسی تذبذب میں بائبل کی یہ آیت اس کی نظر سے گزری۔

اگر کسی انسان میں عقل و فراست کی کمی ہے تو اسے چاہئے کہ خداوند خدا سے رہنمائی حاصل کرے۔

جوزف کا یہی تو مسئلہ تھا کہ وہ نہیں جانتا تھا کون سا چرچ سچا ہے جس میں وہ شامل ہو جائے۔ لہذا اس نے خدا سے رہنمائی حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

یہ موسم بہار کی ایک خوشگوار صبح تھی جب جوزف اپنے گھر کے قریب ایک جنگل میں عبادت کرنے کے لیے چلا گیا۔ وہ زمین پر بیٹھ کر مصروف عبادت تھا اور شیطان بار بار اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جوزف نے شیطان کو نظرانداز کر دیا اور پورے خشوع خضوع کے ساتھ خدا کی عبادت جاری رکھی اور آسمانی باپ سے رہنمائی کی دعا کرتا رہا۔ اچانک سفید روشنی کا ایک مینار اس کے سامنے نمودار ہوا۔ جوزف نے سر اٹھا کر دیکھا تو اپنے آسمانی باپ اور اس کے بیٹے یسوع مسیح کو اپنے روبرو پایا۔ آسمانی باپ یسوع مسیح کی طرف اشارہ کرکے جوزف سے مخاطب ہوا۔

یہ میرا محبوب بیٹا ہے۔ اس کی بات سنو۔ جو سوال پوچھنا ہے اس سے پوچھ لو۔

جوزف نے سوال کیا، کون سا چرچ سچا ہے جس میں میں شمولیت اختیار کر لوں؟

کسی بھی چرچ میں ہرگز شامل نہ ہونا۔ یہ سب گمراہ ہیں۔یسوع مسیح نے جواب دیا۔

پھر یسوع مسیح نے جوزف کو حکم دیا کہ وہ اپنا الگ چرچ قائم کرے۔

جب جوزف نے لوگوں سے اس واقعے کا ذکر کیا تو وہ اس کا مذاق اڑانے لگے۔ مقامی چرچوں نے اس پر گمراہ، مرتد، اور زندیق ہونے کا فتویٰ لگا دیا۔ اس طرح تین سال بیت گئے۔ ایک رات جوزف اپنے گھر میں مشغول عبادت آسمانی باپ سے رہنمائی کی دعائیں کر رہا تھا کہ خدا کا ایک فرشتہ مرونی نمودار ہوا۔ فرشتے نے جوزف کو سونے کی تختیوں یا اوراق پر لکھی ہوئی ایک کتاب کے بارے میں بتایا۔ اب یہ جوزف کی ذمہ داری تھی کہ وہ سونے کی ان تختیوں کو تلاش کرکے کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کر دے۔ یہ کہہ کر فرشتہ غائب ہو گیا۔ جوزف سونے کی بجائے فرشتے کے دئیے ہوئے پیغام پر غور کرتا رہا۔ اس رات مرونی فرشتہ کئی بار آیا اور جوزف کو اس جگہ کے بارے میں بتا دیا جہاں سونے کی تختیوں پر لکھی ہوئی کتاب دفن تھی۔

اگلی صبح جوزف اپنے گھر کے قریب کمورا پہاڑی پر چلا گیا۔ پہاڑی کی چوٹی پر اسے ایک چٹان نظر آئی۔ اس نے لکڑی سے چٹان کو ایک طرف سرکایا تو نیچے پتھر کا ایک صندوقچہ ملا۔ اسے کھولا تو اس کے اندر سونے کی تختیاں پڑی تھیں۔ جوزف سونے کی تختیاں اٹھا رہا تھا کہ مرونی فرشتہ آ گیا۔ فرشتے نے اسے تختیاں لے جانے سے روک دیا۔ فرشتے نے جوزف سے کہا کہ وہ آئندہ چار سال تک ہر سال اسی دن اور اسی مقام پر اسے ملے۔ چار سال تک فرشتہ جوزف کو تختیوں کا متن اور اس کے معانی پڑھاتا رہا۔

تعلیم مکمل ہو گئی تو فرشتے نے جوزف کو تختیاں گھر لے جانے کی اجازت دے دی۔ گھر میں جوزف تختیوں کی عبارت کا انگریزی ترجمہ کرتا اور کاتب اسے لکھتے جاتے۔ ترجمہ مکمل ہو گیا تو جوزف کتاب کے مسودے کو پرنٹنگ پریس لے گیا اور کتاب چھپوا لی۔ اس کتاب کو مورمن کی کتابکہتے ہیں۔ یہ کتاب امریکہ کے قدیم باشندوں، جو کہ ابراہیم نبی کی نسل سے ہیں، کے بارے میں ہے۔ نیز اس کتاب میں ہمارے آسمانی باپ کے اکلوتے بیٹے یسوع مسیح کا بھی تذکرہ ہے۔

یسوع مسیح کی آمد سے کوئی ٦٠٠ سال قبل یروشلم کے باشندوں کی اکثریت بڑی فاسق، بداعمال، اور گنہگار تھی۔ خدا نے ان لوگوں کی اصلاح کے لیے نبی کے بعد نبی بھیجے مگر ان فاسقوں نے ان کی تعلیم پر کان نہ دھرے۔ لحی بھی ایسا ہی ایک نبی یا رسول تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ لوگ گناہوں سے تائب ہوں اور راہ راست پر آ جائیں۔ ایک روز وہ لوگوں کے لیے دعا کر رہا تھا کہ آگ کا ایک ستون نمودار ہوا۔ خدا نے اسے بہت سی باتیں بتائیں اور چیزیں دکھائیں۔ لحی گھر آیا تو کشف یا رویا میں اسے خدا اور اس کے فرشتوں کا دیدار ہوا۔ فرشتے خدا کے گرد حلقہ بنائے اس کی حمد و ثنا میں مصروف تھے۔

اسی کشف کے دوران اسے ایک کتاب دی گئی جس میں مستقبل میں پیش آنے والے حالات و واقعات درج تھے۔ اس نے کتاب میں پڑھا کہ یروشلم لوگوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جائے گا۔ لحی نے لوگوں کو بتا دیا کہ یروشلم تباہ ہو جائے گا۔ نیز اس نے انھیں یسوع مسیح کی آمد کے بارے میں بھی بتایا۔ لوگ لحی کی باتیں سن کر مشتعل ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے انھیں قتل کرنے کی کوشش کی۔ خدا نے لحی کو بچا لیا۔ خدا لحی سے بہت خوش ہوا اور خواب میں اسے ملنے آیا۔

خدا نے لحی کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی بچوں کو لے کر یروشلم سے نکل جائے۔ لحی نے خدا کے حکم کی تعمیل کی۔ انہوں نے سونا چاندی اور قیمتی مال و اسباب گھر میں چھوڑا اور خوراک کا ذخیرہ اور خیمے لے کر اپنی بیوی ساریا اور بیٹوں لامن، لیموئیل، سام، اور نیفی کے ساتھ بیابان کی طرف نکل گئے۔ تین دن مسلسل سفر کے بعد وہ ایک دریا کے کنارے پہنچ گئے۔ دریا کے نزدیک ایک وادی تھی۔ انہوں نے وادی میں خیمے نصب کر دئیے۔ لحی نے دریا کا نام لامن اور وادی کا نام لیموئیل رکھ دیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کے بیٹے اس دریا اور وادی کی طرح ہوں۔ یعنی وہ ہمیشہ خدا سے دل لگائے رکھیں اور اس کے احکامات کی دل و جان سے تعمیل کریں۔ پھر لحی نے پتھروں سے ایک قربان گاہ تعمیر کی اور اپنے خاندان کو یروشلم میں تباہ ہونے سے بچانے پر شکرانے کے لئے خدا کے حضور قربانی پیش کی۔

لحی کے بڑے بیٹے لامن اور لیموئیل یروشلم کی پرتعیش زندگی کو چھوڑ کر جنگل بیابان میں ڈیرہ جمانے پر اپنے باپ سے خوش نہیں تھے۔ انہیں یقین نہیں تھا کہ یروشلم پر خدا کا قہر یا عذاب نازل ہو گا اور یہ ہنستا بستا شہر تباہ و برباد ہو جائے گا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے باپ نے یروشلم اور اپنا سارا مال و متاع وہاں چھوڑ کر حماقت کی تھی۔ لامن اور لیموئیل کے برعکس نیفی کو اپنے باپ کی باتوں پر اعتبار تھا۔ البتہ وہ ان چیزوں کی حقیقت معلوم کرنے کا خواہاں تھا جو اس کے باپ نے عالم رویا میں دیکھی تھیں۔ نیز وہ تصدیق کرنا چاہتا تھا کہ اس کے باپ کا یروشلم چھوڑنے کا فیصلہ درست تھا۔ اس نے خدا سے رہنمائی کی دعا کی۔ یسوع مسیح نیفی سے ملے اور تصدیق کی کہ اس کے باپ کا فیصلہ درست تھا۔ نیفی کی تسلی ہو گئی اور اس نے لامن اور لیموئیل کی طرح باپ کی مخالفت نہ کی۔

نیفی نے اپنے بھائیوں کو یسوع مسیح سے ملاقات اور ان کی تصدیق کے بارے میں بتایا۔ سام نے نیفی کی باتوں کا اعتبار کیا لیکن لامن اور لیموئیل نے انکار۔ خدا نے نیفی سے وعدہ کیا کہ وہ اسے برکت اور اپنے بھائیوں پر فضیلت دے گا اور ان کا رہنما بنائے گا۔

لحی نے نیفی سے کہا کہ خدا چاہتا ہے کہ وہ اور اس کے بھائی یروشلم واپس جائیں اور لابن نام کے ایک شخص سے پیتل کی تختیاں یا اوراق لے آئیں۔ پیتل کے ان اوراق پر لحی کے آباؤاجداد کی تاریخ اور گزشتہ نبیوں کو ملنے والی وحی کا سارا ریکارڈ محفوظ تھا۔ لامن اور لیموئیل یروشلم جانے پر آمادہ نہ تھے۔ ان کے خیال میں یہ کام خطرناک تھا۔ دراصل ان کا خدا پر ایمان کمزور تھا۔ نیفی خدا کے حکم کی تعمیل کرنا چاہتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ پیتل کے اوراق حاصل کرنے میں خدا اس کی اور اس کے بھائیوں کی مدد کرے گا۔

چاروں بھائی یروشلم پہنچ گئے۔ لامن لابن کے گھر گیا اور اس سے پیتل کی تختیوں کا مطالبہ کیا۔ لابن مشتعل ہو گیا۔ اس نے پیتل کی تختیاں دینے سے صاف انکار کر دیا اور لامن کو گھر سے نکال دیا۔ لامن بھائیوں کے پاس گیا اور مشورہ دیا کہ وہ تختیوں کے بغیر ہی واپس چلے جائیں۔ نیفی کا اصرار تھا کہ وہ تختیاں حاصل کئے بغیر واپس نہیں جا سکتے۔ اس نے بھائیوں کو حوصلہ دیا کہ وہ خدا پر بھروسہ رکھیں۔ خدا ضرور کوئی سبیل نکال دے گا۔

نیفی اپنے بھائیوں کے ساتھ آبائی گھر گیا اور وہاں سے تمام سونا چاندی اکھٹا کر لیا۔ پھر چاروں بھائی لابن کے پاس گئے اور اسے پیش کش کی وہ سونے چاندی کے بدلے پیتل کی تختیاں انہیں دے دے۔ لابن نے سونا چاندی لے لیا لیکن پیتل کی تختیاں دینے کی بجائے اپنے ملازموں کو اشارہ کیا کہ وہ چاروں بھائیوں کو قتل کر دیں۔ نیفی اور اس کے بھائی بڑی مشکل سے جانیں بچا کر وہاں سے بھاگے اور شہر سے باہر ایک غار میں پناہ لی۔ لامن اور لیموئیل اپنی جانوں کو یوں خطرے میں ڈالنے پر مشتعل ہو گئے اور انہوں نے نیفی اور سام کو چھڑیوں سے مارنا شروع کر دیا۔ اچانک خدا کا ایک فرشتہ غار میں نمودار ہوا اور اس نے لامن اور لیموئیل کو چھوٹے بھائیوں کو پیٹنے سے روک دیا۔ پھر اس نے ان بھائیوں کو نصیحت کی کہ وہ خدا پر بھروسہ رکھیں۔ خدا پیتل کی تختیاں حاصل کرنے میں ان کی مدد کرے گا لیکن انھیں نیفی کو اپنا رہنما بنا کر اس کی ہدایات پر عمل کرنا ہو گا۔

فرشتہ چلا گیا تو نیفی نے بھائیوں کو سمجھایا کہ وہ لابن سے خوفزدہ نہ ہوں۔ وہ انھیں لے کر دوبارہ یروشلم چلا گیا۔ نیفی کے بھائی شہر کی فصیل یا دیوار کے پیچھے چھپ گئے اور نیفی لابن کے گھر طرف چل پڑا۔ اسے لابن کے گھر کے باہر کوئی آدمی نشے میں مدہوش زمین پر لیٹا ہوا ملا۔ یہ آدمی لابن تھا۔ اس کی تلوار بھی اس کے ساتھ زمین پر پڑی تھی۔ نیفی نے تلوار اٹھا لی۔ اسی لمحے روح القدس وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے نیفی سے کہا کہ لابن کو قتل کر دو۔ نیفی لابن کو قتل کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن روح القدس کے مسلسل اصرار پر بالآخر اس نے تلوار کے ایک ہی وار سے لابن کا سر تن سے جدا کر دیا۔

پھر وہ لابن کے کپڑے اور زرہ پہن کر اس کے گھر داخل ہو گیا۔ لابن کے نوکر ضورام نے اسے لابن سمجھ لیا۔ نیفی نے ضورام کو پیتل کی تختیاں لانے کے لیا کہا۔ ضورام تختیاں لے آیا۔ پھر نیفی نے اسے اپنے پیچھے پیچھے آنے کو کہا۔ ضورام نے اپنے آقا کے حکم کی تعمیل کی۔ وہ شہر کی فصیل کے پاس اس جگہ پہنچے جہاں نیفی کے بھائی چھپے بیٹھے تھے۔ بھائی اسے لابن سمجھ کر بھاگنے لگے۔ نیفی نے انھیں آواز دی تو وہ رک گئے۔ اسی لمحے ضورام کو احساس ہوا کہ جس کے پیچھے وہ آ رہا تھا وہ اس کا آقا لابن نہیں تھا۔ اس نے بھاگنے کی کوشش کی۔ نیفی نے اسے بازو سے پکڑ لیا اور تسلی دی کہ اگر وہ ان کے ساتھ چلا آئے تو اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔ ضورام مان گیا۔

اپنے بیٹوں کو صحیح سلامت آتے دیکھ کر لحی اور ساریا بہت خوش ہوئے اور خدا کا شکر ادا کیا۔ نیفی نے پیتل کی تختیاں باپ کے حوالے کر دیں۔ لحی نے تختیوں پر لکھی ہوئی تحریریں اپنے بیٹوں کو پڑھ کر سنائیں۔ ان میں دنیا اور آدم و حوا کی تخلیق کا ذکر تھا اور خدا کے برگزیدہ نبیوں کے حالات، واقعات، اور کلمات بھی۔ لحی اور نیفی خدا کے حکم کی تعمیل کرکے اور پیتل کی تختیاں حاصل کرکے بہت خوش تھے۔ لحی نے تختیوں کو صندوق میں محفوظ کر لیا تاکہ وہ سفر میں بھی ان کے ساتھ رہیں اور وہ اپنے بچوں کو تختیوں پر درج خدائی احکامات یاد دلاتے رہیں۔

خدا چاہتا تھا کہ لحی کے بیٹوں کی بیویاں اور بچے ہوں اور وہ اپنے بچوں کو انجیل مقدس کی تعلیم دیں۔ خدا نے لحی کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹوں کو یروشلم میں اسمٰعیل کے خاندان کے پاس بھیجے۔ نیفی اور اس کے بھائی یروشلم گئے اور اسمٰعیل کو خدا کا پیغام پہنچایا۔ اسمٰعیل نے ان کی باتوں کا اعتبار کیا اور وہ اپنی بیوی اور بیٹیوں کو لے کر لحی کے بیٹوں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گیا۔ ابھی وہ جنگل میں مصروف سفر تھے کہ لامن، لیموئل، اور اسمٰعیل کے خاندان کے کچھ افراد یروشلم واپس جانے کے لئے اصرار کرنے لگے۔ نیفی نے انھیں خدا کے احسانات یاد دلائے اور سفر جاری رکھنے پر آمادہ کر لیا۔

نیفی، اس کے بھائیوں، اور ضورام نے اسمٰعیل کی بیٹیوں سے شادیاں کر لیں۔ خدا نے لحی کو ایک بار پھر رخت سفر باندھنے کا حکم دیا۔ اگلی صبح لحی کو خیمے سے باہر پیتل کی ایک گیند ملی جسے لحونا کہتے تھے اور یہ کمپاس یا قطب نما کا کام دیتی تھی۔ یہ جنگل میں ایک سمت اشارہ کر رہی تھی۔ لحی کے خاندان نے خیمے اکھاڑے، خوراک اور اجناس کے بیج اکھٹے کئے، انھیں اونٹوں پر لادا، اور لحونا کی رہنمائی میں نامعلوم منزل کی طرف چل پڑے۔ وہ کئی دن جنگل میں چلتے رہے اور اس دوران نیفی اور اس کے بھائی تیر کمان سے جنگلی جانوروں کا شکار کرکے خاندان کے افراد کے پیٹ بھرتے رہے۔

نیفی کی فولاد کی کمان ٹوٹ گئی اور اس کے بھائیوں کی کمانیں بھی کمزور ہو گئیں۔ وہ شکار نہ کر سکے اور بھوک سے ان کا برا حال ہو گیا۔ لامن اور لیموئل سخت غصے میں تھے۔ نیفی نے لکڑی کی نئی کمان بنا لی اور باپ لحی سے پوچھا کہ شکار کے لئے کہاں جائے۔ لحی نے لحونا کی طرف دیکھا۔ نیفی اس سمت چل پڑا جدھر لحونا اشارہ کر رہی تھی۔ اسے وہاں شکار کے لئے بہت سے جانور مل گئے۔ لحونا اس وقت رہنمائی کرتی تھی جب لحی کے خاندان کے افراد مستعدی، ایمانداری، اورفرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے تھے۔

یہ سفر آسان نہیں تھا۔ لحی اور اس کے خاندان کے افراد اکثر تھکاوٹ، بھوک، اور پیاس نڈھال ہو جاتے۔ اس دوران اسمٰعیل کا انتقال ہو گیا اور اس کی بیٹیاں لحی سے شکایات کرنے لگیں۔ ادھر لامن اور لیموئل بھی باپ سے خوش نہیں تھے۔ ان کو یقین نہیں تھا کہ خدا لحی اور نیفی سے ہمکلام ہوا تھا۔ وہ لحی اور نیفی کو قتل کرکے یروشلم واپس جانے کی منصوبہ بندی کرنے لگے۔ اس موقع پر خدا نے مداخلت کی۔ خدا لامن اور لیموئل سے مخاطب ہوا اور انہیں سمجھایا کہ وہ لحی اور نیفی سے بدظن نہ ہوں۔

خدا کی آواز سن کر لامن اور لیموئل نے توبہ کی اور اپنے برے ارادوں سے باز آ گئے۔ خدا نے انھیں ہمت اور طاقت دی۔ یوں خاندان لحی نے کٹھن سفر جاری رکھا۔ اس سفر کے دوران لحی کے بیٹے کئی بچوں کے باپ بن گئے۔ لحی کی بیوی ساریا نے بھی دو مزید بیٹوں کو جنم دیا۔ ان کے نام یعقوب اور یوسف تھے۔

آٹھ سال مسلسل سفر کرنے کے بعد خاندان لحی سمندر کے کنارے پہنچ گیا۔ وہاں انھیں پھل اور شہد مل گئے۔ لحی نے اس جگہ کا نام فراوانی رکھ دیا۔

لحی نے خواب میں زندگی کا درخت دیکھا جس پر سفید پھل لگے ہوئے تھے۔ جو بھی اس لذیذ پھل کو کھاتا وہ خوشی و مسرت سے سرشار ہو جاتا۔ لحی نے یہ پھل کھایا اور اس کا سینہ خوشی و انبساط سے لبریز ہو گیا۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا خاندان بھی یہ پھل کھائے اور خوشیاں سمیٹے۔ اس نے درخت کے نزدیک ایک دریا بہتے دیکھا۔ اس کے منبع پر اس کی بیوی اور بیٹے کھڑے تھے۔ اس نے انہیں پکارا اور زندگی کے درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی۔ سرایا، نیفی، اور سام نے پھل کھایا لیکن لامن اور لیموئل نے نہیں۔ لحی نے بہت لوگوں کو درخت کی طرف جاتے اور سفید پھل کھاتے دیکھا۔ تاریکی ہونے کی وجہ سے کچھ لوگ راستے سے بھٹک بھی جاتے یا دریا میں گر کر ڈوب جاتے۔ دریا کے دوسری طرف ایک بہت بڑی عمارت تھی۔ وہاں بھی بہت سے لوگ جمع تھے اور وہ درخت کا پھل کھانے والوں کا مزاق اڑا رہے تھے۔

لحی اور اس کے خاندان کو سمندر کے نزدیک قیام کئے چند یوم ہی گزرے تھے کہ خدا نے نیفی کو ایک کشتی تیار کرکے ارض موّعود یعنی امریکہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ نیفی نے عذر پیش کیا کہ وہ کشتی بنانا نہیں جانتا۔ خدا نے وعدہ کیا کہ وہ اسے کشتی بنانا سکھائے گا۔ جب نیفی نے کشتی بنانے کا ذکر لامن اور لیموئل سے کیا تو وہ اس کا مزاق اڑانے لگے اور اس کام میں اس کی مدد کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ نیفی نے انھیں یاد دلایا کہ وہ نہ صرف خدا کے فرشتے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں بلکہ خدا کی آواز بھی سن چکے ہیں۔

لہذا توبہ کریں اور یقین رکھیں کہ خدا سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔ لامن اور لیموئل غصے میں آ گئے۔ وہ نیفی کو اٹھا کر سمندر میں پھینکنے کے ارادے سے اس کی طرف بڑھے۔ نیفی نے انھیں خبردار کیا کہ اس کے پاس خدا کی طاقت ہے۔ خدا کے حکم پر نیفی نے لامن اور لیموئل کو ہاتھوں سے چھوا۔ انھیں زور کا جھٹکا لگا۔ تب وہ سمجھ گئے کہ خدا نیفی کے ساتھ ہے۔ انہوں نے توبہ کی اور کشتی بنانے میں نیفی کی مدد کرنے لگے۔ خدا نے نیفی کو دھاتوں سے اوزار بنانے اور پھر ان اوزاروں سے کشتی تعمیر کرنے کا طریقہ سکھا دیا تھا۔

کشتی تیار ہو گئی تو انہوں نے اسے پھلوں، گوشت، شہد، اور مختلف اقسام کے بیجوں سے بھر دیا۔ تیز سمندری ہواؤں نے کشتی کو ارض موعود کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔ سفر کی صعوبتوں نے لامن اور لیموئل کو نیفی کے خلاف بھڑکا دیا۔ وہ نیفی سے جھگڑنے لگے۔ نیفی نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی تو وہ اور زیادہ مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے نیفی کو کشتی کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ لحی نے بیٹوں کو سمجھنے کی ناکام کوشش کی۔ نیفی کے بیوی بچوں نے بھی التجائیں کیں لیکن لامن اور لیموئل پر کوئی اثر نہ ہوا۔ لامن اور لیموئل کی بد اعمالیوں کی وجہ سے قطب نما لحونا نے بھی ان کی رہنمائی کرنا چھوڑ دی۔ پھر سمندر طوفان نے انھیں آ گھیرا۔ یہ طوفان اس قدر شدید تھا کہ کشتی ڈوبنے لگی۔ لامن اور لیموئل سمجھ گئے کہ یہ خدا کا عتاب تھا۔ انہوں نے توبہ کی اور نیفی کی رسیاں کھول کر اسے آزاد کر دیا۔ نیفی نے خدا سے دعا کی اور طوفان تھم گیا۔ پھر نیفی نے لحونا کو اٹھایا اور اس نے پھر سے رہنمائی شروع کر دی۔ یوں ان کا ارض موعود کی طرف سفر جاری رہا۔

ارض موعود امریکہ پہنچنے کے بعد انہوں نے ساحل کے قریب خیمے نصب کر دئیے۔ پھر انہوں نے زمین کو ہموار کیا اور بیج کاشت کر دئیے۔ انہوں نے وہاں بہت سے جانور مثلاگائے، بیل، گدھے، اور گھوڑے دیکھے۔ نیز انھیں وہاں سونا، چاندی، تانبا، لوہا، اور بہت سی دھاتیں ملیں۔ خدا نے نیفی کو حکم دیا کہ وہ لکھنے کے لئے دھات کے اوراق تیار کرے۔ نیفی نے حکم کی تعمیل کی۔ پھر اس نے دھات کے ان اوراق پر اپنے خاندان کی تاریخ، سفر کے حالات، اور خدا کے احکامات لکھے۔

لحی اب بوڑھا ہو چکا تھا۔ مرنے سے پہلے اس نے بیٹوں کو خدا کے احکامات کی پابندی کرنے کی تلقین کی اور اپنے پوتے پوتیوں کے لئے دعا کی۔ لحی کے مرنے کے بعد لامن اور لیموئل ایک بار پھر نیفی کے خلاف سرگرم ہو گئے۔ انہیں اپنے چھوٹے بھائی کی سرداری قبول نہ تھی۔ انہوں نے لحی پر قاتلانہ کیا لیکن خدا نے نیفی کو بچا لیا۔ خدا نے نیفی کو بیوی بچوں اور مقلدین سمیت جنگل میں نکل جانے کا حکم دیا۔ نیفی اور اس کے پیروکار ایک لمبے سفر کے بعد ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جو رہائش یا آبادی کے لئے موزوں تھی۔

انہوں نے اس جگہ کو نیفی کا نام دیا اور وہاں آباد ہو گئے۔ نیفی اور اس کے پیروکار ایماندار، محنتی، اور خدا کے احکامات پر عمل کرنے والے تھے۔ نیفی نے اپنے ساتھیوں کو لکڑیوں اور دھاتوں سے عمارتیں تعمیر کرنے کا فن سکھایا۔ انہوں نے نہ صرف خوبصورت گھر بنائے بلکہ خدا کی عبادت کے لئے ایک عالیشان ٹمپل یا معبد بھی تعمیر کر دیا۔ خدا نیفیوں (نیفی اور اس کے ساتھیوں) سے بہت خوش تھا۔

لامن، لیموئل، اور ان کے پیروکار خود کو لامنی کہتے تھے۔ لامنی بے ایمان، کاھل، اور بدکردار تھے۔ ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے خدا نے ان پر لعنت بھیجی اور ان کا رنگ کالا ہو گیا۔ لامنی نیفیوں سے نفرت کرتے اور ان کی جان کے درپے رہتے تھے۔

نیفی جب بستر مرگ پر تھا تو اسے نے دھات کی تختیاں یا اوراق اپنے چھوٹے بھائی یعقوب کے سپرد کر دئیے اور اسے نصیحت کی کہ وہ ان اوراق پر صرف وہ باتیں لکھے جن سے لوگوں کا یسوع مسیح پر ایمان پختہ ہو۔ نیز اس نے یعقوب کو اپنا جانشین اور چرچ کا پادری مقرر کر دیا۔ نیفی کے مرنے کے بعد نیفیوں میں اختلافات شروع ہو گئے۔ بہت سے لوگ گمراہ ہو گئے۔ ان کی قیادت ایک مرتد شیرم کر رہا تھا۔ وہ اکثر یعقوب سے تکرار کرتا اور یسوع مسیح کا انکار۔ وہ لوگوں سے کہتا تھا کہ مسیح نہ پہلے کبھی تھا، نہ اب ہے، اور نہ ہی آئندہ آئے گا۔ خدا نے شیرم کو ہلاک کر دیا۔ شیرم نے مرنے سے پہلے اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ وہ جھوٹا تھا۔ یسوع مسیح ضرور آئے گا۔ لوگ تائب ہو گئے اور سب نیفی امن و چین سے رہنے لگے۔

یعقوب کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا انوس دھات کے اوراق کا وارث اور نیفیوں کا رہنما بنا۔ لامنی نیفیوں سے نفرت کرتے، لڑتے جھگڑتے، اور دھات کے اوراق پر لکھے ہوئے مقدس تاریخی اور الہامی ریکارڈ کو تلف کرنے کی کوششیں کرتے رہتے تھے۔ اس کے باوجود انوس نیفیوں کے ساتھ ساتھ لامنوں کی اصلاح اور نجات کے لئے بھی خدا سے دعائیں مانگتا تھا۔ بالآخر خدا نے وعدہ کیا کہ ایک دن وہ لامنوں پر بھی ہدایت کے دروازے کھول دے گا۔ لیکن نیفیوں کی بار بار کوششوں کے باوجود لامنوں نے انجیل مقدس کی تعلیمات پر کان دھرنے سے انکار کر دیا۔

انوس کے بعد یروم، عیمرون، مکیس،، ابیندوم، عیمالیقی، مورمن، اور مرونی دھات کے اوراق پر نیفیوں کی تاریخ لکھتے گئے۔ ان میں قابل ذکر شخصیات بنیامین (بنجامین) اور نوح ہیں۔ نیفیوں نے بنیامین کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ بنیامین نے دوسرے راست باز افراد کے ساتھ مل کر ملک میں امن و امان قائم کر دیا۔ وہ لوگوں کو خدا کے احکامات یاد دلاتا رہتا۔ نیز اس نے لوگوں کو خوش خبری دی کہ یسوع مسیح جلد ہی دنیا میں تشریف لے آئیں گے اور ان کی ماں کا نام میری (مریم) ہو گا۔ وہ بیماروں کو شفا، اندھوں کو بینائی، بہروں کو سماعت، اور گونگوں کو گویائی دیں گے۔ نیز وہ مردوں کو زندہ کریں گے۔ لیکن گمراہ اور بدکردار لوگ یسوع مسیح پر کوڑے برسائیں گے اور انھیں مصلوب کر دیں ہے۔ درحقیقت یسوع مسیح انسانوں کے گناہوں کو دھونے کے لئے خود کو قربان کر دیں گے۔ لیکن تین دن بعد وہ پھر جی اٹھیں گے۔ اس کے بعد جو انسان بھی یسوع مسیح پر ایمان لائے گا اس کے سارے گناہ معاف ہو جائیں گے اور وہ نجات پائے گا۔

بنیامین کے برعکس نوح ایک ظالم اور ہوس پرست بادشاہ تھا۔ اسے رعایا کی فلاح و بہبود سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ سونا چاندی اور مال و دولت جمع کرنے اور عیش و عشرت کی زندگی گزرنے میں مگن رہا۔ لامنوں نے حملہ کیا تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ میدان جنگ سی بھاگ کیا۔ بعد میں اس کے اپنے ہی ساتھیوں نے اسے قتل کر دیا۔

نیفیوں کے حکمرانوں میں نبی بھی تھے اور بادشاہ بھی۔ ان کے آخری نبی مورمن اور اس کا بیٹا مرونی تھے۔ مرونی کو سونے کے اوراق (مورمن کی کتاب) اپنے باپ مورمن سے ورثے میں ملی۔ اس نے کتاب میں اپنے زمانے کے واقعات کا اضافہ کر دیا۔ لامنوں میں کوئی نبی نہیں آیا۔ نیفیوں اور لامنوں میں خونریز جنگیں ہوتی رہی جن میں دونوں طرف کے ہزاروں افراد کام آئے۔ اس سلسلے کی آخری اور سب سے بڑی جنگ کمورا کی پہاڑی پر لڑی گئی۔ اس جنگ میں دو لاکھ تیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ مرنے والوں میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ لامنوں نے چن چن کر ہر اس نیفی کو مار دیا جو یسوع مسیح پر ایمان رکھتا تھا۔ مرونی کسی طرح چھپ چھپا کر میدان جنگ سے نکل گیا۔ اس نے سونے کے اوراق کی شکل میں مورمن کی کتاب مکمل کی اور مرنے سے پہلے ان اوراق کو کمورا کی پہاڑی میں دفن کر دیا۔

2 Comments

  1. یونس خان says:

    لگتا ہے کہ مورمن ، عیسائیوں کے احمدی ہیں۔۔۔۔

  2. امیر نواز says:

    مذہب کا المیہ یہی ہے کہ یر فرقے کا پیروکار دوسرے فرقے کو کافر سمجھتا ہے اور جو زیادہ چلاک ہوتے ہیں وہ اپنا فرقہ بنا لیتے ہیں۔۔ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *