خاموش بہار، ویران دنیا اور انتخابات

بیرسٹر حمید باشانی

پھر علاقے میں کوئی عجیب مخلوق رینگ آئی، اور ہر چیز بدلنے لگی۔ سماج کو بد دعا لگ گئی۔ مرغیوں کے ڈار میں پر اسرار بیماریاں پھیل گئی، مویشی او ر بھیڑیں بیمار ہو کر مرنے لگیں۔ ہر جگہ موت کے سائے منڈلانے لگے۔ کسان اپنے خاندانوں میں بیماریوں کے بارے میں فکر مندی سے باتیں کرنے لگے۔ یہ خوف و ہراس اور تباہی ایک خطرناک مواد کی بہت چھوٹی سی مقدار کی وجہ سے ہے۔

یہ مواد اتنا خطرناک ہے کہ اس کی بہت چھوٹی سی مقدار انسانی جسم میں بہت بڑی منفی تبدیلی لا سکتی ہے۔ چونکہ اس کیڑے مار دوا کی یہ چھوٹی مقدار جسم میں جمع ہو تی رہتی ہے ، اور بہت آہستہ آہستہ خارج ہوتی ہے، اس لیے اس خطرناک دائمی زہر سے جگر اور دوسرے اعضا میں انحطاطی تبدیلوں کا خطرہ حقیقی ہے۔ چونکہ صاف پانی، ہوا اور صحت مند مٹی زندگی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، اس لیے موحولیات سب سے بڑا سیاسی مسئلہ ہے۔

یہ تحریر میں نے ریچل کارسن کی کتاب ، خاموش بہار ، سے لی ہے۔ یہ کتاب ماحولیات کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ریچل کارسن ایک مشہور امریکی مصنفہ اور ماحولیاتی کارکن تھی۔ وہ1907 میں پٹسبرگ کے نزدیکی قصبے سپرنگ ڈیل میں پیدا ہوئی۔ اس کی پرورش ایک فارم ہاوس میں ہوئی۔ اس فارم ہاوس کے قریب ایک فیکٹری تھی، جس میں بوڑھے گھوڑوں کے جسم کے کچھ حصوں سے گوند بنائی جاتی تھی، جس کی بد بو ہر وقت پورے علاقے میں پھیلی ہوتی تھی۔

ریچل کو فطرت سے محبت تھی، اور اسے یہ مکروہ بد بو ماحولیات کے بارے میں فکر مند رکھتی تھی۔ بڑی ہو کر اس نے جان ہاپکن یونیورسٹی سے حیاتیات میں ماسٹر کرنے کے بعد امریکہ کے بڑے اخبارات اور رسائل میں ماحولیات پر لکھنا شروع کیا۔ 

سن1950 میں اس نے ڈی ڈی ٹی نامی کیڑے مار دوا پر تحقیق شروع کی۔ ڈی ڈی ٹی سب سے پہلے ایک سوئس ماہر کیمیا ہرمین ملر نے دریافت کی تھی۔ یہ دوا دوسری جنگ عظیم کے دوران فوجوں میں پھیلنے والی جوئیں مارنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی، تاکہ معیادی بخار کے پھیلاو کو روکا جائے۔ بعد میں یہ زراعت میں کیڑے مکوڑے مارنے کے لیے استعمال کی جانے لگی۔

ریچل نے تحقیق کے بعد اس دوا کے مضر رساں اثرات کے بارے میں آڑٹیکل لکھے مگر کوئی اخبار یہ مضامین چھاپنے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اس کی وجہ حکومت اور اس کاروبار میں مصروف پرائیویٹ کارپوریشنز کا اثر و رسوخ تھا، دونوں اپنے طور پر ان ادویات کے استعمال کو محفوظ قرار دیتے تھے، اور ان کے استعمال کی تاکید کرتے رہتے تھے۔ اخبارات و رسائل سے مایوس ہو کر ریچل نے اس موضوع پر کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا۔

کتاب سامنے آئی تو ہر طرف تہلکہ مچ گیا۔ کتاب میں دلائل اور اعداد و شمار اتنے مضبوط تھے کہ جو ذرائع ابلاغ ریچل کا مضمون چھاپنے کے لے تیار نہ تھے، اس کی کتاب پر طویل تبصرے چھاپنے لگے۔ نیویارک ٹا ئمز اور سی بی ایس وغیرہ نے اس کا انٹرویو کیا۔ پچاس اور ساٹھ کی دھائی میں ماحولیات ایک ذیلی قسم کا مسئلہ تھا۔ اس وقت تازہ تازہ کسانوں نے ادویات کے استعمال سے بے تحاشا فصلیں اگانی شروع کی تھیں۔ حیرت انگیز طور پر کئی گنا پیداوار کی وجہ سے کیڑے مار ادویات کو مستقبل کا خزانہ سمجھا جانے لگا تھا۔

مگر جب یہ کتاب سامنے آئی تو لوگوں نے خوف اور حیرت سے آلودہ کھانے اور جانے پہچانے پرندوں اور جانوروں کے معدوم ہونے کے بارے میں پڑھنا شروع کیا۔ انہوں نے اس کتاب سے یہ بھی جانا کہ فصلوں پر چھڑکاؤ سے سرطان بھی ہو سکتا ہے، تو ماحولیات ایک مرکزی دھارے کا مسئلہ بن گیا۔ 

یہ کتاب اس وقت بڑے پیمانے پر سیاسی دلچسبی کا مرکز بن گئی ، جب امریکی صدر جان ایف کنیڈی نے اسے سنجیدگی سے نوٹس لیا۔ اس نے سانئس کمیٹی کو کتاب میں موجود شواہد کا جائزہ لینے کو کہا۔ اس طرح اس سے ایک ایسے عمل کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں بلاخر 1972 میں امریکہ میں ڈی ڈی ٹی پر پابندی لگا دی گئی۔ مگراس تجارت میں مشغول کارپوریشنزنے کسی نہ کسی شکل میں اس کے بعد بھی اپنی تجارت جاری رکھی۔

خاموش بہار کے مقابلے میں کار پوریشنز نے، ویران دنیا ِ نامی کتاب لکھوائی، جس میں انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جن ممالک میں ڈی ڈی ٹی پر پابندی لگائی گئی ہے ، وہاں خوراک کی پیداوار کم ہوجائے گی، اور جلد ہی ایک عظیم بھوک اور قحط کا ہو گا اور دنیا ویران ہو جائے گی۔ ڈی ڈی ٹی بنانے والوں نے بڑے پیمانے پر اس الزام کی تشہیر کروائی کہ ریچل سویٹ یونین کی ایجنٹ ہے ، جو امریکہ کی پیداواری طاقت کو تہس نہس کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ 

اس کتاب میں ریچل نے یہ پیغام دیا کہ ماحولیات ایک پیچیدہ اور کلیت پر مبنی نظام ہے، جس کا احترام و تعظیم ہونی چاہیے۔ یہ بتانے کے لیے کہ لوگوں نے خود اپنے آپ سے کیا سلوک کر رہے ہیں، ریچل نے کتاب میں امریکی دیہات کا ایک منظر پیش کیا۔ اس منظرمیں لوگ اپنی زمینوں پر آباد ہیں۔ یہاں جنگلی حیات کی بہتات ہے۔ کئی قسم کے پودے اور درخت ہیں۔ صاف اور شفاف دریا ہیں۔

پھر ایک دن کسی ظاہری وجہ کے بغیر جانور مرنا شروع ہو جاتے ہیں، پرندے نہ ہونے کی وجہ سے کھیت میں خاموشی کا راج ہے، سیب کے درختوں پر پھول تو کھلتے ہیں، مگر ان کے اوپر کوئی شہد کی مکھی منڈلاتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ فارم کی عمارتوں اور گھروں کے گٹرز میں ایک سفید رنگ کا پاوڈر جمع ہوتا ہے، جو کچھ ہفتے پہلے گرا تھا۔ یہاں کوئی جادو ٹونا نہیں ہوا، کوئی چڑیل نہیںآئی، اس تبا ہ حال زمین پر زندگی کے دوبارہ جنم کو کسی دشمن کی کسی حرکت نے نہیں روکا ہے۔ یہ کام لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے خلاف کیا ہے۔ کیمیائی آلودگی نیوکلیائی آلودگی کے بعد سب سے خطرناک ترین آلودگی ہے۔

ریچل نے جس سال یہ کتاب لکھی تھی ، اس وقت منڈی میں کیڑے مار ادویات کی کوئی دو سو قسم تھی۔ اس کے بعد مختلف ناموں ، شکلوں اور فارمولوں کے ساتھ اس میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا ہے۔ 1960 سے لیکر آج تک دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں مضر صحت اور ماحولیات کے لیے نقصان دہ کئی ادویات اور کیمیکلز کی واضح شناخت کر کہ ان کے استعمال پر پابندی لگادی گئی۔ مگر ہمارے ہاں آج بھی زراعت میں ایسی ادویات استعمال ہوتی ہیں، جن کے استعمال پر ترقی یافتہ ممالک میں پابندی ہے۔ ان ادویات کے اثرات کھیتوں سے نکل کر شہروں تک پہنچتے ہیں۔

گرد اور ہوا کے ذریعے مضر صحت اور ماحولیات کے لیے نقصان دہ کیمیکلز کے بارے میں قائد اعظم یونیورسٹی اور لین کاسٹریونیورسٹی کی مشترکہ رپورٹ دیکھی جا سکتی ہے، جو کچھ گزشتہ سال آئی تھی۔ رپورٹ میں ان کیمیائی مادوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جویورپ اور امریکہ میں غیر قانونی قرار دئیے جا چکے ہیں، اور ہمارے ہاں بدستور استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں کئی لوگوں کے پیشاب کے نمونے ٹیسٹ کیے گئے اور نتائج میں بتایا گیا کہ دھول اور گرد کے ذریعے پھیلنے والے یہ کیمیائی مادے انسانی صحت کے لیے کتنے ضرر رساں ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ موجودہ انتخابات میں ایک سیاسی پارٹی کی طرف سے درخت لگانے کے اعلان کے علاوہ کسی جماعت کے انتخابی منشور میں ماحولیات کے مسئلے کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی گئی۔ حالانکہ آلودہ خوراک کے علاوہ ہمارے شہروں میں پانی اور ہوا کی آلودگی سنگین شکل اختیار کر چکی ہے۔ 

حاصل کلام یہ ہے کہ ماحولیات کوئی سائنس کا مسئلہ نہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ صاف پانی، صاف خوراک اور صاف ماحول کا تعلق زندگی اور موت سے ہے۔ اس طرح یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں لوگ ایک بڑی تعداد میں زہر آلود سانس لینے، آلودہ پانی پینے اور زہرملاکھانا کھانے پر مجبور ہیں، وہاں کے عام انتخابات میں غربت اور دولت کی غیر مساوی تقسیم کے بعد ماحولیات ملک کاسب سے بڑا مئسلہ ہے، اور اسے مناسب توجہ ملنی چاہیے۔

One Comment

  1. Bakht Biland says:

    This is a good effort.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *