کفر کا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے ناانصافی کا نہیں

آصف وڑائچ

تبلیغی پارٹی سے جڑے ایک پرانے دوست سے اتفاقاً ملاقات ہو گئی – سلام دعا کے بعد تبلیغی بھائیوں والے مخصوص انداز میں وہ گویا ہوئے ارے بھائی بس کیا کہیں، افراتفری کا دور چل رہا ہے، کوئی ایسا گھر نہیں جہاں انواع و اقسام کے مسائل نے ڈیرے نہ ڈال رکھے ہوں، کسی کے گھر میں بیماری ہے تو علاج کیلئے پیسے نہیں، کسی سے بچوں کی سکول،کالج کی فیس پوری نہیں ہورہی، کوئی قرض کے بوجھ تلے دبا ہے. لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشیاں کررہے ہیں، آج کون ہے جو پریشان نہیں، ایک عجیب منظر ہے چاروں طرف۔۔۔

 میں یہ سب سن رہا تھا —- پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولے-” آپکو پتہ ہے ایسا کیوں ہے؟ ۔۔۔۔
میں نے پہلو بدل کر پوچھا..” کیوں؟ 
ارے بھائی یہ سب دین اور مذہب سے دوری کا نتیجہ ہے، لوگ اسلام کو بھول چکے ہیں، ارے نماز روزہ تو اب کسی کو یاد نہیں رہا، کوئی مسجد میں آنے کو تیار نہیں ، کوئی قرآن نہیں پڑھتا۔۔۔۔

تھوڑی دیر کے لیے انہوں نے توقف فرمایا تو میں نے عرض کی….” صاحب اس میں بھلا نماز روزے کا کیا کنکشن؟، یہ سب تو ناکام معاشی نظام، کرپشن اور بے انصافی کی وجہ سے نہیں ہو رہا؟۔۔۔۔
تبلیغی بھائی نے بڑے زور سے سر جھٹکا اور کہا … “نہیں ! یہ سب خدا کی ناراضگی کی وجہ سے ہورہا ہے، اللہ ہم سے سخت ناراض ہے وہ ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا دے رہا ہے۔

میں نے کہا بھائی صاحب آپ ذرا یورپی یونین، امریکہ، کینیڈا، جاپان اور جنوبی کوریا کو دیکھیں وہاں کون نماز روزے، کالے بکرے اور تبلیغی چلے کاٹ رہا ہے جسکی وجہ سے وہ ممالک ہر لحاظ سے خوشحال ہیں؟ بلکہ ان ممالک کے بیشتر لوگ تو خدا کو بھی نہیں مانتے پھر کیوں وہ اتنے آسودہ اور ترقی یافتہ ہیں؟۔

ارے یار وہ تو کافر ہیں انکے لئے تو یہ دنیا ہی جنت ہےتبلیغی بھائی نے فٹ جواب دیا

میں نے حیرانی سے پوچھا تو کیا یہ دنیا صرف ہم مسلمانوں کیلئے ہی امتحان گاہ یا عذاب گاہ ہے؟

تبلیغی بھائی بولےہاں تو اور کیا۔۔۔۔۔ آپکو نہیں معلوم؟

میں نے ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھا اور انہیں اپنی طرف یکسوئی سے متوجہ کرتے ہوئے کہا اچھا یہ بتائیے، کیا سعودی عرب، متحدہ امارات، کویت، قطر، بحرین کیا یہ سب بھی کافر ہیں؟
ارے یار سمجھنے کی کوشش کرو، اللہ ان پر ویسے ہی مہربان ہے کیونکہ وہاں انبیا اور صحابہ کے قدم پڑے ہیں

تبلیغی بھائی نے پھر ایک رٹا رٹایا جواب داغ دیا

اب میں نے ان کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھ دئیے.۔

اچھا تو کیا مصر، مراکش، فلسطین، یمن، شام، عراق، تیونس، اردن، افریقہ، کیا یہاں انبیا اور صحابہ کے قدم کبھی نہیں پڑے؟ ان میں زیادہ تر عربی زبان بھی بولتے ہیں جو کہ قرآن کی زبان ہے۔ اور یہ نماز اور روزہ بھی ہم سے زیادہ ہی کرتے اور جانتے ہوں گے، بلکہ آج تک مذاہب اور فلسفے کی جتنی بھی کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں زیادہ تر انہیں لوگوں کا حصہ رہا ہے، پھر ان سب کا کیوں بیڑا غرق ہے؟ یہ لوگ صدیوں سے پریشان اور کسمپرسی کی حالت میں کیوں ہیں؟ کیا یہ اللہ کے سوتیلے اور امارات والے سگے ہیں؟

میرے دوست! بات بہت سیدھی ہے، کوئی ملک یا معاشرہ کسی مذہب یا عبادات سے ترقی نہیں کرتا نہ کوئی مسلک یا عقیدہ کسی قوم سے غربت مٹا سکتا ہے، ملک اور معاشرے ایک اچھے معاشی نظام اور انصاف کے مساوی اصولوں کے تحت ترقی کرتے ہیں نہ کہ محض مذہبی رسومات یا عبادات کی ادائیگی سے۔

تبلیغی بھائی مجھے سن رہا تھا اور عجیب سے انداز سے گھور رہا تھا، اچانک بولا…..” کیا تم مسلمان ہو؟

آپ نے اسلاف کا یہ قول تو سنا ہو گا۔

کفر کا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن نا انصافی کا نہیں۔
میں نے اتنا کہا اور چل دیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *