آپریشن ضرب عضب کے بعد طالبان کی وزیرستان میں واپسی

جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں پشتون تحفظ موومنٹ کے ورکروں پر حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ 25 کے زخمی ہو گئے ہیں۔

ایک عینی شاہد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ طالبان نے علی وزیر اور اس کے ساتھ دیگر کارکنوں پر 40 منٹ تک شدید فائرنگ کی۔ تاہم اس حملے میں پی ٹی ایم کے اہم رہنماء علی وزیر محفوظ رہے۔

واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا لیکن حالات کشیدہ ہیں۔

ایک مقامی شخص نوراللہ وزیر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ علی وزیر جب ہفتہ دو جون کو جنوبی وزیرستان پہنچے تو لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا جس پر مقامی طالبان کو اعتراض تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ مقامی طالبان نے علی وزیر کو پی ٹی ایم چھوڑنے کا کہا اور دھمکی دی کہ اگر وہ باز نہ آئے تو قبائلی روایات کے مطابق بطور سزا ان کاگھر مسمار کر دیا جائے گا۔ علی وزیر مقامی وقت کے مطابق اتوار کی دوپہر جرگہ کے ذریعے طالبان سے بات کرنے کے لیے جا رہا تھا کہ طالبان نے راستے میں علی وزیر اور پی ٹی ایم کے دیگر ورکروں کو سُرخ ٹوپیاں اتارنے کا کہا۔

علی وزیر بعد ازاں علاقے میں موجود اپنے پٹرول پمپ پر پہنچے تو طالبان نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس میں ہلکا اور بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا۔ یہ سلسلہ تقریباً 40 منٹ تک جاری رہا۔

ایک عینی شاہد کے مطابق طالبان علی وزیر کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن علی وزیر کے ساتھی بر وقت اسے محفوظ مقام تک لے جانے میں کامیاب رہے۔

اس واقعے میں ایک مقامی صحافی نورعلی وزیر سمیت 25 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ان میں سے سات کو جنوبی وزیرستان سے ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا جا رہا ہے جو وانا سے بذریعہ سڑک تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کا سفر ہے۔

اطلاعات کے مطابق لڑائی کے بعد وانا میں ہزاروں مقامی افراد جمع ہو گئے اور انہوں نے پی ٹی ایم کے حق میں نعرے بازی کی۔

وانا اور ارد گرد کے علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے لیکن پھر بھی نوجوان وانا کی طرف جا رہے ہیں۔ ایک مقامی شخص کے مطابق طالبان وانا میں قائم اپنا دفتر چھوڑ گئے ہیں۔

DW/News Desk

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *