لائن کے پار بم نہیں والی بال پھینکئے

طارق احمدمرزا

گزشتہ ایک کالم میں راقم نے جنرل اسد درانی کی کتاب کے حوالے سے ذکرکیاتھا کہ برصغیر کی تقسیم سے متاثر شدہ کشمیر،پنجاب اورسندھ کے عوام اور صوبوں کو ایک دوسرے سے قریب تر لانے کا نظریہ سابق بھارتی وزیراعظم اِندرکمارگجرال کے ذہن کی پیدائش تھا۔

گجرال کی تجویزتھی کہ علاقائی امن واستحکام اورمعاشی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ باؤنڈری لائن کے دونوں طرف ہر دووفاقی حکومتوں اور ایجنسیوں کے ہمہ وقت اور ضرورت سے کچھ زیادہ کنٹرول سے ممکنہ حد تک آزاد رہ کر دونوں کشمیر،دونوں پنجاب اور دونوں سندھ علاقائی ،لسانی،ثقافتی،روایتی،معاشی اور معاشرتی طور پرایک دوسرے کے قریب ہوں۔یہ عمل عوامی اورصوبائی حکومتی سطح پر براہ راست ہونا چاہئے۔

کتاب کے شریک مصنف امرجیت دُلَت نے بتایاکہ گجرال صاحب کا کہنا تھا کہ اس دوطرفہ عمل کی ابتداباؤنڈری لائن پر والی بال کامیچ کھیل کر بھی کی جا سکتی ہے۔دونوں ٹیمیں اپنے اپنے ملک میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے دوستانہ میچ کھیل رہی ہوں ،کتنا اچھالگے گا۔

واضح رہے کہ گجرال صاحب (پیدائش 1919 ،انتقال 2012 ) اپریل 1997 میں وزیراعظم منتخب ہوئے لیکن صرف گیارہ مہینے ہی اس عہدہ پر فائض رہ سکے ۔اگلے برس مارچ میں آپ کو مستعفی ہونے پرمجبورکردیا گیا۔آپ جنتا دَل پارٹی اور یونائٹڈفرنٹ کے امیدوار تھے جن کو کانگرس پارٹی کی تائید حاصل تھی۔

قبل ازتقسیم لاہورکے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے ،سابق جنرل سیکرٹری پنجاب سٹوڈنٹ فیڈریشن اور سابق صدر لاہور سٹوڈنٹ یونین، اِندر کمار گجرال ایک سے زائدمرتبہ بھارت کے وزیر برائے امورخارجہ مقرر ہوئے۔شروع سے ہی آپ برصغیر اور اس سے ملحق ایشیائی خطہ میں سیاسی،معاشی اور معاشرتی استحکام اورترقی کے خواہاں تھے۔وزیراعظم بنے توانہیں اپنی خواہشات کوعملی جامہ پہنانے کا موقع ہاتھ آگیا۔انہوں نے اس مقصد کے لئے ایک پانچ نکاتی فارمولے کا اعلان کیا جس کا بنیادی مقصدبھارت اوراس کے تمام ہمسایہ ممالک کی حکومتوں اور عوام کیلئے پیار محبت ،امن اورسکون کاماحول پیداکرنا تھا۔

ایک ایسا ماحول جس میں بھارت کے کسی بھی ہمسایہ ملک کو اس کی طرف سے کسی بھی پلیٹ فارم پہ فکری وسیاسی عناد،مخاصمت،وسعت پسندی یاعسکری جارحیت کا کوئی ڈر،خوف یا خطرہ لاحق نہ ہو۔اور وہ اپنی تمام توانائیاں اوروسائل اپنے اپنے ملکوں میں معاشی خوشحالی کے حصول کے لئے کام میں لائیں ،جس کا فائدہ بھارت کو بھی ہوگا۔

اس فارمولے یا پالیسی کا اہم ترین پہلو یہ تھا بھارت کایہ امن پرست اور امن پسندرویہ غیرمشروط ہوگا اور اس کے کسی بھی قسم کے کوئی درپردہ جارحانہ یا سازشی عزائم نہ ہوں گے۔

آپ کا یہ پانچ نکاتی امن فارمولا ’’گجرال ڈاکٹرائن‘‘یعنی گجرال نظریہ کے نام سے مشہور ہوا۔وزیراعظم بننے کے بعدآپ نے اس ڈاکٹرائن پرعملدرآمد کی ابتدا بھارتی خفیہ ادارہ راؔ میں قائم پاکستان سیل کو معطل کرنے سے کی لیکن اسٹبلشمنٹ اور ایجنسیوں کی ڈائن گجرال ڈاکٹرائن کاوجودکیسے برداشت کر سکتی تھی۔اسمبلی میں عدم اعتماد کا ووٹ پڑا اور گجرال وزیراعظم نہ رہے۔

باؤنڈری لائن کے آرپار والی بال تو نہیں کھیلا جا سکا، گولہ بارود کا تبادلہ البتہ جاری ہے۔وہی ہورہا ہے جو مبینہ طورپردونوں ملکوں کی ایجنسیاں چاہتی ہیں۔والی بال یاپنگ پانگ نہیں بلکہ پنگا بازی کھیلی جارہی ہے۔ستر برسوں سے دونوں طرف کاتعلیمی،معالجاتی اور ترقیاتی بجٹ دفاعی مدات کی بھٹی میں جھونکا جارہاہے۔ریشماںؔ کی جدائی مزید لمبی اور گہری ہوچکیہے۔پدما شری ایوارڈ یافتہ ہنس راج ؔ جی اورراحت ؔ فتح علی خان کی تانیں لائن کے پار آتی جاتی گولیوں کی تڑٹر اور نام نہاد’’سرجیکل سٹرائک‘‘ کے شوروغل میں سنائی نہیں دے پارہیں۔نہ ہی ہمسائے کی دیوارٹاپ کر اس کے صحن میں کسی پاکستانی رقاصہ کے  رقص ان دونوں ہمسائیوں کی کینہ پروری اور کینہ توزی کو ننگا ہونے سے روک سکے ہیں ۔دونوں ملکوں کے درمیاں کبھی’’ کرکٹ ڈپلومیسی ‘‘چلا کرتی تھی اب تو ان دونوں کی باہمی کرکٹ بھی ڈپلومیسی کا شکا ر ہو چکی ہے۔

قائداعظم محمدعلی جناح نے تقسیم سے قبل امریکی شہریوں سے کئے گئے ریڈیوخطاب میں فرمایا تھا کہ برصغیرکی تقسیم کا مطلب دو دشمن ہمسائیوں کی تخلیق نہیں بلکہ امریکہ اور کینیڈا کی طرز پردوآزاد اور خودمختار لیکن دوست ہمسائیوں کاوجود عمل میں لانا ہے۔ 

افسوس نہ قائد رہے نہ ان کی سوچ ،اور پھرنہ گجرال رہے نہ ان کی سوچ لیکن بعض بھارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ گجرال ڈاکٹرائن ابھی بھی قابل عمل ہے اور بھارت اپنے ہمسایہ ممالک سمیت اس فارمولہ پرعمل پیراہوکر دوررس مفید نتائج سے مستفیذہو سکتا ہے۔

دائیں بازوکے بعض بھارتی ناقدین کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم گجرال کی طرف سے راؔ کے شعبہ پاکستان کو بند کرنے کا پورا پورا فائدہ پاکستان کے خفیہ اداروں نے اٹھایاتھااوران کے دورحکومت میں پاکستانی ایجنسیوں کو بھارت کے خلاف معلومات اکٹھی کرنے اورحساس نوعیت کے سٹریٹیجک منصوبے بنانے کی کھلی چھٹی ملی رہی۔

اس کے برعکس بھارت کے ہی کچھ اورمبصرین کا کہنا ہے کہ گجرال جی کوئی اتنے بھی امن کی فاختہ نہیں تھے۔انہوں نے ایٹمی تجربات نہ کرنے کے معاہدہ پردستخط کرنے سے انکارکردیا تھا جس کے نتیجے میں اگلی حکومت کو پہلی فرصت میں ایٹمی دھماکہ کرنے کا موقع مل گیا۔

بھارتی معاصرفرسٹ پوسٹ کے مبصرنے گجرال جی کی شخصیت اوران کے افکارو نظریات کے ان دونوں پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا تھاکہ بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ( اس خطے میں)کسی ’’جنٹلمین‘‘ یعنی شریف فرد کا قابل قبول وزیر اعظم بننا ناممکنات میں سے ہے!۔

حوالہ جات:۔
۔The Spy Chronicles: RAW, ISI and the Illusion of Peace
۔https://www.britannica.com/biography/Inder-Kumar-Gujral
۔indiatimes.com/news/politics-and-nation/inder-kumar-gujral-dead-but-his-doctrine-still-relevant
۔https://www.firstpost.com/world/gujral-proved-that-gentlemen-dont-make-good-prime-ministers

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *