چین میں مسلمانوں کی برین واشنگ کی جارہی ہے

رپورٹوں کے مطابق بیجنگ حکومت نے مسلم اکثریتی علاقے سنکیانگ میں مسلمانوں کی از سر نو ’ذہنی تربیت‘ کے لیے خصوصی کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔ ایسے کیمپوں میں تقریباً دو لاکھ مسلمانوں کو ذہنی تبدیلی کے لیے بند کر کے رکھا گیا ہے۔

معروف محقق ایڈریان زینس نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ایسے کیمپوں کے حوالے سے اطلاعات مقامی میڈیا سے دستیاب ہوئی ہیں۔ ان میں سرکاری میڈیا کی ملفوف رپورٹوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطحی حکام کے دوروں اور اُن کے بیانات سے متعلق رپورٹیں بھی شامل ہیں۔ ایسا بھی بتایا جاتا ہے کہ چینی حکام سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کو سفری پاسپورٹ جاری کرنے سے قبل اُن کے ڈی این اے کے نمونے کا ریکارڈ بھی جمع کر رہی ہے۔

ایڈریان زینس کا کہنا ہے کہ سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کو جبر کے حالات کا سامنا ہے اور اس تناظر میں حکومت نے کیمپوں کو تین مختلف سطحوں پر قائم کر رکھا ہے۔ ان کیمپوں کو دیہات، قصبے اور شہر کے لیول پر قائم کیا گیا ہے۔ ان میں رکھے جانے والے افراد کے ساتھ سلوک بھی اُن کے عقائد کی شدت کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ ان کیمپوں سے مقامی حکومت بیجنگ کو ایسا تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

ریسرچر زینس کے مطابق ان کیمپوں کا انتظام و انصرام کا معاملہ خفیہ رکھا گیا ہے۔ سن 2017 میں ان کیمپوں کے لیے ملازمتیں فراہم کی گئی تھیں۔ ان میں ڈرائیور، ٹیچر، سکیورٹی اہلکار یا تربیت دینے والوں کی نوکریاں عام کی گئی تھیں۔ ان نوکریوں  کے لیے حکام نے کوئی بنیادی تجربہ بھی طلب نہیں کیا اور اسی بات نے انہیں مشکوک کیا تھا۔ ملازمتوں کے لیے ہان نسل کے چینیوں کو ترجیح دی گئی تھی۔

انہی فراہم کردہ نوکریوں سے یہ اندازے لگائے گئے کہ سیاسی تربیت کے کیمپوں کی تعمیر نو کا سلسلہ شروع ہے۔ ایسے کیمپوں کے لیے دیواروں کے ساتھ خاردار باڑ، مخصوص کھڑکیاں اور سکیورٹی کیمرے بھی نصب کرنے کی درخواست بھی حکامِ بالا کو بھیجی گئی ہے۔ اس باعث خیال کیا گیا ہے کہ مقامی حکومت کی توجہ زیادہ سے زیادہ ایغور مسلمانوں کی سیاسی تربیت کرنے پر مرکوز ہے۔

ایڈریان زینس کے مطابق ایسی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق کم سے کم دو لاکھ افراد جو ذہنی تبدیلی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ حتمی تعداد کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔

ریڈیو فری ایشیا کے مطابق سیاسی تربیت کے ایسے بعض کیمپوں میں چھ ہزار تک لوگ بند کیے گئے ہیں۔ جبکہ بیرون ممالک ایغور گروپوں کیبعض افشا ہونے والی رپورٹوں کے مطابق ذہنی تعلیم نو کے اِن کیمپوں میں نو لاکھ کے قریب افراد مقید ہیں۔

برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ کے مطابق ان مسلمانوں کو سور کا گوشت اور شراب پینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔انہیں اسلامی نظریات سے تائب ہونے اور کمیونسٹ فلاسفی پڑھنے کا کہا جاتا ہے۔

انڈیپنڈنٹ کے مطابق عمر بخالی، کو بغیر کسی الزام کے اس کیمپ میں ہزاروں افراد کے ساتھ رکھا گیا۔ عمر بخالی کے مطابق ان کیمپوں میں غیر ملکی بھی رکھے گئے ہیں۔ عمر بخالی جن کا تعلق قازقستان سےہے حالات سے تنگ آکر خود کشی کرنے کی کوشش کی جس کی پاداش میں انہیں مزید سات ماہ جیل میں گزارنے پڑے۔

DW/The Independent

2 Comments

  1. نجم الثاقب کاشغری says:

    جبراً کسی کے نظریات،عقائد،تصورات،خیالات،سوچ،عقل ، فہم،ضمیر بدلنے کی ہر کوشش قابل مذمت ہے۔اس کے کبھی بھی مثبت نتائج ظاہر نہیں ہوتے۔آزادئی اظہار،آزادئی رائے،آزادیئ ضمیراور آزادیئ مذہب ونظریہ گوشت پوست سے بنے ہر زندہ اور سوچتے انسان کابنیادی پیدائشی حق ہے۔ جبراً تو جہالت بھی نہیں بدلی جاسکتی۔

  2. پھر بھی پاکستانی میڈیا ایسی خبرو کو چپاتھی ہے پاکستان کی میڈیا صرف فوج کی زبان بولتی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *