کیا الیکٹیبلز صرف پنجاب میں ہی دستیاب ہیں؟

عامر گمریانی

پنجاب سے الیکٹیبلز کا سن سن کر کان  پک گئے ہیں۔ ہم کے پی کے والے باوجود اس کے کہ پنجاب سے کئی زیادہ گھمبیر مسائل کا شکار ہیں، الیکٹیبلز کو زیادہ لفٹ نہیں کراتے۔ ضیاء کے مارشل لاء کے بعد اب تک جتنے بھی الیکشن ہوئے، پختونوں نے ہمیشہ ہاتھ پاؤں مارے کہ اس اسیری سے رہائی ملے  لیکن بدقسمتی سے ہر دفعہ صیاد نیا جال لے کر آیا اور یوں اسیری ہی نصیب ٹھہری۔  پختونخوا میں ہر قابل ذکر سیاسی جماعت کو مواقع ملے لیکن افسوس کوئی بھی عوام کی امنگوں کی حقیقی ترجمانی نہ کرسکا۔

پچھلے پانچ سالوں کے دوران کے پی کے کو حسبِ وعدہ گل و گلزار بنا کر خان صاحب اب آئندہ پانچ سالوں میں پورے ملک میں ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنے کے مہم پر نکلے ہیں اور اس کیلئے انہیں الیکٹیبلز کی ضرورت ہے۔ ہمارے پنجاب کے دوست اس ضمن میں تاویلوں پر تاویلیں پیش کررہے ہیں اور ہم دریائے کابل کے کنارے بیٹھے اس سوچ میں غرق ہیں کہ کونسی دنیا کے باسی ہیں یہ لوگ؟ داتا کی دھرتی کے ان مکینوں کو غلامی کی کون سے طوق  پہنائے گئے  ہیں کہ ایک آدمی تئیس (23) سال سے انہیں پکارے جا رہا ہے اور یہ سن کر ہی نہیں دے رہے۔ نہیں نہیں ضرور کوئی گڑبڑ ہے، تجزیہ کار کوئی غلطی کر رہے ہیں۔

ادھر ہمارے کے پی کے میں صورتحال یہ ہے کہ پرویز خٹک 2013 میں پی ٹی آئی کے سوا جس بھی پارٹی سے الیکشن لڑتے، اپنی ضمانت ضبط کروا دیتے۔ لیکن کیا کہئے خان صاحب کی جود و سخا کا یہ عالم ہے کہ پرویزخٹک کو اس دفعہ ایک نہیں چار ٹکٹیں ملی ہیں۔ خٹک خود ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی نشتوں سے میدان میں اتریں گے جبکہ اس کے داماد اور بھتیجے عمران خٹک بھی قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ یہ چار نشستیں ان کے علاوہ ہیں جو پرویز خٹک نے اپنے منظورِ نظر افراد میں تقسیم کئے ہیں۔

یہ تو آپ کو پتہ ہے کہ خٹک صاحب کے ایک بھائی ضلعی ناظم اور بھتیجاتحصیل ناظم ہے۔ یہ بھی سن لیں کہ پرویزخٹک کے پاس اگر آج بھی پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہ ہو تو یہ الیکشن آدھے سے زائد فرق سے ہار جائیں۔ اب کوئی کیا کرے! یہ بات کہ ٹکٹ دیتے وقت خان صاحب کو کچھ خاص مجبوریاں گھیر لیتی ہیں۔

جیسا کہ میں نے عرض کیا کے پی کے کے عوام نے اس ملک کو تبدیل کرنے کے واسطے ہمیشہ اپنی بساط بھر کوشش کی ہے۔ جنرل ضیاء کے مارشل لا کے بعد 1988 سے لیکر  آج تک یعنی پچھلے تیس سال میں جتنے الیکشن ہوئے ہیں عوام نے پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، ایم ایم اے، اے این پی اور پی ٹی آئی سب کو باری باری آزمایا۔ قرائن بتا رہے ہیں کہ اگر تمام پارٹیوں کو لیول فیلڈ ملا ( جس کے امکانات ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ختم ہورہے ہیں) تو اس دفعہ بھی پختونخوا کے عوام اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے پانچ سال حکومت کرنے والی جماعت کو ووٹ کی پرچی کے ذریعے سبق سکھائیں گے۔ 

اس تمام عرصہ کے دوران پنجاب میں مسلم لیگ ن ایک یا دوسری شکل میں اقتدار میں رہی سوائے جنرل مشرف کے دور کے۔ سندھیوں نے پیپلزپارٹی کے علاوہ کسی اور کو کبھی شرفِ قبولیت نہ بخشا۔اسٹیبلشمنٹ کی کوششوں سے سندھ میں گاہے گاہے چہرے ضرور تبدیل ہوئے لیکن سندھ میں بھٹو ہمیشہ زندہ رہا اور بھٹو کے نام پر عوام کا خون نچوڑنے والے بھی۔ سندھیوں کی زندگی چاہے جتنی اجیرن ہوجائے ووٹ ہمیشہ بھٹو کے نام پر پڑتا ہے۔ بلوچستان تو ہے ہی سرداروں کے زیرِنگیں۔ وہاں کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ چند سردار کرتے ہیں یا چند ملا۔ 

یہ حقیقت کہ لیڈرشپ بھی معاشروں کی طرح ارتقائی منازل طے کرکے نمو پاتی ہے، پاکستان میں ایک مرتبہ پھر ثابت ہورہی ہے۔ دوستوں کو شائد ناگوار گزرے لیکن تاریخی طور پر خطۂ پنجاب قائدانہ کردار کا حامل نہیں رہا ہے۔ پنجاب کے باسی اپنے کھیتوں کلیانوں میں ہمیشہ آسودہ رہے اور ادھر ادھر تانک جھانک کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ افغانستان کے جنگجؤں نے جب بھی ہندوستان کا قصد کیا پنجاب نے بانہیں پھیلا کر ان کو خوش آمدید کہا۔ مہمانداری کا پورا حق ادا کیا، فیاضی کا مظاہرہ کیا لیکن کبھی ساتھ جانے کی غلطی نہیں کی۔ 

پنجاب کی اس پالیسی  کا اسے فائدہ یہ ہوا کہ ہمیشہ شوروشر سے محفوظ امن اور سکون سے رہا۔ نقصان البتہ اس کا یہ ہوا کہ برصغیر کے فیصلہ سازی میں پنجاب کا کردار محدود سے محدود تر ہوتا چلا گیا اور اس کا قائدانہ کردار کبھی پنپ نہ سکا۔ تاریخ کا پہیہ الٹا گھوما اور طاقت کے نشے میں چور امریکہ جب افغانستان پر حملہ کرنے کے واسطے راستہ تلاش کرنے لگا تو پنجاب کو اپنا تاریخی کردار ادا کرنے میں ذرا برابر تامل نہ ہوا۔ امریکہ کو افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں کے حوالے کر کے واپس اپنے میدانوں کو لوٹ آیا۔

پاکستان بننے سے جہاں بہت ساری تبدیلیاں رونما ہوئیں وہاں کئی پیچیدہ مسائل نے بھی جنم لیا۔ ساری دنیا تبدیل ہورہی تھی اور جلالِ بادشاہی، جمہوری تماشے کے آگے ہتھیار ڈال رہا تھا۔ جمہوریت ہمارے لئے بالکل نئی چیز تھی اور یہ ہمارے ہاتھ بالکل نہیں تو بڑی حد تک ایسے ہی لگی تھی جیسے کہ موبائل فون۔ ہماری اپنی ریاضت کا اس میں عمل دخل بہت کم تھا۔

ہمیں بتایا گیا کہ جمہوریت دنیا کا بہترین نظامِ حکومت ہے اور ہم آنکھیں بند کر کے اس بات پر مکمل طور پر ایمان لے آئے۔ چنانچہ ہم نے اپنے معروضی حالات کے مطابق اس کی ہیئت میں کسی تبدیلی وغیرہ کا سوچا تک نہیں۔ اس کا  نتیجہ یہ نکلا کہ جس کے ووٹ اس کی حکومت جس کی لاٹھی اس کی بھینس بن گئی۔ قیادت کا سارا بوجھ یک دم پنجاب کے کاندھوں پر آن پڑا؛  نتیجتاً تاریخی طور پر قیادت کا تجربہ نہ ہونے کے سبب مسائل سدھرنے کے بجائے مزید بگڑتے چلے گئے

 اب حالت یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو جب بھی کوئی ایساویسا کرنا ہو، کام پنجاب سے تعلق رکھنے والے نمائندے ہی آتے ہیں۔ آج اگر مسلم لیگ ن کا مرکزی مورچہ پنجاب ہے تو پنجاب ہی کے ذریعے اس کے ہاتھ پاوں باندھنے کی کوششیں ہورہی ہیں جو کہ بڑی حد تک بارآور ثابت ہورہی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ الیکشن سے پہلے مسلم لیگ ن خون میں لت پت چاروں شانے چت پڑے، عوامی لہر نواز شریف اور اس کی جماعت کی حمایت میں اٹھے اور ساری تدبیریں خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں تو بات دوسری ہے۔ 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *