افغانستان میں امن کا چکرویو اور بلوچ تحریک کا امتحان

سلام صابر

اگر افغانستان میں بدامنی اور انتشاری ماحول سے صرف پاکستان کے مفادات وابستہ ہوتے تو شاید بہت پہلے ہی وہاں پہ جاری طویل جنگ اپنے اختتام کو پہنچ چکی ہوتی، لیکن چونکہ اس پورے خطے میں بالادستی کو قائم و دائم رکھنے کیلئے افغانستان ایک مرکزی کیمپ کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے وہاں پہ امریکہ کی موجودگی صرف ایران نہیں بلکہ روس اور چین کے لیے بھی بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہے۔

طالبان کے متفقہ اور غیر متنازعہ امیر ملا عمر کی وفات کے بعد اسلامی امارات کی مرکزیت میں پڑنے والی دراڑ اور پھر طالبان کے اندر کی قبائلی تقسیم اور بالادستی کی کوشش بھی افغانستان کی جنگ میں اضافے کا ایک اہم سبب بنا ہوا ہے۔

اس بات میں اب شائد کوئی دورائے نہیں کہ افغان طالبان کا پاکستان کے اوپر سے اعتماد دن بدن کمزور ہوتا جارہا ہے۔ اول طالبان کے مرکزی رہنما مولانا عبیداللہ کی گرفتاری اور دوران قید موت، پھر امیر المومنین مُلا منصور کا بلوچستان میں ڈرون حملے میں مارا جانا، اور پھرمولانا عبدالصمد ثانی کا پاکستانی خفیہ اداروں کے ہاتھوں گرفتاری، ایسے واقعات ہیں کہ ان کی وجہ سے طالبان کی جنگی تحریک کو شدید جھٹکے لگے اور بالخصوص مالی امور کے انچارچ مولانا عبدالصمد ثانی کی گرفتاری نے طالبان کے اماراتی سرگرمیوں کو کافی حد تک متاثر کردیا۔

ان ہی واقعات کے بعد طالبان کی قیادت خاموشی سے اور انتہائی تیزی سے پاکستان کے حصار سے نکل کر ایران میں اپنے مراکز کو مضبوط کرنے میں سرگرم ہوگئی۔حالیہ عرصے میں کوئٹہ شوریٰ کے نام سے مشہور طالبان قیادت کی نصف تعداد یا تو افغانستان میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں منتقل ہوگئی یا پھر ایران چلی گئی۔

ایران جو کہ مذہبی اور قومی حوالے سے طالبان کے بنیادی نظریات سے متصادم ملک ہے، لیکن مُلا اختر منصور: جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ طالبان کی بیرون ملک سفارت کاری اور دوراندیشی کے سبب اس نے اپنے ہمسائے ایران سے تعلقات کو بہتر بنا دیا تھا اور ساتھ ہی ایران سمیت روس اور چین کو بھی یہ باور کرایا تھا کہ افغانستان سے باہر افغان طالبان کے کوئی عزائم اور مقاصد نہیں، اور اسی بنیادی پالیسی کے سبب افغان طالبان نے تحریک طالبان پاکستان، ایسٹ ترکمانستان موومنٹ اور جند اللہ سے اپنے تعلقات منقطع کردیئے۔

افغانستان میں طالبان کا گھیراؤ تنگ کرنے کیلئے امریکہ نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا، جس کے بعد 11مئی کو انڈونیشیا کے شہر بوگور میں افغانستان، پاکستان اور انڈونیشیا کے علماء کرام کا ایک اجلاس ہوا۔ جب اس اجلاس کے انعقاد کا اعلان ہوا تو طالبان میں سراسمیگی پھیلی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے خلاف کوئی فتویٰ جاری ہو، کیونکہ فتوے کے جاری ہونے کے بعد طالبان جنگ کی بنیاد ہی کمزور پڑجائے گی۔

لیکن جب اس اجلاس کا اعلامیہ جاری ہوا تو اس میں نہ افغان جنگ( جہاد) کے خلاف کوئی فتویٰ دیا گیا اور نہ ہی امریکہ کی افغان سرزمین پہ ہونے والی جارحیت کو جائز سمجھا گیا، البتہ اجلاس کے اعلامیے میں فریقین کو شہری نقصانات کی روک تھام اور تنازع کے پرامن حل کی کوشش کی سفارش کی گئی۔

طالبان پہ مزید دباؤ بڑھانے کیلئے گذشتہ عید پرافغان صدراشرف غنی نے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کردیا، جس کے بعد طالبان نے چند ایک بنیادی مجبوریوں کے سبب پانچ کے بجائے تین روزہ جنگ بندی کا بھی اعلان کیا، اور بقول پاکستان میں افغان سفیر کے کہ جنگ بندی میں پاکستان کا بنیادی اور اہم کردار رہا ، اب اس بات میں کتنی صداقت ہے، اس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سفیر کے بیان پر طالبان نے مکمل خاموشی اختیار کی، نا تردید کی نا تائید۔

جنگ بندی سے مخصوص مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد افغانستان کے حوالے سے سعودی عرب کے شہر جدہ اور مکہ مکرمہ میں علما ء کرام کے نام سے دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، لیکن اس کانفرنس میں بھی سوائے چند ایک سرکاری مولویوں کے کسی قابل ذکر اور جید عالم دین نے شرکت نہیں کی۔

ان تمام سرگرمیوں سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کے بعد ہی امریکی صدر نے اپنے افغان پالیسی کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا، کیونکہ جن مقاصد اور نتائج کی توقع کی گئی تھی وہ حاصل نہ ہوسکے اور امریکہ کی نئی افغان پالیسی میں ناکامی میں ایران نے بنیادی کردار ادا کیا، کیونکہ ایران اب کھل کر طالبان کی عسکری اور مالی امداد کررہا ہے اور ایران کی شرائط بھی ایسے نہیں کہ وہ طالبان کو منظور نہ ہوں۔ اول امریکہ کیلئے بے چینی کی ماحول پیدا کرنا، جبکہ دوسری شرط داعش کا راستہ روکنا ہے، یہ دو ایسی شرائط ہیں جن پہ طالبان خود ہی گذشتہ کئی عرصے سے عمل کررہے ہیں اور یہ قوی امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان میں جنگ کی شدت میں مزید اضافہ ہو، اور اس اضافے کی بنیادی وجہ ایرانی مداخلت ہوگا۔

اب اگر امریکہ ایران کی توسیع پسندانہ عزائم کو لگام ڈالنے میں کامیاب بھی ہوگا، تب بھی اس کے منفی نتائج افغانستان پر پڑیں گے، کیونکہ اس وقت پاکستان کے بجائے افغانستان کے تاجروں نے ایران پر توجہ موکوز کی ہوئی ہے، اور انڈیا بھی ایران ہی کے راستے افغانستان میں اپنی تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کا خواہاں ہیں، لیکن معاشی پابندیوں اور انڈیا کی جانب سے تیل کی خریداری بند ہونے کے بعد ایران نے واضح طور پر اعلان کیا کہ اگر بھارت ایران سے تیل کی درآمد میں تخفیف کرتا ہے تو اسے حاصل خصوصی مراعات ختم کردیئے جائیں گے۔

افغانستان میں سرگرم دیدہ اور نادیدہ قوتیں عرصہ دراز سے اس کوشش میں لگی ہوئی ہیں کہ وہ کسی بھی طرح سے اس جنگ کو آس پاس پھیلا دیں، اول وزیرستان اور دیگر شمالی علاقے اس کی لپیٹ میں آئیں اور اب بلوچستان میدان کار زار بن جائے گا۔

اب بنیادی سوال یہاں سے یہ اٹھتا ہے اس جنگ کو کیا بلوچستان میں داخل ہونے سے روکا نہیں جاسکتا تھا؟ میرے محدود خیال کے مطابق اگر آزادی پسند لیڈر شپ انفرادیت کی حصارسے نکل کر قومی مفادات کو اولیت دیتے تو لازمی طور پربلوچستان میں ہونے والی مذہب کے نام پر جاری کشت و خون کو آسانی سے روک سکتے تھے۔

قطع نظر اس بات کے کہ دعوؤں کے حد تک ہم یہ ببانگ دہل کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ بیرون ملک سفارتی کاری کیوجہ سے بلوچ قومی مسئلہ اجاگر ہوا ہے، لیکن برسرزمین ان سفارتی کامیابیوں کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں، اگر سفارتی میدان میں ایک فیصد ہماری آزادی پسند نااہل لیڈر شپ توجہ دیتی تو، نہ تو کوئٹہ میں ہمارے وکلاء بے دردی سے مارے جاتے، نہ شاہ نورانی میں بے گناہ قتل ہوتے۔

اب ہرکوئی یہ لازمی طور پر سوچتا ہوگا کہ آزادی پسند کیسے بلوچستان میں مذہب کے نام پر جاری حالیہ تشدد کو روک سکتے تھے؟ تو اس کا آسان سا جواب یہی ہے کہ دنیا میں کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پر معاملات طے پاتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس امر پہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کی نصف درجن سے زائد افغانستان کے دوروں کے بعد خو د افغانستان کیلئے ’’بے ضرر‘‘ ملا فضل اللہ کا ڈرون میں مارا جانا اتنا آسان اور چھوٹا خفیہ معاہدہ نہیں ہے۔

اگر ملا فضل اللہ کے حوالے سے افغان اور پاکستان میں افغان طالبان ہی زیر بحث رہے ہیں، تو افغان طالبان نے متبادل راستہ تلاش کرلیا ہے، لیکن اگر اس دوران بلوچ کا نام پاکستان و افغانستان کے مذاکراتی میز پر پڑی فائل میں تھا، تو پھر بلوچ کے پاس متبادل راستہ کون سا ہے؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *