جرمنی میں اسلام کیسا ہونا چاہیے

جرمنی میں ایک نئی بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ اس ملک میں بطور مذہب اسلام کیسا ہے اور کیسا ہونا چاہیے؟ جرمن وزارت داخلہ بڑی قدامت پسند مسلم تنظیموں کے اثر و رسوخ میں کمی چاہتی ہے جو کئی حلقوں کے مطابق اچھی بات نہیں ہو گی۔

جرمنی، جو یورپی یونین کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، یورپ کی ان ریاستوں میں بھی شمار ہوتا ہے، جہاں مقامی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد کئی ملین بنتی ہے اور اسلام مسیحیت کے بعد دوسرا بڑا مذہب بھی ہے۔ یہ بڑی تعداد بھی ایک وجہ ہے کہ جرمنی میں حکومت نے مسلم اقلیت کے بہتر سماجی انضمام اور مختلف معاشرتی امور پر مشاورت کے لیے اپنی میزبانی میں ایک ایسا پلیٹ فارم بھی قائم کر رکھا ہے، جو ’اسلام کانفرنس‘ کہلاتا ہے اور جس میں مقامی مسلمانوں کی نمائندہ کئی بڑی اور قدامت پسند تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

اب برلن میں وفاقی وزارت داخلہ کی سوچ یہ ہے کہ اس ’اسلام کانفرنس‘ میں بہت منظم اور زیادہ تر قدامت پسند مسلم تنظیموں کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے، جسے کم کیا جانا چاہیے۔ مقصد بظاہر یہ ہے کہ ترقی پسند اور لبرل سوچ کے حامل مسلمانوں اور ان کی نمائندہ تنظیموں کو بھی اس پلیٹ فارم پر مناسب نمائندگی ملنا چاہیے۔

لیکن اس سوچ کی مخالفت کرنے والے کئی حلقوں کے مطابق یہ نہ تو کوئی اچھا خیال ہے اور نہ ہی ایسا کرتے ہوئے جرمنی میں اسلام اور مسلمانوں کے لیے صورت حال کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

جرمنی کے موجودہ وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر ہیں، جو چانسلر میرکل کی پارٹی سی ڈی یو کی ہم خیال جماعت اور صوبے باویریا کی قدامت پسند پارٹی کرسچین سوشل یونین یا سی ایس یو کے سربراہ بھی ہیں۔ ہورسٹ زیہوفر کا خیال ہے کہ موسم گرما کے موجودہ وقفے کے بعد ’جرمن اسلام کانفرنس‘ کی ہیئت مختلف ہونا چاہیے۔ ’اسلام کانفرنس‘ کی میزبانی جرمن وزارت داخلہ اور ذاتی طور پر وفاقی وزیر داخلہ ہی کرتے ہیں۔

اس پس منظر میں وفاقی وزارت داخلہ میں ریاستی امور کے سیکرٹری مارکوس کَیربر نے جرمن اخبار ’بِلڈ‘ کو دیے گئے اپنے ایک حالیہ انٹرویو کے ساتھ اس وقت کافی ہلچل پیدا کر دی، جب انہوں نے کہا، ’’ہمیں ان مسلمانوں کو، جو مسلمانوں کی منظم ملکی تنظیموں کا حصہ نہیں ہیں، اور جرمنی میں مقامی شہریوں یا طویل عرصے سے مقیم تارکین وطن کے طور پر رہتے ہیں، اب تک کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں ’اسلام کانفرنس‘ کے پلیٹ فارم پر لانا ہو گا۔‘‘

اپنے اس موقف کے ساتھ جو کچھ مارکوس کَیربر نے نہیں کہا لیکن جو واضح طور پر ان کی مراد تھی، وہ یہ بات تھی کہ حکومت ’اسلام کانفرنس‘ میں قدامت پسند مسلم تنظیموں کے اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتی ہے۔ اسی سوچ کا دوسرا مطلب یہ ہو گا کہ مسلمانوں کی نمائندہ صرف ایسی قدامت پسند تنظیمیں ہی ’اسلام کانفرنس‘ جیسے پلیٹ فارم پر مرکزی اہمیت کی حامل نہ رہیں۔ پچھلے سال تک ’اسلام کانفرنس‘ میں زیادہ تر ایسی ہی قدامت پسند مسلم تنظیموں کو نمائندگی حاصل تھی۔

پھر اس سال مارچ میں کئی حلقوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جرمنی میں اسلام تو بڑا متنوع اور کثیرالنسلی ہے، جس کی کئی جہتیں ہیں اور اس کی واحد اور غالب پہچان صرف قدامت پسندانہ ہی نہیں ہے۔ اسی طرح جرمنی میں آباد تارکین وطن کی کئی سیکولر تنظیموں نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر ’اسلام کانفرنس‘ میں جلد اصلاحات نہ کی گئیں، تو یہ ریاست اور مسلمانوں کے ایک مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر ناکام ہو جائے گی۔

دوسری طرف بہت سے جرمن مسلم اور غیر مسلم حلقے اس بارے میں خبردار بھی کر رہے ہیں کہ مقامی مسلمانوں کی نمائندہ بڑی تنظیموں کو ان کی جائز حیثیت تسلیم کرنے کے بجائے مکالمہ کی سطح پر مرکزی دھارے سے الگ کر دینا بالکل غلط ہو گا۔

جرمن شہر کولون میں مسلم خواتین کے ایک تربیتی مرکز کی سربراہ اور ڈائیلاگ فورم کی ایک سابقہ مشیر ایریکا تھائیسن وزارت داخلہ کی تجویز پر بے یقینی سے سر ہلائے بغیر نہ رہ سکیں۔ تین عشرے قبل اسلام قبول کر لینے والی اس جرمن شہری نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا، ’’اب اس تجویز کی کیا ضرورت تھی؟ کیا ملک میں اسلام کے بارے میں بحث اور سوچ پہلے ہی کافی حساس، زیادہ شدید اور پرجوش نہیں ہو چکی؟‘‘

ایریکا تھائیسن نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’مسلمانوں کی نمائندہ تنظیموں کو الگ تھلگ کر دینا، ایسا کرنا درست کس طرح درست ہو سکتا ہے؟ جو بھی مسلمان ہے اور اپنے عقیدے پر عمل کرتا ہے، اسے مساجد اور مقامی مساجد سے منسلک مسلم برادریوں کی ضرورت تو ہو گی۔ ’اسلام کانفرنس‘ ایک بین الامذاہبی مکالمتی پیلٹ فارم ہے۔ اس میں مسلمانوں کے اہم نمائندوں اور ان کے کردار کو نظر انداز کیسے کیا جا سکتا ہے؟‘‘

جرمنی میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے دو باتیں بہت اہم ہیں۔ ایک تو یہ کہ جرمنی میں اسلام سے متعلق ہر قسم کی ممکنہ اور تنقیدی بحث کے لیے سب سے اہم پلیٹ فارم ’اسلام کانفرنس‘ ہی ہے۔ دوسرے یہ کہ جرمنی میں اسلام اور مسلمانوں کی نمائندگی کون کرتا ہے، اور کس کو کرنا چاہیے، یہ بھی عشروں سے ایک سوال رہا ہے، جس پر بحث مستقبل میں بھی جاری رہے گی۔

وفاقی چانسلر انگیلا میرکل کی رائے میں جرمنی میں مسلمان بھی جرمن معاشرے کا حصہ ہیں اور ان سے متعلقہ معاملات انہی کے نمائندوں سے مکالمت کے ذریعے طے کیے جانا چاہییں، نہ کہ اسلام کے نام پر جرمنی کے باہر سے کوئی ملک یا مذہبی مکتبہ فکر اس عمل میں کوئی مداخلت کرے۔

DW

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *