ہم تہذیب کی تاریخ سے کچھ سیکھ سکتے ہیں؟

ڈاکٹر مبارک علی

سبط حسن نے تہذیب کے متعلق تین اہم کتابیں لکھی ہیں جو کہ’’موسیٰ سے مارکس تک‘‘،’’ ماضی کے مزار‘‘ اور’’پاکستان میں تہذیب کا ارتقا‘‘۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ماضی کی تہذیبوں سے سیکھتے ہیں اور کیا ان کے متعلق ہماری معلومات ہمارے ذہنی شعور کو بڑھانے میں مددگار ہوتی ہیں؟

موجودہ زمانے میں دنیا کی دو قدیم تہذیبیں زمین میں مدفون تھیں جن کے بارے میں ہمیں پتہ نہیں تھا۔ اب علم آثار قدیمہ کی وجہ سے ان تہذیبوں کو ایک ایک کرکے دریافت کر لیا گیا ہے۔ ان کی دریافت نے انجانی دنیا کے بارے میں اطلاعات فراہم کی ہیں اورجب قدیم زبانوں اور ان کے رسم الخطوں کو دریافت کیا گیا تو ان تہذیبوں کے تخلیقی کارنامے سامنے آئے۔ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی تہذیبوں کے جاننے کی جستجو نے علم بشریات کے ماہرین جزیروں ، پہاڑوں ، جنگلوں اور صحراوں میں بسنے والے قبیلوں تک جا پہنچے اور ان کی رسم و رواج اور بودوباش اور رہن سہن کے بارے میں قیمتی معلومات اکٹھی کیں۔

اٹھارویں اور انیسویں صدی میں یورپ سائنسی انقلاب ، روشن خیالی کی تحریک اور تجارت کے فروغ سے ابھرا اور اس کی فوجی اور سیاسی قوت نے اسے سامراجی طاقت میں ڈھالاتو اس نے ایشیا، افریقہ اور امریکہ کے ملکوں میں اپنی کالونیاں بنا کر ان کے قدرتی وسائل کو اپنی ترقی کے لیے استعمال کیاتو ان میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ وہ دنیا کے دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ تہذیب یافتہ اور ترقی یافتہ ہیں۔ اس لیے یورپین مفکرین اور مورخوں نے دنیا کو یورپ کے مرکزی نقطہ نظر Euro Centric سے دیکھا۔ 

یعنی یورپ بغیر کسی رکاوٹ کے ترقی کر رہا ہے جبکہ غیر یورپی ملک حاشیے پر رہتے ہوئے Peripherryترقی کی شاہراہ سے الگ رہے۔ اس لیے جرمن فلسفی ہیگن نے فلسفہ تاریخ پر لیکچر دیتے ہوئےاس بات کو ثابت کیا تھا کہ تاریخی عمل صرف یورپ میں اپنی تکمیل کرے گا۔ چونکہ ایشیا اور افریقہ کے ممالک اس قدر پسماندہ ہیں کہ ان کے ہاں تاریخ اپنے مقاصے پورا کرنے میں ناکام رہے گی۔ مورخین نے بھی یورپ کی ترقی کو ایک معجزہ قرار دیا ہے جو اس کی اپنی اندرونی صلاحیتوں کی وجہ سے تکمیل تک پہنچا۔ لہذا اس کی ترقی میں بیرونی عوامل کا کوئی اثر نہیں۔

ترقی کے اس نظریے پر تقریر کرتے ہوئے جرمن مورخ لیو پول رانکے Leo Pold Rankeنے کہا کہ جب یورپ پروگریس یا ترقی کے نظریے پر یقین کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے ماضی کی تاریخ بے کار ہےکیونکہ اب ماضی کے پاس اس کو دینے کے لیے کوئی کارآمد شے نہیں ہے۔ اس لیے یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یورپ خود کو ماضی سے کاٹ کر آگے بڑھے اور ماضی کی بنیادوں سے خود کو علیحدہ کر دے تو کیا اس صورت میں اس کی سوچ اور فکر میں کوئی اضافہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟

اس کے برعکس اسکالرز کی ایک جماعت ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ یورپ کی ترقی تنہائی میں نہیں ہوئی ہے اس میں دنیا کی دوسری تہذیبوں کا بھی حصہ ہے ۔ قدیم تہذیبوں کے مطالعے کے بعد ترقی کے تصور کے بارے میں کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ سمیری تہذیب جس نے گلگا میش کی داستان کو تخلیق کیا وہ کسی غیر ترقی یافتہ معاشرے میں پیدا نہیں ہو سکتی۔

اس لیے چاہے ہندوستانی تہذیب کے گہری فکر والے مذہبی اور فلسفیانہ سوالات ہوں یا چین میں کنفیوشس یا لائوزی کے نظریات ہوں یا چوتھی صدی کے یونانی فلسفیوں اور ڈرامہ نگاروں کی تحریریں ہوں،ان کے ہاں دنیا موت و حیات ، مسرت اور نجات کہ جو بحث و مباحث ہیں ان کی باز گشت آج بھی فلسفیانہ بلکہ جدید فلسفیانہ افکار اور خیالات میں پائے جاتے ہیں۔ اس لیے ترقی کے بارے میں یہ اظہار کہ یورپ ترقی پر ہے جبکہ قدیم تہذیبیں ترقی کی راہ میں بچھی ہوئی تھیں کیونکہ جہاں تک ذہن کی پختگی کا تعلق ہے ہمیں ان میں اور موجودہ ذہن میں کوئی زیادہ فرق معلوم نہیں ہوتا۔

روسو ،فرانسیسی فلسفی نے دنیا کی تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انسانی تہذیب کا سنہری دور شکار اور غذا جمع کرنے والا تھا۔ کیونکہ وہ زمانہ طبقات میں بٹا ہوا تھا نہ عورت اور مرد میں کوئی فرق تھا نہ کوئی نجی جائیداد کا ادارہ تھا۔ انسان تین گھنٹے اپنی غذا کی تلاش میں صرف کرتا تھا اور باقی وقت وہ گانے رقص کرنے اور باہمی بات چیت میں صرف کرتا تھا۔ یہ عہد دس ہزار سال کی مدت تک محیط رہا۔ اس لحاظ سے یہ انسانی تاریخ کاسب سے طویل زمان ہے۔

روسو کے مطابق انسانی تاریخ میں اس وقت تبدیلی آئی جب انسان نے بستیاں بنا کر کاشتکاری شروع کی اور بقول اس کے کہ جب کسی شخص نے پہلی مرتبہ یہ کہا کہ یہ زمین میری ہے اس نہ صرف نجی جائیداد کے ادارے کو پیدا کیا بلکہ معاشرے میں طبقاتی فرق بھی ابھرا۔جس نے طاقتور اور کمزور کے درمیان سماجی خلیج قائم کی۔ طاقت کے اس تصورنے نہ صرف معاشرے میں افراد کے درمیان بلکہ قوموں کے درمیان بھی تنازعات فسادات اور جنگوں کو پیدا کیا۔

کیونکہ جب بھی کسی معاشرے یا قوم نے فوجی طاقت و قوت حاصل کر لی تو اس میں سامراجی عزائم پیدا ہوئے اور کمزور قوموں کو اپنا تابعدار بنانے اور ان کی محنت کی کمائی کو بطور مال غنیمت حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ پوری انسانی تاریخ میںطاقت کے نشے میں حملہ آور لوگوںکو قتل عام اور لوٹ مار کرتے رہے ہیں۔ طاقت ان کی ڈاکہ زنی، قزاقی اور خونریزی کو جائز قرار دے دیتی ہے۔

طاقتور اور کمزور کے درمیان یہ ڈرامہ آج بھی جاری ہے۔ آج کی ترقی یافتہ قومیں جو سائنس اور ٹیکنالوجی میں عروج پر ہیں وہ اپنی تہذیب و تمدن کے باوجود دوسری اقوام پر اپنے تسلط کو قائم رکھنے کی خاطر تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کی روح کو مجروح کرتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *