فولادی برقع۔۔۔۔ وقت کی ضرورت؟

شبانہ نسیم

آجکل ملک کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں خواتین پردے کا خاص اہتمام کرتی نظر آتی ہیں۔ صبح سویرے حصول تعلیم یا حصول معاش کیلئے گھروں سے باہر جانے والی خواتین کی اکثریت سیاہ رنگ کے برقعوں میں ملبوس نظر آتی ہے۔ البتہ بیشتر چہرہ چھپانے کیلئے رنگ برنگے سٹالرز کا بھی استعمال کرتی ہیں شاید اس کی وجہ چہرے کی نازک جلد کو سیاہ رنگ میں حرارت کی شدت سے بچانا مقصود ہو۔

لیکن کیا سیاہ کپڑے کا یہ بڑا سا پارچہ کسی عورت یا نو عمر لڑکی کو ریپ سے بچا سکتا ہے ؟  ہاں البتہ جینز جیسا لباس اپنی مضبوطی کی بنا پر کسی مرد کی جانب سے کیے جانے والے جنسی حملے میں کچھ وقت کیلئے یا مدد پہنچنے تک عورت کے جسم کو بے لباسی سے بچاسکتا ہو کیونکہ وہ عام پاکستانی لباس کی طرح مہین اور ڈھیلا ڈھالا نہیں ہوتا۔ مگر جینز میں دکھ جانے والی لڑکی تو بد چلن ہی ہو سکتی ہے ”اکثریت کی رائے کے مطابق “لیکن اب لڑکیاں عبایا کے نیچے جینز پہن کر گھوم رہی ہوتی ہیں شاید اس کی وجہ بے حیا لباس پر حیاءکا سرٹیفکیٹ رکھ لینے سے کردار کو بیلنس رکھنا مقصود ہو۔

کچھ ماہ پہلے پاکستان میں ایک سلوگن ”میرا جسم میری مرضی“نے عوام کی توجہ بڑی تیزی سے اپنی جانب کھینچی تھی لیکن دوسری جانب اس پر بڑی سخت تنقید کی گئی تھی جس میں خواتین بھی شامل تھیں۔ مذکورہ سلوگن کی مقبولیت اور تنقید کے درمیانی وقت میں لاہور کی سڑکوں پر عام دکھائی دینے والے نظاروں میں نظارہ کرانے والوں کی طرف سے اپنے بے باک عمل کے ساتھ اس سلوگن کا اضافہ بھی کیاگیا تھا۔

خصوصاًہمارے پاکستانی بھولے بھالے قارئین اس سوچ میں ہوں کہ آخر وہ کونسے قابل اعتراض نظارے ہیں جو لاہور جیسے شہر کی سڑکوں پر سر عام دیکھنے کو ملتے ہیں؟بھولے بھالے قارئین کی رہنمائی کیلئے یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہماری سڑکوں اور خاص طورپر خواتین کے تعلیمی اداروں کے سامنے مرد حضرات موٹر سائیکلوں یا آٹورکشوں میں سوار ہو کر اپنے جسم کے قابل اعراز حصوں  کو برہنہ کر کے لڑکیوں کو سرعام ہراس کر رہے ہوتے ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

اس کی بڑی وجہ شاید ان نظاروں کی واحد چشم دید آدھی گواہ ”لڑکیاں “ ہیں۔ ثبوت کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ خاموش رہنے کو ہی ترجیح دیتی ہیں اور اگر اس ہراسمنٹ کا شکار کسی لڑکی نے ہمت جمع کرکے کسی ذمہ دار انسان سے ایسی بات شیئر کی بھی ہو گی تو بدلے میں کچھ اس قسم کا جواب پا کر اپنا سا منہ لیکر بیٹھ گئی ہوگی کہ ”کوئی بیچ سڑک کے ایسا کیسے کر سکتا ہے، اگر تمھیں کالج یونیورسٹی یا دفتر جاتے ہوئے اتنے مسائل کا سامنا تھا تو پہلے کیوں نہیں بتایا چلو چھوڑو سب اور عزت سے گھر بیٹھوہمیں تمھاری پڑھائی یا پیسے کی ضرورت نہیں، اور مہینے دو مہینے میں بیاہی جاؤ اور بچے جننے کی مشین بن جاؤ۔

ایساجواب دینے والوں سے سوال ہے کہ آپکو تو اپنی بہن بیٹی کی کمائی یا تعلیم کی کوئی ضرورت نہیں آپ کے پاس بڑا مال ہے لیکن اس لڑکی کو اپنی ذات کیلئے تو دونوں چیزوں کی ضرورت ہے ۔ کوئی کسی لڑکی کی شادی شدہ زندگی کے بارے میں پہلے سے کیسے جان سکتا ہے کہ اسکا شوہر اس کے ساتھ کیسا رویہ رکھے گا یا وہ کب تک زندہ رہے گا۔ ایسی ہی نامکمل تعلیم والی لڑکیاں خدانخواستہ شادی کے بعد اگر بیوہ ہو جائیں یا کسی وجہ سے دونوں فریقین میں ناچاکی ہو جائے تو ان باپ بھائیوں کے دروازے کھٹکھٹاتی نظر آتی ہیں اور پھر ایک نہیں دو گھر برباد ہو جاتے ہیں ۔

معاشرے کو خواتین کیلئے بھی سازگار بنانے کی بجائے انکا مستقبل تاریک کر دینا کہاں کی دانشمندی ہے ۔ کیا عورت کو گھر کی چار دیواری میں رکھ کے معاشرے سے غلاظت اور اس بھوک کا خاتمہ ممکن ہے؟اگر ایسا ہو سکتا ہے توجو خواتین اور ان کے خاندان والے ایسا چاہتے ہیں وہ شوق سے اس نیک کام میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور والدین بیٹیوں کو تعلیم سے محروم رکھ کر گھروں میں رکھیں اور بیٹیاں اپنی خوشی سے ایسے حالات میں رہیں اور خدا سے اپنے بھلے کی دعائیں جاری رکھیں۔ لیکن جو لوگ ایسا نہیں چاہتے خدارا ان کی زندگی میں مشکلات کا اضافہ کرنے سے یہ نیک لوگ باز رہیں توشاید بہت سوں کا بھلا ہو۔ 

چند روز قبل سوشل میڈیا پر لاءاینڈ جسٹس کے حوالے سے بنائے گئے گروپ میں ایک وکیل صاحب نے سوال جڑا کہ اگر کوئی عورت اپنے لباس، انداز، الفاظ یا حرکات و سکنات سے کسی مرد کو ہرا س کرے تو اس پر کونسی قانونی دفعہ لاگو ہوگی؟ اس پر بندہ ناچیز نے ان سے گزارش کی کہ کوئی عورت اپنے لباس سے کیسے ہراس کر سکتی ہے تو معزز وکیل صاحب کی جانب سے بل بورڈز پر بنی خواتین ماڈلز کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا گیاکہ ایسے چست لباس اور ننگے سر مرد کو سرعام ہراس کرنے کے زمرے میں آتے ہیں یہی وجوہات ہیں جو خواتین ریپ کا شکار ہوتی ہیں اور پھر اپنی غلطیوں کا سارا مدعہ مرد پہ ڈال کر ایک طرف ہو جاتی ہیں ۔

ایسا عجیب جواب پڑھ کر لمحے بھر کو تو ذہن مرنے کی حد تک بند ہوتا محسوس ہوا کہ وکیلو ں کو تو معاشرے میں پڑھا لکھا اور روشن خیال طبقہ سمجھا جاتا ہے لیکن ان کی سوچ اس حد تک نچلی سطح پر بھی ہو سکتی ہے یہ تو شاید کسی عورت کے گمان میں بھی نہ ہو۔ لیکن جب ذہن پھر سے سوچنے لائق ہوا تو محمد نگر اورلاہور پریس کلب کے درمیانی علاقے میں گھومتی ایک پاگل عورت کا خیال آیا ۔

پینتیس سے چالیس سال کے درمیان عمر صحت مند مگر انتہائی میلا کچیلا جسم غلاظت سے اٹے بال ننگے پیر چلتی پھرتی وہ عورت اپنے صبح سویرے لڑکھڑاتے قدموں سے یہ ثابت کرتی نظر آتی ہے کہ اس پر رات کس قدر بھاری گزری ہو گی ۔ یہاں وکیل صاحب خواتین کے فیشن اور صاف ستھرے لباس سے ہراس ہونے کی شکایت کر رہے تھے۔ ان کی اس شکایت کا میرے پاس ایک ہی جواب ہے کہ جناب عورت گندی ہو صاف ہو یا برقع میں لپٹی ہو وہ عورت ہی رہتی ہے اور غلیظ سوچ لیکر پروان چڑھنے والا مرد پڑھا لکھا ہو یا گنوار اس کی سوچ کو بدلنا ناممکنا ت میں شامل ہے ۔

ہمارے معاشرے کی اکثریتی تعداد کی رائے کے مطابق اپنے ساتھ ہونے والی ہر طرح کی زیادتی کی ذمہ دار خود عورت ہی ہے لہٰذا اسے کسی قسم کے سنگین حالات کا سامنا اگر ہے تو خاموشی اس کا بہتر حل ہے تاکہ اس سمیت اس کے خاندان کی عزت محفوظ رہے۔ اگر کوئی عورت اپنے ساتھ ہوئی زیادتی کو رپورٹ کرے اور انصاف کاواویلا کرے تو اس کے کردار کو اس حد تک مشکوک اور متنازعہ بنا دیا جا تا ہے کہ وہ انصاف کا نقاضا بھول کر اپنے کردار کی صفائیاں دینے میں لگ جائے۔ میشا شفیع نامی پاکستانی گلوکارہ ایسے واقعات کی تازہ مثال ہیں۔ ویسے بھی کہا جا تا ہے کہ جاہل اور بدتمیز عورت پر ہراسمنٹ کے قوانین لاگو نہیں ہوتے اور ہم کسی بھی عورت کو کبھی بھی جاہل بدتمیز بدکراد بنا دینے میں ماہر ہیں اور اس کار خیر میں خواتین بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی دکھائی دیتی ہیں ۔ 

رواں برس دارالحکومت کی عدالت عالیہ کے ایک معزز جسٹس صاحب کی جانب سے ایک ٹیلی ویژن شونشر کرنے پروگرام پروڈیوسرز اور میزبانوں کی سخت کلاس لیتے ہوئے فیصلہ سنایا گیا ۔سنا ہے مذکورہ شو پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس صاحب آبدیدہ ہو گئے تھے ۔فیصلے پر عوام کی طرف سے سماجی روابط کی سائٹس پر اظہار خیال بھی کیا گیا جس میں بیشتر کی رائے یہ تھی کہ یہ فیصلہ بالکل درست ہے بچیوں کو ٹی وی جیسے پلیٹ فارم پر نچانا انتہائی گھٹیا عمل ہے بچیوں کے ایسے قاموں کے نتیجے میں ہی زینب قتل کیس جیسے واقعات معاشرے میں جنم لیتے ہیں۔ پر زینب بے چاری کو تو شاید رقص کی الف ب بھی نہ پتہ ہو اور وہ تو گھر سے نکلی بھی قرآن شریف پڑھنے کیلئے تھی ایسے میں ان دو باتوں کو آپس میں ملانا سمجھ سے باہر ہے ۔

اگر یہ بات مان بھی لی جائے کہ گھروں کے اندر ہی رہنا اور برقع پہن کر ہی باہر جانا خواتین کی عزت کی حفاظت کیلئے بہترین نسخہ ہے تو پھر شاید وطن عزیز میں وہ وقت آن پہنچا ہے جب اس لباس کو کپڑے جیسی نازک چیز کی بجائے فولادی دھات سے بنایا جانا چاہیے تاکہ مقصد کسی حد تک ہی سہی حاصل تو ہو۔

بیشتر قارئین کے نزدیک یہ تجویز انتہائی مضحکہ خیز ہوگی لیکن جناب یہ بتاتی چلوں کہ پنجاب میں پردے کے خاص اہتمام کے باوجود ریپ کی شرح میں دل دہلا دینے کی حد تک اضافہ ہوا ہے ۔پنجاب پولیس کی جانب سے شائع کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس جرم میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ،اور یہ قصہ صرف ان کیسزکا ہے جو رپورٹ ہوتے ہیں ،گھروں کے اندر چڑھنے والے چاند تو اکثر و بیشتر دنیا کی نظروں سے اوجھل ہی رہتے ہیں۔

کیا محرم رشتوں کی ہوس کا نشانہ بننے والی خواتین  کو گھرو ں میں بھی نقاب اور برقعے کا اہتمام کر کے رکھنا چاہیے؟اگر مائیں اپنے بیٹوں کی اخلاقی تربیت میں ابھی بھی تبدیلی نہیں لانا چاہتیں تو میری ناقص رائے کے مطابق خواتین کو اپنی عزت اور عزت نفس کی حفاظت کیلئے فولادی برقع نمبرز والے لاک کے ساتھ بنانے کی ڈیمانڈ کر لینی چاہیئے، اور اسکا کوڈبھی ان کے بجائے صرف اس شخص کے پاس ہونا چاہیئے جس کے پاس ان کو استعمال کرنے کا لائسنس ہو ورنہ بیچارہ کپڑے کا برقع توذرا سی ہوا کہ جھونکے سے عورت کے جسم سے لپٹ کر کسی بھی مرد کو بہکا سکتا ہے۔

One Comment

  1. N.S.Kashghary says:

    یہ بھی تو سوچیئے کہ اگر عورتوں نے فولادی برقعے بمع لاک پہننے شروع کردئے تو ہر مرد ہاتھ میں میڈ اِن چائینہ الیکٹرک کٹر، آرہ مشین ، ڈرل مشین لئے پھرتا نظرآئے گا۔ریپ اسی طرح جاری رہے گا او ہر ریپ کے بعد خاتون کے گھروالے پولیس کو برقعے کا کوڈ ہی بتاتے رہ جائیں گے۔

    فولادی برقعہ عورت کو نہیں مردوں کو پہنانے کی ضرورت ہے۔خاص کر فولادی انڈروئیر۔جس کا کوڈ ہر مرد کے والدصاحب یا والدہ ماجدہ کے پاس محفوظ ہو۔ خود مرد کو بھی اس کا پتہ نہ ہو۔
    ہر چیز عورت پہ ہی کیوں ٹھونسی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *