شرفا بازاری زبان کیوں بولتے ہیں

بیرسٹر حمید باشانی

شائستگی کہاں گئی۔ تہذیب و اخلاق کیا ہوئے؟ شرفا حیران ہیں، اہل زبان پریشان ہیں۔

بہت لوگوں کو اس پر افسوس ہے کہ ہماری سیاست سے شائستگی کم ہوتی جا رہی ہے۔ کچھ قومی لیڈر جن الفاظ میں ایک دوسرے کو یاد فرماتے ہیں، جن القابات سے نوازتے ہیں، وہ حیران کن اور افسوسناک ہے۔ 

یہ صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں، دنیا کہ چند دوسرے ممالک میں بھی ایسا ہو رہا ہے۔ اگر غور سے دیکھا جائے تو جہاں کئی بھی ایسا ہو رہا ہے وہاں تہذیب کا زوال ہے۔ تہذیب کی عام طور پر تسلیم شدہ تعریف یہ ہے کہ انسانی سماج کی ایک ایڈوانس حالت، جس میں اونچے درجے کی ثقافت، سائنس، صنعت اور حکومت قائم ہو چکی ہو۔ ان چیزوں میں صنعت، سانئس، اور حکومت کی بات تو سمجھ میں آتی ہے۔ یعنی ایک ایسا سماج جس میں اونچے درجے کی صنعت کاری ہو چکی ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں قابل ذکر ترقی ہو چکی ہو۔ اور ایک منظم ، جدید اور موثر حکومت قائم کر چکی ہو، تو اس کا مطلب ہے ، وہ سماج تہذیب یافتہ ہو چکا۔ لیکن تہذیب کی اس اس تعریف کا اہم عنصرکلچر ہوتا ہے۔ گویا ایک ترقی یافتہ اور اعلی درجے کا کلچر تہذیب کی پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ 

کلچر کیا ہے ؟ انسانوں کے ایک گروہ کا رہنے سہنے کا طریقہ کار، رسم و رواج، عقائد، جو ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے رہتے ہیں کلچر کہلاتا ہے۔ کلچر کی دو قسمیں ہوتی ہیں، ایک مادی اور دوسرا غیر مادی کلچر۔ مادی کلچر میں انسان کا رہنا سہنا، کھاناپینا، طرز تعمیر، آرٹ وغیرہ شامل ہیں۔ غیر مادی کلچر میں انسان کا مذہب، عقیدہ، خیالات ، نظریات وغیرہ آتے ہیں۔ زبان انسانی کلچر کا ایک بڑا مظہر ہے۔ انسان لکھنے پڑھنے میں کس قسم کی زبان استعمال کرتا ہے، وہ دوسروں کے ساتھ مکالمے میں کیسے الفاظ استعمال کرتا ہے، کس انداز میں دوسروں کو مخاطب کرتا ہے، ایک انسان دنیا کے بارے میں کیا سوچتا ہے ، دنیا کو کس نظر سے دیکھتا ہے ، اس سب باتوں پر زبان کا بڑا اثر ہوتا ہے۔ یہ دراصل آپ کی تہذیبی ترقی کی سطح اورمعیار کی عکاس ہوتی ہے۔ 

الفاظ کا چناو اور زبان کا استعمال ہر تہذیب کے لیے اہم رہا ہے۔ آواز اونچی کرنا، کرخت لہجے میں بات کرنا، سخت زبان استعمال کرنا، نا شائستہ الفاظ کا استعمال ماضی میں ہر سماج کا ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ دنیا میں سکولوں کے آغازاور تعلیم عام ہونے کے بعد بچوں کی بنیادی اخلاقی تربیت میں دنیا کے بیشتر ممالک میں اس بات پر زور دیا جاتا رہا کہ بچے گفتگوہ کے انداز اور آداب سے آشنا ہوں۔ اس باب میں بعض مغربی ترقی یافتہ ممالک میں بہت زور دیا گیا۔ اس خصوصی توجہ کے بہت بڑے نتائج نکلے۔ چنانچہ جن ممالک میں گالی گلوچ یا بیہودہ زبان کا استعمال بہت زیادہ تھا، اس میں خاطر خواہ کمی آئی۔ یورپ کے بعض ممالک اور چاپان وغیرہ میں تعلیمی اداروں اور پڑھے لکھے حلقوں میں زبان کو بڑے پیمانے پر گالی گلوچ اور بازاری زبان سے پاک کر دیا گیا۔

اگرچہ امریکہ سمیت کئی دوسرے ممالک میں یہ مسئلہ اب بھی موجود ہے، لیکن آبادی میں اس بات کا اجماع ضرور ہے کہ جس حد تک ہو سکے ایسے ناپسندیدہ الفاط کے استعمال سے اجتناب بہتر ہے۔ خصوصا بچوں کی موجود گی میں بیہودہ الفاظ کا استعمال بہت برا تصور کیا جاتا ہے، اگرچہ اب بھی عامیانہ اور بازاری زبان کافی بڑے پیمانے پر خاص قسم کی جرم و سزا کی کہانیوں پر مبنی ادب یاپر تششد فلموں وغیرہ میں کثرت سے استعمال ہوتی ہے، او رقانونی اعتبار سے ایسی فلمیں عموما سولہ یا اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے لیے ممنوع ہوتی ہیں۔

سیاست میں غیر شائستہ ، غیر مہذب اور بیہودہ زبان کا استعمال ہمیشہ سماج کے کچھ مخصوص گروہوں اور طبقات میں مروج رہا ہے، لیکن انسانی تہذیب میں اس کو کبھی بھی قبول نہیں کیا گیا۔ ۔ لیکن گزشتہ کچھ دہائیوں سے دیگر تصورات کی طرح اس میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ آج سے دو عشرے پہلے کوئی امریکی صدارتی امیدوار یا منتخب صدر یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ سر عام ایسے الفاظ استعمال کر سکتا ہے ، جو آج صدر ٹرمپ کے لیے ایک عام سی بات بلکہ روزانہ کی مشق ہے۔ صدر ٹرمپ نے متعدد بار میڈیا کے سامنے یا عام مجمعے میں وہ الفاظ استعمال کیے جن کوبڑی آسانی سے، بلا شک و شبہ گستاخی، بد تمیزی، امتیازی، توہین آمیز وغیرہ کے زمرے میں شمار کیاجاسکتا ہے۔ اپنے صدر کے منہ سے ایسے الفاظ کئی امریکیوں کے لیے شروع شرو ع میں حیرت اور صدمے کا باعث تھے۔

بالخصوص سکولوں میں اساتذہ کے لیے بچوں کے سامنے ایک صدر کی طرف سے ایسی زبان کے استعمال کی وضاحت ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ لوگوں ایک اچھی خاصی تعدادصدر ٹرمپ کو ایک خاص کردار میں دیکھنے کی عادی ہو تی جا رہی ہے، اور اس کی بعض قابل اعتراض باتوں پر اب ویسا شدید ردعمل نہیں ہوتا جو شروع شروع میں ہوتا تھا۔

یہ خیر مغرب کی بات ہے، جس کو ویسے بھی ہمارے دانشور اور کچھ علما شیطان کاگڑھ، اور ایسی زہریلی یا گلی سڑی تہذیب کہتے ہیں ، جو خود اپنے خنجر سے خود کشی کر رہی ہے، مگر ثنا خوان تقدیس مشرق کا حال اس سے کوئی زیادہ مختلف نہیں ہے۔ 

ہمارے ہاں عام اخلاقی اعتبار سے بھی، اور مذہبی نقطہ نظر سے بھی شائستگی پر بہت زور دیا گیا۔ ہمارے ہاں روایتی طور پر شرفا کی زبان اور عامیانہ یا بازاری زبان کے درمیان ہمیشہ ایک فرق کیا جاتا رہا ہے۔ اور تعلیم و تربیت میں اس بات پر خاص زور دیا جاتا رہا کہ کن الفاظ کا استعمال شرفا کو زیب دیتا ہے ، اور کن کا نہیں۔ مذہبی اعتبار سے تو شائستگی اور اخلاق کے بارے میں بے شمار احادیث اور خلفائے راشدین کے اقوال موجود ہیں۔

ہمارے نرگسیت پسند دانشور سمجھتے ہیں کہ ہم مشرقی اور اسلامی تہذیب کے وارث ہونے کے ناطے شائستگی کے بہت ہی اعلی درجے پر فائز ہیں، اور اس معاملے میں باقی اقوام سے برتر ہیں۔ یا اس میدان میں ہمارا کوئی مد مقابل نہیں۔ مگر بد قسمتی سے حقیقی دنیا میں گزشتہ کئی سالوں سے زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح ہم اس میدان میں بھی تیزی سے روبہ زوال ہیں۔

روایتی طور پر سیاست دان ہمیشہ ہی کسی نہ کسی شکل میں ایک دوسرے کا مذاق اڑانے اور کبھی کبھار تذلیل کرنے کی بھی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن اس میدان میں قیام پاکستان کے بعد بہت تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت کے رہنماوں کا اس کے بیس سال بعد آنے والے رہنماوں سے کیا جائے تو بہت نمایاں فرق نظر آئے گا۔ 

اس طرح ستر کی دھائی کے پاکستان کے سیاسی رہنماوں کی تہذیب اور شائستگی کامقابلہ آج کے رہنماوں سے کرنے والے کو حیرت اور افسوس ہوتا ہے۔ 

ہمارے کچھ رہنما ایک دوسرے کے خلاف جو زبان استعمال کرتے ہیں، اس کو کسی بھی طریقے سے تہذیب اور شائستگی کے داہرے میں نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ایک تشویشناک بات ہے۔ مقبول سیاسی اور مذہبی قیادت نوجوان نسل کے کردار اور شخصیت پر اثر اندوز ہوتی ہے۔ بات صرف سیاست دانوں تک محدود ہوتی تو شائد اتنا بڑا مسئلہ نہ ہوتا، مگر ہمارے مذہبی رہنما، کچھ علمائے کرام، مفتی صاحبان سیاست دانوں سے بھی کئی قدم آگے نکل گئے ہیں۔ آئے روزہم لوگ کتنے ہی وڈیو ز دیکھتے ہیں، جن میں منبرو محراب سے گالیوں اور بیہودہ زبان کی بوچھاڑ نکلتی رہتی ہے۔ یہ لوگ صرف نوجوان نسل کو ہی متاثر نہیں کرتے، مذہبی اور روحانی پیشوائیت کے حوالے سے عام عوام بھی ان کی بول چال اور انداز و اطوار سے متاثر ہوتے ہیں۔ 

حاصل کلام یہ ہے کہ سیاسی قیادت اور مذہبی پیشوایت کے نام پر ہمارے ارد گرد آئے روز جو کچھ کہا جا رہا ہے، کیا جا رہا ہے، اس میں سے بہت کچھ سیاسی و سماجی اخلاقیات اور مذہبی تعلیمات سے براہ راست متصادم ہے۔ انسان کی زبان اس کے رحجان طبع، کرادر اور شخصیت کی عکاس ہوتی ہے۔ ایکانسان کی زبان سے اس کے کردار اور شخصیت کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شرفا کے منہ سے بازاری اور عامیانہ زبان ان کے اندر موجود شخصی اور فکری تضاد اور دہری شخصیت کی عکاس ہے۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *