جماعت احمدیہ اورتحریک آزادی پاکستان

اصغر علی بھٹی مغربی افریقہ

جب بھی تحریک پاکستان  میں جماعت احمدیہ کی شمولیت اور قربانیوں کا ذکر ہوتا ہے تو دو قسم کی آرا ء سامنے  آتی ہیں ۔ اول یہ کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ۔علامہ اقبالؒ نے خواب دیکھا اور قائد اعظم نے  فلاں فلاں علماء و مشائخ کے تعاون  و برکات سے اس کو بنایا اور بنارس  سنی کانفرنس کی وجہ سے ایساممکن ہوا۔

دوسرا یہ کہ احمدیوں کی کونسی شمولیت ؟ کونسی قربانیاں؟ ’’یہ جماعت تو انگریز کی ایجنٹ تھی ‘‘۔’’ہنود کی ایجنٹ تھی ‘‘۔’’یہودکی ایجنٹ تھی ۔اسرائیل کی  ایجنٹ تھی بلکہ اسرائیلی فوج میں600 احمدی  شامل ہیں ‘‘ ۔ ’’ڈاکٹر عبدالسلام نے  اسلامی ایٹم بم کا نقشہ امریکہ کے یہودیوں کو بیچ دیا ‘‘ وغیرہ وغیرہ  ۔

اس رائے کے مقابل کچھ  دھیمی دھیمی سے آوازیں بھی  آتی ہیں کہ دو قومی نظریہ  اور پاکستان کا نعرہ ہی غلط تھا   اور جماعت احمدیہ کا اس تحریک کا ساتھ دینا اس  سے بھی بڑی غلطی تھی یعنی دو انتہائیں۔ ایک ماننے کو تیا ر نہیں تو دوسرا مان کر لتاڑنے پر تلا ہوا ہے چنانچہ  چند دن پہلے خاکسار نے سوشل میڈیا پر ایک مضمون لکھا تھا کہ تحریک پاکستان  کے دنوںمیں جب مولوی حامد بدیوانی صاحب نے مسلم لیگ سے مطالبہ کیا کہ احمدیوں کو مسلم لیگ میں شامل ہونے سے روکاجائے اور ان کا ووٹ نہ لیا جائے تو قائد اعظم نے اس مطالبے کو سختی سے ریجیکٹ کر دیا کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ یہ ہندو سازش ہے  جس سے پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت اقلیت میں بدل جائے گی۔ بلکہ پاکستان بننے کے بعد وزارت خارجہ جیسے اہم عہدے کا قلم دان بھی خود ایک احمدی کے سپرد فرمایا۔

میری ان گزارشات پر ایک صاحب علم دوست نے درج ذیل تبصرہ بھجوایا ہے ’’ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ کانگریس کا فیصلہ درست تھا اور جناح اور اس کے ساتھیوں کا فیصلہ غلط ۔جن ہندووں سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں انہی ہندووں کے ملک میں آپ کی عباد ت گاہیں بھی محفوظ ہیں اور آپ تبلیغ میں بھی آزاد ہیں۔ جب کہ پاکستان میں احمدی کتوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہمارا پرابلم یہ ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکنے کے لئے تیا ر نہیں ۔۔ہم میں یہ ہمت  ہونی چاہئے  کہ ہم اپنے بزرگوں کے فیصلے پر تنقید کر سکیں‘‘۔

  چونکہ یہ ایک علمی  اور صحت مند بحث ہے اس لئے خاکسار  اس تبصرے کو ویلکم کہتا ہے اور اس پر اپنا جواب اور اپنی مزید رائے دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا  ہے۔

    اس تبصرے میں دو باتیں ہیں جناح کادو قومی نظریہ غلط جبکہ کانگریس کی متحدہ ہندوستان کی بات درست  اور دوسری بات کہ جماعت احمدیہ کا اس تحریک کا ساتھ دینا ان کی غلطی تھی اور ا ب پاکستان میں جو ان کے ساتھ سلوک ہورہا ہے یہ ان کے بزرگوں کے غلط فیصلے کی پاداش ہے ۔

آج کی تحریر میں خاکسار اپنی گزارشات صرف اس سوال تک محدود رکھے گا کہ کیا جماعت احمدیہ نے تحریک آزادی پاکستان کا ساتھ دے کر غلطی کی؟ جواب سادہ اور دو ٹوک ہے کہ بالکل نہیں ۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ کیسے؟جبکہ آپ کو تو اپنا عقیدہ بھی رکھنے کی اجازت نہیں ۔ نہ صرف کافر قرار دئیے جا چکے ہیں بلکہ کسی بھی اسلامی شعار کے استعمال پر 3 سال جیل ۔آپ کو  اسلام علیکم کہنے تک پر جیل میں بند کر دیا جاتا ہے ۔ آپ کی مساجد کو گرایااور جلایا جا رہا ہے۔ گھروں اور مساجد پر لکھے کلمہ تک کو ہتھوڑے مار مار کر توڑا جا رہا ہے۔آپ کی جان مال کچھ بھی یہاں محفوظ نہیں ۔لاہور میں آپ کے 100 سے زائد بندے مسجد میں بموں سے اُڑا دئیے جاتے ہیں کوئی وزیر  کوئی مشیر  کوئی وزیر اعلیٰ  کوئی  اے سی ،ڈی سی  آپ کے گھرتک نہیں گیا۔آئے روز آپ کے افراد قتل ہوتے ہیں کوئی ایف آئی آر تک نہیں کاٹتا۔

ٹی وی پر بیٹھ کر جو شخص جو چاہے آپ کے بارے  میں بول سکتا ہے۔آپ کی اخبارات و رسائل سب بین ہیں۔قومی اسمبلی میں تقاریر ہوتی ہیں کہ ان کے فلاں فلاں محکموں میں داخلے پر پابندی عائد کر دیں  اس سب سلوک کے باوجود آپ کہتے ہیں کہ آپ نے تحریک پاکستان کا ساتھ دے کر غلطی نہیں کی  ؟؟میرا جواب پھر وہی ہو گا کہ بالکل نہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نہیں تھاکہ چونکہ اس وقت  یعنی تحریک آزادی پاکستان کے دنوں میں کوئی میٹھے میٹھے نعرے لگ رہے تھے تو جماعت احمدیہ  کی قیاد  ت جذباتی ہو گئی اور مستقبل کے خطرات کو بھانپ ہی نہ سکی  اور تحریک پاکستان کا ساتھ دے بیٹھی ۔اگر ایسی بات ہوتی تو یہ تبصرہ حق بجانب تھا ۔ جبکہ حقائق اس کے یکسر مختلف ہیں ۔ نہ صرف جماعت احمدیہ کی قیادت کو پورا احساس تھا کہ پاکستان میں برادران یوسف ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں  گےبلکہ جماعت کے مخالفین کو بھی احساس تھا ۔ اور یہ کوئی سینہ گزٹ بات نہ تھی اس پر ہندوستانی پریس میں کھل کر بات ہو رہی تھی ۔ اور جواب الجواب لکھا جا رہا تھا ۔چونکہ یہ بات آپ کے علم نہیں اس لئے آپ  2018 میں بیٹھ کر اسے 1946 کی غلطی قرار دے رہے ہیں ۔ آئیے تاریخ کے صفحات پر نظر ڈالتے ہیں۔

پندرہ15 مئی 1947 کو دہلی کی اخبار ’’ ریاست  ‘‘ نے اپنے ایک ادارتی نوٹ میں احمدیوں کی پاکستان نواز پالیسی پر تنقید کی جس کا ملخص یہ تھا  کہ آج احمدی پاکستان کی تائید کر رہے ہیں مگر جب پاکستان قائم ہو  جائے گاتو اُن کے ساتھ دوسرے مسلمان وہی سلوک روا رکھیں گے جو کابل میں افغان حکومت کی طرف سے کیا گیا تھا ‘‘۔

اس شذرہ کی اطلاع قادیان پہنچی تو  جماعت کے دوسر ے امام مرزا بشیر الدین محمود احمد نے  16 مئی بعد نماز  مغرب اس پر تفصیلی پالیسی بیان دیا جو اگلے دن اخبارات کی زینت بن گیا ۔ یاد رہے یہ دن ہے 16 مئی 1947  کا یعنی ابھی پاکستان نہیں بنا۔  آپ کے الفاظ تھے

 ’’ آج مجھے ایک عزیز نے بتایا کہ دلی کے ایک اخبار نے لکھا ہے کہ احمدی اس وقت تو پاکستان کی حمائیت کرتے ہیں مگر ان کو وہ وقت بھول گیا ہے جب ان کے ساتھ دوسرے مسلمانوں نے برے سلوک کئے تھے۔ جب پاکستان بن جائے گا تو اُن کے ساتھ  مسلمان پھر وہی سلوک کریں گے جو کابل میں ان کے ساتھ ہوا تھا۔ اور ااُس وقت احمدی کہیں گے کہ ہمیں ہندوستان میں شامل کرلو ۔ کہنے والے کی اس بات کو کئی پہلووں سے دیکھا جا سکتا ہے  ۔۔

فرض کرو ایسا ہی ہو جائے  پاکستان بھی بن جائے  اور ہمارے ساتھ وہی سلوک روا بھی رکھا جائے  لیکن سوال تو یہ ہے کہ ایک دیندار جماعت جس کی بنیاد ہی مذہب ،اخلاق اور انصاف پر ہے کیا وہ اس کے متعلق اس نقطہ نگاہ سے فیصلہ کرے گی کہ  میرا اس میں کیا فائدہ ہے؟ یا وہ اس نقطہ نگاہ سے فیصلہ کرے گی کہ اس امر میں دوسرے کا حق کیا ہے ؟ یقیناً وہ ایسے معاملہ میں مئوخر الذکر نقطہ نگاہ سے ہی فیٖصلہ کرے گی۔۔

کوئی شریف اور دیانتدار مجسٹریٹ  ( بھی ) ایسا نہیں کر سکتا  کہ وہ کسی مقدمہ کا حصر اپنے آیندہ فوائد پر  رکھے  ۔۔وہ یہ نہ دیکھے کہ جس شخص کے حق میں مَیں ڈگری دے رہا ہوں  یہ طاقت پکڑ کر کل کو میرے ہی خاندان کے خلاف  اپنی طاقت استعمال کرے گا۔ پس انصاف کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر نظر انداز کردے اس بات کو کہ میں کس کے خلاف اور کس کے حق میں فیصلہ دے رہا ہوں ۔۔پس قطع نظر اس کے کہ مسلم لیگ والے پاکستان بننے کے بعد ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے ۔ وہ ہمارے ساتھ وہی کابل والا سلوک کریں گے یا اس سے بھی بد تر معاملہ کریں گے  ۔

اس وقت سوال یہ ہے کہ  ہندووں اور مسلمانوں کے جھگڑے میں حق پر کون ہے ؟ اور ناحق پر کون؟  آخر یہ بات آج کی تو نہیں ۔ یہ تو ایک لمبا اور پرانا جھگڑا ہے  ۔ ہم نے بار بار ہندووں کو توجہ دلائی  کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کو تلف کر رہے ہیں ۔۔ہم نے بار بار ہندو لیڈروں کو  آگاہ کیا کہ یہ حق تلفی اور یہ نا انصافی آخر رنگ لائے گی  مگر افسوس کہ ہمارے توجہ دلانے  کاکبھی کچھ نتیجہ نہ نکلا۔۔اُنہوں نے اکثریت کے گھمنڈ میں مسلمانوں کے حقوق کا گلا گھونٹا۔ ۔ایک مسلمان جب کسی ملازمت  کے لئے درخواست دیتا تو چاہے کتنا ہی لائق کیوں نہ ہوتا اس کی درخواست پر اس لئے غور نہ کیا جاتا کہ وہ مسلمان ہے۔۔

تجارتی کاموں میں جہاں حکومت کا دخل ہوتا ہندووں کو ترجیح دی جاتی  یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں  کے دلوں میں ہندووں کے خلاف فرقہ وارانہ ذہنیت کی وجہ سے نفرت پیدا ہوتی رہی ۔۔یہ فسادات کا تناور درخت وہی ہے جس کا بیج ہندووں نے بویا ۔۔یہاں تک کہ جب ہمارا احرار سے جھگڑاتھا انہوں نے احرار  کی پیٹھ ٹھونکی ۔ان سےکوئی پوچھے کہ جھگڑا تو ہمارے اور احرار کے درمیان مذہبی مسائل کے متعلق تھا تمہیں اس معاملہ میں کسی فریق کی طرفداری کی کیا ضرورت تھی ؟۔۔احرار کی طرف سے ہندو وکیل مفت پیش ہوتے رہے۔ میں نے اس بارہ میں پنڈت نہرو کے پاس اپنا آدمی بھیجا کہ آپ لوگوں کی  احرار کے ساتھ ہمدردی کس بناء  پر ہے  انہوں نے ہنس کر کہا  کہ سیاسیات میں ایسا کرنا پڑتا ہے ۔

جن لوگوں کی ذہنیت اس قسم کی ہو ان سے بھلا کیا اُمید کی جا سکتی ہے۔۔۔ یہ جو کچھ  آج کل ہو رہا ہے  یہ سب گاندھی جی پنڈت نہرو اور مسٹر پٹیل کے ہاتھوں سے رکھی ہوئی بنیادوں پر ہو رہا ہے اس کے ساتھ ہی انگریز وں کا بھی اس میں ہاتھ تھا  اُ ن کو بھی  بار بار اس طرف توجہ دلائی گئی  کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے حقوق تلف ہو رہے ہیں لیکن انہوں نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔ مسلمان ایک مدت تک اس بات کو برداشت کرتے رہے مگر جب یہ پانی سر سے گزرنے لگا تو وہ ااُٹھے  اور انہوں نے یہ بات سمجھ لی ہندووں کے ساتھ رہتے ہوئے اُن کے حقوق خطرے میں ہیں۔

  اُنہوں نے اپنے حقوق کی حفاظت اور آرام اور چین کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لئے الگ علاقہ کا مطالبہ پیش کر دیا۔ کیا وہ یہ مطالبہ نہ کرتے اور ہندووں کی ابدی غلامی میں رہنے کے لئے تیار ہو جاتے ؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمان اتنے طویل اور تلخ تجربات کے بعد ہندووں پر اعتبار کر سکتے تھے ۔ ایک دو باتیں ہوتیں تو نظر انداز کی جا سکتی تھیں ۔۔ایک آدھ صوبہ  میں مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچا ہوتا تو اس کو بھی بھلایا جا سکتاتھا  لیکن متواتر سو سالوں سے ہر گاوں  میں  ہر شہر میں  ہر ضلع میں   اور ہر صوبہ میں  ہر محکمہ میں  ہر شعبہ میں مسلمانوں کو دکھ دیا گیا ۔ اُن کے حقوق تلف کئے گئے  اُن کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو زر خرید غلام کے ساتھ بھی کوئی انصاف پسند آقا  نہیں رکھ سکتا۔ کیا اب بھی وہ اپنے اس مطالبہ میں حق بجانب نہ تھے ؟ کیا اب بھی وہ  اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے تگ و دو نہ کرتے ؟ کیا اب بھی وہ اپنی عزت کی رکھوالی نہ کرتے ؟ ور کیا اب بھی وہ ہندووں کی بد ترین غلامی میں اپنے آپ کو پیش کر سکتے تھے ؟ ۔

یہ تھے وہ حالات جن کی وجہ وہ اپنا الگ  اور بلا شرکت غیرے حق مانگنے  کے لئے مجبو ر نہیں ہوئے بلکہ مجبور کئے گئے۔   میں ہندووں سے پوچھتا ہوں  کہ کیا واقعی  مسلمان فی الواقع  نالائق  اور نااہل ہیں ؟ اُن کو جب کسی کام کا موقعہ ملا اُنہوں نے اسے باحسن سر انجام دیا ۔ مثلاً  سندھ اور بنگال میں ان کو حکومت کا موقعہ ملا انہوں نے اچھی طرح  سنبھالا ۔۔۔میں  پچھلے سال اکتوبر نومبر میں اس نیت سے دہلی گیا کہ کوشش کر کے کانگریس اور مسلم لیگ کی صلح کرادوں میں ہر لیڈر کے دروازے پر خود پہنچا اور اس میں میں نے ذرا بھی ہتک محسوس نہ کی  ۔۔۔مگر افسوس  کہ کسی نے میری بات نہ سنی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب ملک کے اندر جگہ جگہ فسادات ہو رہے ہیں اور قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔۔۔۔

پس آج سوال یہ نہیں رہا کہ ہمارے ساتھ پاکستان بن جانے کی صورت میں کیا ہو گا  سوال تو یہ ہے کہ اتنے لمبے تجربے کے بعد جبکہ ہندو حاکم تھے  گو ہندو خود حاکم نہ تھے بلکہ انگریز حاکم تھے لیکن ہندو حکومت پر چھائے ہوئے تھے جب ہندو ایک ہندو کو  اس لئے ملازمت دے دیتے تھے کہ وہ ہندو ہے  جب وہ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندووں کو صرف اس لئے قابل اور اہل قرار دیتے تھے کہ وہ ہندو ہیں ۔۔اس وقت کے ستائے ہوئے دُکھائے ہوئے اور تنگ آئے ہوئے مسلمان اگر اپنے الگ حقوق کا مطالبہ کریں تو کیا اُن کا یہ مطالبہ ناجائز ہے ؟۔۔۔ان حالات کے پیش نظر ان کا حق ہے کہ وہ یہ مطالبہ کریں اور ہر دیانتدار کا فرض ہے کہ خواہ اس میں اس کا نقصان ہو مسلمانوں کے ا  اس مطالبہ کی تائید کرے۔ 

2 Comments

  1. اس اعلیٰ درجہ کی بے لوث،بے غرض اور منصفانہ سوچ، فکر اور عمل کا موجودہ پاکستان کیا دنیا بھر میں کسی بھی دینی،سیاسی،معاشرتی تحریک کا ٹاپ کا لیڈر بھی حامل نہیں ۔
    یہ جو ایک قاری کا تبصرہ آپ نے مضمون کے آغاز میں درج فرمایا،یہ ایک لاعلم اور نابالغ ذہن کا ترجمان ہے ،(افسوس کہ پاکستان کے کئی پڑھے لکھے نام نہاد دانشور،کالم نگار،صحافی ،سیاستدان بھی اس قسم کا طنز جھاڑتے رہتے ہیں) ۔ہماری نئی نسل کو اس قسم کے اعلیٰ جوابات کے ذریعے شعور اور بلوغ سے آراستہ کئے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ورنہ پاکستانی معاشرہ پر “پین دی سری” ٹائپ دھرناباز قابض ہوتے چلے جائیں گے۔یہ قوم لاعلمی میں انتہائی درجہ کی محسن کش تو بن ہی چکی ہے۔احمدی کو گالی دینا انہوں نے ایمانیات کا جزوبنالیا ہے۔
    جماعت احمدیہ کے تدبر کو دیکھئے وہ اصل حقیقت سمجھتی ہے،کوئی گلہ شکوہ،احتجاج نہیں۔کچھ لوگ احمدیوں اور مہاجروں دونوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ احمدیو اور مہاجرواور بناؤ پاکستان۔افسوس کہ مہاجر(اردو سپیکنگ) کمیونٹی کا لیڈر سوال کرنے والے کی شرارت کا نشانہ بن کر پاکستان مردہ باد اور لے کے رہیں گے آزادی کا نعرہ لگا دیتا ہے لیکن جماعت احمدیہ پاکستان زندہ باد کا ہی نعرہ لگاتی ہے۔کیوں،اس لئے کہ اس کی موجودہ نسل بھی بالغ النظر اور اصول پرست ہے اور نظریاتی فلسفہ رکھتی ہے۔بہت اچھے۔

  2. مرزا کمال احمد says:

    پہلی بات تو یہ ہے کہ لفظ تحریک پاکستان ہے تحریک آزادی پاکستان نہیں۔۔۔۔ دوسری بات یہ کہ دو قومی نظریہ اس وقت بے معنی ہو گیا تھا جب قیام پاکستان کے وقت آدھے سے زیادہ مسلمان ہندوستان میں رہ گئے۔ جب قائداعظم سےپوچھا گیا کہ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے لیے کیا
    حکم ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ وہاں کی حکومت کے وفادار رہیں۔۔۔۔ بنگلہ دیش کے قیام کے وقت بھی نظریہ پاکستان کی دھجیاں اڑی تھیں ۔ پاکستان میں جو اقلیتوں کا حال ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے اس کے باوجود یہ ثابت کرنا کہ ان کا فرمان درست تھا تو ٹھیک ہے۔۔۔ وقت نے ثابت کیا کہ مولانا ابوکلام آزاد کی سوچ جو کہ الہام کی بجائے دور اندیشی پر مبنی تھی درست ثابت ہوئی ۔
    میرے ایک احمدی دوست جو ربوہ میں رہتے تھے، اور مرزا رفیع کے قریبی ساتھی تھے، نے بتایا کہ ۱۹۵۳ کے احمدی مخالف فسادات کے بعد مرزا بشیر الدین بہت دل گرفتہ اور نادم رہنا شروع ہو گئے تھے انہوں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ ہمارا فیصلہ غلط ہے مگر ان کےانداز گفتگو سے یہی ظاہر ہوتا تھا۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *