ماسکو کی ایک رات

انور عظیم

برف گر رہی تھی اور ماسکو کی رات کو پراسرار بنا رہی تھی، ہماری کار یوکرائنا ہوٹل سے نتاشہ کے گھر کی طرف بھاگ رہی تھی۔ سڑک پر تازہ تازہ سفید برف بچھی ہوئی تھی۔

نتاشہ اور فیض پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ نتاشہ کے کٹے ہوئے گھنگھریالے بال تھے اور گردن پر جھول رہے تھے وہ فیض کی شخصیت اور شاعری دونوں کے سحر میں کھو گئی تھی۔ فیض چند دن میں اپنے وطن واپس جانے والے تھے اور اب نتاشہ انھیں اور ان کے دوستوں کو کھانا کھلانے اپنے گھر لے جا رہی تھی جہاں اس کا شوہر اور ماں مہمانوں کا انتظار کر رہے تھے۔

نتاشہ کے شوہر نے بڑی فراخدلی سے مہمانوں کا استقبال کیا ۔ کھلانے پلانے میں اس نے روسی روایت کی پوری لاج رکھی۔ محفل رات گئے تک گرم رہی۔ نتاشہ کا شوہر فلیش سے مہمانوں کی تصویریں لیتا رہا اور کہتا رہا ’’ ان تصویروں سے ہندوستانی اور پاکستانی مہمانوں کی یاد تازہ ہوگی‘‘۔

ہم نتاشہ کے شوہر کی خوش اخلاقی اور شگفتگی پر حیران تھے اس کی آنکھوں سے بڑی ذہانت اور شرافت ٹپک رہی تھی ۔ نتاشہ کا حسین چہرہ دمک رہا تھا اور مسرت حسین چہرے کو اور بھی حسین بنا دیتی ہے۔

جب ہم کافی پی کر ہوٹل کی طرف آئے تو ہم سب نتاشہ کو چھیڑ رہے تھے۔

’’برف گررہی ہے ، رات ڈھل رہی ہے اور تم ہمیں ہوٹل پہنچانے جارہی ہو، تمھارا شوہر بڑا شریف ہے‘‘ 

’’میں تم لوگوں کو ہوٹل میں اتار کر سیدھی گھر واپس چلی جاؤں گی اتنا انتظار تو وہ کر ہی لے گا‘‘ نتاشہ نے شرارت سے اپنے شوہر کے بارے میں کہا

فیض نے بات کاٹ دی اور اپنے نرم لہجے میں کہا

’’نتاشا دیکھنا ، تمھارا شوہر تمھیں قتل کر دے گا ، اس کی آنکھوں میں خون ہے‘‘

فیض کی یہ بات بھی مذاق میں اڑ گئی اور ہم سب کار سے اتر گئے۔

چند دن بعد فیض پاکستان چلے گئے۔ میں ماسکو ہی میں تھا، اس لیے نتاشہ مجھے حیران کرتی رہتی۔ ’’بھئی فیض کی کچھ خبر ہے، فیض کی نئی نظم کا روسی میں ترجمہ ہوا ہے ،بڑی خوبصورت ہے‘‘۔

ٹیلیفون کے علاوہ جب بھی ملاقات ہوتی تو فیض کا ذکر ضرور کرتی اور کہتی۔۔۔ میں نے اتنا اچھا آدمی نہیں دیکھا ۔۔۔ اسی لیے تو وہ اچھا شاعر ہے۔

لیکن کچھ دنوں بعد ٹیلیفون کی گھنٹی بجی تونتاشہ کی ایک دوست نے عجیب خبر سنائی 

’’ نہیں نہیں میں یقین نہیں کر سکتا‘‘ میرے منہ سے نکلا

رات ، برف، آواز! یکایک فیض کی بات یاد آئی 

’’نتاشہ دیکھنا تمھارا شوہر تمھیں قتل کر دے گا‘‘

اور واقعی نتاشہ کے شوہر نے اپنی حسین بیوی کو قتل کردیا تھا۔

(مطبوعہ نئے افق، گورنمنٹ کالج لاہور)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *