برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ

برطانیہ میں ستائیس لاکھ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے ایک گروپ نے ’مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کے ایک نئے دور‘ سے خبردار کرتے ہوئے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، ’مغرب میں مسلم مخالف طاقتیں زور پکڑتی جا رہی ہیں‘۔

مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے اس گروپ نے برطانیہ میں مسلمان انتہا پسندوں کی سرگرمیوں پر کوئی کمنٹ نہیں کیا۔ یہ بات  مدنظر رہے کہ برطانیہ سمیت پورے یورپ میں پچھلے بیس سالوں میں مسلمانوں کی جانب سے  دہشت گردی کے کئی واقعات ہوئے جس کی وجہ سے یورپ میں مسلمانوں سے نفرت  میں اضافہ ہوا ہے ۔ برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک میں مسلمان تنظیمیں اپنے اپنے مخصوص علاقوں میں نہ صرف شریعت نافذ کرنے کے مطالبے  کرتی چلی آرہی ہیں بلکہ مغربی رسوم و رواج سے نفرت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔

انیس جون کو برطانیہ میں کیے گئے ایک کار حملے کو ایک برس ہو گیا۔ ایک سال پہلے شمالی لندن کی ایک مسجد پر شام کے وقت یہ حملہ اس وقت کیا گیا تھا، جب بہت سے نمازی عبادت کے بعد مسجد کی عمارت سے باہر نکل رہے تھے۔ برطانیہ کی مسلم کونسل کے مطابق وہ کئی مرتبہ پہلے بھی ’اسلاموفوبیا‘ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے حوالے سے خبردار کر چکی ہے لیکن اب ایسے واقعات میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اس مسلم تنظیم کے مطابق، ’’گزشتہ برس کئی مساجد کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح دائیں بازو کے کارکنوں نے مسلمانوں کو ایذا پہنچانے کے لیے ایک دن کا انتخاب بھی کیا تھا۔ اس روز بہت سے مسلمانوں کو ایک سفید پاؤڈر سے آلودہ کئی خطوط بھی بھیجے گئے تھے، جن میں کئی مسلم قانون ساز بھی شامل تھے‘‘ ۔

گزشتہ برس کے اس حملے کی برسی کے موقع پر اس کے متاثرین کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی، جس کے بعد اس برطانوی مسلم تنظیم کا کہنا تھا، ’’یہ تمام اعداد و شمار گزشتہ برس مسلمانوں کے خلاف کیے گئے جرائم کا ایک معمولی حصہ ہیں‘‘۔

گزشتہ برس ایک وین کے ذریعے ایک مسجد کے سامنے نمازیوں پر حملہ کرنے والے اڑتالیس سالہ ملزم کو رواں برس فروری میں تینتالیس برس قید کی سزا سنا دی گئی تھی۔ اس شخص پر دہشت گردی، ایک شخص کو ہلاک کرنے اور کم از کم نو دیگر کو زخمی کرنے سے متعلق فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق دائیں بازو کے سیاسی نظریات سے وابستگی رکھنے والے اس مجرم کا تعلق ویلز سے تھا اور وہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔

اس حوالے سے برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا، ’’ہمارے ملک میں متعدد عقائد کے لوگ بستے ہیں اور یہاں عبادت کی آزادی ہے۔ ہم تمام عقائد کی عزت کرتے ہیں اور یہ اس ملک کی بنیادی اقدار کا حصہ ہے۔ انتہاپسندوں کو ان اقدار کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘‘

اپنے اس بیان میں برطانوی وزیر اعظم مے نے مسلمانوں کے اس اقدام کی بھی تعریف کی تھی کہ اس حملے کے بعد مقامی مسلمانوں نے ہی ایک مشتعل ہجوم کے غم و غصے سے بچاتے ہوئے اس حملہ آور کی جان بھی بچائی تھی۔

DW/News Desk

♦  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *